What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

میری یادیں 1947ء کی ۔ تيسری اور آخری قسط

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اگست 16, 2007

 

پہلے واقع کے تین دن بعد يعنی 29 نومبر کو ایک ادھیڑ عمر اور ایک جوان خاتون اور ایک سترہ اٹھارہ سال کی لڑکی آئے ۔ جوان خاتون کی گردن میں پچھلی طرف ایک انچ چوڑا اور کافی گہرا زخم تھا جس میں پیپ پڑ چکی تھی ۔ یہ لوگ جموں میں ہمارے محلہ دار تھے ۔ لڑکی میرے ہم جماعت لڑکے ممتاز کی بڑی بہن تھی جوان خاتون اُس کی بھابھی اور بڑی خاتون اُس کی والدہ تھیں ۔ اُن کا پورا خاندان 6 نومبر والے قافلہ میں تھا ۔ انہوں نے دیکھا کہ جوان لڑکیوں کو اُٹھا کر لے جا رہے ہیں ۔ وہ بس سے نکل بھاگے ۔ ممتاز کی بھابھی اور دونوں بہنوں نے اغواء سے بچنے کے لئے نہر میں چھلانگیں لگائیں ۔ چھلانگ لگاتے ہوئے ایک کافر نے نیزے سے وار کیا جو بھابھی کی گردن میں لگا ۔ خون کا فوارہ پھوٹا اور وہ گر کر بیہوش ہوگئی ۔ پھر گولیاں چلنی شروع ہو گئیں ۔ ممتاز کی والدہ گولیوں سے بچنے کے لئے زمین پر لیٹ گئی اس کے اُوپر چار پانچ لاشیں گریں اُس کی ہڈیاں چٹخ رہی تھیں مگر وہ اُسی طرح پڑی رہی ۔ اُس نے دیکھا کہ ایک بلوائی نے ایک شیرخوار بچے کو ماں سے چھین کر ہوا میں اُچھالا اور نیزے سے ہلاک کر دیا ۔

شور شرابا ختم ہونے پر اُس خاتون کو خیال ہوا کہ بلوائی چلے گئے ۔ بڑی مشکل سے اُس نے اپنے آپ کو لاشوں کے نیچے سے نکالا اور اپنے پیاروں کو ڈھونڈنے لگی ۔ لاشوں پر اور اپنی بے چارگی پر آنسو بہاتی رہی ۔ اچانک بہو اور بیٹیوں کا خیال آیا اور دیوانہ وار نہر کی طرف بھاگی ۔ بہو نہر کے کنارے پڑی ملی اس کے منہ میں پانی ڈالا تو اس نے آنکھیں کھولیں ۔ تھوڑی دیر بعد بڑی بیٹی آ کر چیختی چلّاتی ماں اور بھابھی کے ساتھ لپٹ گئی ۔ اُس نے بتایا کہ چھوٹی بہن ڈوب گئی ۔ وہ نہر کی تہہ میں تیرتی ہوئی دور نکل گئی تھی اور واپس سب کو ڈھونڈنے آئی تھی ۔

ماں بیٹی نے زخمی خاتون کو سہارا دے کر کھڑا کیا اور اس کے بازو اپنی گردنوں کے گرد رکھ کر چل پڑے ۔ ایک نامعلوم منزل کی طرف ۔ رات ہو گئی تو جنگلی جانوروں سے بے نیاز وہیں پڑ رہیں ۔ صبح ہوئی تو پھر چل پڑیں ۔ چند گھنٹے بعد دور ایک کچا مکان نظر آیا ۔ بہو اور بیٹی کو جھاڑیوں میں چھپا کر بڑی خاتون مکان تک گئی ۔ کھانے کو کچھ نہ لائی ۔ جیب خالی تھی اور مانگنے کی جرأت نہ ہوئی ۔ جموں چھاؤنی کا راستہ پوچھا تو پتا چلا کہ ابھی تک سارا سفر غلط سمت میں طے کیا تھا ۔ چاروناچار اُلٹے پاؤں سفر شروع کیا ۔ بھوک پیاس نے ستایا تو جھاڑیوں کے سبز پتے توڑ کے کھا لئے اور ایک گڑھے میں بارش کا پانی جمع تھا جس میں کیڑے پڑ چکے تھے وہ پی لیا ۔ چلتے چلتے پاؤں سوج گئے ۔ مزید ایک دن کی مسافت کے بعد وہاں پہنچے جہاں سے وہ چلی تھیں ۔ حد نظر تک لاشیں بکھری پڑی تھیں اور ان سے بدبو پھیل رہی تھی ۔ نہر سے پانی پیا تو کچھ افاقہ ہوا اور آگے چل پڑے ۔ قریب ہی ایک ٹرانسفارمر کو اُٹھائے ہوئے چار کھمبے تھے ۔ ان سے ایک عورت کی برہنہ لاش کو اس طرح باندھا گیا تھا کہ ایک بازو ایک کھمبے سے دوسرا بازو دوسرے کھمبے سے ایک ٹانگ تیسرے کھمبے سے اور دوسری ٹانگ چوتھے کھمبے سے ۔ اس کی گردن سے ایک کاغذ لٹکایا ہوا تھا جس پر لکھا تھا یہ ہوائی جہاز پاکستان جا رہا ہے ۔

