What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

Archive for the ‘ذمہ دارياں’ Category

خوبصورتی

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر نومبر 5, 2011

اللہ نے ہر انسان میں خوبصورتی رکھی ہے مگر اسے بہت کم لوگ پہچان پاتے ہیں

انسان صورت کا دِلدادہ ہے لیکن اصل خوبصورتی سیرت میں ہے

خوبصورتی یہ ہے کہ والدین وہی عمل اختیار کریں جس کی وہ بچوں کو ترغیب دیتے ہیں

خوبصورت عمل یہ ہے کہ بچوں کے سامنے والدین ایک دوسرے کا احترام کریں

Advertisements

Posted in معلومات, ذمہ دارياں, روز و شب | Leave a Comment »

کیا ہمارا روزہ ہے ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر ستمبر 15, 2007

آج پاکستان میں دوسرا روزہ ہے ۔ روزہ صرف اللہ رب العزت کے ڈر سے یا حُکم سمجھ کر رکھا جاتا ہے ۔ یعنی انسان گھر میں اکیلا ہو اور مرغوبِ نفس کھانے کی چیزیں سامنے پڑی ہوں تو بھی نہیں کھاتا ۔ شدت کی پیاس لگی ہو سامنے شربت یا پانی پڑا ہو اور کوئی انسان وہاں موجود نہ ہو پھر بھی وہ شربت پانی نہیں پیتا ۔

اگر ذیابیطس کا مریض ڈاکٹر کی ہدائت کے مطابق دوائی تو کھاتا رے لیکن پرہیز نہ کرے یعنی مٹھائی ۔ شربت اور دوسری ذیابیطس بڑھانے والی اشیاء کھاتا پیتا رہے تو کبھی تندرست نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح اگر کمرے میں ایئر کنڈیشنر چلا دیا جائے مگر کمرے کی کھڑکیاں ۔ روشندان اور دروازہ کھُلے ہوں تو کمرہ کبھی ٹھنڈا نہیں ہو گا ۔

اسی طرح اگر بُرائیوں [ذیابیطس] کو روزے کا ایئر کنڈیشنر تو چلاا دیا جائے مگر نہ تو عورتوں کو جھانکنے والا اپنا روشندان بند کیا جائے ۔ نہ کم تولنے یا ناپنے والی اپنی کھڑکی بند کی جائے اور نہ جھوٹ بولنے اور دوسری خرافات کا دروازہ بند کیا جائے تو پھر اپنے جسم کو روزے کی ٹھنڈک یا فائدہ کیسے پہنچے گا ؟ چنانچہ روزے کا فائدہ حاصل کرنے کیلئے بھی ضروری ہے کہ جو عوامل منع ہیں ان سے مکمل اجتناب کیا جائے ۔

اللہ قادر و کریم اور رحمٰن و رحیم ہم سب کو صحیح طور پر مکمل لوازمات کے ساتھ روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ ہماری بھول چُوک معاف فرمائے اور ہماری تمام عبادات قبول فرمائے ۔

Posted in معلومات, ذمہ دارياں | 8 Comments »

پاکستانیو ۔ ہوش نہ کیا تو نہ ملک رہے گا نہ تم

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر ستمبر 12, 2007

انصار عباسی کا جنجھوڑنے والا مضمون بشکریہ جنگ جس کا عنوان میں نے موزوں کیا ۔

قوم انتہائی ذہنی دباؤ کا شکار ہوچکی ہے لوگ سوال کرتے اور بحث کرتے ہیں کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے؟ کیا ہم اب آزاد اور خود مختار ملک رہ گئے ہیں؟ کیا ہم میں اب عزت نفس کی رمق بھی بچی ہے؟ سابق وزیراعظم نواز شریف کی جبری جلا وطنی نے ہماری روحوں کو زخمی کر دیا ہے ۔ عدم تحفظ نے ہمیں پھر لپیٹ میں لے لیا ہے۔ کوئی نہیں جانتا ارباب اقتدار ہم میں سے کسی کے ساتھ کیا کریں گے۔ اگر سابق وزیراعظم کو قانون، آئین اور عدالت عظمیٰ کے واضح فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ملک بدرکیا جا سکتا ہے تو پھر عام آدمی کی کوئی حیثیت ہی نہیں رہ جاتی۔

