What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

Archive for the ‘معاشرہ’ Category

سنگاپور حکومت کی منافقت

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اکتوبر 3, 2007

 

سنگاپور حکومت کی منافقتسنگاپور جو مغربی طاقتوں کے تسلط ميں رہا ہے وہاں برطانيہ کے نافذ کردہ قانون کی رُو سے سکولوں ميں مسلم لڑکيوں کا اپنے عقيدہ کے مطابق سر پر سکارف باندھنا ممنوع ہے

 

سنگاپور برطانيہ ہی کے نافذ کردہ قانون کی رُو سے سکولوں ميں سکھ لڑکوں کو اپنے عقيدہ کے مطابق پگڑی باندھنے کی اجازت ہے ۔

 

 

 

 

مغربی دنيا کے تعليم يافتہ اور ترقی يافتہ لوگوں ميں سے کچھ کی جمہوريت پسندی ۔ حُسنِ سلوک اور انسانيت سے محبت کا ايک نمونہ>

يہ غیر مسلموں کی تنگ دلی ۔ انتہاء پسندی ۔ نفرت اور منافقت نہيں تو اور کيا ہے ؟

بشکريہ : حجاب ہيپّوکريسی

Advertisements

Posted in معاشرہ | 3 Comments »

Hypocrisy Defined منافقت کا الجبرا۔

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر ستمبر 7, 2007

سطحی نظر انسان کو حقیقت سے روشناس نہیں ہونے دیتی اور اس کی سوچ کو اس طرح ڈھال دیتی ہے کہ اسے اپنی بولی یا زبان بھی ناقص لگنے لگتی ہے ۔ یعنی ایک لفظ اس کی اپنی زبان میں بولا جائے تو اس کو فحش یا غیر مہذّب محسوس ہوتا ہے خواہ وہ خود اسی لفظ کو انگریزی میں کہتے ہوئے کوئی عار محسوس نہ کرتا ہو ۔ یہ بھی منافقت کی ایک قسم ہے ۔ اسی طرح میں اگر کسی فعل کو منافقت کہوں تو کئی صاحبان مجھ سے ناراض ہو جائیں گے مگر ہِپوکریسی [hypocrisy] کہنے سے ناراض ہونے کا امکان بہت کم ہو گا ۔

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے انسان کا ذہن ایسے تخلیق کیا ہے کہ بنیادی طور پر وہ اپنا عمل اور عقیدہ یا سوچ ایک رکھنا چاہتا ہے یعنی منافقت سے دور رہنا چاہتا ہے ۔ اسی وجہ سے بچوں کو معصوم سمجھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ سب بچے جنت میں جائیں گے ۔


الجبراء کے قاعدہ سے


اگر سوچ = عمل تو منافقت = صفر

منافقت کی ایک شکل یہ ہے کہ بیان کردہ عقائد کا عمل کے ساتھ ٹکراؤ ہو
منافقت کی دوسری شکل یہ ہے کہ بیان کردہ عقائد وہی نہ ہوں جو کہ حقیقی دِلی عقائد ہیں
منافقت کی تیسری شکل یہ ہے کہ حقیقی دِلی عقائد کا عمل کے ساتھ ٹکراؤ ہو

جتنی عقائد اور عمل میں تفاوت ہو گی منافقت اتنی ہی زیادہ اور گہری ہو گی


علاج

انہماک کے ساتھ حقائق کا ادراک کرنا چاہیئے
خلوصِ نیّت سے سچ کو ڈھونڈنا اور سمجھنا چاہیئے
اخلاقیات اور فرائضِ انسانی کا حقیقی ادراک کرنا چاہیئے

Posted in معاشرہ | 2 Comments »

دین اور ریاست بحوالہ اسلام اور پاکستان

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اگست 30, 2007

سُبْحَانَكَ لاَ عِلْمَ لَنَا إِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ ۔
تیری ذات پاک ہے ہمیں کچھ علم نہیں مگر اُسی قدر جو تُو نے ہمیں سِکھایا ہے، بیشک تُو ہی جاننے والا حکمت والا ہے

میں نے اپنی ایک تحریر میں دین اور ریاست کے تعلق کے بارے لکھنے کا وعدہ کیا تھا جو اللہ کی مہربانی سے آج پورا ہونے جا رہا ہے ۔ چند سالوں سے کچھ لوگ غوغا کر رہے ہیں کہ دین ذاتی معاملہ ہے اور اس کا ریاست یا ریاستی امور سے کوئی تعلق نہیں ۔ موجودہ حکومت اور ملک کے 70 فیصد ذرائع ابلاغ اِس نظریہ کو ہوا دے رہے ہیں ۔ مطلب یہ ہوا کہ دین ذاتی معاملہ ہے کسی کا دل چاہے اس پر چلے یا نہ چلے حکومت اس قضیئے میں نہیں پڑے گی ۔

حکومت بالخصوص جمہوری حکومت کا کام عوام کی بہتری اور انہیں انصاف ۔ خوراک ۔ پوشاک ۔ تعلیم و تر بیت ۔جان و مال کا تحفظ اور دوسری ضروریاتِ زندگی مہیا کرنا ہوتا ہے ۔ غور کیا جائے تو یہ سب عوامل بھی ذاتی معاملات ہیں کیونکہ ان کے عمل و حصول میں ہر فرد کی ذاتی خواہش اور ذاتی فیصلہ حاوی ہوتا ہے ۔ لیکن ان لئے حکومت قوانین وضع کرتی ہے ۔ اگر یہ قوانین دین کو نظرانداز کر کے بنائے جائیں تو وہ دین کے خلاف بھی ہو سکتے ہیں ۔ اس طرح حکومتی قانون لوگوں کے انفرادی ذاتی معاملہ یعنی دین اسلام پر عمل میں دخل اندازی کرے گا ۔ دوسرے لفظوں میں حکومت کا قانون جمہور کو ان کے بنیادی حق سے محروم کر دے گا جو کہ جمہوری اصولوں کی نفی ہے ۔

میاں بیوی کے تعلقات سے بڑھ کر ذاتی نوعیت کسی اور عمل کی نہیں ۔ اس کے بعد ذاتی معاملہ جائیداد ہوتی ہے ۔ وکلاء جانتے ہوں گے کہ سب سے زیادہ مقدمات میاں بیوی کے تعلقات اور جائیداد سے جنم لیتے ہیں ۔ تو پھر کیا ذاتی معاملات ہونے کی وجہ سے حکومت اس سلسلہ میں قوانین وضع نہیں کرے گی یا دین اسلام کے خلاف قوانین بنائے گی ؟ دوسری طرف دین جسے ذاتی معاملہ کہا جاتا ہے اس میں ان دونو معاملات کے سلسلہ میں واضح احکام موجود ہیں جو کہ قرآن شریف میں بڑی وضاحت کے ساتھ آئے ہیں اور مسلمانوں پر فرض ہیں ۔ مزید یہ کہ جمہوریت میں قوانین ملک کے تمام لوگوں کی سہولت کیلئے ہوتے ہیں مگر اکثریت کے خیالات و احساسات کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے اور اس سے بھی کوئی اختلاف نہیں کر سکتا کہ پاکستان میں مسلمان بہت بھاری اکثریت میں ہیں ۔ چنانچہ متذکرہ جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کیلئے اگر غیراسلامی قوانین اپنائے جائیں تو یہ جمہوری اصولوں کے خلاف ہو گا ۔

دین اسلام زندگی گذارنے کا ایک جامع طریقہ ہے جو اس کائنات کے خالق و مالک نے ہمیں بتایا ہے ۔ اس میں ذاتی معاملات صرف وہ ہیں جن میں انسان کی وہ عبادت شامل ہے جس سے اللہ اور اسکی اپنی ذات کے سوا کسی اور کا تعلق نہ ہو ۔ باقی سب معاملات اجتماعی ہیں اور ان سب کیلئے احکام قرآن و سنّت میں موجود ہیں ۔ حکومت قانون سازی کی ذمہ دار ہے اور چونکہ ملک میں بھاری اکثریت مسلمانوں کی ہے اسلئے جمہوری اصولوں کے تحت آئین اور قوانین میں مسلمانوں کے دین کا عمل دخل ضروری ہے ۔

مزید یہ کہ پاکستان کے آئین میں اسلام کو ریاست کا دین قرار دیا گیا ہے اسلئے ساری قانون سازی قرآن و حدیث کے مطابق جمہوری ۔ عوامی اور آئینی ضرورت ہے جو کہ آج تک نہیں کی گئی اور جنہوں نے اختیارات ہوتے ہوئے نہیں کی وہ نہ صرف اللہ کے بلکہ عوام کی اکثریت کے بھی مُجرم ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام رہبانیت سے روکتا ہے اور احسن طریقہ سے اجتماعی زندگی گذارنے کی تلقین کرتا ہے ۔ باجماعت نماز ۔ نمازِ جمعہ ۔ نمازِ عید اور حج میں جن اجتماعی روّیوں کی تربیت دی گئی ہے وہ کسی اور مذہب میں موجود نہیں ۔ چارلس اے کروہن جو یو ایس آرمی کے پبلک افیئرز کے ڈپٹی چیف [Deputy Chief of Public Affairs of the US Army] کی حثیت سے جنگ کا تجربہ رکھتے ہیں اور اب امریکی جنگی یادگاروں کے پبلک افیئرز کے ڈپٹی ڈائریکٹر [Deputy Director, American Battle Monuments Commission] ہیں حج کی اجتماعیت کے فوائد سے متأثر ہو کر لکھتے ہیں

Muslims are obliged to make at least one trip to the holy city of Mecca during their lifetime. This pilgrimage is known as the hajj. It is mandatory for men, voluntary but encouraged for women. A basic dress code ensures that there’s no visible difference between rich and poor, weak and powerful. This simple requirement unites the faithful.

