What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

Archive for the ‘آپ بيتی’ Category

انگریزی روزنامچہ کی تیسری سالگرہ

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر ستمبر 10, 2007

الحمدللہ ۔ آج میرا پہلا روز نامچہ ” حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے” جو زیادہ تر انگریزی میں لکھتا ہوں اپنی زندگی کے تین سال پورے کر چکا ہے ۔
تفصیلات مندرجہ ذایل ربط پر

http://iabhopal.wordpress.com

Posted in آپ بيتی | Leave a Comment »

ربّا سوہنیا ۔ میں کِتھے جاواں

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اگست 24, 2007

ربّاسوہنیا ۔ میں کِتھے جاواں
کِنوں جا دل دا حال سُناواں
تیریاں نعمتاں نیں سجے کھبے
تیریاں برکتاں نیں اُتے تھلے
پر اساں کی ظلم کمایا اے
چور لفنگیاں نوں اُتے بٹھایا اے
اِک چڑھدی مہنگائی ستایا اے
اُتوں گرمی نے پرسیو وگایا اے
وڈیریاں دی واپڈا واہ وا موج بنائی اے
ساڈی بجلی تے لوڈ شیڈنگ لائی اے
پانی کدی غیب کدی آوے قطرہ قطرہ
بُڈھا کی ۔ جوان بھی ہو جاوے سترہ بہترہ
بِل لیون تِن مہینیاں دا روپیّہ سولاں سو
پانی نہ چھڈدے تےکہندے ٹینکر لَے لو

اُردو ترجمہ
میرے اچھے اللہ میں کہاں جاؤں
کسے جا کے دل کا حال سناؤں
تیری نعمتیں ہیں دائیں بائیں
تیری برکتیں ہیں اُوپر نیچے
لیکن ہم نے کیا گناہ کیا ہے
چور بدمعاشوں کو حاکم بنایا ہے
ایک روزافزوں مہنگائی نے ستایا ہے
اس پر گرمی نے بھی پسینہ نکالا ہے
بڑے لوگوں کو واپڈا نے آرام پہنچایا ہے
ہماری بجلی پر لوڈ شیڈنگ لگائی ہے
پانی کبھی نہ آئے اور کبھی آئے قطرہ قطرہ
بوڑھے کیا جوانوں کے بھی سر گھوم جاتے ہیں
بِل یہ لیتے ہیں تین ماہ کا روپے سولہ سو
پانی نہیں چھوڑتے اور کہتے ہیں ٹینکر لے لو

Posted in آپ بيتی, شاعری | 5 Comments »

کہتا ہوں سچ

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اگست 22, 2007

کہتا ہوں ميں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہيں مُجھے ۔ سچ بولنے والے کو نہ صرف آخرت ميں بلکہ اس دنيا ميں بھی فائدہ ہے ۔ جھوٹ بولنے والا گناہ کا مرتکب بھی ہوتا ہے اور اگر پکڑا نہ بھی جائے قابلِ اعتماد نہيں رہتا ۔ ميری زندگی کے کئی واقعات ميں سے صرف تين دلچسپ واقعات جن سے ميری حوصلہ افضائی ہوئی ۔ سبحان اللہ ۔

آدھی صدی سے زائد قبل ميں شايد ساتويں جماعت ميں پڑھتا تھا کہ ایک دن گھر سے سودا لينے نکلا ۔ ميرے پاس پانچ روپے کا نوٹ تھا بارش شروع ہو گئی تو ميں نے بھيگنے سے بچانے کيلئے نوٹ اپنی شلوار کے نيفے ميں دبا ديا اور بھاگنے لگا ۔ دکان پر پہنچ کر ديکھا تو نوٹ غائب ۔ واپس ہو کر تلاش کيا اور آس پاس کے دکانداروں سے بھی پوچھتا گيا لیکن نہ ملا ۔ میں گھر سے مزید پيسے لا کر جب واپس آ رہا تھا تو ميں نے سڑک پر ايک دس روپے کا نوٹ ديکھا ۔ مجھے قريبی دکاندار نے کہا "يہ نوٹ اُٹھا لو تم بھول گئے ہو گے تمہارے پاس دس کا نوٹ ہو گا” ليکن ميں نے نہ ليا تو دکاندار نے مجھے کہا "يہ پانچ روپے جو تمہارے گم ہوئے تھے اور پانچ روپے تمہارا انعام ۔ دیکھو اب یہ واپس نہیں کرنا ورنہ میں ناراض ہو جاؤں گا”۔ اور دس کا نوٹ میری جیب میں ڈال دیا ۔ شائد وہ دس کا نوٹ اس دکاندار ہی نے میرا امتحان لینے کیلئے سڑک پر رکھا تھا ۔

ميں انجنيئرنگ کالج لاہور ميں سيکنڈ ايئر ميں تھا ۔ چٹھيوں میں گھر آیا تھا اور چھٹیاں ختم ہونے پر کالج جانے لگا تو والدہ نے کہا يہ دس کلو چاول لے جاؤ ہوسٹل ميں معلوم نہيں کيسے چاول پکتے ہوں گے ۔ ميں بس پر لاہور جا رہا تھا تو گجرات کے قريب پوليس نے بس روک کر چيکنگ شروع کی ۔ ايک آدمی نے اپنی چادر ميں دو کلو چاول باندھے ہوئے تھے اسے بس سے نيچے اتار ليا گيا ۔ ميرا کنستر دروازے کے پاس ہی پڑا تھا ۔ پوليس والے نے پوچھا "يہ کس کا کنستر ہے ؟” ميں نے کہا "ميرا”۔ تو کہنے لگا "اس ميں کيا ہے ؟” ميں نے کہا "چاول”۔ تو وہ بس سے نيچے اُتر گيا ۔ چند منٹ بعد بس چل پڑی تو کنڈکٹر نے مجھے پوچھا "بابو جی ۔ اس کنستر ميں کيا ہے ؟” ميں نے کہا "چاول ہيں کھول کر ديکھ لو دس کلو ہيں”۔ اس پر پوری بس ميں زور دار قہقہہ پڑا اور ڈرائيور کہنے لگا "اس بابو کو اس کے سچ نے بچا ديا” ۔

ميں واہ کينٹ ميں رہتا تھا کہ دسمبر 1964 ميں ميرے ايک دوست حيدرآباد سے اور ایک راولپنڈی سے صبح سويرے آئے اور کہنے لگے طورخم چلنا ہے ۔ طورخم سے واپسی پر ہم لنڈی کوتل ٹھہرے اور دوپہر کا کھانا دنبے کی چربی ميں تلے ہوئے تکے اور نان کھايا ۔ قہوہ پيا اور لنڈی کوتل بازار ميں گھومنے لگے ۔ اس زمانہ ميں وہاں سمگل شدہ اشياء بہت سستی ملتی تھيں ۔ ميرے دوستوں نے ايک پريشر کُکر ۔ ايک ڈنر سيٹ ۔ ايک چھوٹا فرج اور کچھ ديگر چيزيں خريديں ۔ ميں نے ايک ڈبہ چين کی سبز چائے ۔ 3 جرابيں اور ايک درجن چاول کھانے کے چمچے خريدے ۔ یہ اشیاء قبائلی علاقہ سے باہر ليجانے پر پابندی تھی اور کبھی کبھی سخت چيکنگ ہوتی اور سارا سامان ضبط کر ليا جاتا ۔ ہماری جيپ جب ضلع پشاور سے باہر نکلی تو سڑک پر کسٹم پوليس نے تمام گاڑياں روکی ہوئی تھيں اور سواريوں کو اُتار اُتار کے چيکنگ ہو رہی تھی ۔ ہماری باری آنے ميں کافی دير کی اُميد تھی اور سردی تھی ميں جا کر گرم گرم چائے لے آيا اور ہم جيپ ميں بيٹھ کر پينے لگے ۔ ميں فرنٹ سيٹ پر بيٹھا تھا ۔ کسٹم پوليس والے نے مجھ سے پوچھا "کوئی سامان ہے ؟” ميں نے کہا "ہاں ہے”۔ تو اس نے پوچھا "کيا ہے ؟” ميں نے چيزوں کا نام لينا شروع کر ديا ۔ وہ پوری بات سُنے بغیر چلا گیا اور پتہ نہيں جا کر اپنے آفيسر سے کيا کہا کہ اس نے آ کر کہا ” آپ جا سکتے ہيں”۔ اٹک پُل [دریائے سندھ کا پل] کے قريب پہنچے تو گاڑيوں کی لمبی قطار ديکھ کر ميرا راولپنڈی والا دوست کہنے لگا "خدا کيلئے اب چُپ رہنا” ۔ ميں نے کہا "اگر مجھ سے پوچھا تو ميں جھوٹ نہيں بولوں گا” ۔ کوئی دس منٹ بعد انسپکٹر نے کہا کہ آپ اور پيچھے کی گاڑياں پُل کے پار چلے جائيں وہاں چيکنگ ہو گی ۔ پُل کے پار پہنچنے تک مغرب کی اذان ہو گئی تھی ميں نے کسٹم والے سے کہا "آپ گاڑی چيک کرو ميں نماز پڑھ کے ابھی آتا ہوں” ۔ ميں واپس آيا تو اس نے ہاتھ ملا کر مجھے اللہ حافظ کہا ۔ ميرے دوستوں نے بتايا کہ اس نے جيپ کے اندر ديکھا تھا مگر کچھ نہ کہا ۔

ہميشہ سچ بولئے اور مزے اُڑائيے ۔

Posted in آپ بيتی | 6 Comments »

میری یادیں 1947ء کی ۔ تيسری اور آخری قسط

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اگست 16, 2007

 

پہلے واقع کے تین دن بعد يعنی 29 نومبر کو ایک ادھیڑ عمر اور ایک جوان خاتون اور ایک سترہ اٹھارہ سال کی لڑکی آئے ۔ جوان خاتون کی گردن میں پچھلی طرف ایک انچ چوڑا اور کافی گہرا زخم تھا جس میں پیپ پڑ چکی تھی ۔ یہ لوگ جموں میں ہمارے محلہ دار تھے ۔ لڑکی میرے ہم جماعت لڑکے ممتاز کی بڑی بہن تھی جوان خاتون اُس کی بھابھی اور بڑی خاتون اُس کی والدہ تھیں ۔ اُن کا پورا خاندان 6 نومبر والے قافلہ میں تھا ۔ انہوں نے دیکھا کہ جوان لڑکیوں کو اُٹھا کر لے جا رہے ہیں ۔ وہ بس سے نکل بھاگے ۔ ممتاز کی بھابھی اور دونوں بہنوں نے اغواء سے بچنے کے لئے نہر میں چھلانگیں لگائیں ۔ چھلانگ لگاتے ہوئے ایک کافر نے نیزے سے وار کیا جو بھابھی کی گردن میں لگا ۔ خون کا فوارہ پھوٹا اور وہ گر کر بیہوش ہوگئی ۔ پھر گولیاں چلنی شروع ہو گئیں ۔ ممتاز کی والدہ گولیوں سے بچنے کے لئے زمین پر لیٹ گئی اس کے اُوپر چار پانچ لاشیں گریں اُس کی ہڈیاں چٹخ رہی تھیں مگر وہ اُسی طرح پڑی رہی ۔ اُس نے دیکھا کہ ایک بلوائی نے ایک شیرخوار بچے کو ماں سے چھین کر ہوا میں اُچھالا اور نیزے سے ہلاک کر دیا ۔