چار ہفتوں میں جو 6 نومبر 1947 کی شام کو ختم ہوئے بھارتی فوج ۔ راشٹریہ سیوک سنگ ۔ ہندو مہا سبھا اور اکالی دل کے مسلحہ لوگوں نے صوبہ جموں میں ایک لاکھ تیس ہزار کے قریب مسلمانوں کو قتل کیا جن میں مرد عورتیں جوان بوڑھے اور بچے سب شامل تھے ۔ سینکڑوں جوان لڑکیاں اغواء کر لی گئیں اور لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو پاکستان کی طرف دھکیل دیا ۔ تیس ہزار سے زائد مسلمان صرف نومبر کے پہلے چھ دنوں میں ہلاک کئے گئے ۔

Advertisements

6 Responses to “میری یادیں 1947ء کی ۔ تيسری اور آخری قسط”

  1. کھتے ھیں کھ یھ انسانی تاریخ کی بڑی ھجرتوں میں سے ایک تہی۔ دونوں طرف سے جانی نقصان بھت ھوا۔

  2. irani oveys said

    سلام
    میری بائیی
    مین اویس بادپا ایران زاهدان سی آب سی مل رابطه کرتاهون
    اور آپ سی در خواست کرتاهون کخ کراچی اور پاکستان که تالاسمیا مریضون (بیماران تالاسمی ) رابطه کرنا اور ان کی باره به معلومات همی چاهیی اگر آپ تو مجهی سی لیئی مهربانی کری که اون بیمارون
    (مریضون) کی باره کچه معلومات دیی اچها هئی

  3. سلام
    دوست خوب من
    من از ایران زاهدان با شما ارتباط برقرار می کنم
    من یک بیمار تالاسمی هستم و از شما خواهش می کنم که با من ارتباط برقرار نمایید
    لطفا در مورد بیماران تالاسمی شهر کراچی اطلاعی از شما می خواهم می توانید کمک کنید شما ره

  4. اجمل said

    افضل صاحب
    میرے علم کے مطابق یہ تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت تھی اور اس میں ہونے والے جانی نقصان بھی اپنی مثال آپ تھا ۔ ٹھیک ہے کہ نقصان دونوں جانب ہوا لیکن مسلمانوں کی اموات غیرمسلموں سے پانچ گنا سے زائد تھیں ۔

  5. اجمل said

    ایرانی بھائی
    السلام علیکم
    مجھ سے رابطہ کرنے کا شکریہ ۔ میں اسلام آباد میں رہتا ہوں ۔ یہاں تھیلاسیمیا کا کوئی ہسپتال نہیں ہے ۔ کراچی میں اس کا علاج ہوتا ہے ۔ ایک لڑکی عائشہ اس کے متعلق بتا سکتی ہے ۔ اس کے بلاگ کا ربط میں نیچے لکھ دیتا ہوں ۔ ۷ اگست کو عائشہ کے والد [ پدر ] فوت ہو گئے ہیں ۔ اس لئے جب اس کے بلاگ پر جائیں تو پہلے اس کے والد کی وفات پر افسوس کا اظہار کریں ۔
    http://ayesha.thalassemia.com.pk/

  6. سلام اجمل
    میری بهائی
    آپ کی الطاف اور مهربانی سی بهت بهت شکریه که آپ پاکستان که تهیلاسما که باره کچه معلومات دیا
    مین ایران زاهدان مین او اگر کام یهان هوا می آپ کی خدمت می حاضر هون

    ………………………..
    سلام دوست خوب و برادر عزیزم اجمل
    از محبت و لطف شما در مورد اطلاعاتی که در درباره بیماران تالاسمی پاکستان به من دادی از شما متشکرم
    من در کشور ایران و شهر زاهدان زندگی می کنم که
    چنانچه در اینجا کاری داشتی و و می توانسم برایت خدمتی بکنم من در خدمت شما هستم با من ارتباط برقرار فرمائید
    راستی برایم ننوشته بودی که فارسی بلدی یا نه من خودم اردو بلد یعنی فقط می توانم بخوانم و بفهمم اما نمی توانم صحبت کنم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: