What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

Archive for the ‘کُنبہ’ Category

سالگرہ مبارک

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اگست 12, 2007

 

ہماری پیاری پیاری ننھی سی پوتی کو سالگرہ مبارک
  جيؤ ہزاروں سال ۔ ہر سال کے دن ہوں پچاس ہزار

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی ہماری پياری پوتی پر اپنی رحمتيں نازِل کرے ۔ آمين


دادا دادی کی جان پياری پیاری مِشَّيل ماشاء اللہ تین سال کی ہو گئی ہے

مِشَّيل دسمبر 2005 ميں پاکستان آئی تھی وہ بھی صرف 16 دن کیلئے جس دوران مِشَّيل ایک ہفتہ نانا ۔ نانی اور ماموں کے ساتھ رہی تھی چنانچہ ہمارا خیال تھا کہ واپس جا کر مِشَّيل ہمیں بھول جائے گی لیکن والدین کی طرف سے تربیت اگر صحیح ہو تو بچوں کے دل میں اپنے عزیزوں کیلئے محبت پیدا ہوتی ہے ۔ اب تو اللہ کے فضل سے مِشَّيل ہمیں اپنے ابو سے کہہ کر ٹیلیفون کرواتی ہے اور ہم سے بات کرتی ہے ۔ سُبحان اللہ ۔ چشمِ بَد دُور

Posted in کُنبہ, خبر | 7 Comments »

خوش قِسمت دادا

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اگست 12, 2006

سالگرہ مبارک ہماری بہت پياری مِشَّيل
 تم جيؤ ہزاروں سال ۔ ہر سال کے دن ہوں پچاس ہزارا

للہ سُبحانُہُ و تعالٰی ميری پياری پوتی پر اپنی رحمتيں نازِل کرے ۔ آمين

آج دادا اور دادی کی جان [ابھی تک اکلوتی] پياری پوتی مِشَّيل [زکريا کی بيٹی] ماشاء اللہ دو سال کی ہو گئی ہے ۔
مِشَّيل جب دسمبر 2005 ميں پہلی بار پاکستان آئی تو خيال تھا کہ امريکی ماحول يعنی اکيلا رہنا کی وجہ سے وہ پاکستان کے ماحول اور ہم سے گھبرائے گی ليکن اُس نے ثابت کر ديا کہ "جو کھينچتی ہے تُجھ کو وہ خون کی کشش ہے”۔ اسلام آباد ايئرپورٹ پر سامنے آتے ہی ميں نے آگے بڑھ کر اُسے بُلايا تو ماشاء اللہ مُسکرا کر اُس نے ميری روح تازہ کر دی ۔ گھر پہنچ کر مِشَّيل اپنی امّی کی گود ميں بيٹھی تھی ۔ ميں نے بُلايا تو مُنہ چھُپا ليا ۔ اس پر ميں ہنس ديا تو مِشَّيل نے اِسے کھيل بنا ليا ۔ جب ميں بُلاتا تو عموماً چھُپ جاتی کبھی اپنی امّی کی گود ميں کبھی اپنے ابّو کی ٹانگوں ميں کبھی صوفے کے پيچھے ۔ اگر ميں نہ بلاؤں تو خود مجھے بُلاتی ۔ جب ميں کہتا ” مِشَّيل آ جا” تو چھُپ جاتی ۔ ايک دن دوسری منزل پر جا کر مُجھے بلانے لگ گئی "دادا ۔ دادا” ميں اُوپر گيا تو ہنستی ہوئی کمرے ميں چھُپنے کيلئے بھاگی ۔

مِشَّيل کے واپس امريکہ جانے کے بعد جب ہم ٹيليفون کرتے تو کہتے کہ مِشَّيل کو ٹيليفون دو ۔ مِشَّيل اپنی دادی اور پھُوپھو سے اپنی سپيشل زبان ميں باتيں کرتی ۔ ميرے ساتھ صرف ايک دفعہ بات کی ورنہ ميری آواز سُنتے ہی ٹيليفون اپنے ابّو کو دے کر بھاگ جاتی ۔ 30 جون 2006 کو زکريّا بيٹے کا ٹيليفون آيا کہ مِشَّيل کہہ رہی ہے "دادا فون ۔ دادا فون”۔ اُس وقت ميں موجود نہيں تھا تو اپنی دادی سے باتيں کرتی رہی ۔ چند منٹ بعد ميں پہنچ گيا پھر ميرے ساتھ بھی باتيں کيں جو میری سمجھ ميں نہيں آئيں ۔

اب تو اللہ کے فضل سے يہ حال ہے کہ لَيپ ٹاپ کی طرف اشارہ کر کے مِشَّيل اپنے ابُو سسے کہتی ہے ۔ دادا فوٹو يعنی دادا کی تصوير دِکھاؤ ۔ دس بارہ دن پہلے ہم نے ٹيليفون کيا تو زکريّا نے بتايا کہ مِشَّيل کو زکام اور بخار ہے ۔ ميں نے کہا پھر تو اُس سے بات نہيں ہو سکے گی ۔ ايک منٹ بعد مِشَّيل نے آ کر اپنے ابُّو سے ٹيليفون لے ليا اور ميرے ساتھ باتيں کرنے لگی ۔ وہ مُجھے کچھ بتاتی رہی دادا ۔ ۔ ۔ دادا ۔ ۔ ۔ مُجھے ايک آدھ لفظ سمجھ آيا مثلاً کَيپ ۔ مُجھ سے ميری بيگم نے ٹيليفون پکڑ ليا تو مِشَّيل نے اپنی دادی کی بات نہ سُنی اور کہا دادا فون تو ميری بيگم نے ٹيليفون مُجھے واپس دے ديا اور مِشَّيل پھر ميرے ساتھ باتيں کرنے لگ گئی ۔ بعد ميں مِشَّيل نے اپنی دادی کے ساتھ بھی بہت باتيں کيں ۔ اب تو زکريّا کہتا ہے دادا سے بات کرنی ہے تو مِشَّيل بھاگی ہوئی آتی ہے۔ سُبحان اللہ ۔ چشمِ بَد دُور

Posted in کُنبہ | 2 Comments »