شور شرابا ختم ہونے پر اُس خاتون کو خیال ہوا کہ بلوائی چلے گئے ۔ بڑی مشکل سے اُس نے اپنے آپ کو لاشوں کے نیچے سے نکالا اور اپنے پیاروں کو ڈھونڈنے لگی ۔ لاشوں پر اور اپنی بے چارگی پر آنسو بہاتی رہی ۔ اچانک بہو اور بیٹیوں کا خیال آیا اور دیوانہ وار نہر کی طرف بھاگی ۔ بہو نہر کے کنارے پڑی ملی اس کے منہ میں پانی ڈالا تو اس نے آنکھیں کھولیں ۔ تھوڑی دیر بعد بڑی بیٹی آ کر چیختی چلّاتی ماں اور بھابھی کے ساتھ لپٹ گئی ۔ اُس نے بتایا کہ چھوٹی بہن ڈوب گئی ۔ وہ نہر کی تہہ میں تیرتی ہوئی دور نکل گئی تھی اور واپس سب کو ڈھونڈنے آئی تھی ۔

ماں بیٹی نے زخمی خاتون کو سہارا دے کر کھڑا کیا اور اس کے بازو اپنی گردنوں کے گرد رکھ کر چل پڑے ۔ ایک نامعلوم منزل کی طرف ۔ رات ہو گئی تو جنگلی جانوروں سے بے نیاز وہیں پڑ رہیں ۔ صبح ہوئی تو پھر چل پڑیں ۔ چند گھنٹے بعد دور ایک کچا مکان نظر آیا ۔ بہو اور بیٹی کو جھاڑیوں میں چھپا کر بڑی خاتون مکان تک گئی ۔ کھانے کو کچھ نہ لائی ۔ جیب خالی تھی اور مانگنے کی جرأت نہ ہوئی ۔ جموں چھاؤنی کا راستہ پوچھا تو پتا چلا کہ ابھی تک سارا سفر غلط سمت میں طے کیا تھا ۔ چاروناچار اُلٹے پاؤں سفر شروع کیا ۔ بھوک پیاس نے ستایا تو جھاڑیوں کے سبز پتے توڑ کے کھا لئے اور ایک گڑھے میں بارش کا پانی جمع تھا جس میں کیڑے پڑ چکے تھے وہ پی لیا ۔ چلتے چلتے پاؤں سوج گئے ۔ مزید ایک دن کی مسافت کے بعد وہاں پہنچے جہاں سے وہ چلی تھیں ۔ حد نظر تک لاشیں بکھری پڑی تھیں اور ان سے بدبو پھیل رہی تھی ۔ نہر سے پانی پیا تو کچھ افاقہ ہوا اور آگے چل پڑے ۔ قریب ہی ایک ٹرانسفارمر کو اُٹھائے ہوئے چار کھمبے تھے ۔ ان سے ایک عورت کی برہنہ لاش کو اس طرح باندھا گیا تھا کہ ایک بازو ایک کھمبے سے دوسرا بازو دوسرے کھمبے سے ایک ٹانگ تیسرے کھمبے سے اور دوسری ٹانگ چوتھے کھمبے سے ۔ اس کی گردن سے ایک کاغذ لٹکایا ہوا تھا جس پر لکھا تھا یہ ہوائی جہاز پاکستان جا رہا ہے ۔

چار ہفتوں میں جو 6 نومبر 1947 کی شام کو ختم ہوئے بھارتی فوج ۔ راشٹریہ سیوک سنگ ۔ ہندو مہا سبھا اور اکالی دل کے مسلحہ لوگوں نے صوبہ جموں میں ایک لاکھ تیس ہزار کے قریب مسلمانوں کو قتل کیا جن میں مرد عورتیں جوان بوڑھے اور بچے سب شامل تھے ۔ سینکڑوں جوان لڑکیاں اغواء کر لی گئیں اور لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو پاکستان کی طرف دھکیل دیا ۔ تیس ہزار سے زائد مسلمان صرف نومبر کے پہلے چھ دنوں میں ہلاک کئے گئے ۔

Posted in آپ بيتی | 6 Comments »

میری یادیں 1947ء کی ۔ دوسری قسط

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اگست 15, 2007

 

ہمارے ہمسایہ عبدالمجید ریاست کی فوج میں کرنل تھے اور اُن دنوں اُن کی تعیناتی برفانی علاقہ گلگت بلتستان میں تھی ۔ اکتوبر 1947 کے وسط میں پتہ چلا کہ ان کے بیوی بچے ستواری (جموں چھاؤنی) جا رہے ہیں ۔ ہمارے بزرگوں کے کہنے پر وہ لوگ ہم بچوں کو ساتھ لے جانے کو تیار ہو گئے ۔ ہمارے ساتھ اس کوٹھی میں کوئی بڑا مرد نہیں رہ رہا تھا ۔ ہم کل 5 لڑکے تھے ۔ سب سے بڑا 18 سال کا اور سب سے چھوٹا میں 10 سال کا ۔ نلکے میں پانی بہت کم آتا تھا اس لئے 6 نومبر 1947 کو بعد دوپہر ہم لڑکے قریبی نہر پر نہانے گئے ۔ ہم نے دیکھا کہ نہر کے پانی میں خون کے لوتھڑے بہتے جا رہے ہیں ۔ ہم ڈر گئے اور اُلٹے پاؤں بھاگے ۔ ہمارے واپس پہنچنے کے کوئی ایک گھنٹہ بعد کسی نے بڑے زور سے دروازہ کھٹکھٹایا ۔ جونہی کُنڈی کھولی ایک 6 فٹ کا نوجوان دروازے کو دھکا دیکر اندر داخل ہوا ۔ سب مر گئے کہہ کر اوندھے منہ گرا اور بیہوش ہو گیا ۔ اسے سیدھا کیا تو لڑکوں میں سے کوئی چیخا "بھائی جان ؟ کیا ہوا ؟” اُس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے ۔ وہ ہوش میں آ کر پھر چیخا سب مر گئے اور دوبارہ بیہوش ہو گیا ۔ وہ لڑکا خاتون خانہ کے جیٹھ اور ہمارے ساتھی لڑکوں کے تایا کا بیٹا تھا ۔

