What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

قوم کی حالت

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر ستمبر 21, 2007

میرے موبائل فون پر ایک پیغام آیا ہے جس کا ترجمہ حاضر ہے ۔

صدر جنرل پرویز مشرف کمانڈو نے مرغیوں کو حُکم دیا ” اگر کل تم سب نے دو دو انڈے نہ دیئے تو سب کو لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے طلباء و طالبات کی طرح فوج سے ذبح کروا دوں گا ”

دوسرے دن اس نے دیکھا کہ سب مرغیوں نے دو دو انڈے دئیے سوائے ایک کے جس نے ایک انڈہ دیا ۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے اس کے پاس جا کر پوچھا ” تم نے ایک انڈہ کیوں دیا ؟ ”

جواب ملا "جناب ۔ جامعہ حفصہ کی طالبات کا جو حشر ہوا اسکے ڈر سے ایک انڈہ دیدیا ہے ۔ میں تو مرغا ہوں”

Posted in مزاح, طنز | 2 Comments »

اِنّا لِلہِ و اِنّا اِلہِ رَجِعُون

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر ستمبر 20, 2007

شاہدہ اکرم صاحبہ نے 15 ستمبر کو میری بیاض کے تبصرہ کے خانہ کے ذریعہ مجھے اطلاع دی تھی کہ ان کی والدہ محترمہ کے بعد خالہ صاحب بھی اللہ کو پیاری ہو گئی ہیں ۔ میرے کمپیوٹر میں کچھ خرابی کی وجہ سے میں جلد اسے یہاں نقل نہ کر پایا ۔ شاہدہ اکرم صاحبہ کا رابطہ یہ ہے

shahidaakram@hotmail.com
shahidaakram1@gmail.com

محترم اجمل انکل اور جُملہ قارئين محترم

السلامُ عليکُم

آپ سب سے ايک دُکھ شيئر کرنا چاہتی ہُوں کہ کُچھ مرحلے ايسے ہوتے ہيں جہاں آنسُو ؤں کی برسات کے پيچھے سے اپنوں کی تسلی بہت بڑا مرہم محسُوس ہوتی ہے

” ميری ماں کے بعد ميری ماں سی بھی چلی گئ "

لکھتے ہُوۓ ہاتھ اتنی بُری طرح کانپ رہے ہيں کہ سمجھ ميں نہيں آ رہا دل زيادہ کپکپا رہا ہے يا جسم ،کوئ ايک بات نہيں ہزاروں باتيں ہيں جو ايک فلم کی طرح مُستقل چلتی رہتی ہيں امّی کے بعد اتنا آسرا تھا کہ ماں نہيں تو ماں کی جگہ ماں سی ہے جو ماں سے بڑھ کر سہارا ديتی تھيں ليکن اب لگتا ہے سب کُچھ ختم ہو گيا ہے گو ايک مُسلم ہونے کی حيثيت سے جانتی ہُوں کہ موت برحق ہے پھر بھی دل اپنے پياروں سے ہميشہ کی جُدائ کے لۓ کبھی بھی تيّار نہيں ہوتا ميں وہ لمحات کبھی نہيں بُھول سکتی کہ ميں نے ايک ہی زندگی ميں دو دفعہ اپنی آنکھوں کے سامنے ماں کو جاتے ديکھا ہے ايک سا حال ايک سی سچوئيشن بہت مُشکل ہے بُھول پانا کيا کہُوں کہ بند اور کُھلی آنکھوں ميں وہ منظر ٹھہر گيا ہے دل بہت بے چين اور ازحد دُکھی ہے آپ سب سے استدعا ہے کہ دُعا کريں ميرے دل کی بے قراری کو صبر ملے،سکُون ملے

مع السلام
شاہدہ اکرم

Posted in خبر | 3 Comments »