What if every American who is able to do so made an effort to visit at least one American military cemetery overseas during his or her lifetime? Americans visiting our overseas military cemeteries will find themselves enriched in ways I can only partially explain. At a minimum, the visit will prompt a renewed, and awesome, appreciation of those who sleep in the dust below.

The notion of an American hajj has loopholes, I know. But the thought of an activity or sacrifice that draws us together has merit, and we need this coming together now more than ever.

اگر دین کا معاملہ فرد پر چھوڑ دیا جائے اور دین پر عمل نہ کرنے والے کسی فرد یا گروہ کے دینی عمل میں حائل ہوں تو کس طرح اس فرد یا گروہ کو اپنا حق دلوایا جائے گا اگر قوانین غیر اسلامی ہوں گے ؟ خیال رہے کہ جمہور کے بنیادی حقوق کا تحفظ جمہوری حکومت کا اوّلین فرض ہے ۔

عملی طور پر انسان کے بنائے ہوئے ریاستی قوانین میں اجازت نہیں ہوتی کہ کوئی شخص اجتماعی معاملات میں قانون پر عمل کرے اور ذاتی معاملات میں قانون کی خلاف ورزی کرے ۔ اسلئے اگر بالفرضِ محال دین کو ذاتی معاملہ کہہ دیا جائے تو کیا کسی شخص کو اجازت ہو گی کہ وہ دین پر عمل کرتے ہوئے حکومت کے قوانین کی خلاف ورزی کرے ؟ جبکہ کہ حکومتی قوانین میں دین کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا ۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ دین کو حکومت میں داخل کر دیا جائے تو جنرل پرویز مشرف اور بہت سی قباحتوں کے علاوہ سڑک پر سے گذرنے کیلئے ہزاروں لوگوں کا راستہ بند نہیں کروا سکیں گے جن میں سیکنڑوں مریض گھنٹوں تڑپتے ۔ ننھے بچے بِلکتے اور کئی بار شدید بیمار گھنٹوں محصور رہنے کی وجہ سے امبولینسوں میں مر چکے ہیں ۔ اور نہ ہی نام نہاد روشن خیالی کے پرستار عیاشیاں کر سکیں گے ۔ دین کو ریاست سے الگ کرنے کی وکالت کرنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ قرآن شریف میں حکومتی امور کا کوئی ذکر نہیں ۔ دیکھتے ہیں کہ قرآن میں کیا لکھا ہے ۔


حاکم کی اطاعت

سورت ۔ 4 ۔ النساء ۔ آیت 59۔ اے ایمان والو ۔ اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں صاحب امر ہوں پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ پر نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو اگر تم واقعی اللہ اور روزِ آخر پر یقین رکھتے ہو ۔ یہی ایک صحیح طریقۂ کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے ۔


حاکم کیلئے حُکم

دین کو ریاست سے الگ رکھنے کے حامی یہ تو مانتے ہیں کہ پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے اور اس کے حاکم بھی مسلمان ہیں ۔ دیکھتے ہیں کہ مسلمان حاکم کیلئے اللہ کا کیا حکم ہے ؟

سورت ۔ 6 ۔ الانعام ۔ آیت 165 ۔ اور وہی ہے جس نے تم کو زمین میں نائب بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض پر درجات میں بلند کیا تاکہ وہ ان (چیزوں) میں تمہیں آزمائے جو اس نے تمہیں عطا کر رکھی ہیں ۔ بیشک آپ کا رب جلد سزا دینے والا ہے اور بیشک وہ بڑا بخشنے والا اور بے حد رحم فرمانے والا ہے

سورت ۔ 22 ۔ الحج ۔ آیت 41 ۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم نے انہیں زمین میں صاحب اقتدار کردیا تو وہ نماز قائم کریں گے ۔ ادائے زکوٰت میں سرگرم رہیں گے ۔ نیکیوں کا حُکم دیں گے ۔ برائیوں سے روکیں گے اور تمام باتوں کا انجام کار خدا کے ہاتھ میں ہے ۔

سورت النساء میں صاحبِ امر یعنی حاکم کی اطاعت کا حُکم دیتے ہوئے ساتھ شرط لگا دی گئی ہے کہ حکمران سے اختلاف ہو جانے کی صورت میں وہ کرو جس کا اللہ اور اس کے رسول نے حُکم دیا ہے ۔ اور سورت الحج میں مسلمانوں کے حکمران کے ذمہ کر دیا گیا کہ وہ نماز قائم کرے ۔ ادائے زکوٰت میں سرگرم رہے ۔ نیکیوں کا حُکم دے اور برائیوں سے روکے ۔ اگر دین کو ریاست سے الگ کر دیا جائے گا تو یہ سب کس طرح ممکن ہو گا ؟


انصاف ۔ اللہ کا حکم اور حکومت کا جمہوری فرض بھی

جمہوریت میں انصاف حکومت کا اہم ترین فرض ہوتا ہے ۔ نظامِ انصاف حکومت کے تین اہم ستونوں میں سے ایک ہے ۔ دیکھتے ہیں اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے اس سلسلہ میں کیا حُکم دیا ہے اور کیا اس پر عمل کرنا اور کروانا مسلمان حکمران کا فرض نہیں ؟

سورت ۔ 2 ۔ البقرہ ۔ آیت 42 ۔ باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو ۔

سورت ۔ 2 ۔ البقرہ ۔ آیت 283 ۔ ۔ ۔ ۔ اور شہادت ہرگز نہ چھپاؤ ۔ جو شہادت چھپاتا ہے اُس کا دل گناہ میں آلودہ ہے ۔ اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں ہے ۔

سورت ۔ 4 ۔ النّساء ۔ آیت 58 ۔ بیشک اللہ تمہیں حُکم دیتا ہے کہ امانتیں انہی لوگوں کے سپرد کرو جو ان کے اہل ہیں ۔ اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کیا کرو ۔ بیشک اللہ تمہیں کیا ہی اچھی نصیحت فرماتا ہے ۔ بیشک اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے

سورت ۔ 4 ۔ النّساء ۔ آیت 135 ۔اے ایمان والو! تم انصاف پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے اللہ کے لئے گواہی دینے والے ہو جاؤ خواہ [گواہی] خود تمہارے اپنے یا والدین یا رشتہ داروں کے ہی خلاف ہو، اگرچہ [جس کے خلاف گواہی ہو] مال دار ہے یا محتاج ۔ اللہ ان دونوں کا زیادہ خیر خواہ ہے۔ سو تم خواہشِ نفس کی پیروی نہ کیا کرو کہ عدل سے ہٹ جاؤ اور اگر تم پیچدار بات کرو گے یا پہلو تہی کرو گے تو بیشک اللہ ان سب کاموں سے جو تم کر رہے ہو خبردار ہے

اسی طرح معیشت اور معاشرت کے متعلق واضح احکامات قرآن و سنّت میں موجود ہیں ۔ سب کے حوالے دینے سے مضمون بہت طویل ہو جائے گا ۔ ان سب کا تعلق اجتماعی زندگی سے ہے ۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ دین اسلام کو فرد کا ذاتی معاملہ قرار دیا جائے ؟

وما علینا الالبلاغ

Posted in معاشرہ, دین | 5 Comments »

لال مسجد کا معاملہ اور ہمارا رویّہ ۔ چوتھی اور آخری قسط

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اگست 8, 2007

حالات و واقعات ۔ ایک محقق شیخ محمد علی صاحب کی نظر میں
آپریشن سے قبل بھی اور بعد میں بھی سرکار و حلیفان سرکار کی جانب سے بھانت بھانت کی وجوہات پیش کی جا رہی ہیں، کہیں زمینوں پر قبضے کی بات ہے تو کہیں شریعت کے ازخود نفاذ کی بات یا پھر اندر اسلحہ و غیرملکیوں کی موجودگی کی، لیکن دل پر ہاتھ رکھ کر بتایئے کہ سچ کیا ہے، کیا یہ سچ نہیں کہ ان معصوموں کی اموات کے فیصلے کہیں اور ہوئے تھے اور جن پر عملدرآمد اسی پالیسی کا حصہ ہے جو آج اقوام مغرب نے اسلام و مسلمان دشمنی کے تناظر میں ہر سمت جاری کر رکھی ہے۔ امریکا بہادر نے عراق پر ہاتھ ڈالنے کے لئے آخر یہی تو جواز تراشا تھا کہ وہاں بڑی مقدار میں کیمیاوی ہتھیار موجود ہیں لیکن ایک بڑی تباہی و بربادی کے بعد وہاں سے کیا برآمد کیا؟ یہ صرف مخالفین کو دبانے اور تباہ و برباد کر دینے کے ہتھکنڈے ہیں اس کے سوا کچھ نہیں۔ افسوس تو ان علماء پر بھی ہے جو اگر چاہتے تو شاید یہ نوبت نہ آنے پاتی لیکن آج اس خون ناحق پر بھی سیاست کی بساط بچھا لی گئی ہے، کہیں جوڈیشنل انکوائری کی بات ہو رہی ہے تو کہیں مذمت۔ اسلام نے ہمیشہ اپنے پیروکاروں سے عمل کا مطالبہ کیا ہے اور اس خصوصی معاملے میں عمل وہی قبول تھا جس سے ان کی جانیں بچ سکتیں اگر یہ علماء اور یہاں کے مسلمان یہ نہیں کرسکے تو ہزار مذمتیں کریں، ہزار انکوائریوں کا مطالبہ کریں انہیں بھی اس خون ناحق کا حساب دینا ہوگا۔ بشری زندگی کا ہر موضوع اور ہر پہلو اسلام کی گرفت میں ہے اور سیاست و سیادت کا ایک واضح و نمایاں خاکہ بھی اس نے پیش کیا ہے۔

ان واضح و بیّن احکامات کی موجودگی میں کسی کج بحثی کی گنجائش نہیں اور نہ میں اس حوالے سے کسی لمبی بحث میں الجھنا چاہتا ہوں، وہ لوگ جو لال مسجد والوں کے مطالبات، نفاذ شریعت کورٹ کی آڑ میں غلط قرار دیتے ہیں اور اپنے مباحثوں میں یہ فرماتے ہیں کہ کسی فرد یا ٹولے کو اس بات کا اختیار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ جب چاہے ایسے مطالبات لے کر اٹھ کھڑا ہو اور حکومت کی رِٹ کو چیلنج کرے انہیں دلوں میں خوف پیدا کرنا چاہئے اور اعمال میں اصلاح کی فکر بھی کیونکہ ان کا یہ ارشاد سراسر اسلامی سیاست و شریعت کے خلاف ہے۔ وہ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اسلامی تاریخ لاتعداد ایسی نظیریں پیش کرتی ہے جہاں فرد سے لے کر افراد تک اور افراد سے لے کر گروہوں تک نے نفاذ شریعت کا مطالبہ بھی کیا اور اس کے لئے حاکموں، جابروں اور آمروں سے ٹکر بھی لی، خود واقعہ کربلا سے بڑھ کر اس کی مثال کیا ہوگی کہ بہتّر افراد کے ٹولے نے محض شریعت کی سربلندی کے لئے بدترین آمر سے ٹکر لی اور خود تو دنیوی اعتبار سے ختم ہوگئے لیکن اپنی سنت پر چلنے کا ایک واضح اصول چھوڑ گئے۔ حکومت کی رِٹ کا فلسفہ گھڑنے والے اور اس کے خلاف ایسی آوازوں کو ناپسند کرنے والے کیا واقعہ کربلا کو بھی خاکم بدہن ایسا ہی کوئی واقعہ قرار دیں گے؟

سچ صرف ایک ہے کہ کھوٹ سارا ہمارے اپنے دلوں میں ہے، ہم نفس کے غلام، بے حمیّت اور ایمانی حوالوں سے کھوکھلے ہو چکے ہیں۔ دنیا بھر میں دشمنان اسلام اسلامی عقائد کے خلاف اپنی گندی زبانیں استعمال کر رہے ہیں، پیغمبر اسلام پر ہرزہ سرائی ہو رہی ہے، کفر و الحاد پرست انہیں زر و جواہر میں تول رہے ہیں جو ایسے رذیل و قابل گرفت کام انجام دے رہے ہیں اور ہم صرف زبانی کلامی بڑھکیں مار رہے ہیں۔ اب تو لال مسجد و مدرسہ حفصہ کے اندوہناک سانحے نے ہمارے ایمان کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے اور ہمیں اپنی ہی نظروں میں شرمندہ و نیچ ٹھہرا ڈالا ہے اور ہم یہ جان چکے ہیں کہ دعویٰ ایمانی کے تناظر میں ہم کتنے پانی میں ہیں۔

سائنس و ٹیکنالوجی کے اس کمرشل دور میں جبکہ لوگ محض دنیوی کامیابیوں اور فراوانی دولت کی خاطر تعلیم کے مختلف میدان اپنے بچوں کے لئے منتخب کر رہے ہیں ان بچوں سے یہ بدترین انتقام کیا معنی رکھتا ہے جو دین کی محبت میں ان مدرسوں کا رخ کر رہے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ یہ سودا دنیوی کامیابی کا نہیں بلکہ آخری کامیابی و سرفرازی کا ہے۔ کاش کہ طوق غلامی گردنوں سے اتار کر حکام وقت یہ سوچ سکیں کہ وہ کتنے بدترین خساروں کا سودا کر رہے ہیں۔ بے شک اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں

تحریر ۔ شیخ محمد علی ۔ یہ مضمون دو قسطوں میں تھا جو میں نے قارئین کی سہولت کیلئے چار اقساط میں لکھا ۔ اصل مضمون کی پہلی قسط یہاں کلک کر کے دیکھ سکتے ہیں اور دوسری قسط یہاں پر کلک کر کے

Posted in معاشرہ, روز و شب | Leave a Comment »

لال مسجد کا معاملہ اور ہمارا رویّہ ۔ تیسری قسط

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اگست 7, 2007

حالات و واقعات ۔ ایک محقق شیخ محمد علی صاحب کی نظر میں
اس مملکت خداداد پاکستان میں اگر لوگ شریعت کو پسند نہیں کرتے اور خواہشات نفس کی پیروی میں زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو یہ ان کا اور اللہ کا معاملہ ہے لیکن انہیں کیوں سزائیں دی جا رہی ہیں جو ایسا کرنا نہیں چاہتے۔ وہ شخص جو ایمان کا دعویدار ہے یاد رکھئے وہ کمزور سے کمزور حیثیت میں بھی منکرات کے خلاف اپنا ردعمل ظاہر کرے گا اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو پھر سمجھ لیجئے کہ ایمان کا معاملہ گڑبڑ ہے اور دال میں کچھ کالا ہے۔ صحیحین کی اس حدیث کو ملاحظہ فرمایئے جس میں اسی طرف واضح اشارہ موجود ہے، ارشاد ہے:

”تم میں سے جو شخص کوئی بدی دیکھے، اس کو ہاتھ سے (نیکی سے) بدل دے، اگر ایسا نہ کرسکے تو زبان سے روکے، اگر زبان سے بھی نہ روک سکے تو دل سے برا سمجھے اور یہ (آخری درجہ) ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ (بخاری و مسلم)

آج لمحہ فکریہ بحیثیت مجموعی تمام امت مسلمہ کے تناظر میں اور بالخصوص ہم پاکستانی مسلمانوں کے حوالے سے یہی ہے کہ اگر اسی فارمولے کو سامنے رکھ کر جو مندرجہ بالا حدیث میں پیش کیا گیا ہے اہل ایمان الگ کئے جائیں تو شاید چند ہی افراد اپنا شمار کسی ایک درجے میں کرا سکیں گے باقی سب ہی کا معاملہ ناگفتہ بہ ہوگا اور وجہ وہی ہے جس کا مشاہدہ کھلی آنکھوں سے بھی کیا جاسکتا ہے اور یہ شعر بھی اس کی خوب ترجمانی کر رہا ہے

تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا ۔ ۔ ۔ کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

یہ ہیں وہ تقاضے جو اسلام ہر مسلمان سے کرتا ہے اب اس صورتحال میں میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ وہ لوگ جو مسلمان ہیں اور اس بات کے دعویدار بھی کہ پاکستان ایک مسلمان ملک ہے اور یہاں شریعت قائم ہونی چاہئے کیسے اس بدترین ظلم میں ایک حصہ دار بن بیٹھے اور کیسے انہوں نے حقائق و واقعات کو یکسر فراموش کردیا۔ سچ پوچھئے تو شریعت کا نام لینے والے یا بظاہر اس کا مطالبہ کرنے والے سب شریعت سے خوفزدہ ہیں اور اسے پسند نہیں کرتے کیونکہ بہرحال شریعت کے تمام مطالبات و تقاضے وہ ہیں جو انہیں مرغوباتِ نفس سے دور کردیں گے اور جبراً انہیں ان تمام باتوں سے اجتناب کرنا پڑے گا جن کے لئے یہ بے چین و مضطرب رہتے ہیں۔ عوام الناس کی سطح پر یہ ایک عمومی خیال اپنی جگہ موجود ہے کہ شریعت کا مطالبہ کرنے والے علماء کبھی نفاذ شریعت کے لئے کچھ نہیں کرسکتے اس لئے کہ عملاً یہ کچھ کرنے کے اہل ہی نہیں سو کبھی کسی نے ایسے کسی مطالبے پر نہ کان دھرا اور نہ ایسے مطالبات کرنے والوں سے خوفزدہ ہوئے۔ یہ خوف تو ایسے گروہوں نے پیدا کیا جن کے طور طریقوں سے نفاذ شریعت کے امکانات ہویدا ہونے لگے تھے یا کم از کم یہ اندیشے جنم لینے لگے تھے کہ اگر واقعی کبھی نفاذ شریعت ممکن ہو رہی تو پھر کیا ہوگا؟ یہ سُود کا لین دین، یہ فحاشی، یہ بدقماشیاں، یہ قحبہ گری اور آنکھوں کے یہ مزے جو ہمہ وقت مختلف پہلوؤں سے میسر ہیں کیسے مہیا و دستیاب ہوں گے؟ سو ایک بڑے جتھے نے یکسر اس گروہ کی آواز کو مسترد کردیا اور حکومت کی رِٹ ملکی قوانین اور حکمرانوں سے بغاوت کا نام لے کر حلیفانِ حکومت میں شامل ہوگئے۔

