What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

Archive for the ‘گذارش’ Category

کیا ہم مسلمان ہیں ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 26, 2007

جب میں نویں یا دسویں جماعت میں پڑھتا تھا [1953 سے قبل] تو میں نے ایک رسالے میں پڑھا تھا کہ ہمارے ملک میں مسلمانوں کی 4 قسمیں ہیں ۔ ٹھاٹھ کے جو تمام اسلامی احکام پر عمل کرتے ہیں ۔ باٹھ کے جو نماز اور روزے کی پابندی کرتے ہیں ۔ آٹھ کے جو صرف جمعہ کی نماز پڑھتے ہیں اور تین سو ساٹھ کے جو صرف عید کی نماز پڑھتے ہیں ۔ لیکن ایک بات ان سب میں تھی کہ وہ اللہ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور قرآن شریف کی عزت بہت کرتے تھے ۔ ایک واقعہ درج کروں ۔ ہمارے محلے میں ایک لڑکا رہتا تھا جو نماز کبھی کبھار ہی پڑھتا تھا ۔ محلے کی مسجد کے امام صاحب نے بہت کوشش کی کہ وہ نماز باقاعدگی سے پڑھ لیا کرے مگر اس پر کچھ اثر نہ ہوا ۔

جب میں انجنیئرنگ کالج میں پڑھتا تھا اور گرمیوں کی چھٹیوں میں گھر آیا ہوا تھا تو ایک دن میں گلی میں جا رہا تھا اور وہ لڑکا مجھ سے کچھ فاصلہ پر آگے جا رہا تھا ۔ اس نے جلدی سے جھُک کر نالی میں سے کچھ اُٹھایا اور کچھ دیر کیلئے کھڑا ہوگیا ۔ میں اس کے پاس پہنچ گیا مگر اس سے پوچھنے کی جرأت نہ کی ۔ سامنے سے اس کا پڑوسی آ رہا تھا اس نے پوچھا "کیا تھا نالی میں ؟” تو اس نے جواب دیا "قرآن شریف کے ورق کا ٹکڑا”۔ پڑوسی نے پوچھا ” تو تم نے منہ میں ڈال لیا ؟”۔ اس لڑکے کے نے کہا "اور کیا کرتا ؟ قرآن شریف تھا”۔ وہ اس ٹکڑے کو نگل گیا تھا ۔ اس کیلئے شائد یہی قرآن شریف کا احترام تھا ۔

لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں 1500 سے زائد طالبات اور کئی سو طلباء کو جن میں چھوٹی عمر کے بچے بچیاں بھی شامل تھے انتہائی بیدردی سے ہلاک کیا گیا ۔ یہ ایک بہت بڑا سانحہ ہے ۔ توقع نہیں کی جا سکتی تھی کہ ایک مسلمان اس سفّاکانہ قتل کا حکم دے اور مسلمان ہی اس انسانیت سوز عمل کا ارتکاب کریں ۔ لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں انسانوں کے علاوہ ہزاروں مقدس کتابیں بھی تھیں جن میں قرآن شریف ۔ احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور سیرت النبی بھی شامل تھیں ۔ جب لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر مشین گنوں سے فائرنگ اور گولہ باری کی گئی اور جب جامعہ حفصہ کے کمروں کے اندر آگ لگانے والے گولے پھنکے گئے جن کے نتیجہ میں جسموں کے چیتھڑے اڑ گئے اور 1500 سے زائد طلباء و طالبات جل کر ختم ہو گئے ۔ کسی نے نہ سوچا کہ قرآن شریف کے کتنے نسخے آگ کی نظر ہوئے ہوں گے اور کتنوں کے اوراق بکھرے ہو گے ۔ جلی لاشوں اور گولوں سے بکھرے جسموں کے ٹکڑوں کو عوام کی نظر سے بچانے کی عجلت میں کارپردازوں نے کتابِ مقدس کی مزید کتنی بے حرمتی کی ہو گی اس کا کچھ اظہار تو گندے نالے میں پھینکے گئے ملبہ سے ملنے والے قرآن کے اوراق اور پورے پورے جزو [پارے یا سپارے] سے ہوتا ہے ۔

ایسے عمل کی توقع ایک ایسے برائے نام مسلمان سے بھی نہیں کی جا سکتی جو صرف اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو اور اس نے کبھی قرآن و سنّت پر عمل نہ کیا ہو ۔ فوجی جوتوں سمیت لال مسجد میں پھرتے رہے اور وہاں سے لاشوں اور دوسری اشیاء کو غیر مسلموں سے اٹھوایا گیا ۔ مسجد اور کتابِ مقدس قرآن شریف کے ساتھ یہ سلوک ؟ اس سے بڑا سانحہ اور کیا ہو گا ؟

یہ سوال مجھے پچھلے 15 دن سے بہت تنگ کر رہا ہے "کیا ہم مسلمان ہیں ؟”

Advertisements

Posted in گذارش | 8 Comments »

ظلم کا حد سے بڑھ جانا

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 25, 2007

کہتے ہیں کہ ظلم حد سے بڑھ جانا ہے دوا ہو جانا ۔ ظلم تو حد سے بہت آگے بڑھ چکا ۔ اب اس کے دوا ہونے کی انتظار ہے ۔ آج لال مسجد کے چند زخمی طلباء جو تا حال ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں کا کچھ احوال معلوم ہوا ۔ دو تین طلباء کے بازوؤں پر گولیاں لگی تھیں اور ایک کے پیٹ میں کئی گولیاں لگی تھیں ۔ پیٹ میں گولیاں لگنے والے لڑکے کے متعلق ڈاکٹر نے کہا کہ ہم حیران ہیں کہ یہ اب تک زندہ کیسے ہے ۔ طلباء نے بتایا کہ جب اعلان ہوا کہ جو باہر نکلے گا اسے کچھ نہیں کہا جائے گا اور 5000 روپیہ فی کس گھر جانے کا خرچہ بھی دیا جائے گا تو وہ باہر نکلے لیکن باہر نکلتے ہی ان پر فائر کھول دیا گیا جس سے کئی طلباء زخمی ہوئے اور ہو سکتا ہے شہید بھی ہوئے ہوں کیونکہ یہ لوگ زخمی ہو کر گر گئے تھے اور کسی کو ایک دوسرے کا ہوش نہ تھا ۔ جب وہاں کوئی سرکاری آدمی موجود نہ تھا تو ایک زخمی نے منت کی کہ ہمیں کسی طرح ہسپتال سے نکال لے جائیں ۔ جس زخمی کو ہسپتال والے فارغ کرتے ہیں اسے ہتھکڑیاں لگا کر پتہ نہیں کہاں لے جاتے ہیں کہ پھر اس کی کوئی خبر نہیں آتی ۔

حکومت نے اپنے ظلم کے نشانات مٹانے کیلئے دن رات کام کیا ۔ 1500 سے زائد طالبات کے جلے ہوئے جسموں کو راتوں کی تاریکی میں کسی نامعلوم غیرآباد جگہ یا کئی جگہوں پر بڑے بڑے گڑھے کھود کر دبا دیا گیا ۔ طالبات کاسامان ٹرکوں میں بھر کر مختلف غیرآباد جگوں پر پھینکا گیا ۔ مندرجہ ذیل وڈیو میں صرف ایک جگہ [جی سیون ٹو کے گندے نالے] کی چھوٹی سی جھلک دیکھئے کہ وہاں سے کیا ملا ۔ اس مقام پر بھی اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس جلد ہی پہنچ گئی تھی اور انہوں نے قرآن شریف اور حدیث کی کتابوں کے اوراق اور انسانی جسموں کے ٹکرے جو اس وقت تک لوگوں نے علیحدہ کئے تھے یہ کہہ کر اٹھا لئے کہ دفن کریں گے ۔ پھر عام آدمیوں کو وہاں سے ہٹا کر پہرہ لگا دیا گیا ۔ بعد میں بقایا ملبہ 4 ٹرکوں میں بھر کر اٹھا لیا گیا جس کے متعلق کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ لیجا کر اسلام آباد کے کسی جنگل میں بکھیر دیا گیا ۔

Posted in گذارش, خبر | 2 Comments »

اب کیا ہو رہا ہے ؟ ؟ ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 23, 2007

جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں کہ لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس کے خلاف فوجی کاروائی 11 جولائی کو مکمل ہو گئی تھی ۔ 14 جولائی کی صبح اردگرد کے رہائشی علاقہ سے کرفیو ختم کیا گیا تھا اور اعلان کیا گیا تھا کہ لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس اور اس کے اردگرد کے علاقہ بشمول کمیونٹی سنٹر ۔ انوائرمنٹ منسٹری اور انکم ٹیکس کے دفاتر اور آبپارہ سے میلوڈی مارکیٹ کی طرف جانے والی دونوں سڑکوں یعنی کوئی سات آٹھ سو میٹر لمبے اور پانچ سو میٹر چوڑے علاقہ میں مزید ایک ہفتہ کرفیو رہے گا ۔ یہ ایک ہفتہ 21 جولائی کی صبح کو پورا ہو گیا تھا ۔ اس خیال سے کہ کرفیو حسبِ وعدہ اُٹھا لیا گیا ہو گا آج صبح 9 بجے میں کسی کام سے آبپارہ مارکیٹ اور میلوڈی مارکیٹ کیلئے روانہ ہوا ۔ جب میں آبپارہ چوک سے میلوڈی مارکیٹ کی طرف جانے والی بڑی اور دوہری سڑک پر مُڑا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آبپارہ مارکیٹ کے فوراً بعد سڑک پر بڑے بڑے سیمنٹ کنکریٹ بلاک رکھ کر سڑک بند کی ہوئی ہے اور الِیٹ فورس کے مسلحہ کمانڈو کسی پیدل شخص کو بھی اُدھر نہیں جانے دے رہے ۔ مجھے آبپارہ مارکیٹ کے ساتھ ہی مڑنا پڑا اور پھر 12 فٹ چوڑی سڑکوں پر سے ہوتا ہوا جگہ جگہ رُکتا کیونکہ سامنے سے بھی ٹریفک آ رہی تھی 2 منٹ کا راستہ 40 منٹ میں طے کر کے میلوڈی مارکیٹ پہنچا ۔

میں تو خیر کبھی کبھار کسی کام سے ہی اُدھر جاؤں گا لیکن جو سڑکیں ابھی تک کرفیو میں ہیں اُن کے کنارے رہنے والے جو 3 جولائی سے 14 جولائی تک کرفیو کی وجہ سے گھروں میں قید تھے 14 جولائی سے اب تک گلیوں کے راستے پیدل اپنے گھروں سے دور سڑک پر نکلتے ہیں اور پھر کسی طرف جانے کے قابل ہوتے ہیں جو بیمار یا لاغر کیلئے بہت مشکل کام ہے ۔

لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس سے ملبہ ہٹانے پر مامور مزدوروں کو 22 جولائی کو ایک جلی ہوئی لاش ملی جس کے ٹکڑے ہو چکے تھے ۔ اس سے ایک دن پہلے جامعہ حفصہ کے قریب نالے میں طالبات کا سامان پھینکا ہوا پایا گیا تھا ۔ جو ملبہ بیکار سجھ کر فوجی افسروں نے باہر پھینکوا دیا تھا اس میں سے اسلام آباد کے ایک بچے فاروق الحسنین کا پاسپورٹ ملا ہے جس کی تاریخ پیدائش 14 فروری 2003 ہے اور پاسپورٹ کا اجراء 24 مارچ 2006 کو ہوا تھا ۔ سوال یہ ہے کہ فاروق الحسنین کہاں ہے ؟ ابھی تو سب کچھ ایک بڑے علاقہ میں کرفیو لگا کر فوجی افسران کی نگرانی میں ہو رہا ہے تو یہ حال ہے ۔ منگل 10 جولائی سے لے کر آج تک ہر آنے والا دن حکومت کے کردار کو مشکوک سے مشکوک تر بنا رہا ہے ۔

اگر صرف لال مسجد یا جامعہ حفصہ کی مرمت ہی کرنا ہو تو اردگرد کے اتنے بڑے علاقہ میں کرفیو کی کیا ضرورت ہے ؟ صرف لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس کی ناکہ بندی کافی ہے جو کہ موجودہ کرفیو والے علاقہ کا آٹھواں حصہ ہو گا ۔ پہلے آپریشن ختم ہونے کے بعد دو دن تک صحافیوں کو متاثرہ علاقہ میں نہ لیجانا ۔ پھر صحافیوں کو صرف لال مسجد کے ہال اور ابتدائی دنوں میں بنے ہوئے تنگ برآمدے تک محدود رکھنا اور اب تک اتنے بڑے علاقہ میں کرفیو رکھنے سے ذہن میں صرف ایک ہی بات آتی ہے کہ حکومت کی سفاکی اور 1000 سے 2000 بے گناہ طلباء و طالبات کے بیہیمانہ قتل پر پردہ ڈالنے کیلئے حکومت یہ سب اقدامات کر ہی ہے ۔ جلے ہوئے انسانی جسموں کو رات کی تاریکی میں ٹھکانے لگا دیا گیا لیکن ان کے چھوڑے ہوئے نشانات کو مٹانے میں کافی وقت لگتا ہے ۔ اسی طرح بموں سے عمارت کے اندر جب جسموں کے ٹکڑے اُڑتے ہیں تو جا بجا جسموں کی تعداد سے بہت زیاد نشانات چھوڑتے ہیں ۔ ان کو بھی ڈھونڈنے اور مٹانے میں کافی وقت لگتا ہے ۔

معروف بزرگ وکیل حشمت حبیب صاحب جو عدالتِ عظمٰی میں لال مسجد جامعہ حفصہ آپریشن میں گُم شدہ طلباء و طالبات کے وارثوں کے کیس کی پیروی کر رہے ہیں نے چیف کمشنر اسلام آباد کو ایک درخواست دی ہے جس میں لکھا ہے کہ آپریشن شروع ہونے کے وقت لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں 1200 طلباء اور 3500 طالبات موجود تھیں ۔ انہوں نے درخواست میں یہ بھی لکھا ہے کہ پولیس کی طرف سے عدالت میں بیان دیا گیا تھا کہ جب آپریشن سے قبل لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس کو گھیرے میں لیا گیا تھا تو 2000 سے زیادہ طالبات ڈنڈے لے کر باہر آئی تھیں ۔ انہوں نے پوچھا ہے کہ حکومت نے ابھی تک چند سو کا حساب دیا ہے باقی طلباء اور طالبات کہاں ہیں ؟

Posted in گذارش, خبر | Leave a Comment »

لال مسجد کا اسلحہ

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 23, 2007

آپریشن سائلنس یا سن رائز لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس پر قبضہ کرنے اور وہاں جو لوگ محصور تھے انہیں مارنے اور گرفتار کرنے کے لحاظ سے 12 جولائی کو مکمل ہو چکا تھا جبکہ صحافیوں کے پہلے گروہ کو 14 جولائی ڈھائی تین بجے بعد دوپہر دورہ کرایا گیا جس میں انہیں صرف لال مسجد کے ہال اور ابتدائی دنوں میں بنے ہوئے تنگ برآمدے تک محدود رکھا گیا ۔ انہیں لال مسجد کے ہال میں بہت سا اسلحہ دکھایا گیا جو ترتیب سے سجایا گیا تھا ۔ اس میں مختلف الاقسام اسلحہ خفیفہ [variety of Small Arms or Light Weapons] اور مختلف الاقسام ذخیرہ [Ammunition of different calibers] تھا ۔ ان میں شامل تھے خودکار ہلکی بندوقیں [Light Machine Guns] ۔ خود کار متوسط بندوقیں [Medium Machine Guns] ۔ خود کار بھاری بندوقیں [Anti-Aircraft Heavy Machine Guns] جو ہوائی جہازوں کے خلاف استعمال کی جاتی ہیں ۔ کندھے سے چلایا جانے والا ہاوَن [Shoulder-firing Rocket Launchers] ۔ ہر قسم کی خودکار بندوقوں کی تعداد درجنوں میں تھی ۔ کندھے سے چلایا جانے والے ہاوَن چار پانچ تھے ۔ ایک خاصہ بڑا ڈھیر [heap] ذخیرہ خفیفہ [Machine gun Cartridges ] کا تھا اور ٹینک شِکن آر پی جی [Rocket Propelled Anti-Tank Grenades ] بھی تھے ۔

لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس میں دس دن محصور رہ کر باہر سے آنے والی گولیوں اور گولوں کا نشانہ بن کر مر جانے والے بقول حکومت کے دہشتگرد اس اسلحہ کی مدد سے نہ صرف فوجیوں بلکہ ان کی بکتر بند گاڑیوں [Tanks and Armoured Personnel Carriers] کو بھی آسانی سے تباہ کر سکتے تھے اور اُوپر سے گذرنے والے ہیلی کاپٹر اور امریکہ کا دیا ہوا بغیر طیّار [Pilotless] کے جاسوس طیّارہ [Spy aircraft] بھی گرا سکتے تھے ۔

جب اُن کی جان پر بنی تھی تو اگر اسلحہ اُن کے پاس ہوتا تو وہ ضرور اسے استعمال کرتے  

دوسری چیز جو نظر آئی یہ ہے کہ تمام اسلحہ چمک رہا تھا جیسے ابھی کسی دار [Show Room] سے لایا گیا ہو جہاں اس کو نمائش کیلئے رکھا گیا تھا ۔ اتنی تو رائفل جی تھری ۔ ایم پی تھری ۔ مشین گن ایم جی وَن اے تھری پی اور ایم جی تھری اُس وقت بھی نہیں چمک رہی ہوتیں جب انہیں بنانے کے بعد پاکستان آرڈننس فیکٹری سے فوج کے گودام میں بھیجا جاتا ہے ۔ صرف نمائش میں رکھنے کیلئے یا ڈرِل ۔ پریڈ یا ابتدائی تربیت [Drill, Parade or initial Training] کیلئے تیار کیا گیا اسلحہ اس طرح چمکایا جاتا ہے ۔ البتہ ڈرل ۔ پریڈ یا ابتدائی تربیت کیلئے تیار کئے گئے اسلحہ سے گولی نہیں چلائی جا سکتی ۔

لال مسجد میں اسلحہ پہنچانے والے حکومتی نمائندوں کی عقل میں نہ آیا کہ اتنا زیادہ اسلحہ اور وہ بھی چمک دمک والا لال مسجد میں جمع کر کے وہ بجزو  اپنے آپ کے کسی کو بیوقوف نہیں بنا رہے ؟

Posted in گذارش | Leave a Comment »

عشقِ حُسن کیا ہے بندگی کے آگے ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 22, 2007

بچپن میں ایک کہانی سنی تھی کہ ایک آزاد منش نوجوان شہزادہ ایک نہائت خوبصورت شہزادی پر فریفتہ ہو گیا اور اُس سے شادی کی خواہش کی ۔ شہزادی نے کہا کہ فلاں دینی عالم کی نگرانی میں چلّہ کاٹو اگر تم کامیاب رہے تو میں تم سے شادی کر لوں گی ۔ نوجوان کو دین سے کوئی لگاؤ نہ تھا مگر دل کے ہاتھوں مجبور دینی عالم کے پاس جا کر قصہ بیان کیا ۔ عالم نے اسے ایک کمرے میں رہنے کی اجازت دے دی ۔ نوجوان نے چلّہ شروع کیا اور عالم کی خدمت بھی کرتا رہا ۔ جب کئی ماہ گذر گئے تو شہزادی نے قاصد بھیجا کہ احوال معلوم کرے ۔ قاصد نے آ کر بتایا کہ وہ تو اب شہزادہ لگتا ہی نہیں ۔ شہزادی کو یقین نہ آیا ۔ سواری تیار کرا کے خود وہاں جا پہنچی اور شہزادے کو کہا کہ میں تو تمہارا امتحان لے رہی تھی جس میں تم پورے اترے ۔ اب میں شادی کی منتظر ہوں ۔ شہزادہ بولا کیسی شہزادی کیسا حسن کیسی شادی ۔ مجھے یہاں وہ کچھ مل گیا ہے جو کبھی خواب میں بھی نہ دیکھا تھا ۔ شہزادی نے عالم دین سے مدد چاہی تو انہوں نے کہا بیٹی ۔ یہ تو اللہ کا تابعدار ہو گیا ہے اور اسے اللہ کے بندوں کی خدمت کا چسکا پڑ گیا ہے ۔

سو کچھ ایسا ہی مجھے عامر لیاقت حسین کے متعلق ایک کراچی والے نے اس کے لال مسجد جامعہ حفصہ پر فوج کشی کی مخالفت کرتے ہوئے وزارت سے مستعفی ہونے سے چند دن پہلے کہا تھا ۔

عامر لیاقت حسین سابق وزیرِ مملکت کی ایک تازہ تحریر

جب میں اسکول میں پڑھتا تھا تو بہت فخر سے اور بڑھ چڑھ کر یہ گیت اسکول کی اسمبلی میں سب کے ساتھ مل کرگایا کرتا تھا

آؤ بچو! سیر کرائیں تم کو پاکستان کی
جس کی خاطر ہم نے دی قربانی لاکھوں جان کی

اِس قومی نغمے میں نہ جانے ایسی کیا بات تھی کہ رگوں میں دوڑتا لہو بھی کچھ دیر کے لیے سبز ہوجاتا تھااور اندر ہی اندرخواب، امیداورتوقع کے نئے پودے تناور درخت بننے کے لیے بے تاب ہوجاتے … لیکن قومی اسمبلی، اسکول کی اسمبلی سے بہت مختلف ہے…وہاں چونکہ سب جیت کر آتے ہیں اِسی لیے گیت بھی بدل جاتے ہیں…اُس وقت انداز والہانہ تھا،اب فاتحانہ ہے …اُس وقت بچوں کی اسمبلی تھی اِسی لیے صرف پاکستان نظر آتا تھا…اب قومی اسمبلی ہے اِسی لیے ”صدرِ پاکستان“ کے سوا کسی کو کچھ دکھائی نہیں دیتا…اور پھر میں بھی سب کی طرح یہ گیت بھول گیا…کہ اقتدار کی راہداریوں میں تو لوگ سچ اور حق کو بھول جاتے ہیں یہ تو صرف ایک گیت تھا…ایک ایسا بھولا بسرا نغمہ جسے گنگنانے کے لیے آواز کی نہیں…صرف حب الوطنی کی ضرورت تھی…مگر اب سب کچھ ویسا نہیں ہے ، دھیمے سُروں کی جگہ اب خود کش حملہ آوروں کے سَروں نے لے لی ہے …آواز کے جادو پر درد بھری چیخوں کی ظالمانہ حُکم رانی ہے …اِسی لیے اب کوئی ”قومی نغمہ “ نہیں گاتا…سہمے سہمے سوز سے بس ”قومی نوحے“ پڑھے جاتے ہیں…ہرفرد نفسیاتی مریض بنتا جارہا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ کسی ممکنہ دھماکے سے قبل ہی وہ کرب سے پھٹ جائے گا… آج مجھے وہی گیت پھر یاد آرہا ہے ، مگر ویسا نہیں جیسا میں گاتا تھا…مجھے نیزوں کی نوکوں پر بچوں کے سر، خون میں لت پت ٹرینیں، انسانی جسم اگلتے کنوئیں اور وہ سوختہ نعشیں بھی دکھائی دے رہی ہیں جن کے سبب پاکستان جیسی نعمت عظیم ہم جیسے ”بے قدروں“ کو نصیب ہوئی…

فوجی جوانوں پر حملے کرنے والے جنونی اور مساجد کو ویران کرنے والے”ویر“ یہ نہیں جانتے کہ دونوں جانب بہنے والا خون ہمارا اپنا ہے …اِس کی مہک گواہی دے رہی ہے کہ یہ آج بھی اُن22لاکھ انسانی جانوں کا مقروض ہے جو تخلیقِ پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو اپنے لہو کی آبیاری سے مضبوط کرگئیں…آج میں اُن شہیدوں ہی سے مخاطب ہوں…مگرخجالت و شرمندگی کے بوجھ کے ساتھ یہ کہتے ہوئے

آؤ شہیدو! سیر کرائیں تم کو پاکستان کی
جس کی خاطر تم نے دی قربانی لاکھوں جان کی
پاکستان زندہ باد . . . پاکستان زندہ باد 
دیر و سوات اسلام آباد میں بمباروں کا ڈیرا ہے
سفاکی اور بربادی کا اِن کے سر پر سہرا ہے
گلیوں میں کوچوں میں اِن کی دہشت کا رنگ گہرا ہے
دیکھو غور سے دیکھو کتنا مکروہ اِن کا چہرہ ہے
جاں لیتے ہیں اپنی نفرت سے یہ ہر انسان کی
جس کی خاطر تم نے دی قربانی لاکھوں جان کی
گلی گلی میں بکھری ہیں لاشیں ماؤں کے لال کی
ہ لاشیں کیسی لاشیں ہیں بن جسموں کے کھال کی
نہ تو جھگڑا عورت پر ہے نہ یہ جنگ ہے مال کی
تصویریں جو ماضی کی تھیں دیکھو اب ہیں حال کی
رہی نہ قیمت سب کی نظروں میں انسانی جان کی
جس کی خاطر تم نے دی قربانی لاکھوں جان کی
آزادی آزادی کہہ کر پاکستان بنایا تھا
لاکھ ستاروں کے جھرمٹ میں چاند ستارہ پایا تھا
رمضاں کی ستائیس تھی قرآں کا سر پہ سایہ تھا
اپنا خوں دے کر یہ تم نے تحفہ پیارا پایا تھا
نفرت کی آندھی ہے اور آمد ہے اب طوفان کی
کیسے اب ہم سیر کرائیں تم کو پاکستان کی
مسجد مسجد خون کی موجیں زخمی ہر پیشانی ہے
بے قیمت ہے خون یہاں پر مہنگا لیکن پانی ہے
ہر صبح سیلاب بکف ہے شام ہر اک طوفانی ہے
کتنی سرکش کتنی رسوا اب نسلِ انسانی ہے
صد افسوس کہ بھول گئے ہیں باتیں ہم قرآن کی
کیسے اب ہم سیر کرائیں تم کو پاکستان کی
درسِ محبت دینے والے انسانوں کا نام نہیں
سورج جیسی صبح نہیں ہے تاروں جیسی شام نہیں
کون سا گھر ہے ارضِ وطن کا جس میں اب کہرام نہیں
یاد کسی کو پیارے نبی کا آج کوئی پیغام نہیں
بھول گئے ہاں بھول گئے ہیں باتیں ہم ایمان کی
اپنے ہاتھوں کھول رہے ہیں راہیں ہم زندان کی
دیکھو شہیدو! اپنی اولادوں کی حق تلفی دیکھو!
حسرت دیکھو ،نفرت دیکھو لاشیں تم گرتے دیکھو
آزادی کے تحفے میں عزت کی پامالی دیکھو
آنکھیں بند کر کے تم دختر کی عزت لٹتے دیکھو
کیوں لگائی تھی اے پیارو! تم نے بازی جان کی
کس کی خاطر تم نے دی قربانی لاکھوں جان کی
دست دعا پر حرف دعا پر خون کے آنسو گرتے ہیں
چہروں چہروں خوف کے نغمے لکھنے والے لکھتے ہیں
دل میں بسا کر امن کی خواہش شہروں شہروں پھرتے ہیں
رہبر پھر بھی رہزن بن کر ہر رستے پر ملتے ہیں
مسلم ہوکر مان رہے ہیں باتیں سب شیطان کی
پس منظر میں رکھ دیں ہم نے باتیں رب رحمن کی
کیسے تم کو سیر کرائیں اپنے پاکستان کی
بم دھماکوں اور خود کش حملوں کا ہے بازار یہاں
بغض، عداوت اور جلن کا سب کے سر پہ بار یہاں
بوڑھی لگتی ہے مروت نفرت کا ہر وار جواں
بیتے پل بس یادیں ہیں اب ایسے دن اور رات کہاں
ایسا لگتا ہے سپاہ اتری ہے یاں خاقان کی
کیسے تم کو سیر کرائیں اپنے پاکستان کی
دین، عقیدے اور مذہب کے نام پہ لاشیں گرتی ہیں
مائیں اپنے ٹکڑوں کے ٹکڑوں کو لے کر پھرتی ہیں
امیدوں کی کلیاں اس گلشن میں اب کم کھلتی ہیں
روحیں نخوت کی یاں خوشیوں کے جسموں سے چڑتی ہیں
انسانوں کی اِس بستی میں ہے کمی انسان کی
کیسے تم کو سیر کرائیں اپنے پاکستان کی
بولو شہیدو! کہو شہیدو! کیوں بنایا پاکستان
نعرہ یہ تم نے کیوں لگایا”لے کے رہیں گے پاکستان“
اپنی جنت اپنا گھر ہی کہلائے گا پاکستان