دلچسپ حقائق

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر ستمبر 19, 2007

صدر جنرل پرویز مشرف نے 1961ء میں ملٹری اکیڈمی کاکول میں داخلہ لیا جس کے نتیجے میں انہیں 1964 میں آرمی میں کمیشن ملی

35 سالہ سروس مد ت کے مطابق صدر پرویز مشرف 1999 میں ریٹائر ہو چکے ہیں

صدر جنرل پرویز مشرف 7 اکتوبر 1998ء کوفل جنرل اور آرمی چیف بنے تھے ۔ آرمی چیف کے عہدے کی معیاد تین سال ہوتی ہے اسلئے 6 اکتوبر 2001ء کو آرمی چیف کی حیثیت سے ان کی مدت ملازمت ختم ہو گئی تھی

صدر جنرل پرویز مشرف 11 اگست 1943 کو پیدا ہوئے اور 10 اگست 2003ء کو 60 سال کے ہوگئے تھے اسلئے انہیں ایک سویلین سرکاری ملازم کی حیثیت سے 10 اگست 2003ء کو 60 سال کی عمر کو پہنچنے پر ریٹائر ہو جانا چاہیے تھا

ایس ایم ظفر کی کتاب کے مطابق صدر کی فوجی وردی کو تحفظ دینے والی آئینی کی دفعہ 63 ۔ 1 ۔ ڈی کو 31 دسمبر 2004ء تک نافذ العمل رہنا تھا ۔ اسلئے 31 دسمبر 2004ء کے بعد وہ وردی میں نہیں رہ سکتے تھے

صدر جنرل پرویز مشرف نے نومبر 2003ء میں پی ٹی وی پر تقریر کرتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ وہ 31 دسمبر 2004ء کے بعد وہ وردی اُتار دیں گے لیکن صدر جنرل پرویز مشرف نے قوم سے کئے گئے وعدہ کو توڑ دیا

صدارتی حلف نامہ میں درج ہے کہ صدر سیاسی سرگرمیوں میں کسی بھی طور شامل نہیں ہوں گے۔

فوج کے قوانین کے مطابق کوئی فوجی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتا ۔

Posted in خبر | 5 Comments »

انتباہ

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر ستمبر 17, 2007

سورت ة 2 ۔ البقرة ہ ۔ آیات 8 تا 13
بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں حالانکہ درحقیقت وہ مؤمن نہیں ہیں ۔ وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں ۔ مگر دراصل وہ خود اپنے آپ کو دھوکہ میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے ۔ ان کے دِلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیا اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں اس کی پاداش میں ان کیلئے دردناک عذاب ہے ۔ جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد برپا نہ کرو تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ۔ خبردار حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے ۔ اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے یہی جواب دیا کیا ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں ۔ خبردار حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں مگر یہ جانتے نہیں ہیں

سورت ة 2 ۔ البقرة ہ ۔ آیت 120
یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو ۔ صاف کہدو کہ راستہ بس وہی ہے جو اللہ نے بتایا ہے ۔ ورنہ اگر اُس علم کے بعد جو تمہارے پاس آ چکا ہے تم نے اُن کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار

اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

Posted in دین | Leave a Comment »

کیا ہمارا روزہ ہے ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر ستمبر 15, 2007

آج پاکستان میں دوسرا روزہ ہے ۔ روزہ صرف اللہ رب العزت کے ڈر سے یا حُکم سمجھ کر رکھا جاتا ہے ۔ یعنی انسان گھر میں اکیلا ہو اور مرغوبِ نفس کھانے کی چیزیں سامنے پڑی ہوں تو بھی نہیں کھاتا ۔ شدت کی پیاس لگی ہو سامنے شربت یا پانی پڑا ہو اور کوئی انسان وہاں موجود نہ ہو پھر بھی وہ شربت پانی نہیں پیتا ۔

اگر ذیابیطس کا مریض ڈاکٹر کی ہدائت کے مطابق دوائی تو کھاتا رے لیکن پرہیز نہ کرے یعنی مٹھائی ۔ شربت اور دوسری ذیابیطس بڑھانے والی اشیاء کھاتا پیتا رہے تو کبھی تندرست نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح اگر کمرے میں ایئر کنڈیشنر چلا دیا جائے مگر کمرے کی کھڑکیاں ۔ روشندان اور دروازہ کھُلے ہوں تو کمرہ کبھی ٹھنڈا نہیں ہو گا ۔

اسی طرح اگر بُرائیوں [ذیابیطس] کو روزے کا ایئر کنڈیشنر تو چلاا دیا جائے مگر نہ تو عورتوں کو جھانکنے والا اپنا روشندان بند کیا جائے ۔ نہ کم تولنے یا ناپنے والی اپنی کھڑکی بند کی جائے اور نہ جھوٹ بولنے اور دوسری خرافات کا دروازہ بند کیا جائے تو پھر اپنے جسم کو روزے کی ٹھنڈک یا فائدہ کیسے پہنچے گا ؟ چنانچہ روزے کا فائدہ حاصل کرنے کیلئے بھی ضروری ہے کہ جو عوامل منع ہیں ان سے مکمل اجتناب کیا جائے ۔

اللہ قادر و کریم اور رحمٰن و رحیم ہم سب کو صحیح طور پر مکمل لوازمات کے ساتھ روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ ہماری بھول چُوک معاف فرمائے اور ہماری تمام عبادات قبول فرمائے ۔

Posted in معلومات, ذمہ دارياں | 8 Comments »

رمضان مبارک

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر ستمبر 13, 2007

سب مسلمان بزرگوں ۔ بہنوں ۔ بھائیوں ۔ بچوں اور بچیوں کو رمضان مبارک

کُلُ عام و اَنتُم بخیر

Posted in پيغام | 4 Comments »

کارٹون ۔ موبائل فون کا استعماال

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر ستمبر 13, 2007

ماتحت موبائل فون پر ۔ ہیلو باس ۔ معافی چاہتا ہوں میں آج دفتر نہیں آ سکوں گا ۔ میری طبعیت ٹھیک نہیں ہے ۔

باس جو پچھلی لفٹ میں سوار ہے ۔ اچھا لیکن جلد ٹھیک ہو جاؤ اس ہفتے دفتر میں بہت کام ہے

Posted in مزاح | 1 Comment »

پاکستانیو ۔ ہوش نہ کیا تو نہ ملک رہے گا نہ تم

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر ستمبر 12, 2007

انصار عباسی کا جنجھوڑنے والا مضمون بشکریہ جنگ جس کا عنوان میں نے موزوں کیا ۔

قوم انتہائی ذہنی دباؤ کا شکار ہوچکی ہے لوگ سوال کرتے اور بحث کرتے ہیں کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے؟ کیا ہم اب آزاد اور خود مختار ملک رہ گئے ہیں؟ کیا ہم میں اب عزت نفس کی رمق بھی بچی ہے؟ سابق وزیراعظم نواز شریف کی جبری جلا وطنی نے ہماری روحوں کو زخمی کر دیا ہے ۔ عدم تحفظ نے ہمیں پھر لپیٹ میں لے لیا ہے۔ کوئی نہیں جانتا ارباب اقتدار ہم میں سے کسی کے ساتھ کیا کریں گے۔ اگر سابق وزیراعظم کو قانون، آئین اور عدالت عظمیٰ کے واضح فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ملک بدرکیا جا سکتا ہے تو پھر عام آدمی کی کوئی حیثیت ہی نہیں رہ جاتی۔

صدر پرویز نے اپنی کتاب ان دی لائن آف فائر میں اعتراف کیا کہ القاعدہ کے 600 سے زائد ارکان کو امریکا کے حوالے کر چکے ہیں مگر ایک پتّہ بھی نہیں ہلا اورکیا کسی کو خیال آیا کہ صدر غیر ملکیوں کو جلا وطن کرسکتا ہے اور وہ بھی صرف اُن کے اپنے ملکوں میں۔ ملک بدری کے قانون کا اطلاق اس ملک [پاکستان] کے بدقسمت شہریوں پر نہیں ہوتا۔ [اپنے] وطن کے کسی شہری کو صرف اس ملک کے حوالے کیا جا سکتا ہے جس کے ساتھ مجرموں کی حوالگی کا معاہدہ کیا گیاہو ۔ اس صورتحال میں بھی دو شرائط سامنے آتی ہیں اگر اس پاکستانی شہری نے متعلقہ ملک کے خلاف کوئی جرم کیا ہو اور پھر اسے حوالے کرنے کی درخواست کا مکمل عدالتی عمل کے ذریعے فیصلہ کیا جائے جس میں اس شخص کو اپنے دفاع کا پورا موقع دیا جائے ۔ اگر انکوائری افسر اسے متعلقہ ملک کے حوالے کرنے کی منظوری دیتا ہے تو ملزم شخص کو پہلے ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیل کا حق دیا جاتا ہے۔ یوں عدلیہ کی اجازت کے بغیر کسی مجرم کو بھی کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کیا جا سکتا ۔

صدر جنرل پرویز مشرف اور ان کی حکومت سے صرف ایک سادہ سا سوال پوچھا جا سکتا ہے ۔ آیا القاعدہ کے نام نہاد ارکان اور نواز شریف کو قانون کے مطابق ملک بدر کیا گیا ؟ جو اب بہت بڑی ناں میں ملے گا۔ جن ملکوں کو ہم نے اپنے شہری بکریوں کے ریوڑ کی طرح دیے ہیں کیا ان سے ہم بھی یہ توقع کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے آئین قانون اور لوگوں کے بنیادی حقوق کو نظر انداز کر کے ایسا ہی کرینگے؟ لہٰذا ہمارا معاملہ یہ ہے کہ کسی فرد کو بھی کسی بھی ملک کے حوالے کیا جا سکتا ہے ۔ حیرت ہے کہ ہمیں آئین قانون اور پالیسیوں کی ضرورت کیا ہے جب ہمیں ان کا کوئی احترام نہیں؟ عدالتیں بند کر دینی چاہئیں کہ جب حکومت کو ان کی کوئی پرواہ نہیں۔ تو پھر لوگوں کے پاس کیا راستہ بچتا ہے؟ پیر کو ایم کیو ایم کے کارکنوں نے اپنے لیڈر کے اکسانے پر سندھ ہائی کورٹ کا ایک لحاظ سے گھیراؤ کر لیا اور اسے 12مئی کے واقعات کے حوالے سے سماعت ملتوی کرنا پڑی۔ بہت خوب الطاف بھائی۔ الفت میں اٹھنے والی راجہ محمد ریاض کی آواز خاموش کر دی گئی جو سندھ ہائیکورٹ بار کے رکن تھے۔ اسلام آباد میں کسی کو دکھ ہوا ؟ کسی نے مذمت کی ؟ ہم کہاں جا رہے ہیں؟ حکمرانوں کو تو کوئی پریشانی نہیں مگر اس ملک کی سول سوسائٹی کیوں چپ ہے؟ ہم کس کا انتظار کر رہے ہیں ؟