اختلاف کرنا ایک مستحب عمل ہے اور اس کی پوری گنجائش بعض معاملات میں موجود ہے اگر سرکاری و عوامی سطح پر اس گروہ کے مطالبات شریعت پر اختلاف تھا یا کچھ ابہام تھا تو پھر اس کے اظہار کا طریقہ بھی معروف و مستحب اور جائز ہونا چاہئے تھا اور وہ یہ کہ اس پر جید دینی حلقوں کے حوالے سے بحث و مباحثے ہوتے اور اسی پلیٹ فارم کی سطح پر گفتگو کے ذریعہ کسی منطقی انجام تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی۔ حکومت کا تو دعویٰ یہ ہے کہ اس نے ایسا کرنے کی کوشش کی تھی لیکن حقیقت کیا ہے یہ ہم آپ خوب جانتے ہیں۔ جو علماء اس بات کے دعویدار ہیں کہ وہ ایسی مساعی کا حصہ بنے تھے وہ بھی خوب جانتے تھے کہ ان کا کردار حکومتی نکات پر اہل مسجد و مدرسہ کو قائل و آمادہ کرنے کے سوا کچھ نہ تھا۔ مسائل کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر حل ہوتے ہیں اگر ایسا بھی ہو جاتا تو شاید خون ناحق سے مسجد و مدرسہ کی زمین سرخ نہ ہوتی حالانکہ علماء خوب جانتے ہیں کہ شریعت کے معاملے میں کچھ لو اور کچھ دو والا اصول درست نہیں ہے۔ یہ تو سراسر ظلم و ناانصافی ہے کہ جو بات طبعیت کو گوارہ نہ ہو قطع نظر اس کے کہ وہ کہاں تک درست ہے تشدد کا راستہ اختیار کرلیا جائے اور وہ بھی ایسے تشدد کا جس سے قتال وابستہ ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ [جاری ہے]

Posted in معاشرہ, روز و شب | Leave a Comment »

لال مسجد کا معاملہ اور ہمارا رویّہ ۔ دوسری قسط

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اگست 6, 2007

حالات و واقعات ۔ ایک محقق شیخ محمد علی صاحب کی نظر میں
حکومت نے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی کہ یہ ریاست کی رٹ، قانون کی بالادستی اور حاکموں سے بغاوت کا معاملہ تھا اور حلیفان حکومت نے بھی جن میں عوام و خواص دونوں شامل ہیں اسی اصول پر اتفاق کر لیا اور اتنے بڑے سانحے و ظلم کے لئے محض اسی کو وجہ بنا ڈالا اور یقیناً علماء و مدارس تک بھی اس وحشت انگیز کارروائی کے ذریعہ یہ پیغام کامیابی سے پہنچایا گیا کہ دیکھ لو یہ ہے انجام ان کا جو زمین پر اللہ اور اس کے رسول کی شریعت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پاکستان ایک مسلم ملک ہے یا سیکولر، اس پر بحث کر کے میں اپنا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا کیونکہ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ مسلمان ملک ہے اور اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا لیکن یہی کہنے والے عملاً اپنے نظریات و افکار سے اس کی نفی بھی کرتے ہیں۔ اب تو مغربی تعلیم کے زیر اثر وہ گروہ بھی پیدا ہو چلے ہیں جو اس کے سیکولر ہونے کے دعویدار ہیں اور اس بات کے خواہاں کہ یہاں کا طرز زندگی وہی ہو رہے جو کسی سیکولر اسٹیٹ کا ہوتا ہے تاکہ انہیں شہوات کے بہتے ہوئے دریا میں بے لباس ہو کر نہانے کے مواقع میسر آسکیں۔ میں خود بہت گنہگار مسلمان ہوں لیکن میرا ایمان ہے کہ گناہ تسلیم کر لینا اور گناہ کو گناہ نہ تصور کرنا بالکل دو مختلف چیزیں ہیں۔ اول الذکر میں خلاصی و نجات کے پورے راستے موجود ہیں جبکہ ثانی الذکر میں نجات کا کوئی راستہ نہیں۔

سچ صرف اسلام ہے اور بقا صرف اسلام میں ہی ہے۔ وہ لوگ جو حکومت کی رِٹ کی رَٹ لگائے ہوئے ہیں اور اس کے اختیارات و قوانین کی بات کرتے ہیں یا حکمرانوں سے بغاوت کی انہیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ حقیقی صورتحال اس ملک میں کیا ہے جو اسلامی نہ سہی مسلم تو ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ اسلامی ریاست یا مملکت کیا ہوتی ہے، ایک اولی الامر یا حاکم کی تعریف اور اس کے فرائض و ذمہ داریاں کیا ہیں کم از کم یہ تو دیکھئے کہ آپ مسلمان ہیں اور ایک مسلمان ملک میں رہتے ہیں، آپ سے اللہ کی ذات کیا مطالبہ کرتی ہے بالخصوص ان علماؤں سے جو اپنے آپ کو انبیاء کا وارث قرار دینے میں آگے ہیں۔ پاکستان کو اسلامی مملکت بنانا آپ کی ذمہ داری ہے لیکن نہیں بنانا چاہتے تو یہ آپ جانیں اور اللہ لیکن اگر کوئی خوفِ خدا رکھنے والا شخص یا گروہ حاکم وقت کو اس کے فرائض و ذمہ داریاں یاد دلائے اور اس بات پر زور دے کہ اسے کیا کرنا ہے تو یہ کون سا گناہ ہے؟ حاکم کی اطاعت واجب ہے اور اس کا حکم بھی دوٹوک اللہ نے دیا ہے لیکن ذرا یہ بھی دیکھئے کہ وہ کون سے حاکم ہوتے ہیں جن کی اطاعت فرض و واجب کے کھاتے میں ڈالی گئی ہے۔ اطاعت کا حکم ملاحظہ فرمایئے :

”اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں صاحب امر ہوں۔“ (النساء:59) [نوٹ ۔ اس آیت کا بقیہ حصہ یہ ہے ۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ پر نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو اگر تم واقعی اللہ اور روزِ آخر پر یقین رکھتے ہو ۔ یہی ایک صحیح طریقۂ کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے]

لیکن یہ صاحب امر ہوں گے کیسے جن کی اطاعت کو لازمی ٹھہرایا گیا ہے یہ بھی دیکھئے :

”یہ وہ مسلمان ہیں کہ اگر ہم نے انہیں زمین میں صاحب اقتدار کردیا تو وہ نماز قائم کریں گے، ادائے زکوٰة میں سرگرم رہیں گے، نیکیوں کا حکم دیں گے، برائیوں سے روکیں گے اور تمام باتوں کا انجام کار خدا کے ہاتھ میں ہے۔“ (الحج:41)

سو تو یہ طے ہے کہ حاکم کی اطاعت و فرمانبرداری مسلمان کے لئے ضروری ٹھہرائی گئی ہے تاکہ نظام زندگی مستحسن بنیادوں پر رواں رہے، ریاست میں اللہ کا قانون اور اس کا حکم نافذ ہو رہے، بدنظمی و عدم توازن پیدا نہ ہو، لاقانونیت جنم نہ لے سکے اور امن و سلامتی کا دور دورہ ہو لیکن یہ بھی یاد رکھئے کہ اول و آخر چیز اللہ کا حکم اور اس کی شریعت ہی ہے اور یہ سارا نظام اسی کے نفاذ کے لئے راہیں ہموار کرتا ہے اگر کوئی حاکم ان راہوں کی ہمواری کے آگے رکاوٹ بن رہا ہو اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات پس پشت ڈالے جا رہے ہوں تو پھر ان مسلمانوں کو جنہیں اس کی اطاعت کا پابند کیا گیا ہے انہیں اس سے بری الذمہ بھی ٹھہرایا گیا ہے اور اس کی وضاحت اللہ کے رسول ﷺ نے یوں کی ہے، آپ کا ارشاد ہے:

”مسلمان کو لازم ہے کہ اپنے اولی الامر کی بات سنے اور مانے خواہ اسے پسند ہو یا ناپسند، تاوقتکہ اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے اور جب اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو پھر اسے نہ کچھ سننا چاہئے اور نہ ماننا چاہئے۔“ (بخاری و مسلم) [نوٹ ۔ اُوپر سورة النساء کا جو حصہ نوٹ کے تحت نقل کیا گیا ہے وہ یہی حکم دیتا ہے]

اب اس سے زیادہ جو سخت بات آپ نے ارشاد فرمائی ہے وہ بھی ملاحظہ فرما لیجئے جس کا اطلاق ہر مسلمان پر ہوتا ہے، آپ کا ارشاد ہے:

”تم میں ایسے لوگ بھی حکومت کریں گے جن کی بعض باتوں کو تم معروف پاؤ گے اور بعض کو منکر، تو جس نے ان کے منکرات پر اظہار ناراضی کیا وہ بری الذمہ ہوا اور جس نے ان کو ناپسند کیا وہ بھی بچ گیا مگر جو ان پر راضی ہوا اور پیروی کرنے لگا وہ ماخوذ ہوگا۔“ (مسلم)