صدر پرویز نے اپنی کتاب ان دی لائن آف فائر میں اعتراف کیا کہ القاعدہ کے 600 سے زائد ارکان کو امریکا کے حوالے کر چکے ہیں مگر ایک پتّہ بھی نہیں ہلا اورکیا کسی کو خیال آیا کہ صدر غیر ملکیوں کو جلا وطن کرسکتا ہے اور وہ بھی صرف اُن کے اپنے ملکوں میں۔ ملک بدری کے قانون کا اطلاق اس ملک [پاکستان] کے بدقسمت شہریوں پر نہیں ہوتا۔ [اپنے] وطن کے کسی شہری کو صرف اس ملک کے حوالے کیا جا سکتا ہے جس کے ساتھ مجرموں کی حوالگی کا معاہدہ کیا گیاہو ۔ اس صورتحال میں بھی دو شرائط سامنے آتی ہیں اگر اس پاکستانی شہری نے متعلقہ ملک کے خلاف کوئی جرم کیا ہو اور پھر اسے حوالے کرنے کی درخواست کا مکمل عدالتی عمل کے ذریعے فیصلہ کیا جائے جس میں اس شخص کو اپنے دفاع کا پورا موقع دیا جائے ۔ اگر انکوائری افسر اسے متعلقہ ملک کے حوالے کرنے کی منظوری دیتا ہے تو ملزم شخص کو پہلے ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں اپیل کا حق دیا جاتا ہے۔ یوں عدلیہ کی اجازت کے بغیر کسی مجرم کو بھی کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کیا جا سکتا ۔

صدر جنرل پرویز مشرف اور ان کی حکومت سے صرف ایک سادہ سا سوال پوچھا جا سکتا ہے ۔ آیا القاعدہ کے نام نہاد ارکان اور نواز شریف کو قانون کے مطابق ملک بدر کیا گیا ؟ جو اب بہت بڑی ناں میں ملے گا۔ جن ملکوں کو ہم نے اپنے شہری بکریوں کے ریوڑ کی طرح دیے ہیں کیا ان سے ہم بھی یہ توقع کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے آئین قانون اور لوگوں کے بنیادی حقوق کو نظر انداز کر کے ایسا ہی کرینگے؟ لہٰذا ہمارا معاملہ یہ ہے کہ کسی فرد کو بھی کسی بھی ملک کے حوالے کیا جا سکتا ہے ۔ حیرت ہے کہ ہمیں آئین قانون اور پالیسیوں کی ضرورت کیا ہے جب ہمیں ان کا کوئی احترام نہیں؟ عدالتیں بند کر دینی چاہئیں کہ جب حکومت کو ان کی کوئی پرواہ نہیں۔ تو پھر لوگوں کے پاس کیا راستہ بچتا ہے؟ پیر کو ایم کیو ایم کے کارکنوں نے اپنے لیڈر کے اکسانے پر سندھ ہائی کورٹ کا ایک لحاظ سے گھیراؤ کر لیا اور اسے 12مئی کے واقعات کے حوالے سے سماعت ملتوی کرنا پڑی۔ بہت خوب الطاف بھائی۔ الفت میں اٹھنے والی راجہ محمد ریاض کی آواز خاموش کر دی گئی جو سندھ ہائیکورٹ بار کے رکن تھے۔ اسلام آباد میں کسی کو دکھ ہوا ؟ کسی نے مذمت کی ؟ ہم کہاں جا رہے ہیں؟ حکمرانوں کو تو کوئی پریشانی نہیں مگر اس ملک کی سول سوسائٹی کیوں چپ ہے؟ ہم کس کا انتظار کر رہے ہیں ؟

محض ایک پارٹی یا دوسری کو لعن طعن کرنے سے کام نہیں چلتا یہ ڈرائنگ روم کی بحث ہے۔ ملک کی موجودہ صورتحال بہت ہی پیچیدہ ہے جس کے لیے غیر معمولی جدوجہد کی ضرورت ہے جس میں معاشرے کا ہر فردشریک ہو۔ پاکستان کو بچانے اور محفوظ بنانے کے لیے ایک اپنا کوئی راستہ اختیار کر لیں مگر کچھ کریں ضرور کچھ عملی اقدام۔ عام لوگوں میں جو حکومتی مشینری کاحصہ ہیں اور کلیدی عہدوں پر بھی بیٹھے ہیں ان پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ حکمرانوں کی چاکری کرنے کے بچائے ملک و قوم کی خدمت کرنی چاہئیے۔ پُرکشش عہدے آؤٹ آف ٹرن ترقی استحقاق یا اتھارٹی یہی ان کی توجہ کے مرکز ہیں مگر یہ سب ملک سے مشروط ہیں سول بیورو کریسی کو صرف یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ حالیہ عرصے میں اگر قانون آئین اور قواعد کے خلاف اتنا کچھ ہوچکا ہے مگر کتنے افسر ہیں جنہوں نے غیر آئینی احکامات ماننے سے انکار کیا ہو ؟ اس سلسلے میں صرف ایک نام یاد آتا ہے جو سندھ کے سابق چیف سیکرٹری شکیل درانی تھے۔

Posted in ذمہ دارياں | 3 Comments »

میری یادیں 1947ء کی

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اگست 14, 2007

وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَی ۔ ۔ ۔ [سورت ۔ 53 ۔ النَّجْم ۔ آیت 39]
اور یہ کہ انسان کو وہی کچھ ملے گا جس کی اُس نے کوشش کی ہوگی

یومِ استقلال مبارک ہو

آؤ بچو سیر کرائیں ہم ۔ تم کو پاکستان کی
جسکی خاطر دی ہم نے قربانی لاکھوں جان کی
پاکستان زندہ باد ۔ پاکستان زندہ باد

آج 14 اگست ہے ۔ پاکستان بنے 60 سال مکمل ہوئے ۔ مسلمانوں نے لاکھوں جانوں اور لاکھوں ماؤں بہنوں کی عزت کی قربانی دے کر پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا ۔ ان قربانیوں کے ساتھ ساتھ اللہ کو بھی بھُولنے کا نتیجہ ہے کہ آج ہم ہر طرف سے ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور گہرائیوں کی طرف پھسلتے جا رہے ہیں ۔ جن اصولوں کی بنیاد پر پاکستان حاصل کیا گیا تھا وہ تو کم ہی حاصل کیا البتہ جو کچھ ملا تھا اُسے بھی کھوتے جا رہے ہیں ۔ آؤ ہم سب اپنی غلطیوں اور اپنے گناہوں کی سچے دل سے توبہ کریں اور اللہ جس نے 60 سال قبل ہمیں اپنا ملک دیا تھا اُسکی رسی کو پھر سے مضبوطی کے ساتھ پکڑ لیں اور محنت کر کے اتھاہ گہرائیوں سے باہر نکلیں ۔

خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی ۔ نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت بدلنے کا

کئی ماہ سے مجھ سے بار بار مطالبہ کيا جا رہا ہے کہ ميں پاکستان بننے سے پہلے کے اپنے تجربات لکھوں ۔ جب پاکستان بنا ميری عمر 10 سال تھی ۔ مجھے پاکستان بننے سے ايک سال ڈیڑھ پہلے تک کے صرف وہ واقعات ياد ہيں جو کہ انوکھے تھے ۔ سو پہلی قسط حاضر ہے ۔

ایک دفعہ ہم کھیل کر واپس آ رہے تھے ۔ راستہ میں ایک ہندو لڑکے نے ایک ہندو دکاندار سے پانی مانگا تو دکاندار نے پانی کا گلاس دیدیا اور اس نے گلاس سے منہ لگا کر پی لیا ۔ پھر ایک مسلمان لڑکے نے پانی مانگا تو دکاندار نے کہا چلُو کرو اور گلاس سے ڈیڑھ فٹ اونچائی سے لڑکے کے چلُو میں پانی پھینکنا شروع کیا جس سے لڑکے کے کپڑے بھیگ گئے اور وہ ٹھیک طرح پانی بھی نہ پی سکا ۔