محض ایک پارٹی یا دوسری کو لعن طعن کرنے سے کام نہیں چلتا یہ ڈرائنگ روم کی بحث ہے۔ ملک کی موجودہ صورتحال بہت ہی پیچیدہ ہے جس کے لیے غیر معمولی جدوجہد کی ضرورت ہے جس میں معاشرے کا ہر فردشریک ہو۔ پاکستان کو بچانے اور محفوظ بنانے کے لیے ایک اپنا کوئی راستہ اختیار کر لیں مگر کچھ کریں ضرور کچھ عملی اقدام۔ عام لوگوں میں جو حکومتی مشینری کاحصہ ہیں اور کلیدی عہدوں پر بھی بیٹھے ہیں ان پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ حکمرانوں کی چاکری کرنے کے بچائے ملک و قوم کی خدمت کرنی چاہئیے۔ پُرکشش عہدے آؤٹ آف ٹرن ترقی استحقاق یا اتھارٹی یہی ان کی توجہ کے مرکز ہیں مگر یہ سب ملک سے مشروط ہیں سول بیورو کریسی کو صرف یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ حالیہ عرصے میں اگر قانون آئین اور قواعد کے خلاف اتنا کچھ ہوچکا ہے مگر کتنے افسر ہیں جنہوں نے غیر آئینی احکامات ماننے سے انکار کیا ہو ؟ اس سلسلے میں صرف ایک نام یاد آتا ہے جو سندھ کے سابق چیف سیکرٹری شکیل درانی تھے۔

Posted in ذمہ دارياں | 3 Comments »

دیکھو آیا یہ کیسا زمانہ

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر ستمبر 11, 2007

ہمارے لڑکپن کے زمانہ میں ایک قوالی تھی جو اس وقت کی نسبت آجکل کے زمانہ میں بہت موزوں ہے

دیکھو آیا یہ کیسا زمانہ
یہ دنیا ہے عجائب خانہ
دیکھو آیا یہ کیسا زمانہ
پہلے تو دیکھا تھا تیل
اب دیکھی تیل کی دھار
ماننا ہی پڑتا ہے یارو
جو کہہ دیتی ہے سرکار

دیکھو آیا یہ کیسا زمانہ
کوّے کی چونچ میں انگور
اور حُور بہ پہلوئے لنگور
کہتے ہیں خدا کی قدرت ہے
دیکھو آیا یہ کیسا زمانہ
یہ دنیا ہے عجائب خانہ
دیکھو آیا یہ کیسا زمانہ

Posted in مزاح, طنز | 4 Comments »

تازہ ترین

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر ستمبر 10, 2007

پیپلز پارٹی کے سوا باقی تمام اپوزیشن پارٹیوں کی اعلٰی قیادت کو گرفتار کیا جا چکا ہے ۔ گرفتار کئے گئے کارکنوں کی تعداد دس ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے اور مزید بڑھنے کا امکان ہے کیونکہ مختلف شہروں میں مظاہرے اور پولیس تشدد جاری ہے ۔

پہلے بتایا گیا تھا کہ نواز شریف کو ایم پی او [Maintenance of Public Order] کے تحت گرفتار کیا گیا ہے جس کے تحت کسی کو زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کیلئے نظر بند کیا جا سکتا ہے ۔

اس کے بعد پنجاب کے وزیرِ اعلٰی پرویز الٰہی نے ٹی وی پر لائیو وڈیو انٹرویو میں بتایا کہ امیگریشن کے بعد نواز شریف کو اس کے خلاف جو مقدمات ہیں ان کے نوٹس دیئے جائیں گے ۔

اس کے بعد خبر دی گئی کے نواز شریف کو نیب کے کرنل نے نیب آرڈیننس کے تحت گرفتار کیا ہے ۔

اس کے بعد بتایا گیا کہ نواز شریف کو منی لانڈرنگ کیس میں گرفتاری کے وارنٹ دیئے گئے ہیں ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 8 ستمبر کو اچانک صدر جنرل پرویز مشرف نے اینٹی منی لانڈرنگ آرڈیننس جاری کیا تو سمجھ نہیں آئی تھی کہ اس کی اچانک کیا ضرورت پڑ گئی ۔


نواز شریف کو پاکستان ایئر فورس کے طیارہ میں بٹھا کر سعودی عرب بھیج دیا گیا ہے

Posted in خبر | 3 Comments »