لاتعداد احادیث ایسی ہیں جن میں حکمرانوں کے احکامات معصیت اور اعمال معصیت کی تشریحات و وضاحتیں موجود ہیں اور ان پر انفرادی و اجتماعی سطح پر آوازِ حق بلند کرنے کی تلقین کی گئی ہے یہاں تک کہ ایسے حاکموں کو ان کے منصب سے اتار دینے تک کے احکامات بھی موجود ہیں۔ پاکستان ایک اسلامی ریاست نہ سہی لیکن اگر یہ مسلمان ریاست بھی ہے تب بھی ایک مسلمان کے اس حق کو کوئی نہیں چھین سکتا جو اللہ اور اس کے رسولﷺ نے اسے دیا ہے اور جو محض ان دو مندرجہ بالا احادیث سے بھی واضح ہے۔ کوئی حکومت محض رِٹ، ہینڈ میڈ قوانین اور حکمرانوں سے بغاوت کی بات کر کے اپنے آپ کو احتساب سے نہیں بچا سکتی اور نہ ہی کسی ایسے حق سے کسی مسلمان فرد یا گروہ کو محروم کرسکتی ہے جو اس کی بنیادی دینی تربیت کا حصہ اور ایک اہم ذمہ داری ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ [جاری ہے]

Posted in معاشرہ, روز و شب | Leave a Comment »

لال مسجد کا معاملہ اور ہمارا رویّہ

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اگست 5, 2007

حالات و واقعات ۔ ایک محقق شیخ محمد علی صاحب کی نظر میں
لال مسجد و مدرسہ حفصہ کے معاملے میں جو کچھ بھی صورت حال گزشتہ کئی ماہ سے ہویدا ہو رہی تھی اس کی تفصیلات میں جانا یقیناً اس اعتبار سے غیر ضروری ہے کہ تقریباً ہر شخص اس کے ہر پہلو سے بخوبی آگاہ ہے۔ حکومتی سطح پر اس معاملے میں جو رویہ اپنایا گیا اور اس خصوصی تناظر میں پروپیگنڈے کے لئے جو ہتھیار استعمال کئے گئے بلاشبہ صاحب علم و ظرف اس سے بھی بخوبی آگاہ ہیں۔ اس سارے معاملے کا سب سے المناک، دلگیر اور خون کے آنسو رلا دینے والا پہلو وہ آپریشن ہے جس کا اختتام 10 جولائی 2007ء کو سینکڑوں ہلاکتوں اور خود مسجد کے تقدس کی پامالی کی صورت میں سامنے آیا، وہ اپنوں کے مقابل اپنے، وہی مٹھی بھر مسلمانوں کی جماعت کے آگے صف آرا فوج، وہی پھول جیسے معصوم بچے، وہی پانی و تراسیل کی بندش اور وہی مقتل میں اذانیں، اللہ اکبر! یہ سب کچھ اس مملکت خداداد پاکستان میں ہوا جسے بقول شخصے اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اور جس کے آئین میں قرآن و سنت کی بالادستی کی قسم بھی کھائی گئی تھی۔

اس ٹولے نے تو انتہا کردی جسے اپنے سیاستداں ہونے پر فخر ہے اور جو صرف جی حضوری کی روٹی کھا رہا ہے اور جس کے نزدیک کسی کی عزت، کسی کا دکھ اور کسی کی موت کوئی معنی نہیں رکھتی سوائے وزارت و نیابت کے مزے لوٹنے کے۔ ان لوگوں نے اس قیامت کے ڈھائے جانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور کسی مرحلے پر بھی یہ گمان تک پیدا نہ ہونے دیا کہ انہیں اس بدترین خون خرابے پر دکھ، پریشانی اور اذیت ہے۔ ان کے سپاٹ چہروں کے پیچھے دوسروں کے خوف کو بخوبی محسوس کیا جاسکتا تھا کہ کہیں مدرسہ و مسجد والوں سے ذرا سی ہمدردی بھی بھاری نہ پڑ جائے اور کرسی سے محرومی کے ساتھ ساتھ عتاب بھی ان کا مقدر بن جائے انہوں نے صرف اور صرف اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کی نظروں میں اعتبار کی خاطر اور اپنی دنیوی راحتوں کی خاطر مسلمانوں کے خون کی اتنی بڑی ہولی کھیلی۔ ان کے دلوں میں مسلمانوں کا کتنا درد ہے یہ بات بھی آج اس مرحلے پر ڈھکی چھپی نہیں رہی۔

اس واقعہ کا دوسرا افسوسناک پہلو خود ہمارے علماء کرام کا کردار ہے جنہوں نے خدا معلوم مصلحتاً یا کسی اور لالچ و خوف میں اپنے آپ کو اس سارے معاملے سے دور رکھا اور شتر مرغ کی طرح ریت میں اپنے منہ کو چھپا کر یہ سمجھ لیا کہ شاید ان کا یہ عمل انہیں اپنے ساتھ ہونے والی کسی ایسی ہی زیادتی سے بچا لے گا اور یہ اپنے اس کردار کے باعث امان پا جائیں گے۔ اخبارات گواہ ہیں کہ ماضی میں ان کی طرف سے جو بھی کوششیں ہوئی تھیں ان کے پس پشت بھی صرف سرکار کا ہاتھ تھا جو اپنے موقف پر اہل مسجد و مدرسہ کو جھکانا چاہتی تھی۔ یہ اگر کسی مصلحانہ کردار کی کوشش کرتے اور حکومت و فریقین کو کسی ایک یا چند نکات پر اکٹھا کر لیتے تو یقیناً حرمت دین و مسجد قائم رکھنے میں ان کے کردار کو سراہا جاتا اور یہ بدترین سانحہ شاید رونما نہ ہوتا لیکن انہیں تو صرف حکومتی ایجنڈے پر اہل مسجد و مدرسہ کی تائید درکار تھی اور ساری ہی گفت و شنید اسی ایک مرکز کے گرد گھوم رہی تھی۔ انہیں خوف تھا کہ اگر انہوں نے حق و سچائی اور واقعات کے حقیقی پہلو کے حوالے سے کوئی کردار ادا کیا تو شاید حکومت کا عتاب ان پر بھی نہ آ گرے سو انہوں نے خاموشی سے کنارہ کشی میں عافیت جانی اور ایک محفوظ مستقبل کی امید میں پردہ سیمیں سے غائب ہوگئے۔ حالات تیزی کے ساتھ خراب ہونا شروع ہوگئے حتٰی کہ قیامت صغریٰ نازل ہو رہی تب کہیں جا کر ان علماء کا سویا ضمیر جاگا لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ مذاکرات، مصالحتوں اور ثالثی کا بھی ایک وقت اور حالات ہوتے ہیں، جس وقت اہل مسجد و مدرسہ محبوس و مقید تھے، فائرنگ و گولہ باری کی ایک یلغار تھی، پانی، بجلی، گیس، خوراک اور دیگر رسیدیں کاٹی جا چکی تھیں، وزراء و سیاستدانوں نے اعتماد کی فضا کو الگ تار تار کر چھوڑا تھا اور طرح طرح کے حیلے انہیں جائے پناہ سے باہر نکالنے کی خاطر برتے جا رہے تھے آپ ہی بتایئے ان حالات میں مثبت مذاکرات پر کوئی پیش رفت کیسے و کیونکر ممکن تھی؟ ایسا ہر دعویٰ عبث و لغو تھا سو اس بدترین مرحلے پر علماء کا یہ مذاکرات کردار ماسوائے مُردے کو دوا پلانے کے کچھ نہ تھا۔ اپنے آپ کو اس سارے قضیے سے جدا و الگ تھلگ رکھنے والے اور اپنے مدارس کی فکر میں پریشان ہونے والوں کے لئے یقیناً یہ خبر کوئی نوید نہ لائی ہوگی کہ حکومت نے بجائے ان کی پیٹھ تھپتھپانے کے ان کے مدارس کی طرف بھی نگاہیں کرنے کا عندیہ دے ہی ڈالا۔

کاش کہ ریت میں منہ دینے کے بجائے حقائق کے ادراک پر توجہ دی جاتی اور ان حالات کو سمجھا جاتا جو آج سے نہیں 11 ستمبر 2001 سے ہویدا ہیں اور بالخصوص جس کا شکار پاکستان ہے۔ مغربی پالیسیوں اور ان کی تمام تر حکمت عملیوں کا مرکز مساجد و مدارس ہی ہیں کیونکہ یہاں سے وہ مسلمان پیدا ہوتے ہیں جن کے دلوں میں صرف اللہ کا خوف اور نبی ﷺ کی اطاعت کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے اور یہی دونوں چیزیں اہل مغرب کی سراسیمگی و وحشت کا باعث ہیں۔

وہ علماء جو سیاسی بساط کا مہرہ ہیں ۔ بقول شخصے سیاست جن کا اوڑھنا بچھونا ہے انہوں نے تو بے حسی کی انتہا کردی اور اپنی سیاسی سرگرمیوں پر وقت کے اس اہم و نازک مسئلے کو تج دیا اور آل پارٹی کانفرنس کے لئے لندن جا بیٹھے۔ غضب خدا کا ۔ اللہ اور اس کے رسول کے نام لیوا موت و زندگی کی کشاکش میں مبتلا تھے، کسی بھی لمحے یہ قیامت صغریٰ برپا ہونے جا رہی تھی، سینکڑوں معصوم بچوں اور بچیوں کی زندگی کا سوال تھا، اک عالم کرب و بلا کا سا منظر تھا، ہر دل آنے والے لمحوں کے تصور سے ہی لرزاں تھا اور یہ حسب روایت اپنی بے حسی کا مظاہرہ فرما رہے تھے اور بازار سیاست میں کرسی اقتدار کے سودے کی فکر میں غلطاں تھے۔ اس موقع پر یہ کانفرنس اور بعدہ، اس کا جاری رہنا ازخود سیاست دانوں کے لئے بے حسی کا مظہر تھا، حیرت ہے کہ یہ واقعہ رونما بھی ہوگیا، آپریشن کے نام پر مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جانے لگی، ہر حساس دل پاکستانی مضطرب و بے چین دکھائی دینے لگا، لوگ ٹی وی کے آگے بیٹھے بہتے آنسوؤں میں تفصیلات جانتے رہے اور ان کی سیاست کا بازار بدترین بے حسی کے ساتھ گرم رہا۔ ذرا خیال فرمایئے خدانخواستہ ان میں سے اگر کسی کا اپنا بچہ یا بچی اس عذاب میں مبتلا ہوتی تو کیا تب بھی ان کے یہی مشاغل جاری رہتے۔ انہیں تو قوم کے دکھ و درد کا دعویٰ ہے یہ اس خونچکاں سانحے پر کیونکر بے حس ہو رہے یہی بات سمجھ سے بالاتر ہے۔

جہاں تک مولانا و مولانا نما کی بات ہے تو میں اس تناظر میں بہت سخت جملے لکھنے سے اپنے آپ کو باز رکھ رہا ہوں لیکن سچ صرف یہی ہے کہ یہ مسلمانوں کے بہی خواہ، ان کے ہمدرد اور مخلص نہیں، ان کے دل سخت ہو چکے ہیں جنہیں کسی کے دکھ، درد اور وحشتوں کا ادراک نہیں حالانکہ یہ اپنے کو اس نبی کا وارث قرار دیتے ہیں جس کی ریش مبارک کو صحابہ کرام نے دوسروں کے دکھوں پر تر ہوتے دیکھا ہے اور مسلسل دیکھا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ [جاری ہے]

Posted in معاشرہ, روز و شب | Leave a Comment »

پاکستان میں کردار و معیار کا تنزل

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اگست 3, 2007

دین اسلام ہو یا کوئی اور مذہب یا انسان کا اپنا بنایا ہوا قانون ۔ قتل ہر حال میں جُرم ہے اور قتل کرنے والا اور قتل کا حُکم دینے والا دونوں قتل کے مُجرم ہوتے ہیں ۔ میں کسی دینی کتاب سے کوئی آیت نقل نہیں کروں گا کہ اب ایسے مسلمان پیدا ہو گئے ہیں جو کہتے ہیں کہ 1400 سال پرانا قانونِ شریعت آج کے سائنسی دور میں نہیں چل سکتا ۔ میں ماضی قریب کے صرف تین واقعات لکھوں گا ۔ یہ تینوں واقعات وردی والوں کے متعلق ہیں ۔

Air Force ہوائی فوج ۔

پاکستان بننے سے پہلے پورا ہندوستان انگریزوں کا غلام تھا ۔ اس زمانہ میں سیّد صبغت اللہ راشدی [موجودہ پیر پگاڑہ کے والد] نے سندھ کے لوگوں کو حُریت [آزادی] کا سبق سکھایا اور انہوں نے انگریزوں کی غلامی کے خلاف مہم شروع کی ۔ انگریز حکومت نے انہیں غدار قرار دے کر علاقہ پر بمباری کا حُکم دیا ۔ ایک ہندوستانی پائلٹ آفیسر محمد اصغر خان کو حکم دیا گیا کہ اپنا طیارہ اُڑا لیجائے اور اُن پر بمباری کرے ۔ محمد اصغر خان طیارہ اُڑا کر لے گیا اور بغیر بمباری کئے واپس آ کر طیارہ زمین پر اُتار دیا ۔ حُکم عدولی پر محمد اصغر خان کو معطل کر دیا گیا اور اُسکا کورٹ مارشل ہوا جس میں اس نے کہا کہ مجھے باغی مَردوں [حُروں] کو مارنے کا حُکم دیا گیا تھا جب میں نے دیکھا کہ بمباری سے بہت سے بیگناہ بچے اور عورتیں بھی مر جائیں گے تو میں واپس آ گیا ۔ محمد اصغر خان کو بحال کر دیا گیا ۔ یہ شخص میرے شہر کے محلہ پٹھاناں کا باسی اور پاکستان کی ہوائی فوج کا مایہ ناز سربراہ ایئر مارشل محمد اصغر خان ہے ۔

Police پولیس ۔

ذولفقار علی بھٹو صاحب کے خلاف 1977 عیسوی میں جب سیاسی تحریک عروج پر پہنچی تو سول نافرمانی کی صورت اختیار کر گئی جو قانون اور آئین دونوں کی خلاف ورزی تھی ۔ لاہور میں لوگ احتجاج کر رہے تھے کہ پولیس نے ان پر گولی چلا دی ۔ شائد سات آدمی ہلاک ہوئے ۔ ان پولیس والوں کا سربراہ تھانیدار جب گھر پہنچا تو اسکے چچا اس کے گھر کے دروازے پر کئی گھنٹوں سے اس کی انتظار میں بیٹھے تھے ۔ اسے دیکھتے ہی اس پر برس پڑے "تو نے اپنے مرے ہوئے باپ کا بھی خیال نہ کیا ؟ تو ہمارے خاندان میں پیدا ہی نہ ہوتا یا پیدا ہوتے ہی مر گیا ہوتا ۔ تجھے اسلئے پولیس میں بھرتی کرایا تھا کہ تو اپنے بھائی بیٹوں کو مروانا شروع کر دے ۔ تو یہاں کیا کرنے آیا ہے ؟ جا دفع ہو جا ۔ یہ اب تیرا گھر نہیں ہے”۔ تھانیدار بپھرا ہوا واپس مُڑا اور سیدھا سپرننڈنٹ پولیس کے دفتر میں جا کر اپنا استعفٰے پیش کر دیا ۔ اس کے بعد لاہور پولیس نے مزید کاروائی کرنے سے انکار کر دیا ۔

Army برّی فوج ۔

پولیس کے انکار کے بعد لاہور میں فوج طلب کر لی گئی ۔ ایک دن قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک جلوس انارکلی میں سے ہوتا ہوا لاہوری دروازہ کی طرف جا رہا تھا ۔ حُکمِ حاکم ہوا کہ جلوس لاہوری دروازہ تک نہ پہنچ پائے ۔ مسلح فوجی انارکلی کے سرے پر کھڑے کر دئیے گئے ۔ انہوں نے اپنے سے شائد 10 میٹر دور سڑک پر لکیر لگا کر بندوقیں تان لیں ۔ جب جلوس قریب آیا تو حُکم دیا گیا کہ جو شخص یہ لکیر عبور کرے گا اسے گولی مار دی جائے گی ۔ جلوس رُک گیا ۔ چند منٹ بعد ایک شخص آنکھیں بند کئے بلند آواز میں کلمہ طیّبہ پڑھتا ہوا لکیر عبور کر گیا ۔ گولی چلنے کی آواز آئی اور وہ ڈھیر ہو گیا ۔ چند منٹ بعد ایک اور شخص اسی طرح آنکھیں بند کئے اور کلمہ پڑھتے ہوئے لکیر عبور کر گیا ۔ مگر گولی کی آواز نہ آئی ۔ اور اللہ اکبر کی فلک شگاف آواز گونجی ۔ اس نے آنکھیں کھولیں اور دیکھا کہ فوجی بھائی بندوقوں کا رُخ زمین کی طرف کر کے ایک طرف ہوگئے تھے اور جلوس نعرے لگاتا ہوا لوہاری دروازہ کی طرف چل پڑا تھا ۔ کمپنی کمانڈر کی طلبی ہوئی تو اس نے اپنے بِلّے اور پیٹی اُتار کر کور کمانڈر کی میز پر یہ کہہ کر رکھ دی کہ میں اپنے بہن بھائیوں کی حفاظت کیلئے فوج میں بھرتی ہوا تھا نہ کہ انہیں مارنے کیلئے ۔ کہتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد لیفٹیننٹ جنرل اقبال نے استعفٰے دے دیا تھا ۔

مندرجے بالا واقعات کے بر عکس لال مسجد اور جامعہ حفصہ پر گوليوں اور جلادينے والے گولوں کی بوچھاڑ کر کے سينکڑوں مسلمان جن کی اکثريت نابالغ طالبات تھيں سنگدلی سے ہلاک کر دیيے گئے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے وزراء ۔ وزیراعظم ۔ جرنیل ۔ خانہ کعبہ اور روضۂ رسول میں بار بار داخل ہونے پر فخر کرنے والے صدر اور آپريشن ميں حصہ لينے والے فوجی اور غير فوجی وہ کردار اور معیار نہیں رکھتے جو آج سے تین دہائیاں پہلے پاکستانیوں کا طُرّۂ امتیاز تھا ۔

علامہ اقبال کے دو شعر

بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے ۔ ۔ ۔ مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

قوم گر مسلم کی ۔ مذہب پر مقدّم ہوگئی ۔ ۔ ۔ اُڑ گیا دنیا سے تُو ۔ مانندِ خاکِ راہگذر

Posted in معاشرہ | 5 Comments »

ہم کدھر جا رہے ہیں ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 30, 2007

کچھ سالوں سے ایک مہم زوروں پر تھی کہ پاکستان کو لادینی [Secular] ریاست ہونا چاہئیے ۔ پھر ثبوت کے طور پر قائد اعظم محمد علی جناح کی صرف ایک تقریر کو جواز بنانا شروع کیا گیا جس میں قائداعظم نے پاکستان کی پہلی منتخب اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب کوئی ہندو ۔ سکھ ۔ عیسائی نہیں ۔ حقیقت میں یہ اسلامی ریاست کے اصول کی ترویج تھی ۔ پھر بغیر کسی ثبوت کے یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان تو بنایا ہی لادینی ریاست کے طور پر تھا ۔ قائداعظم کی سب تقاریر اور لوگوں کی امنگوں کا اظہار گویا سب جھوٹ تھا ۔ یہ بحث چلتی رہی ۔ دین سے آزادی چاہنے والے اپنی ہر قسم کی اہلیت بروئے کار لاتے رہے ۔ ملکی ذرائع ابلاغ کی اکثریت میں بھی دین بیزار مضامین کی بھرمار رہی ۔ مگر اس تصوّر کو خاص ستائش پھر بھی نہ ملی ۔ پھر ان لوگوں نے مولویوں کی طرف منہ موڑا اور ان کی تضحیک و تمسخر میں انسانیت کی حدیں پھلانگ گئے ۔ یہ سب کچھ موجودہ حکومت کی امریکہ غلامی کے زیرِ سایہ ہوتا رہا ۔

پھر فوج کشی مکمل ہونے کے بعد ابھی لال مسجد اور جامعہ حفصہ سُلگ رہے تھے کہ وسط جولائی میں جیو ٹی وی پر ایک مباحثہ دکھایا گیا جس میں ایک علامہ نقوی صاحب تھے ۔ ایک بالکل بے ضرر قسم کے غالباً سُنّی مولوی تھے اور ایک جدید زمانہ کی خاتون ۔ سب سے پہلے علامہ نقوی صاحب کو موقع دیا گیا ۔ انہوں نے فرمایا کہ اسلام میں ریاست کا کوئی تصور ہی نہیں ہے اس میں تو صرف نبوّت کی بات کی گئی ہے اور یہ بھی کہا کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے لے کر اب تک کوئی اسلامی ریاست قائم نہیں ہوئی ۔ شائد ان کا مسلک اس لحاظ سے ٹھیک ہو کہ وہ کسی خلیفہ کو مانتے ہی نہیں ۔ دوسرے مولوی صاحب نے قرآن شریف کی ایک آیت پڑھ کر کہا کہ صرف اسی سے ریاست کا تصور مل جاتا ہے لیکن ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ محترمہ کی تقریر شروع ہو گئی اور انہوں نے کہا کہ قرآن میں واضح کیا گیا ہے کہ دین کا ریاست کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اسی لئے قرآن میں ریاست کے امور کا کوئی ذکر نہیں ۔ محترمہ نے یہ بھی کہا کہ صلح حدیبیہ کے مضمون کے شروع میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نہیں لکھا گیا بلکہ وہ لکھا گیا جو انگریزی میں اَو گاڈ ہوتا ہے ۔ ان کے مطابق اس سے بھی ثابت ہوا کہ دین کا ریاست کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ محترمہ نے اپنی تُند و تیز آواز کا بھر پور فائدہ اُٹھایا اور کسی کو بولنے نہ دیا ۔

صلح حدیبیہ کے وقت اور حالات کا تدارک کیا جائے تو سمجھ میں آ جاتا ہے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کی بجائے یا اللہ کیوں لکھا گیا لیکن محتمہ اتنی ترقی کر گئی تھیں کہ ان کو "یا اللہ” تو معلوم نہ تھا "او گاڈ” معلوم تھا ۔ بہرحال یہ اوائل اسلام کا واقعہ ہے اس وقت یا اللہ لکھنا بھی بڑی بات تھی کیونکہ مکہ کے کافر مسلمانوں کی کوئی بات ماننے کیلئے تیار نہ تھے ۔ باقی لگتا ہے کہ محترمہ نے قرآن شریف کبھی پڑھا ہی نہیں کیونکہ قرآن شریف میں سارے ریاستی امور کی حدود مقرر کی گئی ہیں جو میں انشاء اللہ پھر کبھی تحریر کروں گا [میں حدود آرڈیننس کی بات نہیں کر رہا ۔ حد کی کی جمع حدود کی بات کر رہا ہوں]

پی ٹی وی اور جیو ٹی وی پر چُن چُن کر ایسے لوگ بُلائے جاتے ہیں کہ دین اسلام کی تضحیک کی جا سکے یا اسے صیہونی رنگ میں پیش کیا جا سکے یا ثابت کیا جا سکے چودہ سو سال پرانا دین آج کے ترقی یافتہ دور میں نہیں چل سکتا ۔ یہ سب کچھ وہ لوگ کر رہے ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ۔ کسی نے شائد ان کے متعلق ہی کہا تھا "ہو دوست تم جسکے ۔ دشمن اسکا آسماں کیوں ہو”۔

جولائی ہی میں ایک فلم "خدا کیلئے” بہت زیادہ اشتہاربازی کے بعد ریلیز کی گئی ۔ خیال رہے کہ کوئی فلم حکومت کی منظوری کے بغیر ریلیز نہیں ہو سکتی ۔ سُنا گیا ہے کہ اس فلم میں ایک مسلم عالم دکھایا گیا ہے جس سے دو فقرے کہلوائے گئے ہیں ۔

ایک ۔ اسلام میں مسلم لڑکی کو عیسائی لڑکے سے شادی کی اجازت ہے
دوسرا ۔ اسلام میں موسیقی کی ممانعت نہیں

جہاں تک مسلم لڑکی کی غیر مسلم لڑکے سے شادی کا تعلق ہے تو اسکی سورةت ة 2 ۔ البقرہ ة ۔ آیت 221 میں صریح ممانعت کی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ سورت نمبر 5 ۔ المآئد ہ  ۔ آیت 51 ۔ سورت ة نمبر 9 ۔ التوبہ ۔ آیات 84 اور 113 ۔ ان آیات میں یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست بنانے ۔ غیر مسلموں کا جنازہ پڑھنے اور خواہ وہ رشتہ دار ہوں ان کیلئے دعائے مغفرت کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے ۔ [آیات کا ترجمہ نیچے نقل کیا ہے]

جہاں تک موسیقی کا تعلق ہے تو ہر وہ چیز جو یادِ الٰہی سے غافل کر دے اس کی قرآن شریف میں ممانعت کی گئی ہے ۔ موسیقی کے علاوہ تاش کھیلنا اور دیگر کئی عمل بھی ایسے ہیں جو یادِ الٰہی سے غافل کرتے ہیں ۔ اس کے متعلق متعدد آیات ہیں ۔ عدنان صاحب جو کسی زمانہ میں موسیقی کے رَسیا تھے اور یہ فلم بنانے والے شعیب منصور کے مداح بھی انہوں نے اپنے روزنامچہ پر اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے ۔

اب تک جو کچھ ہو چکا ہے اسے اس تناظر میں دیکھا جائے تو صرف ایک احساس اُبھرتا ہے کہ ہمارے ملک پر پرویز مشرف کی حکومت بھی نہیں بلکہ صیہونیوں اور انتہاء پسند عیسائیوں کی حکومت ہے ۔

سور ت 2 ۔ البقرہ  ۔ آیت 221
اور تم مشرک عورتوں کے ساتھ نکاح مت کرو جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائیں، اور بیشک مسلمان لونڈی (آزاد) مشرک عورت سے بہتر ہے خواہ وہ تمہیں بھلی ہی لگے، اور (مسلمان عورتوں کا) مشرک مردوں سے بھی نکاح نہ کرو جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائیں، اور یقیناً مشرک مرد سے مؤمن غلام بہتر ہے خواہ وہ تمہیں بھلا ہی لگے،

سورت نمبر ة 5 ۔ المآئدةہ ۔ آیت 51 ۔
اے ایمان والو! یہود اور نصارٰی کو دوست مت بناؤ یہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور تم میں سے جو شخص ان کو دوست بنائے گا بیشک وہ ان میں سے ہو گا، یقیناً اﷲ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا

سورة ت نمبر 9 ۔ التوبہ ۔ آیت 84
اور آپ کبھی بھی ان میں سے جو کوئی مر جائے اس (کے جنازے) پر نماز نہ پڑھیں اور نہ ہی آپ اس کی قبر پر کھڑے ہوں ۔ بیشک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور وہ نافرمان ہونے کی حالت میں ہی مر گئے

سورت ة نمبر 9 ۔ التوبہ ۔ آیت 113
نبی اور ایمان والوں کی شان کے لائق نہیں کہ مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت کریں اگرچہ وہ قرابت دار ہی ہوں اس کے بعد کہ ان کے لئے واضح ہو چکا کہ وہ (مشرکین) اہلِ جہنم ہیں

Posted in معاشرہ | 19 Comments »

ایوانِ صدر اور صحافیوں کا کردار

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 28, 2007

لال مسجد تنازع بظاہر تو اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا ہے اور حکومت نے بہت سے ” محب وطن حلقوں “ کے پُرزور اصرار اور دباؤ پر لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف خونی آپریشن کرکے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اپنی ”رِٹ” قائم کر دی ہے لیکن اس سارے معاملے کو شروع سے آخر تک جس انداز سے ہینڈل کیاگیا اور اب اس آپریشن کے جو مابعد اثرات سامنے آرہے ہیں، ان کے پیش نظر بحیثیت قوم بحرانوں اور مسائل سے نمٹنے کی ہماری صلاحیت اور بالخصوص ہماری قیادت کی اہلیت کا سوال سب سے زیادہ توجہ اور غور وفکر کا مستحق ہے۔ جیساکہ سب جانتے ہیں لال مسجد کا تنازع اس سال جنوری میں سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد کی سات مساجد کو تجاوزات قرار دے کر منہدم کرنے اور دیگر بہت سی مساجد اور جامعہ حفصہ سمیت کئی مدارس کو انہدام کا نوٹس دیئے جانے پر شروع ہوا تھا، اگر یہ تسلیم بھی کرلیاجائے کہ یہ تمام مساجد ومدارس واقعی سر کاری زمین پر قائم تھے اورغیر قانونی طور پر قائم کئے گئے تھے تو سب سے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلام آباد میں ان چند مساجد ومدارس کے علاوہ باقی تمام عمارات سو فیصد قانونی طور پر قائم تھیں؟ اورکیا وفاقی دارالحکومت میں لینڈ مافیا کا صفایا کردیاگیا تھا کہ اب صرف مساجد و مدارس سے قبضہ واگزار کروانا باقی رہ گیا تھا؟ اگر اس کاجواب نفی میں ہے اور اخباری ریکارڈ کے مطابق یقینا نفی میں ہے تو پھر ایک ایسے موقع پر جب پاکستان کو گوناگوں داخلی چیلنجوں کا سامنا تھا، صرف مساجد و مدارس کے خلاف کارروائی کس کے کہنے پر کن مقاصد کیلئے کی گئی تھی؟ اس سوال کا جواب سب سے پہلے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

جس انداز سے اس کارروائی کے بعد ملک میں علماء اور دینی مدارس کا میڈیا ٹرائل شروع کیا گیا اور اس سلسلے میں ہونے والے مذاکرات اور معاہدوں کو بار بارسبوتاژ کرکے علماء ، دینی طبقوں اور بالخصوص لال مسجد انتظامیہ کو اشتعال دلانے اور انتہائی اقدامات پر مجبور کرنے کی کو ششیں کی گئیں وہ کوئی راز کی بات نہیں ہے بلکہ ان مذاکرات میں شریک اعلیٰ حکومتی شخصیت چوہدری شجاعت حسین نے خود تسلیم کیا تھا کہ نادیدہ قوت نے لال مسجد انتظامیہ کے ساتھ مساجد کے معاملے میں طے پانے والے معاہدے کو سبوتاژ کردیا، لال مسجد انتظامیہ کے بعض اقدامات سے تمام قومی حلقوں اورخود علماء نے شدید اختلاف کیا لیکن یہ بات سب جانتے ہیں کہ مولانا برادران نے کسی بھی مرحلے پر مذاکرات اور گفت وشنید سے انکا ر نہیں کیا، جبکہ حکومت نے 3 جولائی کو آپریشن کے آغاز پر ہی اعلان کردیا تھا کہ اب لال مسجد انتظامیہ سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، یہ اعلان لال مسجد کے اندر موجود افراد کی کئی دنوں تک کی زبردست مزاحمت اور بعض سنجیدہ رہنماؤں کی مداخلت پر واپس لے لیاگیا اور 9 جولائی کو علماء اور چوہدری شجاعت حسین کی کوششوں سے دوبارہ لال مسجد انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا اور کئی گھنٹوں تک گفت وشنید کے بعد بالآخر تینوں فریقوں کی رضامندی سے معاہدے کا ایک ڈرافٹ تیارکرلیا گیا لیکن مذاکرات میں شامل علماء کے مطابق جب ڈرافٹ پر دستخط کرنے کا مرحلہ آیا تو چوہدری شجاعت حسین اور ان کے رفقاء نے انکشاف کیا کہ ان کے پاس اس کا مینڈیٹ ہی نہیں ہے اور یہ کہ اس کا فیصلہ ایوان صدر میں ہی ہوگا،

ایوان صدر میں اس ڈرافٹ میں یکطرفہ طور پر تبدیلیاں کی گئیں اور علماء کوتبدیل شدہ ڈرافٹ پر صرف ”ہاں یا نہ“ میں جواب دینے کا پیغام دیاگیا جو ظاہر ہے کہ علماء کیلئے ناقابل قبول تھا۔”جنگ “کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق علامہ غازی بعد میں ایوان صدر کے منظور شدہ ڈرافٹ پر بھی راضی ہوگئے تھے لیکن حکو مت نے آپریشن روکنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، اس کا اس کے سوا اور کیا مطلب لیاجاسکتا ہے کہ حکومت نے نامعلوم مصلحتوں کی بنا پر ہر حال میں آپریشن کرنے کا تہیہ کیا ہوا تھا اور مذاکرات کو محض ایک اسٹریٹجی کے طور پر استعمال کیا جارہا تھا۔

حکومت کا یہ طرز عمل اپنی جگہ ، اس کے ساتھ ساتھ بعض مخصوصہ ذہنیت کے حامل سیاستدانوں، دانشوروں اور کالم نگاروں نے اس سارے معاملے کو خرابی تک لے جانے میں جو کردار ادا کیا وہ بھی کچھ کم افسوسناک نہیں ہے، بعض کالم نگاروں کو لال مسجد تنازع کی شکل میں علماء ، دینی مدارس اور مذہبی طبقے کے خلاف اپنے بغض کے اظہار کا گویا ایک اچھا موقع ہاتھ آگیا تھا اور انہوں نے یہ موقع ایسے وقت میں بھی ضائع نہیں ہونے دیا جب پوری قوم لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے اندر موجود ہزاروں بچوں اور بچیوں کی زندگی کے حوالے سے سخت تشویش میں مبتلا تھی ، ایسے وقت میں دونوں فریقوں کو فہم وتدبر اور صبروتحمل کی تلقین کرنے کی بجائے ملک کے بعض نامی گرامی دانشوروں اور کالم نگاروں نے حکومت کو فوری آپریشن کرنے، ” دہشت گردوں“ کو ”کچل دینے“ کے مشورے دیے اورمولانا عبدالعزیز کی برقع میں گرفتاری کے [ڈرامہ کے] بعد علماء اوردینی مدارس کے خلاف ایسی زبان استعمال کی گئی جس نے لال مسجد انتظامیہ کی مخالف دینی قوتوں کو بھی ان کی حمایت کرنے اور خود علامہ غازی اور ان کے ساتھیوں کو آخر دم تک مزاحمت کرنے پر مجبور کردیا۔

مولانا برادران پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے سرکاری زمین پر اپنا ایک ذاتی”قلعہ“ بنایا ہوا ہے جہاں انہیں تمام سہولتیں حاصل ہیں، آپریشن کے اختتام پر صحافی خاص طور پر اس ”قلعے“ کو دیکھنے کیلئے اندر گئے اور یہ رپورٹ دی کہ دس ہزار کے قریب طلبا وطالبات کو مفت تعلیم ، رہائش اور طعام فراہم کرنے والے مولانا برادران کے تین تین کمروں پر مشتمل سادہ سے مکانات کے کسی کمرے میں ایئر کنڈیشنر تو درکنار ائیر کولر اور صوفہ سیٹ تک نہیں تھے، بھاری اسلحے اور” غیر ملکی دہشت گردوں کی موجودگی کے الزامات بھی محض افسانہ تھے، اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے بعض دانشور قومی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے کس قسم کے تحقیقی معیار کا ثبوت دیتے ہیں۔ لال مسجد تنازع کے دوران مذکورہ حلقوں کی جانب سے ”حکومتی رٹ“ کی اہمیت پر بہت زور دیا گیا اور لال مسجد انتظامیہ کو حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے پر گردن زدنے کے لائق قرار دیا گیا ۔ اصولی طور پر اس موقف کے درست ہونے میں کوئی کلام نہیں ہے لیکن اگر ماضی قریب میں خود انہی حلقوں کے طرز عمل پر غور کیا جائے تو کم از کم ان کی جانب سے یہ موقف بڑا عجیب لگتا ہے۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ ایک سال قبل اکبر بگٹی مرحوم نے جب حکومت سے باقاعدہ طور پر بغاوت کرکے اور بھاری ہتھیاروں سے لیس لشکر تشکیل دے کر بلوچستان میں ایک جنگ شروع کردی تھی اور حکومت اپنی رٹ قائم کرنے کیلئے وہاں کارروائیاں کر رہی تھی تو انہی دانشوروں اورسیاسی جماعتوں نے نہ صرف حکومت کی مخالفت کی تھی بلکہ حکومت کے خلاف اکبر بگٹی کی بغاوت کو ”حقوق“ کی جائز جدوجہد سے تعبیر کیاتھا، لال مسجد آپریشن کی سب سے بڑھ کر حمایت کرنے والی ایک حکومتی حلیف جماعت نے تو حکومتی رٹ قائم کرنے کیلئے کسی بھی قسم کی آپریشن کی صورت میں حکومت سے الگ ہونے تک کی دھمکی دی تھی (جس پر اکبر بگٹی کی ہلاکت کے باوجود بھی عمل نہیں کیا گیا)۔ کیا بلوچستان میں حکومتی رٹ اہم نہیں تھی ؟ اس کاجواب ان حلقوں کے ذمے ہے۔ پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے ہمیں سب سے پہلے اپنے دہرے معیارات سے نجات حاصل کرنے اور قومی معاملات پر تعصبات سے ہٹ کر متوازن سوچ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

تحریر ۔ مولوی محمد شفیع چترالی

Posted in معاشرہ, روز و شب | 11 Comments »