ہوش میں آنے پر اُس نوجوان نے بتایا کہ ہمارے جموں سے نکلنے کے بعد گولیاں چلتی رہیں اور جو کوئی بھی چھت پر گیا کم ہی سلامت واپس آیا ۔ جموں کے نواحی ہندو اکثریتی علاقوں سے زخمی اور بے خانماں مسلمان جموں پہنچ رہے تھے اور مسلمانوں کے ہندوؤں سکھوں اور بھارتی فوج کے ہاتھوں بیہیمانہ قتل کی خبریں سنا رہے تھے ۔ جموں کے دو اطراف درجن سے زیادہ گاؤں جلتے رات کو نظر آتے تھے ۔ نیشنل کانفرنس کے کرنل ریٹائرڈ پیر محمد کی طرف سے 4 نومبر 1947 کو سارے شہر میں اعلان کیا گیا کہ جس نے پاکستان جانا ہے وہ پولیس لائنز پہنچ جائے وہاں بسیں پاکستان جانے کے لئے تیار کھڑی ہیں ۔ 24 اکتوبر 1947 کو مسلمانوں کی طرف سے جنگ آزادی کے شروع ہونے کی خبر بھی پھیل چکی تھی ۔ مسلمانوں نے سمجھا کہ یہ بندوبست مسلمان شہریوں کی حفاظت کے لئے ہے ۔ دوسرے مسلمانوں کے پاس راشن تقریبا ختم تھا ۔ سو جموں شہر کے مسلمان پولیس لائنز پہنچنا شروع ہو گئے ۔

بسوں کا پہلا قافلہ 5 نومبر کو روانہ ہوا اور دوسرا 6 نومبر کو صبح سویرے ۔ وہ نوجوان اور اس کے گھر والے 6 نومبر کے قافلہ میں روانہ ہوئے ۔ جموں چھاؤنی سے آگے جنگل میں نہر کے قریب بسیں رُک گئیں وہاں دونوں طرف بھارتی فوجی بندوقیں اور مشین گنیں تانے کھڑے تھے ۔ تھوڑی دیر بعد جے ہند اور ست سری اکال کے نعرے بلند ہوئے اور ہزاروں کی تعداد میں مسلحہ ہندوؤں اور سکھوں نے بسوں پر دھاوہ بول دیا ۔ جن مسلمانوں کو بسوں سے نکلنے کا موقع مل گیا وہ اِدھر اُدھر بھاگے ان میں سے کئی بھارتی فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بنے اور بہت کم زخمی یا صحیح حالت میں بچ نکلنے میں کامیاب ہو ئے ۔ وہ جوان اور اس کے گھر والے بس کے دروازے کے پاس بیٹھے تھے اس لئے بس سے جلدی نکل کر بھاگے کچھ نیزوں اور خنجروں کا نشانہ بنے اور کچھ گولیوں کا ۔ اس جوان نے نہر میں چھلانگ لگائی اور پانی کے نیچے تیرتا ہوا جتنی دور جا سکتا تھا گیا پھر باہر نکل کر بھاگ کھڑا ہوا ۔ کچھ دیر بعد اسے احساس ہوا کہ وہ جموں چھاؤنی سے دور بھا گ رہا تھا ۔ وہ اُلٹے پاؤں واپس بھاگنا شروع ہو گیا اور جس جگہ حملہ ہوا تھا وہاں پہنچ گیا ۔ حملہ آور جا چکے تھے ۔ اس نے اپنے گھر والوں کو ڈھونڈنا شروع کیا مرد عورت بوڑھوں سے لے کر شیرخوار بچوں تک سب کی ہزاروں لاشیں ہر طرف بکھری پڑی تھیں ۔ اسے اپنے والدین کی لاشیں ملیں ۔ اس کی ہمت جواب دے گئی اور وہ گر گیا ۔ ہوش آیا تو اپنے باقی عزیزوں کی لاشیں ڈھونڈنے لگا اتنے میں دور سے نعروں کی آوازیں سنائی دیں اور اس نے پھر بھاگنا شروع کر دیا ۔ نہر کے کنارے بھاگتا ہوا وہ ہمارے پاس پہنچ گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ [جاری ہے]

Posted in آپ بيتی | 9 Comments »

میری یادیں 1947ء کی

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اگست 14, 2007

وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَی ۔ ۔ ۔ [سورت ۔ 53 ۔ النَّجْم ۔ آیت 39]
اور یہ کہ انسان کو وہی کچھ ملے گا جس کی اُس نے کوشش کی ہوگی

یومِ استقلال مبارک ہو

آؤ بچو سیر کرائیں ہم ۔ تم کو پاکستان کی
جسکی خاطر دی ہم نے قربانی لاکھوں جان کی
پاکستان زندہ باد ۔ پاکستان زندہ باد

آج 14 اگست ہے ۔ پاکستان بنے 60 سال مکمل ہوئے ۔ مسلمانوں نے لاکھوں جانوں اور لاکھوں ماؤں بہنوں کی عزت کی قربانی دے کر پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا ۔ ان قربانیوں کے ساتھ ساتھ اللہ کو بھی بھُولنے کا نتیجہ ہے کہ آج ہم ہر طرف سے ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور گہرائیوں کی طرف پھسلتے جا رہے ہیں ۔ جن اصولوں کی بنیاد پر پاکستان حاصل کیا گیا تھا وہ تو کم ہی حاصل کیا البتہ جو کچھ ملا تھا اُسے بھی کھوتے جا رہے ہیں ۔ آؤ ہم سب اپنی غلطیوں اور اپنے گناہوں کی سچے دل سے توبہ کریں اور اللہ جس نے 60 سال قبل ہمیں اپنا ملک دیا تھا اُسکی رسی کو پھر سے مضبوطی کے ساتھ پکڑ لیں اور محنت کر کے اتھاہ گہرائیوں سے باہر نکلیں ۔

خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی ۔ نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت بدلنے کا

کئی ماہ سے مجھ سے بار بار مطالبہ کيا جا رہا ہے کہ ميں پاکستان بننے سے پہلے کے اپنے تجربات لکھوں ۔ جب پاکستان بنا ميری عمر 10 سال تھی ۔ مجھے پاکستان بننے سے ايک سال ڈیڑھ پہلے تک کے صرف وہ واقعات ياد ہيں جو کہ انوکھے تھے ۔ سو پہلی قسط حاضر ہے ۔

