What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

Archive for the ‘خبر’ Category

ریاستی دہشتگردی

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر ستمبر 29, 2007

میرا خیال تھا کہ ہم وطن اسلام آباد میں جو کچھ ہو رہا ہے ٹی وی پر دیکھ رہے ہوں گے لیکن اطلاع ملی کہ کیبل والے براہِ راست نشریات بند کر کے کچھ اور پروگرام دِکھا رہے ہیں ۔ مختصر عرض ہے کہ کل کے اعلان کے مطابق آج صبح راولپنڈی اور اسلام آباد کے وکلاء نے احتجاج کرنے کیلئے اسلام آباد میں شاہراہ دستور پر جمع ہونا تھا ۔ اسلئے شاہراہ پر پولیس اور سیکیورٹی ایجنسیز کی بھاری تعداد تعینات کر دی گئی جس نے وکلاء کو بزور روکا اور دھکم پیل شروع ہوئی ۔ پولیس نے شدید لاٹھی چارج شروع کر دیا اور سکیورٹی اہلکاروں نے پتھراؤ شروع کر دیا ۔ اس کے ساتھ ہی آنسو گیس کا آزادانہ استعمال کیا گیا ۔ کئی وکلاء شدید زخمی ہو گئے ۔ بہت سے وکلاء کے کپڑے پھاڑ دئیے گئے ۔

خیال رہے کہ عدالتِ عظمٰی اور الیکشن کمیشن شاہراہِ دستور پر آمنے سامنے واقع ہیں

پولیس نے عدالتً عظمٰی کے گیٹ پر بھی حملہ کیا اور سینئر وکیل علی احمد کرد صاحب کو سفید کپڑوں میں ملبوس سیکیورٹی اہلکاروں نے اُتھا کر زمین پر پٹخا اور پھر اُٹھا کے کسی نامعلوم منزل کی طرف لے گئے ۔ بعد میں پولیس والوں نے سینئر وکیل چوہدری اعتزاز احسن پر تشدد کیا جس سے وہ زخمی ہو گئے ۔ وکلاء ان کو نکالنے میں کامیاب ہو گئے اور عدالتِ عظمٰی کی حدود میں لے گئے ۔

مسلم لیگ نواز کے بہت سے کارکن آج بلیو ایریا میں جمع ہو گئے ۔ ان کے ساتھ بھی پولیس کی جھڑپ ہوئی اور بہت سے کارکن گرفتار کر لئے گئے جن میں خواتین بھی شامل ہیں ۔ پیپلز پارٹی کی خواتین نے بھی احتجاج کیا اور ان میں سے بھی بہت سی گرفتار کر لی گئیں ۔ گرفتار ہونے والوں میں متحدہ مجلسِ عمل کے لوگ بھی شامل ہیں ۔ خیال کیا جاتا ہے کہ سینئر وکیل علی احمد کرد صاحب کے علاوہ بھی کچھ وکلاء گرفتار کئے گئے ہیں ۔

یہ ہے ایک چھوٹا سا نمونہ اس قومی معاونت اور جمہوریت کا جو پرویز مشرف اس ملک میں نافذ کرنا چاہتا ہے

Posted in خبر | 9 Comments »

گیت کیوں ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر ستمبر 27, 2007

قارئین سوچتے ہوں گے کہ مجھے اس عمر میں گیت گانے کی کیا سوجی ؟  شائد کچھ منچلے یہ بھی سوچ رہے ہوں "ہمیں تو دین اسلام کی باتیں سناتا ہے اور گانے گاتا ہے”۔ میرے حساب سے آدمی کا گانے کو جی اس وقت چاہتا ہے جب وہ دُکھی یا لاچار ہو ۔ کیا آجکل ہماری قوم کے ایک قابلِ قدر حصے کا رونے کو جی نہیں چاہتا ؟  فرق یہ ہے کہ کچھ گالی گلوچ کر کے بھڑاس نکال لیتے ہیں ۔ کچھ آنسو بہا کر دل کی آگ بجھا لیتے ہیں اور کچھ آگ کو بجھانے کی کوشش میں گیت گا کر اور بھڑکا لیتے ہیں ۔

وجہ یہ ہے کہ مُلک میں آئے دن عالِموں کا قتل ایک معمول بن چکا ہے ۔ کبھی عالِمِ دین نشانہ بنتا ہے اور کبھی سائنس یا کسی اور شعبہ کا عالِم ۔ ابھی چند دن قبل جیّد عالِم دین حسن جان صاحب کو ہلاک کیا گیا ۔ کل طِب کے عالِم جناح پوسٹ گریجوئیٹ میڈیکل سنٹر کے شعبہ پیتھالوجی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر مبشّر صاحب کو ہلاک کر دیا گیا ۔

ہمارے حکمرانوں کو سوائے پرویز مشرف کی اور اپنی کرسیوں کی حفاظت کے اور کوئی کام نہیں ۔ اس کیلئے 10 ستمبر کو نوز شریف کا استقبال روکنے کیلئے پشاور سے لاہور تک شاہراہ شیر شاہ سوری [G T Road] کو ملنے والے تمام راستے 9 اور 10 مارچ کو بلاک کئے گئے اور راولپندي اسلام آباد میں ایئر پورٹ کو جانے والی تمام سڑکیں بلاک کرنے کے علاوہ 10000 سے زائد سیاسی لیڈر اور کارکن 10 مارچ کی صبح تک گرفتار کر لئے گئے تھے ۔

بدھ 26 مارچ کو اسلام آباد کی شاہراہ دستور کنوینشن سینٹر سے خیابانِ اقبال [مارگلہ روڈ] تک 4 دن کیلئے استعمال کیلئے ممنوعہ قرار دے دی گئی ۔ صرف اس سڑک پر واقع دفاتر مین کام کرنے والے اپنا دفتر کا شناختی کارد دکھا کے دفتر جا سکتے ہیں ۔ عدالت عظمٰی بھی اسی سڑک پر ہے ۔ سوائے ان وکلاء اور ان کے مؤکلوں کے جن کے اس دن مقدمے پیش ہوں کسی کو عدالتعظمٰی جانے کی اجازت نہیں ۔

جسٹس وجیہ الدین بھی بدھ 26 مارچ کو اسلام آباد پہنچے ۔ ان کے استقبال کو روکنے کیلئے ایئر پورٹ جانے والے تمام راستے بلاک کر دیئے گئے تھے اور راولپنڈی میں وکلاء پر تشدد کیا گیا ۔

گذشتہ رات راولپنڈی اور دیگر شہروں سے اسلام آباد جانے والے تمام راستوں کو روکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا گیا جس کے نتیجہ میں ہزاروں لوگ اپنے دفتروں یا کاروبار پر نہ پہنچ سکے ۔ صبح مجھے سیٹیلائیٹ ٹاؤن راولپنڈی سے ٹیلیفون آیا کہ تمام سڑکوں پر ہر قسم کی ٹریفک رُکی پڑی ہے ۔ سکولوں کو جانے والے چھوٹے چھوٹے بچے اپنی ٹریفک میں پھنسی ویگنوں میں پریشان ہیں ۔ کئی ایمبولنسیں جن میں شدید بیمار مریض بھی ہیں ٹریفک میں پھنسی ہوئی ہیں ۔ ذرائع کے مطابق حکام کی جانب سے سڑکوں کی بندش کے اقدامات اس لئے اٹھائے گئے ہیں تاکہ الیکشن کمیشن میں پرویز مشرف کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کراتے وقت سیاسی کارکنوں کو مظاہر ے اور احتجاج سے بازرکھا جاسکے۔