Posted in گذارش, خبر | 2 Comments »

کاش کوئی سُنتا ۔کوئی مانتا

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 21, 2007

ایک محاورہ سکول کے زمانہ میں پڑھا تھا "ایک نہ اور سو سُکھ” مگر جب ہمارے کمانڈو صدر صاحب کو آدھی رات کے وقت امریکی وزیر کولن پاول کا ٹیلیفون آیا تو پوری قوم کو تڑیاں دینے والا ڈھیر ہو گیا اور سب شرائط بلا چوں و چرا مان لیں ۔ اس وقت محبِ وطن پاکستانیوں نے کہا تھا کہ امریکہ کی بات ماننا نہیں چاہیئے تھی کہ ایک غلط مطالبہ مان لیا جائے تو پھر مطالبے کبھی ختم نہیں ہوتے اور اگر کسی وقت امریکہ کی بات نہ مانی گئی تو وہ پاکستان سے بھی افغانستان جیسا سلوک کرے گا ۔ کچھ تو کہتے تھے کہ افغانستان کے بعد ہر صورت امریکہ کسی نہ کسی بہانے پاکستان پر حملہ کرے گا ۔ حکومت کے اہلکاروں نے ان باتوں پر کان نہ دھرا اور اب وہی کچھ ہو رہا ہے جو کہا گیا تھا ۔ قبائلی علاقہ میں امریکہ نے دینی مدرسوں اور شہری آبادیوں پر کتنے ہی حملے کئے ۔ چند با اپنی خجلت مٹانے کی ناکام کوشش میں حکومت نے یہ حملے اپنے کھاتے میں ڈالے ۔ ملاحظہ ہوں امریکہ کے حوالہ سے تین خبریں

پہلی خبر ۔ امریکا کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر امریکی حملہ خارج از امکان نہیں ہے ۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان ٹونی اسنو نے پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے کبھی بھی اس آپشن کو رد نہیں کیا جس میں مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان سے جب پوچھا گیا کہ ایسی کارروائی سے پہلے صدر بش پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف سے کارروائی کی اجازت طلب کریں گے تو انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات کو عوامی سطح پر موضوع بحث بنانا مناسب نہیں۔ دوسری جانب امریکی فارن انٹیلی جنس ایڈوائزری بورڈ نے بش انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں القاعدہ جنگجوؤں اور مشتبہ تربیتی کیمپوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا جائے وائٹ ہاؤس کے ترجمان ٹونی اسنو نے کہا کہ صدر پرویزمشرف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکاکے اہم اتحادی رہے ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی خطرات میں ڈال رکھی ہے۔ یہ بھی واضح ہو چکا ہے کہ طالبان اور القاعدہ نے شمال مغربی علاقوں اور فاٹا میں کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے جس سے حکومت پاکستان کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ صدر مشرف کو اب ان علاقوں میں کارروائی کے لئے جارحانہ رویہ اپنانا ہوگا اور وہ مزید فورسز روانہ کرکے اسی رویئے کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ امریکی فارن انٹیلی جنس ایڈوائزری بورڈ نے بش انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں القاعدہ جنگجوؤں اور مشتبہ تربیتی کیمپوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا جائے۔ صدر کے سولہ رکنی فارن انٹیلی جنس ایڈوائزری بورڈ کے رکن لی ہملٹن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا امریکی افواج کو افغانستان سے بھاگ کر پاکستان میں داخل ہونے والے القاعدہ جنگجوؤں کی گرفتاری کے اختیارات سونپے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ امریکاکیلئے ضروری ہے کہ پاکستان میں جانے کے قابل ہو۔

دوسری خبر ۔ ایک پاکستانی بریگیڈیئر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ”اب تمام قبائلی علاقوں میں طالبان کے خفیہ اڈوں کے خلاف ایک فل اسکیل ملٹری آپریشن ہوگا“ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس پاکستانی بریگیڈیئر نے اپنا نام شائع کرنے کی اجازت نہیں دی۔ پوسٹ نے ایک دوسرے بریگیڈیئر کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان آرمی کو ریاست ہائے متحدہ امریکا سے طالبان کے خلاف فوجی مدد مل رہی ہے۔ امریکا نے پاکستان کو ڈرون [drone] طیارے فراہم کئے ہیں جن کے ذریعے باغیوں کا پتہ چلانے میں مدد ملتی ہے [ نوٹ ۔ ایسا طیارہ لال مسجد کے اندر طالبات اور طلباء کی موجودگی معلوم کرنے کیلئے استعمال کر کے آگ لگانے والے گولے پھینک کر سب کو جلا دیا گیا تھا] ۔ ان بریگیڈیئر صاحب نے بھی اپنا نام ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ یاد رہے کہ اس نامہ نگار کی رپورٹ بدھ کے روز شائع ہوئی تھی جس میں واشنگٹن میں سفارتی ذرائع کے حوالے سے اس فل اسکیل ملٹری آپریشن کی اطلاع دی گئی تھی اور یہ بھی کہ اس سلسلے میں امریکی ایئرفورس کی مدد شامل ہوگی اور آپریشن کی صورت میں امریکی شاید بمباری بھی کریں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پاکستانی فوجی حکام نے کہا ہے کہ پاکستان اب بھی میانہ رو قبائلی لیڈروں سے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کرے گا اور یہ کوشش بھی کرے گا کہ یہ میانہ رو لیڈر انتہاپسندوں کا ساتھ دینا چھوڑ دیں۔

تیسری خبر ۔ القاعدہ نے پاکستان، افغانستان سرحد کے ساتھ ساتھ محفوظ اڈے بنا لئے ہیں جہاں سے دہشت گرد نیٹ ورک کے لیڈر امریکہ اور پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ عراق میں اپنے وسائل استعمال کرتے ہوئے القاعدہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی سرزمین پر 9/11کی طرح کا ایک حملہ کرنیوالی ہے۔ یہ انکشاف امریکہ کی سالانہ انٹیلی جنس رپورٹ میں کیا گیا ہے جو منگل کو جاری ہوئی ہے اور اس حوالے سے امریکی ٹی وی ایک جامع رپورٹ منگل کی صبح کو دے چکا ہے۔ رپورٹ کے تجزیئے میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے دوبارہ نمودار ہونے کے موضوع پر بھی بات کی گئی ہے۔ رپورٹ کا دعویٰ ہے کہ القاعدہ دہشت گرد اور طالبان قبائلی علاقوں میں ازسرنو منظم ہوگئے ہیں،جس کے باعث قبائلی علاقوں میں بڑے فوجی آپریشن کا امکان ہے ۔ ایک غیر ملکی سفارتی ذرائع نے رپورٹ کے اجراء سے ایک روز پہلے ”نمائندہ جنگ“ کو بتایا تھا کہ شمالی وزیرستان اور دوسرے قبائلی علاقوں میں ایک بڑا ملٹری آپریشن متوقع ہے جس میں امریکی فضائیہ کی بمباری بھی شامل ہوگی۔ ایک اور ذریعہ نے مبینہ طور پر متوقع امریکی بمباری کے لئے ”کارپیٹ بمباری“ کی اصطلاح بھی استعمال کی تھی۔ اس مبینہ متوقع حملے میں گراؤنڈ پر پاکستان آرمی اور دوسری سیکوریٹی فورسز استعمال کی جائیں گی۔

ایک اور غیر ملکی سفارتی ذرائع نے بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف اب اپنے قریب ترین مشیروں سے بھی مشورہ نہیں کرتے اور اپنے اقدامات کو آخروقت تک خفیہ رکھتے ہیں۔ لال مسجد کے واقعے میں مذاکرات کے دوران اچانک انہوں نے ملٹری ایکشن کا حکم دیا تھا۔ شمالی وزیرستان میں اگرچہ ”مذاکرات“ پر زور دیا جارہا ہے لیکن اس کے ساتھ فوجیں بھی صوبہ سرحد میں جمع ہو رہی ہیں۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان امریکا کا مشترکہ آپریشن جولائی کے تیسرے یاآخری ہفتے میں اور یہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے وقت کے قرب وجوار میں ہوگا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ القاعدہ آئندہ 2 ماہ میں اہم سیاسی، اقتصادی اورانفراسٹرکچر ٹھکانوں پر حملے کرے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ مالی اور جانی نقصان پہنچایا جاسکے۔ رپورٹ کے مطابق ”القاعدہ روایتی چھوٹے ہتھیاروں اور گھر میں بنائے ہوئے دھماکہ خیز مواد کے استعمال میں مہارت رکھتی ہے اور وہ سیکورٹی رکاوٹوں کو عبور کرنے کی نت نئی ترکیبوں کی بھی ماہر ہے“۔ رپورٹ کے مطابق 9\11کے بعد القاعدہ نے اپنی صلاحیت کے وہ تمام کلیدی عناصر بحال کردیئے ہیں جو امریکی سرزمین پر حملہ کرنے کیلئے ضروری ہیں۔ ان میں اہم ترین چیز پاکستانی قبائلی علاقوں میں محفوظ ٹھکانے اور حملے کرنیوالے نئے لیڈر ہیں، یہ گروپ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہے گا چونکہ امریکی سرزمین پر حملے کی پیش گوئی کی گئی ہے اور اس حملے کی منصوبہ بندی کرنیوالے 9\11 کی طرح اس وقت پاکستانی قبائلی علاقوں میں مبینہ طور پر موجود ہیں۔ لہذا پاکستانی سرزمین پر فوری ملٹری آپریشن کا جواز پیدا ہوگیا ہے اور منطق یہ ہے کہ اگر 9/11کے بعد امریکا نے افغانستان پر شدید بمباری کی تھی تو ایک اور 9/11کو روکنے کیلئے اتنی ہی شدید بمباری کی جائے گی۔ ایک ہفتہ قبل ایک امریکی ٹی وی نے اطلاع دی تھی کہ القاعدہ کا ایک خصوصی حملہ آور گروپ امریکہ پر حملے کیلئے روانہ ہوچکا ہے یا امریکہ میں داخل ہوگیا ہے اور صدر جارج بش نے اس صورتحال پر غور کرنے کیلئے ایک ہنگامی اجلاس بلایا ہے لیکن وہائٹ ہاؤس نے اس خبر کی تردید کردی تھی

Posted in گذارش, خبر | Leave a Comment »

آپریشن سن رائز کیسا سورج چڑھائے گا ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 18, 2007

منگل 2 جولائی بعد دوپہر شروع ہونے والی لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس پر فوج کشی جسے پہلے آپریشن سائلنس [Operation Silence ] کہا گیا تھا 11 جولائی کو آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل وحید ارشد نے بتایا کہ اس کا نام آپریشن سن رائز [Operation Sunrise ] تھا ۔


ماضی قریب

جو کچھ 2 جولائی سے 11 جولائی 2007 تک ہوا اسے حکومتی شعبدہ بازوں نے مخمل میں لپیٹنے کی کوشش کی لیکن اس مخمل میں سے ٹپکتا ہوا خون ان کو نظر نہیں آیا یا وہ جان بوجھ کر اس سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں ۔

جامعہ حفصہ کو مسمار کرنے کا حکم صادر ہو چکا ہے ۔ اس میں پڑھنے والی طالبات جو زندہ بچ گئی ہیں وہ اب اپنی تعلیم کہاں مکمل کریں گی ؟ ان طالبات میں بہت سی یتیم اور بے سہارا ہیں جنہیں تعلیم کے ساتھ کھانا اورکپڑے بھی جامعہ حفصہ کی طرف سے ملتے تھے ۔ ایسی طالبات کا کیا بنے گا ؟ وہ کہاں جائیں گی ؟ جامعہ حفصہ پر حملہ کے وقت طالبات کی تعداد 2000 سے کچھ اُوپر تھی ۔ یہی صورتِ حال جامعہ فریدیہ کی ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہاں طلباء تھے ۔کیونکہ جامعہ فریدیہ کی دو ایکڑ زمین اور عمارت جو کہ غیر قانونی نہیں ہے پھر بھی اسے سیکیورٹی ایجنسیز کے حوالے کرنے کا حکم صادر ہو چکا ہے ۔ پہلے ہی اسلام آباد کے بہترین سیکٹروں کا ایک تہائی حصہ سیکیورٹی ایجنسیز کے قبضہ میں ہے ۔


