What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

Archive for the ‘دین’ Category

انتباہ

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر ستمبر 17, 2007

سورت ة 2 ۔ البقرة ہ ۔ آیات 8 تا 13
بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں حالانکہ درحقیقت وہ مؤمن نہیں ہیں ۔ وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں ۔ مگر دراصل وہ خود اپنے آپ کو دھوکہ میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے ۔ ان کے دِلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیا اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں اس کی پاداش میں ان کیلئے دردناک عذاب ہے ۔ جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد برپا نہ کرو تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ۔ خبردار حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے ۔ اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے یہی جواب دیا کیا ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں ۔ خبردار حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں مگر یہ جانتے نہیں ہیں

سورت ة 2 ۔ البقرة ہ ۔ آیت 120
یہودی اور عیسائی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو ۔ صاف کہدو کہ راستہ بس وہی ہے جو اللہ نے بتایا ہے ۔ ورنہ اگر اُس علم کے بعد جو تمہارے پاس آ چکا ہے تم نے اُن کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار

اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

Advertisements

Posted in دین | Leave a Comment »

دین اور ریاست بحوالہ اسلام اور پاکستان

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اگست 30, 2007

سُبْحَانَكَ لاَ عِلْمَ لَنَا إِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ ۔
تیری ذات پاک ہے ہمیں کچھ علم نہیں مگر اُسی قدر جو تُو نے ہمیں سِکھایا ہے، بیشک تُو ہی جاننے والا حکمت والا ہے

میں نے اپنی ایک تحریر میں دین اور ریاست کے تعلق کے بارے لکھنے کا وعدہ کیا تھا جو اللہ کی مہربانی سے آج پورا ہونے جا رہا ہے ۔ چند سالوں سے کچھ لوگ غوغا کر رہے ہیں کہ دین ذاتی معاملہ ہے اور اس کا ریاست یا ریاستی امور سے کوئی تعلق نہیں ۔ موجودہ حکومت اور ملک کے 70 فیصد ذرائع ابلاغ اِس نظریہ کو ہوا دے رہے ہیں ۔ مطلب یہ ہوا کہ دین ذاتی معاملہ ہے کسی کا دل چاہے اس پر چلے یا نہ چلے حکومت اس قضیئے میں نہیں پڑے گی ۔

حکومت بالخصوص جمہوری حکومت کا کام عوام کی بہتری اور انہیں انصاف ۔ خوراک ۔ پوشاک ۔ تعلیم و تر بیت ۔جان و مال کا تحفظ اور دوسری ضروریاتِ زندگی مہیا کرنا ہوتا ہے ۔ غور کیا جائے تو یہ سب عوامل بھی ذاتی معاملات ہیں کیونکہ ان کے عمل و حصول میں ہر فرد کی ذاتی خواہش اور ذاتی فیصلہ حاوی ہوتا ہے ۔ لیکن ان لئے حکومت قوانین وضع کرتی ہے ۔ اگر یہ قوانین دین کو نظرانداز کر کے بنائے جائیں تو وہ دین کے خلاف بھی ہو سکتے ہیں ۔ اس طرح حکومتی قانون لوگوں کے انفرادی ذاتی معاملہ یعنی دین اسلام پر عمل میں دخل اندازی کرے گا ۔ دوسرے لفظوں میں حکومت کا قانون جمہور کو ان کے بنیادی حق سے محروم کر دے گا جو کہ جمہوری اصولوں کی نفی ہے ۔

میاں بیوی کے تعلقات سے بڑھ کر ذاتی نوعیت کسی اور عمل کی نہیں ۔ اس کے بعد ذاتی معاملہ جائیداد ہوتی ہے ۔ وکلاء جانتے ہوں گے کہ سب سے زیادہ مقدمات میاں بیوی کے تعلقات اور جائیداد سے جنم لیتے ہیں ۔ تو پھر کیا ذاتی معاملات ہونے کی وجہ سے حکومت اس سلسلہ میں قوانین وضع نہیں کرے گی یا دین اسلام کے خلاف قوانین بنائے گی ؟ دوسری طرف دین جسے ذاتی معاملہ کہا جاتا ہے اس میں ان دونو معاملات کے سلسلہ میں واضح احکام موجود ہیں جو کہ قرآن شریف میں بڑی وضاحت کے ساتھ آئے ہیں اور مسلمانوں پر فرض ہیں ۔ مزید یہ کہ جمہوریت میں قوانین ملک کے تمام لوگوں کی سہولت کیلئے ہوتے ہیں مگر اکثریت کے خیالات و احساسات کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے اور اس سے بھی کوئی اختلاف نہیں کر سکتا کہ پاکستان میں مسلمان بہت بھاری اکثریت میں ہیں ۔ چنانچہ متذکرہ جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کیلئے اگر غیراسلامی قوانین اپنائے جائیں تو یہ جمہوری اصولوں کے خلاف ہو گا ۔

دین اسلام زندگی گذارنے کا ایک جامع طریقہ ہے جو اس کائنات کے خالق و مالک نے ہمیں بتایا ہے ۔ اس میں ذاتی معاملات صرف وہ ہیں جن میں انسان کی وہ عبادت شامل ہے جس سے اللہ اور اسکی اپنی ذات کے سوا کسی اور کا تعلق نہ ہو ۔ باقی سب معاملات اجتماعی ہیں اور ان سب کیلئے احکام قرآن و سنّت میں موجود ہیں ۔ حکومت قانون سازی کی ذمہ دار ہے اور چونکہ ملک میں بھاری اکثریت مسلمانوں کی ہے اسلئے جمہوری اصولوں کے تحت آئین اور قوانین میں مسلمانوں کے دین کا عمل دخل ضروری ہے ۔

مزید یہ کہ پاکستان کے آئین میں اسلام کو ریاست کا دین قرار دیا گیا ہے اسلئے ساری قانون سازی قرآن و حدیث کے مطابق جمہوری ۔ عوامی اور آئینی ضرورت ہے جو کہ آج تک نہیں کی گئی اور جنہوں نے اختیارات ہوتے ہوئے نہیں کی وہ نہ صرف اللہ کے بلکہ عوام کی اکثریت کے بھی مُجرم ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام رہبانیت سے روکتا ہے اور احسن طریقہ سے اجتماعی زندگی گذارنے کی تلقین کرتا ہے ۔ باجماعت نماز ۔ نمازِ جمعہ ۔ نمازِ عید اور حج میں جن اجتماعی روّیوں کی تربیت دی گئی ہے وہ کسی اور مذہب میں موجود نہیں ۔ چارلس اے کروہن جو یو ایس آرمی کے پبلک افیئرز کے ڈپٹی چیف [Deputy Chief of Public Affairs of the US Army] کی حثیت سے جنگ کا تجربہ رکھتے ہیں اور اب امریکی جنگی یادگاروں کے پبلک افیئرز کے ڈپٹی ڈائریکٹر [Deputy Director, American Battle Monuments Commission] ہیں حج کی اجتماعیت کے فوائد سے متأثر ہو کر لکھتے ہیں

Muslims are obliged to make at least one trip to the holy city of Mecca during their lifetime. This pilgrimage is known as the hajj. It is mandatory for men, voluntary but encouraged for women. A basic dress code ensures that there’s no visible difference between rich and poor, weak and powerful. This simple requirement unites the faithful.

What if every American who is able to do so made an effort to visit at least one American military cemetery overseas during his or her lifetime? Americans visiting our overseas military cemeteries will find themselves enriched in ways I can only partially explain. At a minimum, the visit will prompt a renewed, and awesome, appreciation of those who sleep in the dust below.

The notion of an American hajj has loopholes, I know. But the thought of an activity or sacrifice that draws us together has merit, and we need this coming together now more than ever.

اگر دین کا معاملہ فرد پر چھوڑ دیا جائے اور دین پر عمل نہ کرنے والے کسی فرد یا گروہ کے دینی عمل میں حائل ہوں تو کس طرح اس فرد یا گروہ کو اپنا حق دلوایا جائے گا اگر قوانین غیر اسلامی ہوں گے ؟ خیال رہے کہ جمہور کے بنیادی حقوق کا تحفظ جمہوری حکومت کا اوّلین فرض ہے ۔

عملی طور پر انسان کے بنائے ہوئے ریاستی قوانین میں اجازت نہیں ہوتی کہ کوئی شخص اجتماعی معاملات میں قانون پر عمل کرے اور ذاتی معاملات میں قانون کی خلاف ورزی کرے ۔ اسلئے اگر بالفرضِ محال دین کو ذاتی معاملہ کہہ دیا جائے تو کیا کسی شخص کو اجازت ہو گی کہ وہ دین پر عمل کرتے ہوئے حکومت کے قوانین کی خلاف ورزی کرے ؟ جبکہ کہ حکومتی قوانین میں دین کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا ۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ دین کو حکومت میں داخل کر دیا جائے تو جنرل پرویز مشرف اور بہت سی قباحتوں کے علاوہ سڑک پر سے گذرنے کیلئے ہزاروں لوگوں کا راستہ بند نہیں کروا سکیں گے جن میں سیکنڑوں مریض گھنٹوں تڑپتے ۔ ننھے بچے بِلکتے اور کئی بار شدید بیمار گھنٹوں محصور رہنے کی وجہ سے امبولینسوں میں مر چکے ہیں ۔ اور نہ ہی نام نہاد روشن خیالی کے پرستار عیاشیاں کر سکیں گے ۔ دین کو ریاست سے الگ کرنے کی وکالت کرنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ قرآن شریف میں حکومتی امور کا کوئی ذکر نہیں ۔ دیکھتے ہیں کہ قرآن میں کیا لکھا ہے ۔


حاکم کی اطاعت

سورت ۔ 4 ۔ النساء ۔ آیت 59۔ اے ایمان والو ۔ اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں صاحب امر ہوں پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ پر نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو اگر تم واقعی اللہ اور روزِ آخر پر یقین رکھتے ہو ۔ یہی ایک صحیح طریقۂ کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے ۔


حاکم کیلئے حُکم

دین کو ریاست سے الگ رکھنے کے حامی یہ تو مانتے ہیں کہ پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے اور اس کے حاکم بھی مسلمان ہیں ۔ دیکھتے ہیں کہ مسلمان حاکم کیلئے اللہ کا کیا حکم ہے ؟

سورت ۔ 6 ۔ الانعام ۔ آیت 165 ۔ اور وہی ہے جس نے تم کو زمین میں نائب بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض پر درجات میں بلند کیا تاکہ وہ ان (چیزوں) میں تمہیں آزمائے جو اس نے تمہیں عطا کر رکھی ہیں ۔ بیشک آپ کا رب جلد سزا دینے والا ہے اور بیشک وہ بڑا بخشنے والا اور بے حد رحم فرمانے والا ہے

سورت ۔ 22 ۔ الحج ۔ آیت 41 ۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم نے انہیں زمین میں صاحب اقتدار کردیا تو وہ نماز قائم کریں گے ۔ ادائے زکوٰت میں سرگرم رہیں گے ۔ نیکیوں کا حُکم دیں گے ۔ برائیوں سے روکیں گے اور تمام باتوں کا انجام کار خدا کے ہاتھ میں ہے ۔

سورت النساء میں صاحبِ امر یعنی حاکم کی اطاعت کا حُکم دیتے ہوئے ساتھ شرط لگا دی گئی ہے کہ حکمران سے اختلاف ہو جانے کی صورت میں وہ کرو جس کا اللہ اور اس کے رسول نے حُکم دیا ہے ۔ اور سورت الحج میں مسلمانوں کے حکمران کے ذمہ کر دیا گیا کہ وہ نماز قائم کرے ۔ ادائے زکوٰت میں سرگرم رہے ۔ نیکیوں کا حُکم دے اور برائیوں سے روکے ۔ اگر دین کو ریاست سے الگ کر دیا جائے گا تو یہ سب کس طرح ممکن ہو گا ؟


انصاف ۔ اللہ کا حکم اور حکومت کا جمہوری فرض بھی

جمہوریت میں انصاف حکومت کا اہم ترین فرض ہوتا ہے ۔ نظامِ انصاف حکومت کے تین اہم ستونوں میں سے ایک ہے ۔ دیکھتے ہیں اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے اس سلسلہ میں کیا حُکم دیا ہے اور کیا اس پر عمل کرنا اور کروانا مسلمان حکمران کا فرض نہیں ؟

سورت ۔ 2 ۔ البقرہ ۔ آیت 42 ۔ باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو ۔

سورت ۔ 2 ۔ البقرہ ۔ آیت 283 ۔ ۔ ۔ ۔ اور شہادت ہرگز نہ چھپاؤ ۔ جو شہادت چھپاتا ہے اُس کا دل گناہ میں آلودہ ہے ۔ اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں ہے ۔