ایک دفعہ ہم کھیل کر واپس آ رہے تھے ۔ راستہ میں ایک ہندو لڑکے نے ایک ہندو دکاندار سے پانی مانگا تو دکاندار نے پانی کا گلاس دیدیا اور اس نے گلاس سے منہ لگا کر پی لیا ۔ پھر ایک مسلمان لڑکے نے پانی مانگا تو دکاندار نے کہا چلُو کرو اور گلاس سے ڈیڑھ فٹ اونچائی سے لڑکے کے چلُو میں پانی پھینکنا شروع کیا جس سے لڑکے کے کپڑے بھیگ گئے اور وہ ٹھیک طرح پانی بھی نہ پی سکا ۔

ایک دن ایک ہندو آدمی فٹ پاتھ پر جا رہا تھا کہ ایک مسلمان لڑکا بھاگتے ہوئے اس سے ٹکرا گیا تو ہندو چیخا کپڑے بڑھشٹ کری گیا مطلب کہ کپڑے پلید کر گیا ہے اور اس لڑکے کو کوسنے لگا ۔ کچھ دن بعد وہی ہندو گذر رہا تھا کہ راستہ ميں کھڑی ایک گائے نے پیشاب کیا جو اُسکے کپڑوں پر پڑا بلکہ اس کا پاجامہ بالکل بھيگ گيا تو وہ بولا پاپ چڑی گئے پاپ چڑی گئے یعنی گناہ جھڑ گئے ۔

جب مارچ 1947 میں پاکستان بننے کا فیصلہ ہو گیا تو اگلے دن آدھی چھٹی کے وقت میرے ہم جماعت رنبیر نے جو مجھ سے تین سال بڑا تھا قائداعظم کو گالی دی ۔ میرے منع کرنے پر اُس نے جیب سے چاقو نکالا اور اُسے میرے پیچھے شانوں کے درمیان رکھ کر زور سے دبانے لگا ۔ اچانک کچھ مسلمان لڑ کے آ گئے اور وہ چلا گیا ۔ دو دن بعد ہمارا خالی پیریڈ تھا ۔ ہم کلاس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رنبیر کے ایک دوست کیرتی کمار نے مسلمانوں کو گالیاں دینا شروع کر دیں ۔ میرے منع کرنے پر کیرتی کمار نے کہا ہم تم مُسلوں کو ختم کر دیں گے اور مجھ پر پل پڑا اور ہم گتھم گتھا ہو گئے ۔

جموں میں اکتوبر 1947 میں کرفیو لگا دیا گیا تھا ۔ اس کرفیو میں ہندوؤں اور ہندوستان سے آئے ہوئے سکھوں کے مسلح دستے بغیر روک ٹوک پھرتے تھے مگر مسلمانوں کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہ تھی ۔ ہمارے گھر کے قریب ہندوؤں کے محلہ میں دو اونچی عمارتوں پر نابھہ اور پٹيالہ سے آئی ہوئی بھارتی فوج نے مشین گنیں نصب کر لیں ۔ آنے والی رات کو دونوں عمارتوں کی چھتوں سے ہمارے گھر کی سمت میں متواتر فائرنگ شروع ہو گئی ۔ ہمارا گھر نشانہ بننے کی وجہ یہ تھی کہ اس پر پاکستان کا بہت بڑا جھنڈا بہت اُونچا لگا ہوا تھا ۔ اگلے دن دس سال سے ہمارا کرائے دار ہندو جس پر میرے دادا جان کے کئی احسان بھی تھے ہمارے گھر آیا اور کہنے لگا میں نے سوچا کہ کرفیو کی وجہ سے آپ کی زمینوں سے دودھ نہیں آیا ہوگا اسلئے میں اپنی گاؤ ماتا کا دودھ بچوں کے لئے لے آیا ہوں ۔ دودھ اُبال کر ہمیں پینے کو کہا گیا مگر اُس وقت کسی کا کچھ کھانے پینے کو دل نہیں چاہ رہا تھا ۔ دوسرے دن صبح دیکھا کہ دودھ خراب ہو گیا تھا اسلئے باہر نالی میں پھینک دیا ۔ تھوڑی دیر بعد باہر سے عجیب سی آواز آئی ۔ جا کر دیکھا تو ایک بلی تڑپ رہی تھی اور تڑپتے تڑپتے وہ مر گئی ۔ دراصل وہ برہمن ہمدرد بن کر ہم سب کو خطرناک زہر والا دودھ پلا کر مارنے آیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ [جاری ہے]

Posted in آپ بيتی, ذمہ دارياں | Leave a Comment »

کسی نے مجھے بیوقوف کہا کسی نے پاگل

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اگست 10, 2007

 

عمار ضیاء خان صاحب کی ایک تحریر نے مجھے میرے ماضی کے کچھ واقعات یاد دِلا دیئے ۔

بچپن میں ہمارا معمول ہوتا تھا کہ گرمیوں کی چھٹیوں میں مجھ سے بڑی میری بہن اور میں سارے گھر کی فرش سے چھت تک اچھی طرح صفائی کرتے ۔ جب میں گیارہویں یا بارہویں جماعت میں تھا ہم اسی طرح صفائی کر رہے تھے کہ مہمان آ گئے ۔ امی نے کہا "بوتلیں لے آؤ”۔ میں نے سر پر لپیٹا ہوا کپڑا کھولا اور بوتلیں لینے بھاگ پڑا ۔ راستہ میں دو لڑکے کھڑے تھے ۔ انہوں نے انگریزی میں کہا "کیسا بیوقوف لگ رہا ہے”۔ جب میں نے ان سے انگریزی میں کہا "آئیندہ خیال رکھیئے گا کیونکہ پاکستان میں انگریزی سمجھنے والے بہت ہیں”۔ تو انہیں پریشانی ہوئی ۔

اگر راستہ میں چھلکا یا پتھر پڑا ہو تو میں اُٹھا کر ایک طرف کر دیتا ہوں یا اگر قریب کوڑا کرکٹ کا ڈبہ ہو تو اس میں ڈال دیتا ہوں ۔ ایک راہداری پر پڑے کیلے کے چھِلکے میں نے اُٹھا کر قریبی ڈبے میں ڈالے ۔ دو خوش پوش نوجوان راہگیروں نے مجھے نفرت سے گھورتے ہوئے انگریزی میں کہا "کتنا گندھا ہے”۔ میں نے تیزی سے قریب جاتے ہوئے کہا "میں یا چھلکے پھینکنے والے”۔ یہ چھلکے انہوں نے پھینکے تھے۔

میں پاکستان آرڈننس فیکٹریز میں ایم آئی ایس کا سربراہ تھا ۔ اپنی سرکاری کوٹھی میں ایک اتوار باڑ کٹوانے کیلئے آدمی بلائے مگر نہ آئے ۔ میں تھوڑے سے حصہ میں باڑ کاٹ رہا تھا تاکہ اپنے ملازم کو سمجھا دوں کہ ان سے باڑ کی اتنی اُونچائی رکھوانا ۔ اسی دوران ایک شخص کوٹھی کے پھاٹک پر آیا ۔ میں نے پوچھا کس سے ملنا ہے تو میرا نام لیا ۔ میں نے کام پوچھا تو کہنے لگا "آپ اپنی باڑ خود کاٹ رہے ہیں؟” میں نے جواب میں کہا "اس میں کیا ہرج ہے”۔ تو وہ واپس چلا گیا ۔ بعد میں مجھے ایک ساتھی نے بتایا کہ اس نے اُسے بھیجا تھا اور واپس جا کر اس نے کہا "جو اپنی کوٹھی کی باڑ نہیں کٹوا سکتا وہ میرا کام کیا کرے گا”۔

وسط 1966 عیسوی میں پاکستان آرڈننس فیکٹریز میں ابھی رائفل جی تھری کا پروجیکٹ پلاننگ اور ڈویلوپمنٹ سے گذر کر باقاعدہ پیداواری مرحلہ میں گیا ہی تھا کہ مجھے قائم مقام ورکس منیجر بنا کر مشین گن پلاننگ ۔ ڈویلوپمنٹ اور پروڈکشن کا پراجیکٹ دے دیا گیا ۔ بعد میں ایک سینئر جنرل منیجر صاحب کو میرا افسر بنا دیا گیا جنہیں ویپنز پروڈکشن کا کوئی تجربہ نہ تھا ۔ میرا افسر بننے کے چند ماہ بعد ایک دن وہ صاحب میرے دفتر میں آئے اور کہا "آپ کو اپنے افسر کا وفادار ہونا چاہیئے”۔ میں خاموش رہا تو اُنہوں نے یہ جملہ تین بار دہرایا ۔ میں نے عرض کیا "سرکاری قواعد و ضوابط کے مطابق ہر افسر پر لازم ہے کہ وہ صرف مُلک [پاکستان] کا وفادار ہو اور اگر کوئی افسر اپنے ماتحت کو کوئی ایسا حُکم دے جو مُلک کے مفاد میں نہ ہو تو وہ ایسا حُکم نہ مانے” ۔ اس پر میرے افسر نے کہا ” تم اپنی بات کرو”۔ تو میں نے کہا "میں چونکہ مسلمان ہوں اسلئے سب سے پہلے اپنے دین اسلام کا وفادار ہوں اس کے بعد میں اپنے پیارے مُلک پاکستان کا وفادار ہوں ۔ اسکے بعد میں اس ادارے [پاکستان آرڈننس فیکٹریز} کا وفادار ہوں کہ اس ادارے کو اللہ نے میرے رزق کا ذریعہ بنایا ہے اور میرا خیال ہے کہ آپ اسی میں پوری طرح شامل ہیں لیکن اگر نہیں ہیں تو میں قانون کا تابع دار ہوتے ہوئے آپ سے معذرت خواہ ہوں”۔ وہ صاحب اُس دن کے بعد میرے ساتھ ناراض ہی رہے گو وہ سارا کام مجھ ہی سے کرواتے رہے مع انکے اپنے دفتر کی ڈاک کے ۔ [تتمہ ۔ یہ قوائد و ضوابط ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے نافذ کردہ ایڈمنسٹریٹو ریفارمز کی نذر ہوگے اور نااہلی کا فروغ شروع ہوا]

ملازمت کے دوران جو میرے قریبی ساتھی تھے وہ مجھے کہا کرتے تھے "تم میں ترقی کی نشانیاں نہیں ہیں” ۔ وجہ یہ تھی کہ میرے ماتحتوں میں جو دیانتداری اور محنت سے کام کرتے تھے میں ان کی سالانہ رپورٹس خراب نہیں ہونے دیتا تھا جس کے نتیجہ میں بعض اوقات میری اپنی رپورٹ گڑبڑ ہو جاتی تھی اور نہ میں اپنے سینئر افسر کو خوش کرنے کیلئے جھوٹ بولتا تھا ۔ میں حق کی خاطر کاغذی جنگ لڑتا رہتا تھا جس کی وجہ سے کوئی مجھے بیوقوف اور کوئی پاگل کہتا تھا ۔

Posted in آپ بيتی | 7 Comments »

بیتی باتیں

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 1, 2007

میرے بزرگوار دادا جان جن کا نام روشن الدین تھا حیدرآباد دکن اور جموں [ریاست جموں کشمیر] میں حاجی صاحب کے نام سے مشہور تھے چونکہ اُنہوں نے جوانی ہی میں میری محترمہ دادی جان کو ساتھ لے جا کر حج کر لیا تھا اور اس زمانہ میں ہندوستان سے عام طور پر بوڑھے لوگ حج کرنے جاتے تھے ۔ دادا جان نے مجھے بتایا تھا کہ وہ ریل گاڑی پر ممبئی گئے جو اُن دنوں بمبے کہلاتا تھا ۔ وہاں سے بحری جہاز پر عدن گئے کیونکہ اس زمانہ میں جدہ کی بندرگاہ نہیں تھی ۔ عدن سے مکہ مکرمہ ۔ مدینہ منورہ اور واپسی اُونٹوں پر سفر کیا ۔ حج کیلئے مکہ مکرمہ سے منی ۔ عرفات ۔ مزدلفہ ۔ منی اور مکہ مکرمہ پیدل سفر کیا تھا ۔

ہندوستانی قوم جب 1857 کی جنگِ آزادی میں ناکام ہوئی تو انگریزوں نے سب سے زیادہ ظلم مسلمانوں پر کیا ۔ ہمارے آباؤ اجداد نے انگریزوں کی حکومت کا ساتھ نہ دیا جس کے نتیجہ میں سینکڑوں ایکڑ زرخیز اراضی ضبط کر لی گئی جان کا بھی خطرہ تھا اسلئے میرے پردادا [دادا کے والد] اور ان کے بھائی جہاں جگہ ملی چلے گئے ۔ میرے پردادا نظام الدین نے شہر جموں کا انتخاب کیا کہ وہاں انگریزوں کا عمل دخل براہِ راست نہ تھا ۔

میرے دادا جان 1869 عیسوی میں پیدا ہوئے ۔ سب کچھ چھن جانے کے بعد ان کا خاندان بمشکل گذارہ کر رہا تھا اسلئے ایکہ باعِلم خاندان کا چشم و چراغ ہوتے ہوئے میرے دادا کی تعلیم کا بندوبست نہ ہو سکا اور 8 سال کی عمر میں انہوں نے کام سیکھنا شروع کیا ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی مہربانی سے نوجوانی ہی میں بین الاقوامی تاجر بن گئے اور 27 سال کی عمر میں 1896 عیسوی میں ایک بین الاقوامی کمپنی باقاعدہ طور پر قائم کی جسے 1930 عیسوی میں میرے محترم والد صاحب کے سپرد کر کے خود گھریلو ذمہ داریوں اور بہبود عامہ میں لگ گئے ۔ اس کمپنی کا صدر دفتر ممبئی میں قائم کیا پھر وہاں سے آگرہ ۔ حیدآباد دکن ۔ مصر میں قاہرہ ۔ فلسطین منتقل ہوتے ہوئے 1948 عیسوی میں راولپنڈی میں قائم ہوا ۔

قائداعظم کی وفات اور قائدِ ملت کے شہید کئے جانے کے بعد وطن پر قوم کے دشمنوں کا قبضہ ہو گیا اور آہستہ آہستہ دیانتدار تاجروں کیلئے حالات مشکل ہوتے گئے ۔ اس پر طُرّہ یہ کہ 1955 میں والد صاحب شدید بیمار ہو گئے اور ان کو لاہور لیجا کر گنگا رام ہسپتال میں داخل کرا دیا ۔ بیماری کی تشخیص اور علاج میں ایک سال گذر گیا ۔ والد صاحب نے جس شخص کو منیجر رکھا ہوا تھا وہ تاجر بن گیا اور ہمارے بزرگوار دادا صاحب کی قائم کردہ کمپنی 1956 عیسوی میں دیوالیہ ہو گئی ۔ میں ان دنوں گارڈن کالج راولپنڈی میں ایف ایس سی [انٹرمیڈیئٹ] میں پڑھتا تھا ۔

میں نے اس کمپنی کے لیٹر پیڈ کا ایک کاغذ سنبھال کر رکھا ہوا تھا جو آج مجھے مل گیا

Posted in آپ بيتی | 2 Comments »

ماں کے نام

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 29, 2007

ميری والدہ مُحترمہ 25 جون 1980 بروز بدھ عصر کی نماز کے بعد تسبيح کر رہی تھيں کہ برين ہَيموريج [Brain Hemorrhage] ہوگيا اور وہ بے سُدھ ہو گئيں [went in to coma] ليکن اِس حالت ميں بھی جيسے تسبيح کرتے ہيں وہ اُنگليوں پر کچھ پڑھ کر اپنے اُوپر پھونکتی رہيں حتٰی کہ 29 جون کو ہولی فيملی ہسپتال راولپنڈی ميں اِس دارِ فانی سے رِحلَت کر گئيں ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی اُنہيں جنّت الفردوس ميں جگہ عطا فرمائے ۔ آمين ۔

يہ نظم ميں نے والدہ مُحترمہ کی وفات کے پانچ چھ ہفتے بعد لکھی تھی ۔ ميں نے جو نظم والدہ محترمہ کی وفات سے کچھ دن بعد لکھی تھی وہ نظرِ قارئين کر چکا ہوں اور يہاں کلِک کر کے پڑھی جا سکتی ہے ۔

کتنے نازوں ميں تو نے کی ميری پرورش
تجھے ہر گھڑی رہتا تھا بہت خيال ميرا
تيری دعاؤں ميں رہا سدا ميں شامل
تيری موت نے مگر کيا نہ انتظار ميرا
يہ زندگی کس طرح گذرے گی اب
نہ دل ہے ساتھ ميرے نہ دماغ ميرا
ميں جو کچھ بھی ہوں فقط تيری محنت ہے
نہ یہ ميری کوئی خوبی ہے اور نہ کمال ميرا
ميری اچھی امّی پھر کريں ميرے لئے دعا
کسی طرح آ جائے واپس دل و دماغ ميرا
تيرے سِکھلائے ہوئے حوصلہ کو واپس لاؤں
پھر کبھی چہرہ نہ ہو اس طرح اشک بار ميرا
تيرے سمجھائے ہوئے فرائض نبھاؤں ميں
کٹھن راہوں پہ بھی متزلزل نہ ہو گام ميرا
روز و شب ميں پڑھ پڑھ کر کرتا رہوں دعا
جنّت الفردوس ميں اعلٰی ہو مقام تيرا

