What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

حدیث اور سُنّت کی اہمیت

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اگست 1, 2007

مسلمان ہونے کا دعویدار ایک گروہ ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ وہ صرف قرآن شریف کو مانتے ہیں اور حدیث کو نہیں ۔ ایسے لوگوں نے یا تو قرآن شریف پڑھا ہی نہیں یا صرف طوطے کی طرح پڑھا ہے ۔ سوائے اس مسلمان کے جو پاگل یا بیہوش ہو نماز کسی صورت میں معاف نہیں ۔ قرآن شریف میں نماز پڑھنے کا طریقہ ۔ ہر نماز میں کتنی رکعتیں پڑھی جائیں اور کیا پڑھا جائے کہیں بھی درج نہیں ۔ اسی طرح روزے کیسے رکھے جائیں ۔ زکوٰت کیسے دی جائے اور حج کیسے کیا جائے ۔ اس سب کی بھی تفصیل قرآن شریف میں نہیں ہے ۔ یہ سب ہمیں سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی زبان اور اپنے عمل سے بتایا اور اسی کو علٰی الترتیب حدیث اور سنّت کہتے ہیں جو پہلے تو مسلمانوں کو یاد تھیں مگر ان کے بھول جانے یا بدل جانے کے خدشہ کی وجہ سے انہیں بہت احتیاط اور چھانٹ پھٹک کے بعد کتابی شکل دی گئی ۔

سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اطاعت کرنے کے متعلق صرف چند آیات ۔

سورت ۔ 3 ۔ آل عمران ۔ آیت 31 و 32 ۔ اے نبی لوگوں سے کہہ دو "اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو ۔ اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے درگذر فرمائے گا ۔ وہ بڑا معاف کرنے والا رحیم ہے”۔ اُن سے کہو "اللہ اور رسول کی اطاعت قبول کر لو”۔ پھر اگر وہ تمہاری یہ دعوت قبول نہ کریں تو یقیناً یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ ایسے لوگوں سے محبت کرے جو اس کی اور اسکے رسول کی اطاعت سے انکار کرتے ہوں ۔

سورت ۔ 4 ۔ النّسآء ۔ آیت 13 و 14 ۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں ۔ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اُسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے ۔ اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کرے گا اُسے اللہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اُس کیلئے رسواکُن سزا ہے ۔

سورت ۔ 4 ۔ النّسآء ۔ آیت 59 ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو اللہ کے رسول کی اور اُن کی جو تم میں سے صاحبِ امر ہوں ۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو اگر تم واقعی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو ۔ یہی ایک طریقِ کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے ۔

کچھ لوگ ایسے اعمال کو حدیث قرار دے دیتے ہیں جو کہ حدیث میں موجود نہیں ہوتے یا کسی اور طریقہ میں موجود ہوتے ہیں ۔ حدیث کے حوالہ سے عام کہا جاتا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے ۔ اصل حدیث یہ ہے ” النّضافہ مِن الْایمان” یعنی صفائی ایمان کا حصہ ہے ۔

Advertisements

14 Responses to “حدیث اور سُنّت کی اہمیت”

  1. Noumaan said

    اس بارے میں ڈاکٹر فضل الرحمن کی کتاب اسلام میں کافی اچھی طرح وضاحت کی گئی ہے۔ میرے خیال میں حدیث اور سنت نبوی کو سمجھنے اور اس کی دین اسلام میں اہمیت کو سمجھنے کے لئے مسلمان طالبعلموں کو یہ کتاب پڑھنی چاہئے۔

    امید ہے اس بارے میں آپ مزید لکھیں گے۔ نماز کی اہمیت کے بارے میں بھی اگر مزید لکھیں تو بہت اچھا ہوگا۔ ایک اور موضوع جس کو عموما نظر انداز کردیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ قرآن پڑھنے، احادیث مبارکہ پڑھنے یا دین کے مطالعے کا طریقہ کار کے بارے میں بھی لکھا جائے خصوصا انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کے ذریعے دین کادرست مطالعہ کیسے کیا جائے اور کس طرح ہم یہ اندازہ لگائیں کہ آیا جو معلومات ہم حاصل کررہے ہیں وہ مستند ہے یا نہیں۔

  2. اجمل صاحب
    آپ نے ایک اچھے موضوع پر لکھا مگر مختصر۔ نعمان صاحب کی طرح ہم بھی یھی گزارش کریں گے کہ اس پر مزید روشنی ڈالیں۔
    سکول کے زمانے میں ہم نے نصف ایمان کے بارے میں جو حدیث سن رکھی ہے وہ اطہارت نصف الایمان ہے۔
    احادیث کا انکار کرنے والوں کیلیے یہ چیلنج ہے کہ وہ یہ ثابت کریں کہ احادیث کی غیر موجودگی میں ارکان اسلام کی ادائیگی کس طرح کی جائے۔ امید ہے ان کی طرف سے ضرور جواب آئے گا اور اس طرح یہ بحث آگے بڑھے گی۔