حال

موجودہ حکومت کی منصوبہ بندی کھُل کر سامنے آ چکی ہے اور حکومت کی "دہشتگردی کے خلاف جنگ” بھی واضح ہو چکی ہے ۔ یہی کچھ اسلام دشمن طاقتیں چاہتی ہیں اور موجودہ حکومت ان کی تابعداری میں اپنے آپ کو بھی بھُول چکی ہے ۔ ابھی لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں خون خرابہ جاری تھا کہ حکومتی مُہروں نے مدرسوں کی جدید روشن خیال خطوط پر اصلاح کی باتیں شروع کر دی تھیں اور یہ بھی زور دار الفاظ میں کہہ دیا گیا کہ جو نہیں مانے گا اس کے خلاف ایکشن لیا جائے گا ۔

آپریشن سن رائز شروع کرنے سے قبل حکومتی اہلکاروں نے لال مسجد اور جاممعہ حفصہ کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کا عندیہ دیا تھا اور سب نے دیکھ لیا کہ اس قانونی کاروائی کا مطلب کیا تھا ۔ چنانچہ یا تو مدرسوں میں مسلمانوں کے بچوں کو اسلام دشمنوں سے دوستی اور روشن خیالی جس میں ناچ گانا شراب سب جائز ہو پڑھائی جائے گی یا پھر یکے بعد دیگرے تمام دینی مدرسے آپریشن سن رائز جیسی قانونی کاروائی سے گذر کر ملیامیٹ ہو جائیں گے ۔


مستقبل ؟ ؟ ؟

آج ہمیں سوچنا ہو گا کہ ہمارے بچے [میرے بچوں کے بچے] دین اسلام کا کیا سبق حاصل کریں گے ؟
وہ جو اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ذریعہ ہم تک پہنچایا ؟
یا وہ جو جارج واکر بُش اور دیگر اسلام کے دُشمن ہمیں پڑھانا چاہتے ہیں ؟
یہ بھی سوچنا پڑے گا کہ اگر عالِم دین ختم کر دیئے گئے تو پاکستان کی آئندہ نسل کو دین کا صحیح عِلم کون سکھائے گا ؟
اور کیا ہماری آنے والی نسلیں مسلمان ہی ہوں گی ؟

Posted in گذارش | 2 Comments »

عینی شاہد کیا کہتا ہے ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 17, 2007

جہاں تک مجھے حقائق کا علم ہے تو عبدالرشید غازی نے آخری وقت تک مذاکرات کامیاب بنانے کی پوری کوشش کی۔ وہ اپنے ساتھیوں کی زندگیاں بچانا چاہتے تھے لیکن عزت کے ساتھ۔ مذاکرات کی ناکامی کی وجہ حکومت کے ساتھ ساتھ ان علماء کا رویہ بھی ہے جو آخری وقت میں چوہدری شجاعت حسین کے ہمراہ لال مسجد کے باہر موجود تھے۔ بعض علماء کا رویہ انتہائی غیر سنجیدہ تھا۔ چوہدری شجاعت حسین اور مولانا فضل الرحمان خلیل موبائل فون پر عبدالرشید غازی کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے اور ان کے ساتھ موجود بعض علماء آپس میں قہقہے لگا رہے تھے۔ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ علماء کے قہقہے روکنے کیلئے چوہدری شجاعت حسین کے کچھ ساتھیوں کو ان سے باقاعدہ درخواست کرنی پڑی۔ شام چھ بجے شروع ہونے والی بات چیت رات کے پچھلے پہر میں داخل ہوئی تو ان علماء نے اسلام آباد کے بلیو ایریا سے کھانا منگوا کر کھانا شروع کردیا جبکہ چوہدری شجاعت حسین اور فضل الرحمان خلیل بسکٹوں اور پانی پر گزارا کر رہے تھے۔ ان دونوں نے عبدالرشید غازی سے پوچھا کہ کیا آپ نے کچھ کھایا ہے ؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا اور کہا کہ اگر آپ چند سو افراد کا کھانا بھجوا دیں تو ہم سمجھیں گے کہ آپ واقعی ہمارے خیر خواہ ہیں۔ چوہدری شجاعت حسین نے فوری طور پر تین سو آدمیوں کے کھانے کا بندوبست کرنے کیلئے اپنے آدمی دوڑائے۔

اس دوران عبدالرشید غازی اپنے چند مبینہ غیر ملکی ساتھیوں کو حکومت کے حوالے کرنے پر راضی ہو چکے تھے کیونکہ یہ چھوٹی چھوٹی عمروں کے طلباء تھے۔ وہ لال مسجد اور جامعہ فریدیہ بھی چھوڑنے والے تھے۔ موقع پر موجود علماء جامعہ فریدیہ کو وفاق المدارس کے حوالے کرانا چاہتے تھے لیکن حکومت راضی نہ تھی۔ یہ اتنا اہم مسئلہ نہ تھا۔ اصل مسئلہ لال مسجد اور محصور سیکڑوں طلباء و طالبات کی زندگیاں بچانا تھا لیکن مولانا حنیف جالندھری اور ان کے ساتھی علماء اس مسئلے پر مذاکرات کو چھوڑ کر چلے گئے۔ صرف مولانا فضل الرحمان خلیل وہاں رہ گئے۔ انہوں نے آخر میں عبدالرشید غازی کو 20 عورتیں اور مرد باہر بھیجنے پر راضی کر لیا لیکن اس دوران عبدالرشید غازی کے موبائل فون کی بیٹری ڈاؤن ہوگئی اور رابطہ منقطع ہو گیا۔ مولانا فضل الرحمان خلیل اور چوہدری صاحب رابطہ دوبارہ بحال کرنے کا راستہ نکال ہی رہے تھے کہ آپریشن شروع ہو گیا۔

لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں موجود بھوکے پیاسے مردوں کے پاس مزاحمت کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہ تھا اور مجبور عورتوں نے خاموشی سے موت کے منہ میں جانا قبول کر لیا۔ کتنی عورتیں اور بچیاں شہید ہوئیں ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا حکومت کے پاس کوئی تسلی بخش جواب نہیں۔ عبدالرشید غازی کی شہادت سے اگلے دن حکومت نے صحافیوں کو لال مسجد کا دورہ کروایا اور بہت سا اسلحہ دکھایا جس میں راکٹ لانچر بھی موجود تھے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ عبدالرشید غازی اور ان کے ساتھیوں نے یہ راکٹ لانچر کیوں نہ چلائے ؟

اس آپریشن سے اگلے روز اسلام آباد کے سیکٹر ایف ٹین تھری میں ایک خاتون وزیر مملکت نے ایک ڈانسنگ کلب کا افتتاح کیا۔ اس علاقے میں شراب فروخت کرنے کی دکان بھی قائم ہوچکی ہے۔ کیا ڈانسنگ کلب اور شراب خانے قائم کر کے پاکستان میں انتہاء پسندی کم ہو جائے گی ؟ سچ تو یہ ہے کہ مذہبی انتہا پسندی دراصل لبرل اور سیکولر انتہا پسندی کا ردعمل ہے۔ جب تک مغرب پسند لبرل اور سیکولر حکمران طبقہ اپنی انتہاء پسندی ختم نہیں کرتا معاشرے میں اعتدال پسندی فروغ نہ پائے گی۔ ذرا سوچئے اگر برطانوی حکومت کی پالیسیاں وہاں کے مسلمان ڈاکٹروں کو انتہا پسند بنا سکتی ہیں تو ہمارے حکمرانوں کی انتہا پسندی ہمارے نیم پڑھے لکھے مذہبی نوجوانوں کو کدھر لیکر جائے گی ؟

تحریر ۔ حامد میر

Posted in گذارش, خبر | 6 Comments »

ان کا کیا قصور ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 17, 2007

ایک نیک باعمل مسلمان خاندان سے ہماری علیک سلیک ہے ۔ ان میں ایک جوان انجنیئر ہے جس کی دو چھوٹی چھوٹی بیٹیاں ہیں ۔ اس کی بیوی چھ ماہ کیلئے اپنے میکے گئی جو ملک سے باہر ہیں ۔ ان کی ایک ملازمہ ہیں ۔ انجنیئر صاحب نے سوچا کہ ملازمہ فارغ کیا کرے گی اس کو مدرسے میں داخل کرا دیتے ہیں ۔ لکھنا پڑھنا اور دین کا کچھ سیکھ لے گی ۔ یکم جولائی کو وہ اسے جامعہ حفصہ میں داخل کرا آیا ۔ دوسرے دن بعد دوپہر اچانک آپریشن شروع ہو گیا ۔ ملازمہ نے گھر پر ٹیلیفون کیا اور کہا "یہاں گولیاں چل رہی ہیں ۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے آ کر لے جائیں”۔

انجنیئر صاحب ملازمہ کو لینے گئے تو اسے جامعہ حفصہ سے ایک کلو میٹر دور ہی روک دیا گیا ۔ واپس گھر جا کر اس نے ٹیلیفون پر جامعہ حفصہ سے رابطہ کیا مگر ان کا کہنا تھا کہ وہ بے بس ہیں جونہی گولیاں چلنی بند ہوں گی ان کی ملازمہ کو باہر نکال دیا جائے گا ۔ دوسرے دن ملازمہ چار طالبات کے ساتھ باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئی اور اپنے بھائی کے گھر جا کر انجنیئر صاحب کو اپنی خیریت کا ٹیلیفون کر دیا ۔

انجیئر صاحب نے جو اپنی ملازمہ کے متعلق مدرسہ حفصہ میں ٹیلیفون کیا تھا اس کے نتیجہ میں دوسرے دن ان کے گھر کچھ لوگ سادے کپڑوں میں آئے اور انہیں گرفتار کر کے لے گئے اور وہ ابھی تک اڈیالہ جیل میں بند ہیں ۔ ان کی بیٹیاں محلہ داروں نے ان کے رشتہ داروں کے گھر پہنچادی تھیں ۔ معلوم ہوا ہے کہ اسی طرح کے 80 کے قریب لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔

Posted in گذارش, خبر | 9 Comments »

مذاکرات میں حکومت کو بے نقاب کرتے ہیں حامد میر

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 16, 2007

مئی 2007ء کے آخری ہفتے میں جنرل پرویز مشرف پر بھی یہ الزامات لگنے لگے کہ وہ جان بوجھ کر لال مسجد کے ذریعہ گڑ بڑ پھیلا رہے ہیں۔ وجہ یہ تھی کہ چوہدری شجاعت حسین کے لال مسجد والوں کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوگئے لیکن انہیں کہاگیا کہ آپ مذاکرات کو لمبا کریں۔ چوہدری صاحب سے رہا نہ گیا اور انہوں نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری حکومت پر عائد کردی۔ آخری ملاقات میں عبدالرشید غازی نے چوہدری صاحب سے کہا کہ آپ مخلص انسان ہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ حکومت اس مسئلے کو کچھ مزید لمبا کرے گی اور مناسب وقت پر ہمیں ختم کرکے امریکا کے سامنے سرخرو ہوجائے گی۔ ایک دن عبدالرشید غازی نے یہ بھی کہا کہ اگرہم واقعی قصور وار ہیں تو کیا حکومت ہماری بجلی پانی بند نہیں کرسکتی؟ ہم پھر بھی باز نہ آئیں تو اعصاب شکن گیس پھینک کر ہم سب کو گرفتار نہیں کرسکتی؟

سات جولائی کو چوہدری شجاعت حسین نے مجھے بلایا اور کہا کہ وہ آخری مرتبہ عبدالرشید غازی کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں لیکن جو فون نمبر ان کے پاس تھے وہ سب بند ہوچکے ہیں۔ چوہدری صاحب دوبارہ رابطہ چاہتے تھے میں نے کوشش کرکے غازی سے رابطہ کیا اور انہیں چوہدری صاحب کی خواہش سے آگاہ کیا۔ غازی ہنسے اور بولے کہ چوہدری صاحب معصوم ہیں وہ نہیں جانتے کہ ہمیں مارنے کا فیصلہ ہوچکا ہے میرے اصرار پر انہوں نے چوہدری صاحب سے دوبارہ رابطہ کیا اور یوں پھر سے مذاکرات شروع ہوگئے۔ ان مذاکرات میں غازی نے بار بارکہا کہ میرے بڑے بھائی عبدالعزیز کو دھوکے سے باہر بلا کر گرفتار کرلیا گیا اور مجھے باہر بلا کر مار دیا جائے گا لہٰذا بہتر ہے کہ میں ذلت کی موت کی بجائے لڑتے ہوئے مارا جاؤں۔

آخرکار وہی ہوا اور غازی نے ہتھیار ڈالنے کی بجائے لڑتے ہوئے جان دینے کو ترجیح دی۔ آخری رابطوں کے دوران میں نے غازی سے کہا کہ دونوں طرف مسلمان ہیں کوئی راستہ نکالیں کہ مسلمان ایک دوسرے کا خون نہ بہائیں۔ غازی نے کہا کہ میں نے بہت کوشش کی لیکن حکومت ہمیں رسوا کرنا چاہتی ہے، یہ سارا معاملہ حکومت کا کھڑا کیا ہوا ہے، حکومت نے اس معاملے میں بہت سے سیاسی مقاصد حاصل کئے اور آخر میں ہمیں رسوا کرکے مزید کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ غازی کو یقین تھا کہ ان کی موت ہی ان کی فتح اور حکومت کی ناکامی ہوگی۔ وہ کہتے تھے کہ ہماری موت ہماری بے گناہی ثابت کریگی اور ہمارا بدلہ اس ملک کے غیرت مند مسلمان لیں گے۔

پورا مضمون یہاں کلک کر کے پڑھئے

Posted in گذارش, خبر | 14 Comments »