تازہ ترین

چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے داخلی راستوں کی ناکہ بندی اور رکاوٹوں کا از خود نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کو دن ساڑھے گیارہ بجے عدالت میں پیش ہونے کا حکم جاری کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے
رجسٹرار آفس کے مطابق چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ازخود نوٹس جسٹس سید جمشید علی کی جانب سے تحریری نوٹ پر لیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے جن افسران کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں ان میں چیف کمشنر اسلام آباد۔ آئی جی اسلام آباد، ۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد ۔ ڈپٹی کمشنر اولپنڈی ۔ ڈی آئی جی راولپنڈی سمیت انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداران شامل ہیں۔ رجسٹرار آفس کے مطابق ناکہ بندی اور رکاوٹوں کی وجہ سے سپریم کورٹ کا بیشتر اسٹاف عدالت نہیں پہنچ سکا جس کی وجہ سے عدالتی کام متاثر ہوا ہے

Posted in خبر, روز و شب | 5 Comments »

ماہر بلاگر کی مدد درکار ہے

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر ستمبر 22, 2007

ضرورت ہے ضرورت ہے ضرورت ہے ۔ ایک سمجھدار ماہر بلاگر کی جو مجھے یہ سمجھائے کہ

[1] ۔ میں اپنے بلاگ کے تبصرہ کے خانے میں لکھائی کے ڈبے ڈبے کیسے دُور کروں ؟
[2] ۔ تبصرہ کے خانے میں فونٹ کا سائز کیسے بڑا کروں ؟

میرا بلاگ ورڈپریس پر ہے ۔

کام ٹھیک ہو گیا تو میرے گھر آنے پر کھلا پلا دوں گا ۔ بصورتِ دیگر دعا دوں گا ۔

Posted in خبر | 12 Comments »

ترقی پسند حکومت کا ایک اور وار

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر ستمبر 21, 2007

خبر ملی ہے کہ پی ٹی سی ایل نے ملک بھر میں انٹرنیٹ ڈائل اَپ کے کال غیر محدود دورانیہ کے موجودہ نظام کو ختم کر کے نئے ریٹس کے تحت فی کال 15 منٹ کرنے کیلئے پی ٹی اے سے اجازت طلب کرلی ہے جس کے مطابق انٹرنیٹ صارفین کو 15 منٹ کال یونٹ چارج کی جائے گی اور فی یونٹ 21 روپے کال ریٹ مقرر کیا ہے جو ٹیکس ملا کر 24 روپے 15 پیسے ہو جائے گا ۔ یعنی ہر 15 منٹ کے 24 روپے 15 پیسے چارج ہوں گے جیسے آجکل لوکل کال کے ہر 5 منٹ کے 2 روپے 30 پیسے چارج ہوتے ہیں ۔ پی ٹی سی ایل کے اس فیصلہ پر اتھارٹی نے تمام نجی کمپنیوں سے اس حوالے سے 30 ستمبر تک سفارشات طلب کرلی ہیں ۔ اندازہ ہے کہ اس سے ملک بھر کے 45 لاکھ سے زائد انٹرنیٹ صارفین کو براہ راست نقصان ہوگا اور اس سے ملک کے دور دراز علاقوں کے عوام انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہو جائیں گے ۔

Posted in خبر | 6 Comments »

اِنّا لِلہِ و اِنّا اِلہِ رَجِعُون

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر ستمبر 20, 2007

شاہدہ اکرم صاحبہ نے 15 ستمبر کو میری بیاض کے تبصرہ کے خانہ کے ذریعہ مجھے اطلاع دی تھی کہ ان کی والدہ محترمہ کے بعد خالہ صاحب بھی اللہ کو پیاری ہو گئی ہیں ۔ میرے کمپیوٹر میں کچھ خرابی کی وجہ سے میں جلد اسے یہاں نقل نہ کر پایا ۔ شاہدہ اکرم صاحبہ کا رابطہ یہ ہے

shahidaakram@hotmail.com
shahidaakram1@gmail.com

محترم اجمل انکل اور جُملہ قارئين محترم

السلامُ عليکُم

آپ سب سے ايک دُکھ شيئر کرنا چاہتی ہُوں کہ کُچھ مرحلے ايسے ہوتے ہيں جہاں آنسُو ؤں کی برسات کے پيچھے سے اپنوں کی تسلی بہت بڑا مرہم محسُوس ہوتی ہے

” ميری ماں کے بعد ميری ماں سی بھی چلی گئ "

لکھتے ہُوۓ ہاتھ اتنی بُری طرح کانپ رہے ہيں کہ سمجھ ميں نہيں آ رہا دل زيادہ کپکپا رہا ہے يا جسم ،کوئ ايک بات نہيں ہزاروں باتيں ہيں جو ايک فلم کی طرح مُستقل چلتی رہتی ہيں امّی کے بعد اتنا آسرا تھا کہ ماں نہيں تو ماں کی جگہ ماں سی ہے جو ماں سے بڑھ کر سہارا ديتی تھيں ليکن اب لگتا ہے سب کُچھ ختم ہو گيا ہے گو ايک مُسلم ہونے کی حيثيت سے جانتی ہُوں کہ موت برحق ہے پھر بھی دل اپنے پياروں سے ہميشہ کی جُدائ کے لۓ کبھی بھی تيّار نہيں ہوتا ميں وہ لمحات کبھی نہيں بُھول سکتی کہ ميں نے ايک ہی زندگی ميں دو دفعہ اپنی آنکھوں کے سامنے ماں کو جاتے ديکھا ہے ايک سا حال ايک سی سچوئيشن بہت مُشکل ہے بُھول پانا کيا کہُوں کہ بند اور کُھلی آنکھوں ميں وہ منظر ٹھہر گيا ہے دل بہت بے چين اور ازحد دُکھی ہے آپ سب سے استدعا ہے کہ دُعا کريں ميرے دل کی بے قراری کو صبر ملے،سکُون ملے

مع السلام
شاہدہ اکرم

Posted in خبر | 3 Comments »

دلچسپ حقائق

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر ستمبر 19, 2007

صدر جنرل پرویز مشرف نے 1961ء میں ملٹری اکیڈمی کاکول میں داخلہ لیا جس کے نتیجے میں انہیں 1964 میں آرمی میں کمیشن ملی

35 سالہ سروس مد ت کے مطابق صدر پرویز مشرف 1999 میں ریٹائر ہو چکے ہیں

صدر جنرل پرویز مشرف 7 اکتوبر 1998ء کوفل جنرل اور آرمی چیف بنے تھے ۔ آرمی چیف کے عہدے کی معیاد تین سال ہوتی ہے اسلئے 6 اکتوبر 2001ء کو آرمی چیف کی حیثیت سے ان کی مدت ملازمت ختم ہو گئی تھی

صدر جنرل پرویز مشرف 11 اگست 1943 کو پیدا ہوئے اور 10 اگست 2003ء کو 60 سال کے ہوگئے تھے اسلئے انہیں ایک سویلین سرکاری ملازم کی حیثیت سے 10 اگست 2003ء کو 60 سال کی عمر کو پہنچنے پر ریٹائر ہو جانا چاہیے تھا

ایس ایم ظفر کی کتاب کے مطابق صدر کی فوجی وردی کو تحفظ دینے والی آئینی کی دفعہ 63 ۔ 1 ۔ ڈی کو 31 دسمبر 2004ء تک نافذ العمل رہنا تھا ۔ اسلئے 31 دسمبر 2004ء کے بعد وہ وردی میں نہیں رہ سکتے تھے

صدر جنرل پرویز مشرف نے نومبر 2003ء میں پی ٹی وی پر تقریر کرتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ وہ 31 دسمبر 2004ء کے بعد وہ وردی اُتار دیں گے لیکن صدر جنرل پرویز مشرف نے قوم سے کئے گئے وعدہ کو توڑ دیا

صدارتی حلف نامہ میں درج ہے کہ صدر سیاسی سرگرمیوں میں کسی بھی طور شامل نہیں ہوں گے۔

فوج کے قوانین کے مطابق کوئی فوجی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتا ۔

Posted in خبر | 5 Comments »

تازہ ترین

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر ستمبر 10, 2007

پیپلز پارٹی کے سوا باقی تمام اپوزیشن پارٹیوں کی اعلٰی قیادت کو گرفتار کیا جا چکا ہے ۔ گرفتار کئے گئے کارکنوں کی تعداد دس ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے اور مزید بڑھنے کا امکان ہے کیونکہ مختلف شہروں میں مظاہرے اور پولیس تشدد جاری ہے ۔

پہلے بتایا گیا تھا کہ نواز شریف کو ایم پی او [Maintenance of Public Order] کے تحت گرفتار کیا گیا ہے جس کے تحت کسی کو زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کیلئے نظر بند کیا جا سکتا ہے ۔

اس کے بعد پنجاب کے وزیرِ اعلٰی پرویز الٰہی نے ٹی وی پر لائیو وڈیو انٹرویو میں بتایا کہ امیگریشن کے بعد نواز شریف کو اس کے خلاف جو مقدمات ہیں ان کے نوٹس دیئے جائیں گے ۔

اس کے بعد خبر دی گئی کے نواز شریف کو نیب کے کرنل نے نیب آرڈیننس کے تحت گرفتار کیا ہے ۔

اس کے بعد بتایا گیا کہ نواز شریف کو منی لانڈرنگ کیس میں گرفتاری کے وارنٹ دیئے گئے ہیں ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 8 ستمبر کو اچانک صدر جنرل پرویز مشرف نے اینٹی منی لانڈرنگ آرڈیننس جاری کیا تو سمجھ نہیں آئی تھی کہ اس کی اچانک کیا ضرورت پڑ گئی ۔


نواز شریف کو پاکستان ایئر فورس کے طیارہ میں بٹھا کر سعودی عرب بھیج دیا گیا ہے

Posted in خبر | 3 Comments »

نواز شریف گرفتار

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر ستمبر 10, 2007

کمانڈوز کے ذریعہ نواز شریف سے پاسپورٹ لینے کی ناکام کوشس کے بعد اسے گاڑی میں بیٹھنے کا کہا گیا مگر اس نے حکومت کی مہیا کردہ گاڑی میں بیٹھنے سے انکار کر دی ۔ بعد میں ارائیول لاؤنج میں تین سعودی اور سات سرکاری اہلکارو کی موجودگی میں مذاکرات ہوئے ۔ نوازشریف نے حکومت کی کوئی شرط ماننے سے انکار کر دیا ۔ اس کے بعد نواز شریف کو گرفتار کر کے پنجاب پولیس کے حوالے کر دیا گیا ۔ ابھی معلوم نہیں کہ اسے کہاں لیجایا جائے گا

Posted in خبر | Leave a Comment »

کمانڈوز جہاز میں داخل

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر ستمبر 10, 2007

ایک امریکی خبر رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ کمانڈوز پی آئی اے کی پروازپی کے786میں داخل ہو گئے ہیں جہاں انہوں نے نواز شریف سے ان کا پاسپورٹ طلب کیا تاہم نواز شریف نے اپنا پاسپورٹ کمانڈوز کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ذرائع کے مطابق سیکورٹی اہلکاروں نے نواز شریف کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔

Posted in خبر | Leave a Comment »

پرویز مشرف بمقابلہ نواز شریف

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر ستمبر 10, 2007

پی آئی اے کی پرواز جس میں نواز شریف سفر کر رہے تھے 8 بج کر 40 منٹ پر اسلام آباد اترا ۔

پچھلے ہفتہ حکومت نے راولپنڈی کے تمام تعلیمی اداروں ۔ دوسرے اداروں اور ہسپتالوں میں 10 ستمبر کی چھٹی کا اعلان کر دیا تھا جس کی وجہ سے اسلام آباد کے بھی متعلقہ نجی اداروں نے بھی 10 ستمبر کو چھٹی کا اعلان کر دیا ۔

راولپنڈی اور اسلام آباد کی ناکہ بندی جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات کو ہی کر دی گئی تھی یعنی 7 اور 8 ستمبر کی درمیانی رات کو ۔ کوئی عام آدمی ان شہروں میں داخل نہیں ہو سکتا تھا ۔ وقت گذرنے کے ساتھ ناکہ بندی زیادہ سخت ہوتی گئی

سندھ سے ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور رینجر 8 ستمبر کو راولپنڈی پہنچ گئے اور اسلام آباد ایئر پورت کے گرد 5 کلومیٹر کے علاقہ میں انہیں تعینات کر دیا گیا یعنی ایئرپورٹ کا محاصرہ ہو گیا اور علاقہ میں کرفیو کی سی صورتِ حال ہو گئی ۔ 8 ستمبر کو ہی غروبِ آفتاب کے بعد ایئرپورٹ کے علاقہ سے سوائے سول ایوی ایشن کے تمام گاڑیاں ہٹا دی گئیں ۔ اور ایئرپورٹ کی طرف جانے والے تمام راستے بلاک کر دیئے گئے ۔ گویا اس گنجان آباد علاقے کے لوگ قید ہو کر رہ گئے ۔ تمام صحافیوں کو اس پانچ کلو میٹر کے علاقہ سے نکال دیا گیا ۔
ہفتہ اور اتوار یعنی 8 اور 9 ستمبر کی درمیانی رات بڑی بڑی رکاوٹیں کھڑی کر کے راولپنڈی اور اسلام آباد کو آنے والے تمام راستے بند کر دئیے گئے ۔ صوبہ سرحد اور پنجاب کے درمیان دریائے سندھ کا پُل بند کر دیا گیا ۔ دریائے جہلم ۔ چناب اور راوی پر بھی راولپنڈی کی طرف جانے والی سڑکیں بند کر دی گئیں ۔

پچھلے تین دنوں میں ہزاروں کی تعداد میں مسلم لیگ ن کے کارکن اپنے گھروں سے گرفتار کر لئے گئے اور حکم دیا گیا کہ پاکستان کے کسی بھی حصہ میں جس کے پاس مسلم لیگ ن کا جھنڈا ہو یا نواز شریف کی تصویر ہو اسے گرفتار کر لیا جائے اگر تصویر گاڑی پر لگائی ہو تو گاڑی ضبط کر کے سواریوں کو گرفتار کر لیا جائے ۔ اس وقت تک مسلم لیگ ن کے علاوہ ان کی حمائت کرنے والی تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہ اور دیگر لیڈر گرفتار کئے جا چکے ہیں جن میں حماعتی جماعتوں کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر کے بیرسٹر سلطان محمود ۔ خاکسار تحریک کے لیڈر اور عیسائی لیڈر جے سالک بھی شامل ہیں

نواز شریف کو ہیلی کاپٹر میں بٹھا کر اغواۓ کرنے کی کوشش کی گئی تھی جو ناکام ہو گئی ۔ ایئرپورٹ اور اردگرد 5 کلو میٹر کے علاقہ کے زبردست محاصرہ کے باوجود چند چھوٹی چھوٹی ٹولیاں جن میں وکلاء بھی شامل تھے ایئرپورٹ کے سامنے پہنچنے میں کامیاب ہو گئے اور وہاں گرفتار کر لئے گئے ۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں کئی جگہ نواز شریف کے حق میں اور حکومت کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں جن کے شرکاء پر پولیس بیدردی سے لاٹھی چارج اور آنسو گیس استعمال کر رہی ہے مگر منتشر کرنے میں ناکام ہے ۔ اور مظاہرین کو گرفتار کر کر کے لے جا رہی ہے ۔ اندازہ ہے کہ 3000 سے زائد کارکن گرفتار کئے جا چکے ہیں

Posted in خبر | Leave a Comment »