ایک دن ایک ہندو آدمی فٹ پاتھ پر جا رہا تھا کہ ایک مسلمان لڑکا بھاگتے ہوئے اس سے ٹکرا گیا تو ہندو چیخا کپڑے بڑھشٹ کری گیا مطلب کہ کپڑے پلید کر گیا ہے اور اس لڑکے کو کوسنے لگا ۔ کچھ دن بعد وہی ہندو گذر رہا تھا کہ راستہ ميں کھڑی ایک گائے نے پیشاب کیا جو اُسکے کپڑوں پر پڑا بلکہ اس کا پاجامہ بالکل بھيگ گيا تو وہ بولا پاپ چڑی گئے پاپ چڑی گئے یعنی گناہ جھڑ گئے ۔

جب مارچ 1947 میں پاکستان بننے کا فیصلہ ہو گیا تو اگلے دن آدھی چھٹی کے وقت میرے ہم جماعت رنبیر نے جو مجھ سے تین سال بڑا تھا قائداعظم کو گالی دی ۔ میرے منع کرنے پر اُس نے جیب سے چاقو نکالا اور اُسے میرے پیچھے شانوں کے درمیان رکھ کر زور سے دبانے لگا ۔ اچانک کچھ مسلمان لڑ کے آ گئے اور وہ چلا گیا ۔ دو دن بعد ہمارا خالی پیریڈ تھا ۔ ہم کلاس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رنبیر کے ایک دوست کیرتی کمار نے مسلمانوں کو گالیاں دینا شروع کر دیں ۔ میرے منع کرنے پر کیرتی کمار نے کہا ہم تم مُسلوں کو ختم کر دیں گے اور مجھ پر پل پڑا اور ہم گتھم گتھا ہو گئے ۔

جموں میں اکتوبر 1947 میں کرفیو لگا دیا گیا تھا ۔ اس کرفیو میں ہندوؤں اور ہندوستان سے آئے ہوئے سکھوں کے مسلح دستے بغیر روک ٹوک پھرتے تھے مگر مسلمانوں کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہ تھی ۔ ہمارے گھر کے قریب ہندوؤں کے محلہ میں دو اونچی عمارتوں پر نابھہ اور پٹيالہ سے آئی ہوئی بھارتی فوج نے مشین گنیں نصب کر لیں ۔ آنے والی رات کو دونوں عمارتوں کی چھتوں سے ہمارے گھر کی سمت میں متواتر فائرنگ شروع ہو گئی ۔ ہمارا گھر نشانہ بننے کی وجہ یہ تھی کہ اس پر پاکستان کا بہت بڑا جھنڈا بہت اُونچا لگا ہوا تھا ۔ اگلے دن دس سال سے ہمارا کرائے دار ہندو جس پر میرے دادا جان کے کئی احسان بھی تھے ہمارے گھر آیا اور کہنے لگا میں نے سوچا کہ کرفیو کی وجہ سے آپ کی زمینوں سے دودھ نہیں آیا ہوگا اسلئے میں اپنی گاؤ ماتا کا دودھ بچوں کے لئے لے آیا ہوں ۔ دودھ اُبال کر ہمیں پینے کو کہا گیا مگر اُس وقت کسی کا کچھ کھانے پینے کو دل نہیں چاہ رہا تھا ۔ دوسرے دن صبح دیکھا کہ دودھ خراب ہو گیا تھا اسلئے باہر نالی میں پھینک دیا ۔ تھوڑی دیر بعد باہر سے عجیب سی آواز آئی ۔ جا کر دیکھا تو ایک بلی تڑپ رہی تھی اور تڑپتے تڑپتے وہ مر گئی ۔ دراصل وہ برہمن ہمدرد بن کر ہم سب کو خطرناک زہر والا دودھ پلا کر مارنے آیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ [جاری ہے]