Posted in آپ بيتی | 6 Comments »

خدا کیا ہے ؟ کا جواب

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر مئی 12, 2007

ایک صاحب [جنہوں نے کئی بار درخواست کرنے پر بھی مجھے اپنا نام نہیں بتایا] نے پوچھا ہے "خدا کیا ہے ؟” یعنی اللہ کیا ہے ؟ میرا جواب چونکہ طویل ہے اور اپنی زندگی کے تجربات پر مبنی ہے اسلئے میں جواب اپنے روزنامچہ میں لکھ رہا ہوں ۔ اُن صاحب سے معذرت کے ساتھ ۔

ایک نظم میں نے ساتویں جماعت میں پڑھی تھی آج سے ستاون سال پہلے ۔ اس وقت اتنے ہی مصرعے دماغ میں آئے ہیں

خدا پوچھے گا
بتا اے خاک کے پتلے کہ دنیا میں کیا کیا ہے
بتا کہ دانت ہیں منہ میں تیرے کھایا پیا کیا ہے
بتا کہ خیرات کیا کی راہِ مولا میں دیا کیا ہے
بتا کہ عاقبت کے واسطے توشہ لیا کیا ہے

اللہ کیا ہے ؟ جس دن مجھے صحیح پتہ چل جائے گا اُس دن سے میں بہترین انسانوں میں سے ہوں گا اور مجھے دنیا کی کسی چیز کا ڈر رہے گا نہ ہوّس ۔

رہی میری عقل اور عملی زندگی تو میں نے اللہ کو ہمیشہ اپنے اتنا قریب پایا ہے کہ اس سے زیادہ قریب اور کوئی شے نہیں ہو سکتی ۔ پاکستان بننے کے بعد 1947 میں میں اور میری دونوں بہنیں سرحد پار گھر والوں سے بچھڑ گئے ۔ اُن کے 6 ہفتے بعد ہم بچوں کا بحفاظت پاکستان پہنچ جانا معجزہ سے کم نہ تھا اور یہ صرف اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی ہی کر سکتا ہے ۔ ان چھ ہفتوں میں ہمارے غم میں ہماے بزرگ اپنے حواس تقریباً کھو چکے تھے ۔

سال 1951 میں بائیسائکل پر ناشتہ کا سامان لینے جا رہا تھا ۔ بائیسائیکل فُل سائیز تھا اور میری ٹانگیں چھوٹی تھیں ۔ صبح کا وقت تھا ابھی سورج نہ نکلا تھا ۔ سڑکیں خالی تھیں ۔ اچانک پیچھے سے گھوڑے دوڑنے کی آوازیں آئیں ۔ کئی ٹانگے دوڑ لگاتے ہوئے سرپٹ بھاگتے آ رہے تھے ۔ ایک ٹانگہ میری بائیں جانب سے بالکل قریب سے گذرا ۔ فوراً ہی ایک داہنی جانب اتنا قریب سے گذرا کہ اسکا پہیہ میرے بائیسائیکل کو شدید ٹکر مارتا ہوا نکل گیا ۔ میں بائیسائیکل سمیت زمین پر گرا اور کیا دیکھتا ہوں کہ ایک اور ٹانگہ تیز بھاگتا آ رہا ہے اور اس کا پہیہ میری گردن کے اوپر سے گذرنے والا ہے ۔ اچانک میرے اللہ نے میرے بائیسائیکل کو حرکت دی اور میرا سر گھوم کر ایک طرف ہو گیا اور پہیہ میرے سر کے بالوں کُو چھُوتا ہوا گذر گیا ۔ یہ منظر ایک راہگیر بھی دیکھ رہا تھا وہ بھونچکا رہ گیا اور چند منٹ بعد مجھے زمین سے اُٹھا کر اپنے سینے سے لگا لیا اور میرے کان میں کہا "بیٹا ۔ گھر جاتے ہی کچھ اللہ کے نام پر دینا ۔ آج اللہ نے خود تمہیں پہیئے کے نیچے سے کھیچ لیا” ۔

اگست 1964 میں ایک ٹریفک کے حادثہ کے بعد میں موت کے قریب تھا پھر موت طاری ہونے لگی ۔ اردگرد کھڑے لوگوں نے کلمہ طیّبہ بآواز بلند پڑھنا شروع کر دیا لیکن کچھ دیر بعد جب جمع لوگوں کے مطابق میں مر چکا تھا میرے سوہنے اللہ نے مجھے اُٹھا کر بٹھا دیا ۔

دسمبر 1964 میں مجھے بیہوشی کی حالت میں ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ۔ میرے جسم کے اندر کوئی خون کی نالی یا نالیاں پھٹ جانے سے دو دن میں میرا اتنا خون بہہ گیا تھا کہ ہیموگلوبن 14 سے کم ہو کر 7 گرام رہ گئی تھی ۔ ڈاکٹر میری زندگی سے نا اُمید ہو گئے تھے ۔ لیکن اللہ اُن پر مسکرا رہے تھے کہ "اے بندو ۔ تمہاری زندگی اور موت میرے ہاتھ میں ہے ۔ 84 گھینٹے میں بیہوش رہا اس کے بعد 10 دن بستر سے سر بھی نہ اُٹھا سکا ۔ اور صرف 30 دن دفتر سے غیرحاضر رہنے کے بعد اللہ کی مہربانی سے کام میں ہمہ تن گوش ہو گیا کہ گویا کچھ ہوا ہی نہ تھا ۔

میں نے جون 1965 میں ڈوبتے ہوئے ایک بچے کو بچانے کیلئے تیرنا نہ جانتے ہوئے دل میں کہا "یا اللہ اس بچے کو بچا” اور پندرہ فٹ گہرے پانی میں چھلانگ لگا دی ۔ میرے پیارے اللہ نے مجھے تیرا کر باہر نکال لیا اور بچے کو بھی بچا دیا ۔

اللہ ہی اللہ کیا کرو اور دُکھ نہ کسی کو دیا کرو

Posted in آپ بيتی | 6 Comments »