سورت ۔ 4 ۔ النّساء ۔ آیت 58 ۔ بیشک اللہ تمہیں حُکم دیتا ہے کہ امانتیں انہی لوگوں کے سپرد کرو جو ان کے اہل ہیں ۔ اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کیا کرو ۔ بیشک اللہ تمہیں کیا ہی اچھی نصیحت فرماتا ہے ۔ بیشک اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے

سورت ۔ 4 ۔ النّساء ۔ آیت 135 ۔اے ایمان والو! تم انصاف پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے اللہ کے لئے گواہی دینے والے ہو جاؤ خواہ [گواہی] خود تمہارے اپنے یا والدین یا رشتہ داروں کے ہی خلاف ہو، اگرچہ [جس کے خلاف گواہی ہو] مال دار ہے یا محتاج ۔ اللہ ان دونوں کا زیادہ خیر خواہ ہے۔ سو تم خواہشِ نفس کی پیروی نہ کیا کرو کہ عدل سے ہٹ جاؤ اور اگر تم پیچدار بات کرو گے یا پہلو تہی کرو گے تو بیشک اللہ ان سب کاموں سے جو تم کر رہے ہو خبردار ہے

اسی طرح معیشت اور معاشرت کے متعلق واضح احکامات قرآن و سنّت میں موجود ہیں ۔ سب کے حوالے دینے سے مضمون بہت طویل ہو جائے گا ۔ ان سب کا تعلق اجتماعی زندگی سے ہے ۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ دین اسلام کو فرد کا ذاتی معاملہ قرار دیا جائے ؟

وما علینا الالبلاغ

Posted in معاشرہ, دین | 5 Comments »

استفسارات کا جواب

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اگست 4, 2007

میں نے حدیث اور سنت کی اہمیت بارے اظہارِ خیال کیا تو استفسارات کا سامنا ہوا ۔ جن میں نعمان اور افضل صاحبان کا استتفسار ہے کہ نماز کی اہمیت ۔ قرآن اور احادیث مبارکہ پڑھنے ۔ دین کے مطالعے کا طریقہ کار ۔ خصوصا انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کے ذریعے دین کا درست مطالعہ اور کس طرح کیا جائے اور یہ کہ کیسے اندازہ لگایا جائے کہ جو معلومات حاصل کررہے ہیں وہ مستند ہے یا نہیں ۔ کچھ دیگر حضرات شک میں ہیں کہ کونسی حدیث درست ہے اور کونسی نہیں ۔

میں کئی بار لکھ چکا ہوں کہ میں تو صرف ایک طالبِ علم ہوں ۔ بہرحال میں ان حضرات کا ممنون ہوں کہ مجھے اس قابل سمجھا ۔ میں اپنی طرف دین کی ترویج کی پوری کوشش کروں گا ۔ یہ استفسارات طویل تشریح طلب ہیں جس کیلئے کئی نشستیں درکار ہیں ۔ سب سے اہم معاملہ درست اور نادرست یا مستند اور غیرمستند کا ہے ۔ اس کا سبب نفساتی بھی ہے اور غیر مستند کتب کی اشاعت بھی ۔ کسی بھی تحریر کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ انسان اپنے وسوسوں کو کچھ دیر کیلئے پکی نیند سُلا دے ورنہ ہر بات غلط محسوس ہو گی ۔ علم حاصل کرنے کیلئے دوسرا اہم قدم یہ ہے کہ جو کچھ پڑھا جائے اسے اپنے نظریات یا مفروضات پر منطبق کرنے کی کوشش نہ کی جائے بلک مظالعہ سے حقائق کی شناخت کے بعد اپنے نظریات درست کئے جائیں ۔

اردو میں قرآن شریف اور اُردو ترجمہ پڑھنے اور تلاوت سننے کیلئے مندرجہ ذیل ربط پر جائیے ۔
http://www.asanquran.com/Quran.cfm
یہاں پر صرف قرآن شریف کا اردو ترجمہ پڑ سکتے ہیں ۔
http://www.quranweb.org/urdu/index.htm

یہاں پر آپ کو دین اسلام کے متعلق بہت کچھ پڑھنے کو ملے گا
http://www.islamicity.com/mosque/quran

قرآن شریف کا انگریزی ترجمہ مندرجہ ذیل ربط پر دیکھئے ۔ اسی ربط پر انگریزی میں حدیث بھی ملے گی اور تلاش کا بندوبست بھی ہے ۔ اس کے علاوہ اور بھی مفید معلومات اور مضامین اسلام کے متعلق ہیں
http://www.usc.edu/dept/MSA/quran

جہاں تک میرا تعلق ہے میرے پاس اللہ کے فضل سے کئی مفسرین کی تفاسیر ہیں اور حدیث کی کتاب صحیح بخاری ہے ۔ جامعہ اظہر کی کتاب الفقہ ہے ۔ سیرت النبی مولانا شبلی نعمانی کی لکھی ہوئی ہے ۔ میرے پاس وڈیو آڈیو سی ڈیز بھی ہیں ۔ اس کے علاوہ میں کئی ویب سائٹس سے بھی استفادہ کرتا ہوں ۔

انشاء اللہ یہ سلسلہ وقفہ کے ساتھ جاری رہے گا

Posted in دین, روز و شب | 7 Comments »

اہلِ کتاب سے شادی

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اگست 2, 2007

سُبْحَانَكَ لاَ عِلْمَ لَنَا إِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ ۔ صَدَقَ اللہُ العَظِیم
تیری ذات پاک ہے ہمیں کچھ علم نہیں مگر اُسی قدر جو تُو نے ہمیں سِکھایا ہے، بیشک تُو ہی جاننے والا حکمت والا ہے

میں نہ تو عالِمِ دین ہوں اور نہ ہی ایسا سوچ سکتا ہوں لیکن اللہ کے فضل ہے کہ جو بات میری سمجھ میں آتی ہے اس کو لکھنے سے پہلے میں حتٰی الوسع تحقیق کرنے کا عادی ہوں ۔ اصولِ فقہ ہے کہ سب سے پہلے قرآن شریف سے رجوع کیا جائے ۔ جو چیز قرآن شریف میں نہ ملے اسے سنّت میں تلاش کیا جائے ۔ جب کوئی چیز قرآن اور سنّت میں نہ ملے تو اصحابہ مقربین میں تلاش کیا جائے ۔ اگر اصحابہ مقربین کے قول و فعل سے بھی وہ چیز نہ ملے تو پھر علماء دین کا اجماع کیا جائے ۔ جو حُکم قرآن شریف سے مل جائے اسے پھر کہیں اور ڈھونڈنے کی حاجت نہیں رہتی اور جو حُکم قرآن شریف میں واضح ہو اس پر کسی انسان کی رائے مقدم نہیں ہو سکتی ۔ اختلاف رائے انسان کا حق صرور ہے لیکن اختلاف کی بنیاد علم کا حصول ہو تو صحتمند بحث ہوتی ہے ورنہ فضول تکرار ۔ ملاحظہ ہو کہ اللہ سبحانُہُ و تعالٰی نے کیا فرمایا ہے ۔

سُورة ۔ 2 ۔ الْبَقَرَة ۔ آیة ۔ 221

وَلاَ تَنكِحُواْ الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلَأَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ وَلاَ تُنكِحُواْ الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُواْ  َلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ أُوْلَـئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَاللّهُ يَدْعُوَ إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ وَيُبَيِّنُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ

اور تم مشرک عورتوں کے ساتھ نکاح مت کرو جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائیں، اور بیشک مسلمان لونڈی [آزاد] مشرک عورت سے بہتر ہے خواہ وہ تمہیں بھلی ہی لگے، اور [مسلمان عورتوں کا] مشرک مردوں سے بھی نکاح نہ کرو جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائیں، اور یقیناً مشرک مرد سے مؤمن غلام بہتر ہے خواہ وہ تمہیں بھلا ہی لگے، وہ [کافر اور مشرک] دوزخ کی طرف بلاتے ہیں، اور اﷲ اپنے حکم سے جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے، اور اپنی آیتیں لوگوں کے لئے کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں

سُورة ۔ 5 ۔ الْمَآئِدَة ۔ آیة ۔ 5

الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلاَ مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ وَمَن يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ

آج تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں، اور ان لوگوں کا ذبیحہ جنہیں کتاب دی گئی تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے، اور پاک دامن مسلمان عورتیں اور ان لوگوں میں سے پاک دامن عورتیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی جب کہ تم انہیں ان کے مَہر ادا کر دو، [مگر شرط] یہ کہ تم [انہیں] قیدِ نکاح میں لانے والے بنو نہ کہ اِعلانیہ بدکاری کرنے والے اور نہ خفیہ آشنائی کرنے والے، اور جو شخص َحکامِ الٰہی پرایمان [لانے] سے انکار کرے تو اس کا سارا عمل برباد ہوگیا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا

مندرجہ بالا پہلی آیت کے مطابق مسلمان مردوں کا نکاح مشرک عورتوں سے اور مسلمان عورتوں کا نکاح مشرک مردوں سے ممنوع قرار دے دیا گیا جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہو جائیں ۔ دوسری آیت کے مطابق صرف مردوں کو اہلِ کتاب عورتوں سے نکاح کی اجازت دی گئی بشرطیکہ وہ پاکدامن ہوں لیکن پہلی آیت والی شرط بہرصورت موجود رہے گی یعنی وہ مشرک نہ ہوں اور اگر تھیں تو نکاح سے قبل مسلمان ہو جائیں ۔

Posted in دین, روز و شب | 17 Comments »

حدیث اور سُنّت کی اہمیت

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اگست 1, 2007

مسلمان ہونے کا دعویدار ایک گروہ ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ وہ صرف قرآن شریف کو مانتے ہیں اور حدیث کو نہیں ۔ ایسے لوگوں نے یا تو قرآن شریف پڑھا ہی نہیں یا صرف طوطے کی طرح پڑھا ہے ۔ سوائے اس مسلمان کے جو پاگل یا بیہوش ہو نماز کسی صورت میں معاف نہیں ۔ قرآن شریف میں نماز پڑھنے کا طریقہ ۔ ہر نماز میں کتنی رکعتیں پڑھی جائیں اور کیا پڑھا جائے کہیں بھی درج نہیں ۔ اسی طرح روزے کیسے رکھے جائیں ۔ زکوٰت کیسے دی جائے اور حج کیسے کیا جائے ۔ اس سب کی بھی تفصیل قرآن شریف میں نہیں ہے ۔ یہ سب ہمیں سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی زبان اور اپنے عمل سے بتایا اور اسی کو علٰی الترتیب حدیث اور سنّت کہتے ہیں جو پہلے تو مسلمانوں کو یاد تھیں مگر ان کے بھول جانے یا بدل جانے کے خدشہ کی وجہ سے انہیں بہت احتیاط اور چھانٹ پھٹک کے بعد کتابی شکل دی گئی ۔

سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اطاعت کرنے کے متعلق صرف چند آیات ۔

سورت ۔ 3 ۔ آل عمران ۔ آیت 31 و 32 ۔ اے نبی لوگوں سے کہہ دو "اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو ۔ اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے درگذر فرمائے گا ۔ وہ بڑا معاف کرنے والا رحیم ہے”۔ اُن سے کہو "اللہ اور رسول کی اطاعت قبول کر لو”۔ پھر اگر وہ تمہاری یہ دعوت قبول نہ کریں تو یقیناً یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ ایسے لوگوں سے محبت کرے جو اس کی اور اسکے رسول کی اطاعت سے انکار کرتے ہوں ۔

سورت ۔ 4 ۔ النّسآء ۔ آیت 13 و 14 ۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں ۔ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اُسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے ۔ اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کرے گا اُسے اللہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اُس کیلئے رسواکُن سزا ہے ۔

سورت ۔ 4 ۔ النّسآء ۔ آیت 59 ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو اللہ کے رسول کی اور اُن کی جو تم میں سے صاحبِ امر ہوں ۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو اگر تم واقعی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو ۔ یہی ایک طریقِ کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے ۔

کچھ لوگ ایسے اعمال کو حدیث قرار دے دیتے ہیں جو کہ حدیث میں موجود نہیں ہوتے یا کسی اور طریقہ میں موجود ہوتے ہیں ۔ حدیث کے حوالہ سے عام کہا جاتا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے ۔ اصل حدیث یہ ہے ” النّضافہ مِن الْایمان” یعنی صفائی ایمان کا حصہ ہے ۔

Posted in دین, روز و شب | 14 Comments »

گناہِ بے لذّت

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 25, 2007

گناہِ بے لذّت اس عمل کو کہا جاتا ہے جس کے کرنے سے فائدہ کچھ نہ ہو لیکن نقصان ہوتا ہو ۔

اگر کوئی شخص میڈیکل کی ایک یا دو کتابیں سرسری طور پر پڑھ لے اورپھر اتنے پر بھی عمل کئے بغیر دعوٰی کرے کہ وہ ڈاکٹر بن گیا ہے تو کوئی شخص اس کو ڈاکتر نہیں سمجھے گا بلکہ اس کی دماغی حالت پر شک کیا جائے گا ۔ اسی طرح کسی بھی موضوع پر بولنے یا لکھنے سے پہلے اس کے متعلق گہرا مطالعہ ضروری ہوتا ہے ۔ لیکن حیرت ہے کہ ہمارے مُلک میں مسلمان باوجود مندرجہ بالا مثال سے متفق ہونے کے دین اسلام کا صحیح طور سے علم حاصل کئے بغیر اسکے بارے میں جو جی میں آتا ہے کہہ یا لکھ دیتے ہیں ۔

مزید آجکل فيشن ہو گيا ہے کہ کچھ لوگ اپنی قابليت يا دريا دلی يا نام نہاد روشن خيالی دکھانے کيلئے ايسی ايسی تحارير لکھتے ہيں جن سے اُن کو کوئی فائدہ پہنچے نہ پہنچے البتہ نقصان ضرور ہوتا ہے جس کا اُنہيں احساس تک نہيں ہوتا ۔ کوئی اللہ کے احکامات کے مخالف لکھتا ہے تو کوئی اللہ کے احکام کو مُلّاؤں کی اختراع قرار ديتا ہے ۔ کچھ ايسے بھی ہيں جو اللہ کی طرف سے مقرر کردہ حدوں کو نُعُوذ بِاللہِ مِن ذالِک انسانی حقوق کے خلاف اور ظالمانہ لکھتے ہيں ۔ گويا وہ اللہ سے زيادہ انسانيت پسند ہيں ۔

کوئی مزيد آگے بڑھتا ہے اور 1400 سال پرانے اسلام کو سائنس کے اس دورِ جديد ميں ناقابلِ عمل قرار دے ديتا ہے ۔ کيا ان لوگوں کے خيال ميں نُعُوذ بِاللہِ مِن ذالِک اس کائنات کے خالق اور اس کے نظام کو چلانے والے کے عِلم ميں نہ تھا کہ چودہ سو سال بعد کيا ہونے والا ہے ؟ اور کيا يہ لوگ سمجھتے ہيں کہ نُعُوذ بِاللہِ مِن ذالِک وہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی سے زيادہ سمجھدار ہيں يا زيادہ جانتے ہيں ؟

مندرجہ بالا برتاؤ کے برعکس کچھ لوگ ایسے اعمال کو قرآن کا حکم قرار دے دیتے ہیں جو کہ قرآن میں موجود نہیں ہوتے ۔ سب سے عام فقرہ جو شادی کے دعوت ناموں پر بھی چھپا ہوتا ہے "رشتے آسمان پر بنتے ہیں اور زمین پر ان کے تکمیل کی جاتی ہے ۔ القرآن "۔ ایسی کوئی آیت نہیں ہے چناچہ ایسا عمل دین میں غلُو کے زمرے میں آتا ہے ۔

کيا آج کے مسلمانوں نے کبھی سوچا کہ اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں کے خلاف اس طرح لکھ کر يا ان ميں ترميم کر کے وہ گناہِ بے لذّت کے علاوہ کچھ حاصل نہيں کر رہے ؟

Posted in دین, روز و شب | 17 Comments »

طاغوت کیا ہوتا ہے ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اپریل 2, 2007

لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللہِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَیَ لاَ انفِصَامَ لَھَا وَاللہُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

دین کے معاملہ میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے ۔ صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے ۔ اب جو کوئی طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آیا اُس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں اور اللہ [جس کا سہارا اُس نے لیا ہے] سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے ۔ [سورت – 2 ۔ الْبَقَرَہ ۔ آیت 256]

اللہ وَلِیُّ الَّذِينَ آمَنُواْ يُخْرِجُہُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّوُرِ ۔ وَالَّذِينَ كَفَرُواْ أَوْلِیٰئٓھُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَہُمْ مِّنَ النُّورِ إِلَی الظُّلُمَاتِ أُوْلَـئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خَالِدُونَ

جو لوگ ایمان لاتے ہیں اُن کا حامی و مددگار اللہ ہے اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے ۔ اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں ان کے حامی اور مددگار طاغوت ہیں اور وہ انہیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لیجاتے ہیں ۔ یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ [سورت ۔ 2 ۔ الّبَقَرَہ ۔ آیت 257]

طاغوت سے مراد ہے حد سے بڑھ جانے والی سرکش ۔ ظالم اور راہِ حق سے ہٹانے والی قوت ۔ طاغوت فرد بھی ہو سکتا ہے ۔ قوم بھی ۔ شیطان ۔ ابلیس بھی اور نظریہ یا نظام بھی ۔

کافروں کا ہدف ۔ نصب العین اور وہ خاص نعرہ بھی طاغوت ہے جس کے تحت وہ جنگ لڑتے ہیں جیسے بھارت ماتا ۔ اکھنڈ بھارت ۔ نئی ترکیبِ دنیا [New World Order] ۔ نسل پرستی ۔ قوم پرستی ۔ وطن پرستی ۔ صیہونیت [Zionism] ۔ بے جا رواداری [Liberalism] ۔ اشتراکیت [Communism] ۔ سرمایہ داری نظام [Capitalism] کیونکہ یہ تمام نظام وحیِٔ الٰہی پر مشتمل نظام کے مدِمقابل کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ قرآن و سنت پر مبنی قوانین کی مخالفت کرتے ہیں اور اسلامی ممالک میں اسلام قوانین کے نفاذ کے خلاف ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں اور اپنا باطل نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں ۔

توہمات بھی طاغوت ہیں ۔ ان میں جادو ۔ جیوتش ۔ فال گیری ۔ ٹونے ٹوٹکے ۔ شگون ۔ جنم پتری [Horoscope] ۔ ستاروں سے فال ۔ وغیرہ شامل ہیں ۔

طاغوت کی یہ تعریف اعلٰی تعلیم یافتہ اور دین کا علم رکھنے والے اساتذہ کی کتب سے ماخوذ ہے ۔

Posted in دین | 16 Comments »

عمومی غلطیاں

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر مارچ 21, 2007

ہمارا ملک دین اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا لیکن آزادی کے چھ سال بعد ہی ذہنی طور پر انگریز کے غلام ۔ شرابی اور مفاد پرست اس کے حکمران بننے میں کامیاب ہو گئے ۔ تعلیمی نصاب میں دینیات یا اسلامیات صرف خانہ پُری کیلئے شامل کیا گیا ۔ دین کی تعلیم کیلئے مناسب علم رکھنے والوں کو استاذ نہ رکھا گیا ۔ دینیات کے استاذ کی تنخواہ اتنی کم رکھی گئی کہ اگر دین کا علم رکھنے والا اُستاذ بننا بھی چاہے تو نہ بن سکے ۔

آج صورتِ حال یہ ہے کہ ہمارے پاکستانی مسلمان بہن بھائیوں میں سے اکثریت کو دین کا صحیح علم نہیں ۔ لگ بھگ ایک تہائی ایسے ہیں جن کو نماز نہیں آتی ۔ مگر میں آج صرف اُن پڑھے لکھے بہن بھائیوں کی بات کروں گا جو نماز پڑھتے ہیں ۔ نماز پڑھتے ہوئے چھوٹی چھوٹی غلطیاں کی جاتی ہیں جُن سے نماز ناقص ہو جاتی ہے ۔

1 ۔ ابو داؤد میں رقم حدیث کے مطابق سورت فاتحہ کی تلاوت کے دوران ہر آیت کے بعد وقفہ ضروری ہے ۔ اسے ایک ہی سانس میں پڑھنا غلط ہے ۔ نماز تو ساری ہی تسلّی اور تحمل کے ساتھ پڑھنا چاہئیے لیکن سورت فاتحہ کی ہر آیت کے بعد وقفہ دینا ضروری ہے ۔

2 ۔ صحیح مُسلم کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم نے رکوع اور سجدہ میں کوہنیاں جسم کے ساتھ لگانے سے منع فرمایا ہے ۔

3 ۔ حدیث مسلم کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم نے قیام کے دوران سامنے دیکھنے سے منع فرمایا ہے ۔ نظریں اُس جگہہ پر مرکوز ہونا چاہئیں جہاں سجدہ کے دوران ماتھا رکھا جاتا ہے ۔

4 ۔ سجدے میں صرف تھوڑا سا ماتھا  زمین پر رکھنا غلط ہے ۔ صحیح مسلم کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم نے فرمایا مجھے حُکم دیا گیا ہے کہ میں سات ہڈیوں پر سجدہ کروں ۔ ماتھا مع ناک ۔ دونوں ہاتھ [ہتھلیاں] ۔ دونوں گھُٹنے اور دونوں پاؤں ۔

5 ۔ تسلّی کے ساتھ رکوع اور سجود نہ کرنا غلط ہے ۔ اس کے متعلق کئی احادیث ہیں ۔ ایک حدیث تقریباً سب مجموعوں میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم نے فرمایا ۔ جس نے رکوع و سجود مکمل نہ کئے اُس کی نماز باطل ہے ۔ رکوع میں آرام سے اس طرح جائیے کہ پُشت زمین کے متوازی ہو جائے پھر رُک رُک کر تسبیح پڑھنے کے بعد آرام سے سیدھے یعنی عموداً کھڑے ہونا ضروری ہے ۔ اسی طرح سجدہ میں کیجئے ۔ ایک سجدے کے بعد سیدھا یعنی عموداً بیٹھے بغیر دوسرا سجدہ کرنا غلط ہے ۔

سب سے لمبی نماز عشاء کی ہے جو تسلّی اور تحمل سے پڑھی جائے تو 10 منٹ سے زیادہ نہیں لگتے ۔ ہم لوگ فضولیات میں گھینٹے ضائع کر دیتے ہیں لیکن نماز اسطرح پڑھتے ہیں کہ کوئی ہمیں قتل کرنے کیلئے آ رہا ہے اور ہم نے جان بچانے کیلئے بھاگنا ہے ۔ شاید اسی کئے ہماری نمازیں ہمیں برائی سے نہیں بچاتیں ۔ اللہ سبحانہُ و تعالٰی کا یہ فرمان غلط نہیں ہو سکتا نماز برائی سے روکتی ہے ۔

6 ۔ تسبیح بائیں ہاتھ سے نہیں کرنا چاہئیے صرف داہنے ہاتھ کی انگلیوں پر یا داہنے ہاتھ سے موتی چلانا چاہئیں ۔

7 ۔ کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو اس کے آگے سے نہیں گذرنا چاہئیے ۔ اس سے بچنے کیلئے ایک تو جسے جانا ہو اُسے صبر سے کام لینا چاہئیے دوسرے سنت یا نفل پڑھنے والے کو چاہئیے کہ با جماعت نماز ختم ہونے کے بعد تھوڑا وقفہ دے کر سنت یا نفل شروع کرے تاکہ جس نے فرض پڑھ کر جانا ہے چلا جائے ۔ اس کے علاوہ بالخصوص جماعت سے پہلے سنت یا نفل پڑھنے والا باہر سے آنے اور جانے کے راستہ کے پیچھے نماز نہ پڑھے ۔

8 ۔ جان بوجھ کر جماعت میں تاخیر سے شامل ہونا نماز کو ناقص کر دیتا ہے ۔ جب فرض نماز کیلئے تکبیر اقامت شروع ہو جائے تو پھر سنت یا نفل نماز شروع نہ کرنا چاہئیے اس خیال سے کہ جلدی پڑھ کے جماعت کے ساتھ شامل ہو جاؤں گا ۔ اگر فرض جماعت کھڑی ہونے میں اتنا کم وقت رہ گیا ہو کہ اس میں سنتیں نہ پڑھی جا سکتی ہوں تو پھر سنتیں نہیں پڑھنا چاہئیں ۔

9 ۔ نماز تراویح میں کئی حضرات 2 تراویح خود علیحدہ پڑھ کر جماعت میں شامل ہو جاتے ہیں اور یہ عمل دہراتے رہتے ہیں حتٰی کہ جب امام صاحب نے 10 تراویح پڑھی ہوتی ہیں تو وہ 20 پڑھ لیتے ہیں ۔ یہ غلط طریقہ ہے ۔ علماء کے مطابق ایسی تراویح ناقص ہے ۔ کچھ لوگ دیر سے آتے ہیں اور پھر بیچ میں اُوپر والا عمل دہرا کر تراویح کی تعداد پوری کرتے ہیں ۔ یہ بھی غلط ہے ۔ اگر کسی مجبوری کے تحت دیر ہو جائے تو جتنی تراویح امام کے ساتھ ہوں پڑھ لیجئے ۔ دل میں کمی کی کسک ہو تو وتر پڑھ کر گھر جائیں اور سو جائیں پھر سحری کا وقت شروع ہونے سے پہلے پہلے 8 یا اس سے زیادہ جتنی چاہیں رکعت پڑھ لیجئے ۔

10 ۔ چند ماہ قبل ایک اچھے خاصے تعلیم یافتہ مسلمان نے بتایا کہ وہ جمعہ کے 2  واجب کے علاوہ ظہر کی پوری نماز پڑھتے ہیں یعنی جمعہ کے وقت وہ 4 سنت ۔ 2 واجب ۔ 4 فرض ۔ 2 سنت اور 2 نفل پڑھتے ہیں ۔ یہ غلط ہے ۔ جمعہ کے وقت 4 سنت ۔ 2 واجب ۔ 2 یا 4 یا 6 سنت اور دو نفل پڑھے جاتے ہیں ۔

ہم لوگ جتنے ناول پڑھتے ہیں اور جتنی فلمیں یا ڈرامے دیکھتے ہیں اگر ان میں سے ایک ناول یا فلم یا ڈرامہ چھوڑ دیں اور اس کی بجائے اپنے دین کا کچھ علم حاصل کر لیں تو ہم مسلمان بن سکتے ہیں ۔ وما علینا الی البلاغ ۔

Posted in دین | 11 Comments »

شراب نوشی ۔ اسلام اور ہماری حکومت

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر مارچ 5, 2007

آج کل قومی اسمبلی ۔ اخبارات اور ٹی وی سٹیشنوں پر شراب نوشی زیرِ بحث ہے اور ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے شراب نوشی کو اللہ نے حرام قرار نہیں دیا ۔ عجب استدال اور مافوق الفطرت دلائل دیئے جا رہے ہیں ۔ اس سے قبل بدکاری کیلئے اللہ کی مقرر کردہ حدود کے خلاف تحفظِ حقوق نسواں کے نام سے قانون بنا کر بدکاروں کو کھُلی چھٹی دی جا چُکی ہے ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے حکمران ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت ہماری قوم کو بے دین بنانے میں کوشاں ہیں ۔

اسلام سے قبل شراب ایک عام مشروب تھا ۔ لوگ اس کے عادی تھے پھر بھی ایسے لوگ موجود تھے جو شراب پینے کو بُرا سمجھتے ہوئے شراب نوشی نہیں کرتے تھے ۔ مدینہ منوّرہ کو ہجرت کر جانے کے بعد عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ کی قیادت میں شراب نوشی نہ کرنے والوں کا ایک وفد شراب نوشی کی ممانعت کی سفارش کرنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اُس کے کچھ عرصہ بعد یہ آیت اُتری ۔

سُورت 2 ۔ الْبَقَرَہ ۔ آیت 219 ۔ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيھِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُھُمَآ أَكْبَرُ مِن نَّفْعِھِمَا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ كَذَلِكَ يُبيِّنُ اللّہُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ

ترجمہ ۔ آپ سے شراب اور جوئے کی نسبت سوال کرتے ہیں، فرما دیں: ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لئے کچھ (دنیاوی) فائدے بھی ہیں مگر ان دونوں کا گناہ ان کے نفع سے بڑھ کر ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسی طرح اﷲ تمہارے لئے (اپنے) احکام کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو

مسلمانوں میں سے کئی نے بڑا گناہ قرار دیئے جانے کے بعد شراب نوشی ترک کر دی ۔ چونکہ کھُلے الفاظ میں شراب نوشی کی ممانعت نہ کی گئی تھی اسلئے کچھ مسلمان شراب نوشی کرتے رہے اور نشہ میں مسجد جانے کے واقعات ہوئے ۔ بعد میں غالباً 4 ہجری کے شروع میں مندرجہ ذیل آیت اُتری ۔

سُورت 4 النِّسَآء ۔ آیت 43 ۔ يَا أَيُّھَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَقْرَبُواْ الصَّلاَةَ وَأَنتُمْ سُكَارَى حَتَّی تَعْلَمُواْ مَا تَقُولُون

ترجمہ ۔ اے ایمان والو! تم نشہ کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ یہاں تک کہ تم وہ بات سمجھنے لگو جو کہتے ہو

مندرجہ بالا حُکم کے نتیجہ میں زیادہ تر مسلمانوں نے شراب نوشی ترک کر دی لیکن کچھ اس طرح اوقات بدل کر شراب نوشی کرتے رہے تا کہ نماز کے وقت تک نشہ ختم ہو جائے ۔ کچھ عرصہ بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک خطبہ میں لوگوں کو متنبہ فرمایا کہ اللہ تعالٰی کو شراب سخت ناپسند ہے ۔ بعید نہیں کہ اس کی قطعی حُرمت کا حُکم آجائےلہٰذا جن جن لوگوں کے پاس شراب موجود ہو وہ اسے فروخت کر دیں ۔ اس کے کچھ مدت بعد مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی

يَا أَيُّھَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوہُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

ترجمہ ۔ اے ایمان والو! بیشک شراب اور جُوا اور [عبادت کے لئے] نصب کئے گئے بُت اور [قسمت معلوم کرنے کے لئے] فال کے تیر [سب] ناپاک شیطانی کام ہیں۔ سو تم ان سے [کلیتاً] پرہیز کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ

اس کے فوراً بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اعلان کرایا کہ اب جن کے پاس شراب ہے وہ نہ اسے پی سکتے ہیں نہ بیچ سکتے ہیں بلکہ وہ اسے ضائع کر دیں چنانچہ اُسی وقت مدینہ کی گلیوں میں شراب بہا دی گئی ۔ بعض لوگوں نے پوچھا کہ ہم یہودیوں کو تحفہ کیوں نہ دے دیں ؟ آپ نے فرمایا جس نے یہ چیز حرام کی ہے اس نے تحفہ دینے سے بھی منع کر دیا ہے ۔کچھ نے پوچھا کہ ہم شراب کو سرکہ میں کیوں نہ تبدیل کرلیں ؟ آپ نے اس سے بھی منع فرمایا اور حُکم دیا کہ اسے بہا دو ۔ ایک شخص نے پوچھا کہ کیا دوا کے طور پر استعمال کی اجازت ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں وہ دوا نہیں بلکہ بیماری ہے ۔

ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روائت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ” اللہ تعالٰی نے لعنت فرمائی ہے شراب پر اور اسکے پینے والے پر اور پلانے والے پر اور بیچنے والے پر اور خریدنے والے پر اور کشید کرنے والے پر اور کشید کرانے والے پر اور ڈھو کر لیجانے والے پر اور اس شخص پر جس کیلئے وہ ڈھو کر لیجائی گئی ہو” ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانہ میں جو شراب پینے والا گرفتار ہو کر آتا اسے جوتے ۔ لات ۔ مُکے ۔ بل دی ہوئی چادر کے سونٹے ۔ یا کھجور کے سونٹے مارے جاتے تھے ۔ زیادہ سے زیادہ 40 ضربیں لگائی جاتیں ۔

Posted in دین | 14 Comments »

خبردار کا جواب

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جنوری 25, 2007

گو مسئلہ خاور کھوکھر صاحب نے پيش کيا ہے مگر ہے سب مسلمانوں کا مسئلہ اسلئے تمام قارئين کی نذر کر رہا ہوں ۔

خاور کھوکھر صاحب لکھتے ہيں کہ وہ مہينہ ايک آدھ بار گريک سنڈوچ يا ڈونر کباب کھاليا کرتے تھے ۔ اس کا نام دراصل شَورما ہے اور يہ مسلمانوں کے کھانوں ميں سے ايک ہے جو کہ بين الاقوامی بن گيا ۔ شَورما بنيادی طور پر بکرے يا دُنبے يا گائے کے گوشت سے بنايا جاتا ہے ۔ آجکل جسے برگر کہتے ہيں اس کا نام پہلے ہَيمبُرگر تھا کيونکہ جرمنی کے شہر ہَيمبُرگ ميں بنايا گيا تھا اور اس سے پہلے اس کا نام وِمپی تھا جو کہ مسلمان ترکو ں نے بنايا تھا ۔ اسلئے اس ميں بھی بکرے ۔ دُنبے يا گائے کا گوشت استعمال ہوتا تھا ۔ اسی طرح ساسيجز ميں بھی کسی زمانہ ميں صرف گائے کے گوشت کا قيمہ ہوتا تھا ۔ مگر اب مغربی ملکوں ميں اس کی گارينٹی نہيں دی جا سکتی ۔ وہاں تو يہ حال ہے کہ 1977 عيسوی ميں ہالينڈ کے شہر ماس ترِکت کے ايک ہوٹل ميں صرف اُبلے ہوئے چاول منگوائے ۔ جب چاول لائے گئے تو اُن پر بالکل چھوٹے چھوٹے ٹکڑے لال رنگ کے پڑے تھے ۔ پوچھا تو سؤر کا گوشت تھا ۔ پوچھا يہ کيا ؟ جواب ملا ڈيلی کيسی ہے ۔ بغير کھا پيسے دئے اور ايک ريڑی سے کيلے اور سيب ليکر کھا لئے ۔


اب خاور صاحب کی بيماری کا علاج ۔

جناب آپ نے بے خبری ميں کھا ليا اُس کيلئے اللہ سے معافی مانگ ليجئے اور آئيندہ احتياط کيجئے ۔ اللہ رحيم و کريم ہے ۔ رمضان ميں بھول کر کہ روزہ ہے کوئی کچھ کھا لے تو روزہ نہيں ٹوٹتا ۔ يہ تو آپ کے علم ہی ميں نہ تھا ۔ ميرے خيال ميں گناہگار وہ ہے جس نے علم ہوتے ہوئے اسے حلال کے طور بيچا ۔ متعلقہ آيات درج ہيں ۔


سُورت الْبَقَرَہ ۔ آيات 172 اور 173

اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں اور اﷲ کا شکر ادا کرو اگر تم صرف اسی کی بندگی بجا لاتے ہو ۔

اس نے تم پر صرف مُردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور وہ جانور جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام پکارا گیا ہو حرام کیا ہے، پھر جو شخص سخت مجبور ہو جائے نہ تو نافرمانی کرنے والا ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر کوئی گناہ نہیں، بیشک اﷲ نہایت بخشنے والا مہربان ہے


سُورت الْمَآئِدَہ ۔ آيات 3 اور 4

تم پر مردار حرام کر دیا گیا ہے اور خون اور سؤر کا گوشت اور وہ جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام پکارا گیا ہو اور گلا گھٹ کر مرا ہوا اور ضرب سے مرا ہوا اور اوپر سے گر کر مرا ہوا اور سینگ مارنے سے مرا ہوا اور وہ جسے درندے نے پھاڑ کھایا ہو سوائے اس کے جسے تم نے ذبح کر لیا، اور جو آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ کہ تم پانسوں کے ذریعے قسمت کا حال معلوم کرو یہ سب کام گناہ ہیں۔ آج کافر لوگ تمہارے دین [کے غالب آجانے کے باعث اپنے ناپاک ارادوں] سے مایوس ہو گئے، سو [اے مسلمانو!] تم ان سے مت ڈرو اور مجھ ہی سے ڈرا کرو ۔ آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو [بطور] دین [یعنی مکمل نظامِ حیات کی حیثیت سے] پسند کر لیا۔ پھر اگر کوئی شخص بھوک کی شدت میں اضطراری حالت کو پہنچ جائے [اس شرط کے ساتھ] کہ گناہ کی طرف مائل ہونے والا نہ ہو تو بیشک اﷲ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے

لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ ان کے لئے کیا چیزیں حلال کی گئی ہیں، آپ فرما دیں کہ تمہارے لئے پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں اور وہ شکاری جانور جنہیں تم نے شکار پر دوڑاتے ہوئے یوں سدھار لیا ہے کہ تم انہیں (شکار کے وہ طریقے) سکھاتے ہو جو تمہیں اﷲ نے سکھائے ہیں، سو تم اس [شکار] میں سے [بھی] کھاؤ جو وہ [شکاری جانور] تمہارے لئے [مار کر] روک رکھیں اور [شکار پر چھوڑتے وقت] اس پر اﷲ کا نام لیا کرو اور اﷲ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اﷲ حساب میں جلدی فرمانے والا ہے

Posted in دین | 8 Comments »