Posted in آپ بيتی, ذمہ دارياں | Leave a Comment »

زمين ميرے پاؤں کے نيچے سے نکل گئی

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اکتوبر 8, 2006

پچھلے سال آج کے دن ميں کسی کام سے راولپنڈی کچہری گيا ہوا تھا ۔ وہاںگہری سوچ ميں گُم ايک دفتر سے دوسرے دفتر جا رہا تھا کہ ميرے پاؤں کے نيچے سے زمين زوردار جھٹکے کے ساتھ ايک طرف کو گئی ۔ ابھی سنبھل نہ پايا تھا کہ زمين دوسری طرف کو گئی ۔ جھٹکے ختم ہوئے تو بيٹے کا ٹيلفون خيريت پوچھنے کيلئے آيا ۔ تھوڑی دير بعد گھر کو روانہ ہوا ۔ راستہ ميں پھر بيٹے کا ٹيليفون آيا اور اُس نے بتايا کہ مرگلہ ٹاور گِر گيا تھا ۔ اسلام آباد گھر پہنچنے پر بيٹے نے بتايا کہ ہمارے گھر کے چار کمروں کی ديواروں ميں دراڑيں پڑ گئی تھيں ۔ ميرے وہم و گمان ميں بھی نہ تھا کہ ميرے مُلک کے شمالی علاقوں ميں قيامتِ صغرٰی بپا ہو چُکی ہے ۔

رات گئے معلوم ہوا کہ مظفرآباد اور باغ وغيرہ سے بالکل رابطہ نہيں ہو رہا ۔ کچھ رضاکار صورتِ حال معلوم کرنے چل پڑے ۔ آدھی رات کے بعد اُنہوں نے اپنے موبائل سے اطلاع دی کہ مظفرآباد کو جانے والی سڑک تباہ ہو گئی ہے ذرا سی روشنی ہو جانے پر وہ گاڑی وہيں چھوڑ کر پيدل آگے جائيں گے ۔ اگلے دن اُن کے ٹيليفون کا انتظار کرتے رہے ۔ اِسی دوران اطلاع ملی کہ صوبہ سرحد ميں بالا کوٹ تباہ ہو چکا ہے اور اس سے آگے شمالی علاقوں کی کچھ خبر نہيں ۔ عشاء کے بعد ٹيليفون آيا کہ ميں اکيلا ٹيليفون کرنے واپس آيا ہوں کيونکہ ٹيليفون کا نظام تباہ ہو چکا ہے مظفرآباد پہنچنے ميں تو وقت لگے گا جہاں تک ميں گيا ہوں سب گاؤں تباہ ہو چکے ہيں ۔

 اس کے بعد مقامی فلاحی جماعتوں نے تيزی سے امدادی کاروائياں شروع کر ديں اور پہلی کھيپ 10 اکتوبر 2005 کو صبح سويرے روانہ کر دی گئی جو جہاں سڑک تباہ ہو گئی تھی اس سے آگے کندھوں پر ليجائی گئ اور مظفرآباد کے راستہ ميں رہائشی متاءثرين ميں بانٹ دی گئی ۔ اسی طرح پہلی کھيپ جو بالاکوٹ بھيجی گئی وہ ٹرک مانسرہ سے کچھ آگے رک گيا اور آگے پيدل کندھوں پر سامان پہنچايا گيا ۔

اب ايک سال بعد صورتِ حال يہ ہے کہ متاءثرين کی غالب اکثريت ابھی تک خيموں ميں رہ رہی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ايسے واقعات سے لوگ عبرت پکڑتے ہيں مگر ہماری قوم شائد سب حدود پار کر چُکی ہے ان پر کوئی اثر ہوا نظر نہيں آتا ۔ امدادی رضاکار ادارے شکائت کرتے ہيں کہ  حکومت کے ذريعہ تقسيم ہونے والی امداد کا بيشتر حصہ متاءثرين کو نہيں مِل رہا ۔ حکومت نے بحالی کا ايک خصوصی ادارہ بنايا ہوا ہے جس کا سربراہ حاضرسروس جرنيل ہے ۔ ناجانے اُن کی کيا ذمہ داری ہے جو امداد خُردبُرد ہو رہی ہے ۔ امداد خُردبُرد کرنے والوں ميں حکومت کے اہلکاروں کے علاوہ مقامی لوگ بھی شامل ہيں اور متاءثرين بے سہارا لوگ ہيں ۔

مسلم رضاکار اداريے امدادی کاروائياں جاری رکھے ہوئے ہيں ۔ اِنفرادی اِمداد بھی جاری ہے ۔ غير مُلکی امدادی ادارے صرف چند رہ گئے ہيں اور انہوں نے ايک اور مسئلہ کھڑا کيا ہوا ہے ۔ پاکستانی اور بين الاقوامی مسلم رضاکاروں نے بچوں اور بالغوں سب کيلئے تعليم کا بندوبست کيا ہوا ہے جس ميں وہ قرآن کی تعليم بھی ديتے ہيں ۔ ان کو قرآن کی تعليم اعتراض ہے کہ يہ لوگ متاءثرين کو دہشت گرد بنا رہے ہيں ۔ اس کے بر عکس کچھ غيرمُلکی ادارے متاثرين کو عيسائيت کی ترغيب ديتے رہے ہيں جس پر اجتمائی احتجاج بھی ہوا تھا ۔

يہاں کلِک کر کے يا مندرجہ ذيل لِنک اپنے براؤزر ميں لکھ کر  تازہ ترين صورتِ حال پڑھيئے

Posted in ذمہ دارياں | Leave a Comment »

قائد اعظم اور ہم

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر ستمبر 11, 2006

آج کے دن 58 سال قبل ہماری قوم کے مُحسن اور معمار اِس دارِ فانی کو خيرباد کہہ کر مُلکِ عدم کو روانہ ہوئے ۔ اِس دن کو منانے کا صحيح طريقہ يہ ہے کہ ہم قرآن کی تلاوت کر کے مرحوم کيلئے دُعائے مغفرت کريں اور اُن کے اقوال پر عمل کريں ۔ پچھلے چند سال سے دين اسلام کو دقيانوسی سمجھنے والے ہر طرح سے ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہيں کہ قائد اعظم نے پاکستان کو اسلامی نہيں بلکہ بے دين رياست بنايا تھا ۔ موجودہ حکومت بھی اپنے پالنہاروں کی خوشنودی کی خاطر پاکستان ميں تعليم کو بھی بے دين بنانا چاہتے ہيں اور اصل ضروريات کو پسِ پُشت ڈالا ہوا ہے ۔ نيچے قائد اعظم کے ايک پيغام کے کچھ اقتباسات درج کر رہا ہوں جو اُنہوں نے 27 نومبر 1947 کو کراچی ميں منعقد ہونے والی کُل پاکستان تعليمی کانفرنس کو ديا تھا ۔

Under foreign rule for over a century, in the very nature of things, I regret, sufficient attention has not been paid to the education of our people, and if we are to make any real, speedy and substantial progress, we must earnestly tackle this question and bring our educational policy and program on the lines suited to the genius of our people, consonant with our history and culture, and having regard to the modern conditions and vast developments that have taken place all over the world.

Education does not merely mean academic education, and even that appears to be of a very poor type. What we have to do is to mobilize our people and build up the character of our future generations. There is immediate and urgent need for training our people in the scientific and technical education in order to build up future economic life, and we should see that our people undertake scientific commerce, trade and particularly, well-planned industries. Also I must emphasize that greater attention should be paid to technical and vocational education.

In short, we have to build up the character of our future generations which means highest sense of honor, integrity, selfless service to the nation, and sense of responsibility, and we have to see that they are fully qualified or equipped to play their part in the various branches of economic life in a manner which will do honor to Pakistan

Posted in ذمہ دارياں | قائد اعظم اور ہمپر تبصرے بند ہیں

نام روشن خيالی کام سنگدلی

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 22, 2006

وہ حُکمران جو  ہر وقت انسانی حقوق ۔ امن اور جمہوريت کی بحالی اور روشن خيالی کا راگ الاپتے رہتے ہيں اُن کا عمل اور اصل چہرہ ديکھنے کيلئے يہاں کلِک کر کے ديکھئے اُن کے بے پنا ظُلم کی تصاوير  

يہ سب کچھ ديکھ کر اگر لبنان کے لوگوں کيلئے جن ميں زيادہ تر مُسلمان مگر عيسائی اور يہودی بھی سامل ہيں آپ کے دل ميں دُکھ يا ہمدردی پيدا ہو تو کم از کم يہاں کلِک کر کے اس ظُلم کے خلاف پيٹيشن پر اپنا نام لکھ ديجئے ۔ 

 رسول اللہ صلّی اللہ عليہ و اٰلہِ وسلّم نے فرمايا ۔ ظُلم کو طاقت سے روکو ۔ اگر طاقت سے نہيں روک سکتے تو اس کے خلاف آواز بلند کرو ۔ صحابہ کرام نے پوچھا اگر ايسا نہ کر سکيں ۔ فرمايا پھر اس کو دل سے بُرا سمجھو مگر يہ کمزور ترين ايمان کی نشانی ہے ۔   

*

میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔

   Hypocrisy Thy Name ۔ ۔ ۔  http://iabhopal.wordpress.com یہ منافقت نہیں ہے کیا ۔ ۔

Posted in معاشرہ, ذمہ دارياں | Leave a Comment »

صلاحِ عام

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 16, 2006

ميں نے ايک لائحہ عمل بنا رکھا ہے جس پر عمل کرنے کی ميں پوری کوشش کرتا ہوں ۔ سوچا کہ اِسے قارئين کی نذر کيا جائے کہ شائد کوئی مہربان اسے بہتر بنانے کيلئے اپنی عُمدہ تجويز سے مُجھے نوازيں ۔ يہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس ميں سے کوئی عمل کسی قاری کو پسند آجائے اور وہ اُسے اپنا کر ميرے حق ميں دعائے خير کريں ۔

  بولنے اور لکھنے ميں ہميشہ شُستہ زبان استعمال کی جائے ۔ اس سے سُننے والے والے پر اچھا اثر پڑتا ہے  

کسی فرد کی ذاتی خامياں سب کے سامنے بيان نہ کی جائيں ۔ ايسا کرنے سے اشتعال پيدا ہوتا ہے ۔ ويسے بھی کسی کی ذاتی خامياں سرِعام بيان کرنا مہذّب انسان کو زيب نہيں ديتا    

کسی گروہ يا جماعت کے غلط اقدامات اُجا گر کرتے ہوئے ذاتيات کو بيچ ميں نہ آنے ديا جائے  ۔ کيونکہ اس سے بات کرنے يا لکھنے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے

  اشتعال انگيزی کے جواب ميں صبر سے کام ليا جا ئے ۔ ايسا رويّہ اشتعال انگيزی کرنے والے کو اپنے رويّے پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے

  کسی فرد کے بد زبانی کرنے پر خاموشی اختيار کی جائے ليکن اگر جواب دينا ضروری ہو تو تحمل اور شائستگی کے ساتھ جواب ديا جائے ۔ ايسا کرنا بد زبانی کرنے والے ميں بات سُننے کا رُحجان پيدا کرتا ہے

 *

میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔

Hypocrisy Thy Name – – http://iabhopal.wordpress.com یہ منافقت نہیں ہے کیا ۔ ۔

Posted in ذمہ دارياں | 9 Comments »