  3. اجمل said

    نعمان صاحب
    ہو سکتا ہے اس نام کے دو آدمی ہوں ایک ڈاکٹر فضل الرحمٰن متنازیہ ہیں ۔ میں عالمِ دین تو نہیں ہوں لکین اللہ کی دی ہوئی توفیق سے کبھی کبھی اپنی سمجھ کے مطابق لکھتا رہتا ہوں ۔ وجہ یہ ہے کہ مجھے آج سے 52 سال قبل محسوس ہوا تھا کہ صرف مسلمان والدین کی اولاد ہونے سے آدمی مسلمان نہیں ہو جاتا ۔ مسلمان بننے کیلئے دین کو سمجھنا ضروری ہے ۔ میں انشاء اللہ آئیندہ بھی لکھتا رہوں گا ۔ لیکن میرے لکھے کو حرفِ آخر نہ سمجھا جائے ۔ اس پر بحث ہو سکتی ہے جس سے میرے علم میں بھی اضافہ ہو گا ۔

    انٹرنیٹ پر کئی ربط قابلِ اعتبار ہیں ۔ میں انشاء اللہ جلد اس بارے میں لکھوں گا ۔

  4. اجمل said

    افضل صاحب
    حقیقت یہ ہے کہ کئی بھائیوں نے کئی ماہ پہلے مجھے یہی کچھ کہا اور میں نے لکھنے کی تیاری شروع کی مگر حالات کچھ اس طرح پلٹا کھاتے رہے کہ تاخیر ہوتی گئی ۔ انشاء اللہ جلد مزید لکھنے کی کوشش کروں گا ۔

  5. السلام علیکم،۔
    صفأی نصف ایمان سے متعلق جس حدیث کا ذکر کیا گیا وہ صحیح مسلم کی کتاب الطہارۃ میں ہے:۔
    حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا أَبَانٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، أَنَّ زَيْدًا، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلاَّمٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏”‏ الطُّهُورُ شَطْرُ الإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلأُ الْمِيزَانَ ‏.‏ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلآنِ – أَوْ تَمْلأُ – مَا بَيْنَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَالصَّلاَةُ نُورٌ وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا ‏”۔
    ۔۔۔۔
    شطر معنی آدھا۔
    والسلام

  6. زکریا said

    <a href=”http://www.usc.edu/dept/MSA/fundamentals/hadithsunnah/muslim/002.smt.html#002.0432″صفائی نصف ایمان

    حدیث کے متعلق بات نہیں کروں گا کہ ہر انسان کا اپنا نظریہ ہے۔ صرف یہ کہوں گا کہ آجکل مسلمانوں کو ایک آدھی حدیث سیکھ کر سنانے کی عادت پڑ گئی ہے اور حدیث کو سمجھنا کافی مشکل کام ہے۔

  7. اجمل said

    ابو حلیمہ صاحب
    شکر کا مطلب آدھا یا نصف نہیں ہوتا بلکہ شطر کا مطلب طرف یا سمت ہوتا ہے ۔ ملاحظہ ہو ۔ سُورة ۔ 2 ۔ الْبَقَرَة ۔ آیة ۔ 144
    قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّواْ وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوْتُواْ الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ وَمَا اللّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ
    [اے حبیب] ہم بار بار آپ کے رُخِ انور کا آسمان کی طرف پلٹنا دیکھ رہے ہیں، سو ہم ضرور بالضرور آپ کو اسی قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس پر آپ راضی ہیں، پس آپ اپنا رخ ابھی مسجدِ حرام کی طرف پھیر لیجئے، اور (اے مسلمانو!) تم جہاں کہیں بھی ہو پس اپنے چہرے اسی کی طرف پھیر لو، اور وہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی ہے ضرور جانتے ہیں کہ یہ [تحویلِ قبلہ کا حکم] ان کے رب کی طرف سے حق ہے، اور اﷲ ان کاموں سے بے خبر نہیں جو وہ انجام دے رہے ہیں

  8. اجمل said

    زکریا بیٹے
    کوئی کام مشکل نہیں ہوتا اگر اسے مناسب توجہ اور وقت دیا جائے ۔ قرآن و حدیث کے بارے میں بھی اسی طرح محتاط ہونا پڑتا ہے جس طرح سائنس کیلئے ہونا پڑتا ہے ۔ اگر ہر چیز یا بات کو سیاست کی طرح لیا جائے تو نتیجہ وہی ہوتا ہے جو موجودہ دور میں ہماری قوم کا ہے ۔

  9. باسم said

    شطر کا معنی سمت بھی ہے اور نصف بھی
    یعنی دونوں معنوں کیلیے استعمال ہوتا ہے
    عربی سے انگریزی لغت دیکھیے
    http://dictionary.sakhr.com/idrisidic_2MM.asp?Lang=A-E&Sub=%d4%d8%d1
    سمت کے معنی کیلیے تو آیت کافی ہے
    نصف کے معنی کیلیے انگریزی سے عربی لغت کا یہ لنک دیکھیے
    http://www.babylon.com/define/98/English-Arabic-Dictionary-Online.html
    دائیں طرف half کا ایک معنی شطر بھی لکھا ہے
    درستگی فرمالیں

  10. اجمل said

    باسم صاحب
    آپ کا شکریہ آپ نے کافی محنت کی ۔ کسی زبان کو صرف ڈکشنری سے سیکھنا مشکل کام ہے ۔ بالخصوص عربی اور لاطینی کو ڈکشنری سے سیکھنا بہت مشکل ہے کیونکہ ان میں معنی استعمال اور موقع محل کے مطابق بدلتے ہیں ۔ میں نے حدیث لکھی تھی "النّضافہ من الایمان” جو واضہ ہے ۔ اسی کو مخلتف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ۔ عربی زبان میں ایک ہی بات کئی طریقوں سے کہی جا سکتی ہے ۔ میں نے ترجمہ ایک عربی دان سے پوچھا تھا اور اس کے بعد اپنی یادداشت سے آیت لکھ دی تھی ۔ اگر معنی آدھا لیتے ہیں تو آدھا ایمان صفائی ہو گئی ۔ عربی محاورہ میں یہ منطبق نہیں ہوتا ۔

  11. Roghani said

    “یہ سب ہمیں سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی زبان اور اپنے عمل سے بتایا اور اسی کو علٰی الترتیب حدیث اور سنّت کہتے ہیں جو پہلے تو مسلمانوں کو یاد تھیں مگر ان کے بھول جانے یا بدل جانے کے خدشہ کی وجہ سے انہیں بہت احتیاط اور چھانٹ پھٹک کے بعد کتابی شکل دی گئی ۔“

    آپ کے درجہ بالا ارشاد کا مطلب یہی ہوا کہ حدیث اور سنت ایک ہی چیز ہے اور آخر میں انہیں حدیث کے کتابوں میں جمع کیا گیا ہے ۔ حالانکہ ایسا نہیں ۔ حدیث اور سنت دو الگ الگ چیزیں ہیں ۔ سنت سے مراد دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تجدید و اصلاح کے بعد اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے ۔ یہ تعداد میں 27 ہیں ۔ سنت اور قرآن میں ثبوت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر و تسویب کی روایتیں جو زیادہ تر اخبار آحاد کے طریقے پر نقل ہوئی ہیں ، انہیں اصلاح میں حدیث کہا جاتا ہے ۔

  12. اجمل said

    روغانی صاحب
    ذرا غور سے میری تحریر پڑھیئے اور بتائیے کہ میں نے کہاں لکھا ہے حدیث اور سنّت ایک ہی چیز ہے ؟
    آپ نے سنّت کے متعلق لکھا ہے ۔ "اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے” ۔ میں تو پچھلے پچاس ساٹھ سال سے سمجھتا رہا کہ جس عمل کی وضاحت قرآن میں نہیں اسے سنّت اور حدیث سے واضح کیا گیا ۔
    آپ نے سنّت کی تعداد 27 لکھی ہے ۔ از راہِ کرم ان کی فہرست مہیا کر دیجئے تاکہ بات میری سمجھ میں آ جائے ۔

  13. Roghani said

    اجمل صاحب سنن یہ ہیں‌ :

    1۔اللہ کا نام لے کر اور دائیں ہاتھ سے کھانا پینا، 2۔ملاقات کے موقع پر السلام علیکم اور اس کا جواب،3۔چھینک آنے پر الحمد اللہ اور اس کے جواب میں یرحمک اللہ،4۔نومولود کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت، 5۔مونچھیں پست رکھنا ، 6۔زیرناف کے بال مونڈنا ، 7۔بغل کے بال صاف کرنا ،8۔لڑکوں کا ختنہ کرنا ، 9۔بڑھے ہوئے ناخن کاٹنا ، 10۔ناک ، منہ اور دانتوں کی صفائی ، 11۔استنجا ، 12۔حیض و نفاس میں زن و شو سے اجتناب ، 13۔حیض و نفاس کے بعد غسل، 14۔غسل جنابت ، 15۔ میت کا غسل ، 16۔تجہیز و تکفین ، 17۔تدفین ، 18۔عید الفطر ، 19۔ عید الاضحٰی ، 20۔اللہ کا نام لے کر جانوروں کا تذکیہ (یعنی ذبح کرنا) ، 21۔نکاح و طلاق اور ان کے متعلقات ( یعنی متعلقہ امور)، 22۔ زکوۃ اور اس کے متعلقات ، 23۔نماز اور اس کے متعلقات ، 24۔روزہ اور صدقہ فطر ، 25۔اعتکاف ، 26۔ قربانی ، 27۔ حج و عمرہ اور ان کے متعلقات (میزان: جاوید احمد غامدی)

  14. اجمل said

    روغانی صاحب
    آپ نے جو ستائیس سنّت لکھی ہیں ان میں کم از کم ایک درجن قرآن شریف میں بطور اللہ سبحانُہُ تعالٰی کے حکم کے موجود ہیں ۔ آپ کی تحریر سے دو اہم سوال جنم لیتے ہیں ۔
    پہلا سوال ۔ کیا قرآن شریف میں مرقوم اللہ سبحانُہُ و تعالٰی کے باقی احکام سنّت میں شامل نہیں ہیں ؟
    دوسرا سوال ۔ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے باقی فعل سنّت میں شامل نہیں ہیں ؟

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: