What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

Archive for the ‘شاعری’ Category

ربّا سوہنیا ۔ میں کِتھے جاواں

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اگست 24, 2007

ربّاسوہنیا ۔ میں کِتھے جاواں
کِنوں جا دل دا حال سُناواں
تیریاں نعمتاں نیں سجے کھبے
تیریاں برکتاں نیں اُتے تھلے
پر اساں کی ظلم کمایا اے
چور لفنگیاں نوں اُتے بٹھایا اے
اِک چڑھدی مہنگائی ستایا اے
اُتوں گرمی نے پرسیو وگایا اے
وڈیریاں دی واپڈا واہ وا موج بنائی اے
ساڈی بجلی تے لوڈ شیڈنگ لائی اے
پانی کدی غیب کدی آوے قطرہ قطرہ
بُڈھا کی ۔ جوان بھی ہو جاوے سترہ بہترہ
بِل لیون تِن مہینیاں دا روپیّہ سولاں سو
پانی نہ چھڈدے تےکہندے ٹینکر لَے لو

اُردو ترجمہ
میرے اچھے اللہ میں کہاں جاؤں
کسے جا کے دل کا حال سناؤں
تیری نعمتیں ہیں دائیں بائیں
تیری برکتیں ہیں اُوپر نیچے
لیکن ہم نے کیا گناہ کیا ہے
چور بدمعاشوں کو حاکم بنایا ہے
ایک روزافزوں مہنگائی نے ستایا ہے
اس پر گرمی نے بھی پسینہ نکالا ہے
بڑے لوگوں کو واپڈا نے آرام پہنچایا ہے
ہماری بجلی پر لوڈ شیڈنگ لگائی ہے
پانی کبھی نہ آئے اور کبھی آئے قطرہ قطرہ
بوڑھے کیا جوانوں کے بھی سر گھوم جاتے ہیں
بِل یہ لیتے ہیں تین ماہ کا روپے سولہ سو
پانی نہیں چھوڑتے اور کہتے ہیں ٹینکر لے لو

Advertisements

Posted in آپ بيتی, شاعری | 5 Comments »

شہید تم سے یہ کہہ رہے ہیں

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 24, 2007

اپنے کمپیوٹر کا ساؤنڈ سسٹم آن کر لیجئے [switch on sound system of your computer] اور سنئے ۔
یہ واحد نظم ہے جو عبدالرشید غازی شہید نے خود لکھی اور جامعہ فریدیہ کی ایک محفل میں پڑھی تھی ۔

Posted in شاعری | 8 Comments »

کیا قیامت گذر گئی

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 15, 2007

وہ آئے فی الفور دِل پھیر کر
پھر معصوم روحوں کو گھیر کر
توپوں کے دہانے کھول دئیے
جیسے اچانک قیامت آ پڑے
ننھے فرشتوں کے پرخچے اُڑے
اَن گِنت پھول سے جسم جلے
ہو گیا بپا وہاں پر ایسا حشر
جسم سے جسم علیحدہ نہ کر سکے
سی ڈی اے کے سوِیپر چار دن
جلے جسم و ٹکڑے اکٹھے کرتے رہے
ڈبوں میں ڈال کے سبزی کی طرح
راتوں و رات اُنہیں اکٹھا دفنا دیا
آیا نہ کسی کو بھی خیال مگر
یہ بھی ہیں کسی کے لختِ جگر
کہیں تڑپتے ہوں گے ان کے باپ
کہیں تلملاتی ہوں گی مائیں بھی
قصور تھا ان کا بتاؤ تو کیا
کسی کا سر تو نہیں پھوڑا تھا
اصلاحِ معاشرہ کے واسطے
حکومت نہ فرض نبھا سکی
تھا انہوں نے اپنے ذمہ لیا
بتاؤ کیا وہ جُرم تھا اتنا بڑا
صفائی کا بھی موقع نہ دیا
سینکڑوں معصوموں کو قتل کر دیا

ابھی ابی مجھے موبائل فون پر ایک پیغام ملا ہے

یہ بازی خُون کی بازی ہے
یہ بازی تم ہی ہارو گے
ہر گھر سے غازی نکلے گا
تم کتنے غازی مارو گے

Posted in شاعری | 6 Comments »

اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 21, 2007

بیٹھے بیٹھے یہ الفاظ میرے دماغ میں گھومنے لگے ۔ نامعلوم ان کو اشعار کہا جا سکتا ہے یا نہیں ۔

اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان
تیرا  سجّن  یورپ  نہ  امریکہ
تیرا  ساتھی چین  نہ  جاپان
اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان

نہ کر بھروسہ غیروں کی مدد پر
اپنی  زمیں ا ور  اپنوں پر نظر کر
اور  رکھ اپنی طاقت  پر ایمان
اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان

دساور کا مال  جو  کھائے
ہڈ حرام   وہ  ہوتا  جائے
بھر اپنے کھیتوں سے کھلیان
اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان

دہشتگرد کہہ کر نہ گِرا
اپنوں کی لاشیں  جا بجا
اپنے خون کی کر  پہچان
اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان

کرے جو  تو  محنت  مزدوری
دال روٹی بن جائے حلوہ پوری
حق حلال کی اب  تُو  ٹھان
اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان

Posted in شاعری | 4 Comments »

رنگِ زماں ۔ آدھی صدی پہلے

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اپریل 18, 2007

ایک ماہ قبل اپنی بيگم کی چُنيدہ قرآنی دعاؤں والی فائل ڈھونڈ رہا تھا کہ مُجھے اپنی بہت پُرانی ايک نوٹ بُک کے کُچھ اوراق ملے ۔ یہ نوٹ بُک حوادثِ زمانہ سہتے سہتے ورق ورق ہو کر منتشر ہو چکی تھی ۔ ان اوراق سے اپنی پچپن سال قبل لکھی ہوئی ايک نظم نقل کر رہا ہوں جب ميں نويں جماعت ميں پڑھتا تھا ۔ اُس زمانہ میں فيشن نے اچانک کروٹ لی اور جوان لڑکے لڑکيوں نے مغرب کی تقليد میں بہت چُست کپڑے پہننے شروع کر ديئے ايسے کہ بعض پہ شک ہوتا شائد جسم پر رکھ کر سِیئے گئے ہيں ۔ اس لباس کو ٹَيڈی لباس کہا جاتا تھا ۔ اس کے ساتھ ہی ميک اَپ اور فلم بينی کا رواج بھی بڑھا ۔

ہر موڑ پہ تم رنگِ زماں ديکھتے جاؤ
خاموش يہ سيلِ رواں ديکھتے جاؤ
تھيئٹر کو جاتے ہيں مسجِد سے نکل کر
اِسلام کے يہ روحِ رواں ديکھتے جاؤ
نازک جو ہوئی دخترِ ملت کی طبيعت
پردہ بھی ہوا اس پہ گِراں ديکھتے جاؤ
ہونٹوں پہ لِپ سٹِک رُخسار پہ پاؤڈر
يہ دُخترِ ملت ہے رواں ديکھتے جاؤ
اندھے ہوئے مغربی فيشن کے جنوں سے
انساں سے بنے ٹيڈی انہيں ديکھتے جاؤ
ہے اوجِ ترقی کی طرف رواں يہ زمانہ
اجمل کھڑے رفتارِ زماں ديکھتے جاؤ

Posted in شاعری | 5 Comments »

جہاد کے مخالفين کيلئے

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر نومبر 21, 2006

نوٹ ۔ اس نظم ميں شيخ سے مراد پڑھا لکھا آدمی ہے 

فتویٰ ہے شيخ کا يہ زمانہ قلم کا ہے

دنيا ميں اب رہی نہيں تلوار کارگر

ليکن جنابِ شيخ کو معلوم کيا نہيں؟

مسجد ميں اب وہ وعظ ہے بےسود و بےاثر

تيغ و تفنگ دستِ مُسلماں ميں ہے کہاں

ہو بھی تو دل ہيں موت کی لذّت سے بے خبر

کافر کی موت سے بھی لرزتا ہو جس کا دِل

کہتا ہے کون اسے کہ مُسلماں کی موت مر

تعليم اس کو چاہئيے ترکِ جہاد کی

دنيا کو جس کے پنجۂِ خونيں سے ہو خطر

باطل کی فال و فر کی حفاظت کے واسطے

يورپ زرہ ميں ڈوب گيا دوش تا کمر

ہم پوچھتے ہيں شيخِ کليسا نواز سے

مشرق ميں جنگ شرہے تومغرب ميں بھی ہےشر

حق سے اگر غرض ہے تو زيبا ہے کيا يہ بات

اسلام کا محاسبہ ۔ يورپ سے درگذر 

علّامہ محمد اقبال

Posted in شاعری | 6 Comments »

اُردو دان سے متاءثر ہو کر

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اگست 27, 2006

اُردو دان صاحب نے ايک ملتا جُلتا شعر نقل کيا تھا 

ہَمدَم کو گئے ہم دَم لے کر

ہَمدَم نہ مِلا ہَمدَم کی قسم

مَر ہم گئے مرہم کے لئے

مرہم نہ ملا مرہم کی قسم

*

میری انگريزی کی مواصلاتی بياض [بلاگ]  مندرجہ ذیل رابطہ پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے چرِند [براؤزر] ميں لکھ کر پڑھيئے ۔ Hypocrisy Thy Name ۔ ۔ http://iabhopal.wordpress.com یہ منافقت نہیں ہے کیا ۔ ۔

Posted in شاعری | Leave a Comment »

غَلَط فہمی کا ازالہ يا تصحيح

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 28, 2006

ميں چلتے چلتے ايک بلاگ پر پہنچا ۔ اُردو کے کئی شعراء کا کلام لکھا تھا ۔ پڑھنے لگ گيا ۔ کچھ شعر  مُضطر صاحب کے نام سے لکھے تھے ۔ ملاحظہ ہوں 

ميرے خيال ميں مندرجہ بالا اشعار بہادر شاہ ظفر کے اشعار ميں معمولی سا ردّ و بدل کر کے اپنائے گئے ہيں ۔ ملاحظہ ہوں بہادر شاہ ظفر کے متعلقہ اشعار ۔

 نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
جو کسی کے کام نہ آ سکے ميں وہ اِک مُشتِ غُبار ہوں
ميں نہيں ہوں نغمہءِ جانفزا کوئی سُن کے مجھ کو کرے گا کيا
ميں بڑے بروگ کی ہوں صدا ميں بڑے دُکھوں کی پُکار ہوں
ميرا رنگ روپ بگڑ گيا ميرا يار مجھ سے بچھڑ گيا
جو چمن خزاں سے اُجڑ گيا ميں اُسی کی فصلِ بہار ہوں
نہ تو ميں کسی کا حبيب ہوں نہ تو ميں کسی کا رقيب ہوں
جو بگڑ گيا وہ نصيب ہوں جو اُجڑ گيا وہ ديار ہوں
پئے فاتحہ کوئی آئے کيوں کوئی چار پھول چڑھائے کيوں
کوئی آ کے شمع جلائے کيوں ميں وہ بيکسی کا مزار ہوں

Posted in شاعری | 4 Comments »

اج آکھاں وارث شاہ نوں

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر نومبر 2, 2005

اج آکھاں وارث شاہ نوں کتوں قبراں وچون بول
تے اج کتابے عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول
اک روئی سی دھی پنجاب دی توں لکھ لکھ مارے وین
اج لکھاں دھیآں رودیاں تینوں وارث شاہ نوں کہن
اٹھ دردمنداں دیا دردیا تک اپنا دیس پنجاب
اج بیلے لاشاں وچھیاں تے لہو دی بھری چناب
کسے نے پنجاں پانیاں وچ اج دتی زہر رلا
تے اوہناں پانیاں نوں دتا دھرت نوں لا
جتھے وجدی پھوک پیار دی او ونجلی گئی گواچ
رانجھے دے سب ویر اج بھل گئے اوس دی جاچ
دھرتی تے لہو وسیا تے قبراں پیّئاں چون
پریت دیاں شہزادیاں اج وچ مزاراں رون
اج کتھوں لیآئیے لب کے وارث شاہ اک ہور
اج تے سبے کیدو بن گئے حسن عشق دے چور

امریتا پرتم کور ۔ چھ ماہ کی علالت کے بعد 31 اکتوبر 2005 کو بھارت میں فوت ہو گئی ۔ وہ 31 اگست 1919 کو پنجاب کے اس حصہ میں پیدا ہوئی تھی جو اب پاکستان میں شامل ہے ۔ 1947 میں ہجرت کر کے بھارت چلی گئی تھی ۔ اس نے شاعری اور نثر کی ایک سو کے لگ بھگ کتب لکھیں جن میں حقیقت کا ساتھ نہ چھوڑا اور خاصی تنقید کا نشانہ بنی ۔ مندرجہ بالا نظم اس نے 1947 کے قتل عام سے متاءثر ہو کر لکھی تھی ۔ جس نے بھارت میں اس پر تنقید کی بوچھاڑ کر دی تھی ۔

مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے یہ نظم کہاں سے پڑھی تھی یقینی بات ہے کہ کہیں سے بھارت میں چھپا ہوا کوئی اخبار یا رسالہ ہاتھ لگ گیا ہو گا ۔ مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ بچپن سے ہی مجھے یاد ہے ۔ جو قاری پنجابی نہیں جانتے ان کی خاطر نیچے اردو ترجمہ کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے ۔ غلطیوں کی معذرت پیشگی ۔

آج کہوں وارث شاہ سے کہیں قبروں میں سے بول
اور آج کتاب عشق کا کوئی اگلا صفحہ کھول
ایک روئی تھی بیٹی پنجاب کی تو نے لکھ دیئے تھے بہت بین
آج لاکھوں بیٹیاں رو رو کے اے وارث شاہ تجھے کہیں
اٹھو دردمندوں کے دردمند دیکھو اپنا دیس پنجاب
آج میدانوں میں لاشیں پڑی ہیں اور لہوسے بھرگیا چناب
کسی نے پانچوں پانیوں میں آج دیا ہے زہر ملا
اور ان پانیوں سے زمینوں کو کر دیا ہے سیراب
جس میں بجتی تھی پھونک پیار کی وہ بانسری ہو گئی گم
رانجھے کے سارے بھائی آج بھول گئے اسے بجانے کا طریقہ
دنیا پر خون برسا اور قبروں میں بھی لگا ٹپکنے
پیار بھری شہزادیاں آج مزاروں میں بیٹھ کے روئیں
آج تو سب ہی کیدو بن گئے اور حسن و عشق کے چور
آج کہاں سے لائیں ڈھونڈ کے وارث شاہ ایک اور

Posted in شاعری | 6 Comments »