نئی شاہراہ

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 18, 2006

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ نے ایک شاہراہ بنوائی اور اِس کے افتتاح کے لئے ایک دوڑ کا اعلان کیا جس میں تمام شہری حصہ لیں اور یہ کہ جو سب سے اچھا سفر کرے گا بادشاہ اُسے اِنعام دے گا ۔ سب نے بڑے جوش و خروش سے حصہ لیا۔ شاہراہ کے دوسرے سِرے پر بادشاہ سب دوڑنے والوں کے تاءثرات پُوچھتا رہا ۔ کسی نے شاہراہ کی تھوڑی کسی نے زیادہ تعریف کی مگر سب نے بتایا کہ شاہراہ پر ایک جگہ بجری پڑی ہے ۔ اگر اُسے اُٹھوا دیا جائے تو بہت اچھا ہو ۔

شام تک سب لوگ چلے گئے تو بادشاہ اُٹھ کر جانے لگا ۔ ایک سپاہی نے خبر دی کہ دوڑ میں حصہ لینے والوں میں سے ایک آدمی جو شاہراہ میں صبح سویرے داخل ہوا تھا ابھی آنا باقی ہے ۔ کچھ دیر بعد ایک درمیانی عمر کا شخص دھُول میں لت پت تھکا ہارا  ہاتھ میں ایک تھیلی پکڑے پہنچا اور بادشاہ سے مخاطب ہوا "جناب عالی ۔ میں معافی چاہتا ہوں کہ آپ کو انتظار کرنا پڑا ۔ راستہ میں کچھ بجری پڑی تھی ۔ میں نے سوچا کہ آئندہ اِس شاہراہ سے گذرنے والوں کو دقّت ہو گی ۔ اُسے ہٹانے میں کافی  وقت لگ گیا ۔ بجری کے نیچے سے یہ تھیلی ملی ۔ اس میں ایک سو سونے کے سِکّے ہیں ۔ آپ کے سڑک بنانے والوں میں سے کسی کے ہوں گے ۔ اُسے دے دیجئے گا " ۔ بادشاہ نے کہا " یہ تھیلی اب تمہاری ہے ۔ میں نے رکھوائی تھی ۔ یہ تمہارا انعام ہے ۔ بہترین مسافر وہ ہوتا ہے جو مستقبل کے مسافروں کی سہولت کا خیال رکھے" ۔      

دعا ہے کہ اللہ ہمارے ملک میں بھی ایسے لوگ پیدا کر دے ۔ مجھے یقین ہے کہ وہ بادشاہ سے نہیں تو اللہ سے انعام ضرور پائیں گے ۔

*

  میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔ 

Hypocrisy Thy Name – –  http://iabhopal.wordpress.com – – یہ منافقت نہیں ہے کیا

Posted in ذمہ دارياں | Leave a Comment »

معصوم بچی کی مدد کيجئے

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اپریل 26, 2006


يہ تين سالہ بچی رياض سعودی عرب میں دو ماہ قبل ملی تھی ۔ يوں لگتا ہے کہ وہ کسی طرح اپنے والدين سے الگ ہو گئی مگر ابھی تک کسی نے متعلقہ ادارہ کو اُس کی گمشُدگی کی اطلاع نہيں دی ۔ کَمسِنی کی وجہ سے بچی سے کوئی معلومات حاصل نہيں ہو سکيں ۔ اُس وقت منظر بڑا رقعت آميز ہوتا ہے جب بچی موبائل فون کان سے لگا کر زاروقطار روتی ہے اور " بابا بابا " پُکارتی ہے ۔

بچی کے والدين يا عزيز و اقارب مندرجہ ذيل پتہ پر رابطہ کريں

بچی اب جماعت النہدہ کے پاس ہے ۔

رابطہ :  پبلک ريليشن ۔ ميڈيا ڈويزن ۔ فون ۔  014650029  

مجھے يہ اطلاع ايک دوست نے دی ہے اور ميں اسے اپنے بلاگ پر شائع کر رہا ہوں ۔ تمام اہلِ دل اور بچوں سے پيار کرنے والے خواتين و حضرات سے درخواست ہے کہ وہ بھي اسے ہر طرح سے مُشتہر کريں يعنی اپنے بلاگز پر اور ای ميل کے ذريعہ ۔
مُشتہر کرنے والوں کا شکريہ پيشگی ۔

Posted in ذمہ دارياں | Leave a Comment »