What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

ہم کدھر جا رہے ہیں ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 30, 2007

کچھ سالوں سے ایک مہم زوروں پر تھی کہ پاکستان کو لادینی [Secular] ریاست ہونا چاہئیے ۔ پھر ثبوت کے طور پر قائد اعظم محمد علی جناح کی صرف ایک تقریر کو جواز بنانا شروع کیا گیا جس میں قائداعظم نے پاکستان کی پہلی منتخب اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب کوئی ہندو ۔ سکھ ۔ عیسائی نہیں ۔ حقیقت میں یہ اسلامی ریاست کے اصول کی ترویج تھی ۔ پھر بغیر کسی ثبوت کے یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان تو بنایا ہی لادینی ریاست کے طور پر تھا ۔ قائداعظم کی سب تقاریر اور لوگوں کی امنگوں کا اظہار گویا سب جھوٹ تھا ۔ یہ بحث چلتی رہی ۔ دین سے آزادی چاہنے والے اپنی ہر قسم کی اہلیت بروئے کار لاتے رہے ۔ ملکی ذرائع ابلاغ کی اکثریت میں بھی دین بیزار مضامین کی بھرمار رہی ۔ مگر اس تصوّر کو خاص ستائش پھر بھی نہ ملی ۔ پھر ان لوگوں نے مولویوں کی طرف منہ موڑا اور ان کی تضحیک و تمسخر میں انسانیت کی حدیں پھلانگ گئے ۔ یہ سب کچھ موجودہ حکومت کی امریکہ غلامی کے زیرِ سایہ ہوتا رہا ۔

پھر فوج کشی مکمل ہونے کے بعد ابھی لال مسجد اور جامعہ حفصہ سُلگ رہے تھے کہ وسط جولائی میں جیو ٹی وی پر ایک مباحثہ دکھایا گیا جس میں ایک علامہ نقوی صاحب تھے ۔ ایک بالکل بے ضرر قسم کے غالباً سُنّی مولوی تھے اور ایک جدید زمانہ کی خاتون ۔ سب سے پہلے علامہ نقوی صاحب کو موقع دیا گیا ۔ انہوں نے فرمایا کہ اسلام میں ریاست کا کوئی تصور ہی نہیں ہے اس میں تو صرف نبوّت کی بات کی گئی ہے اور یہ بھی کہا کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے لے کر اب تک کوئی اسلامی ریاست قائم نہیں ہوئی ۔ شائد ان کا مسلک اس لحاظ سے ٹھیک ہو کہ وہ کسی خلیفہ کو مانتے ہی نہیں ۔ دوسرے مولوی صاحب نے قرآن شریف کی ایک آیت پڑھ کر کہا کہ صرف اسی سے ریاست کا تصور مل جاتا ہے لیکن ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ محترمہ کی تقریر شروع ہو گئی اور انہوں نے کہا کہ قرآن میں واضح کیا گیا ہے کہ دین کا ریاست کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اسی لئے قرآن میں ریاست کے امور کا کوئی ذکر نہیں ۔ محترمہ نے یہ بھی کہا کہ صلح حدیبیہ کے مضمون کے شروع میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نہیں لکھا گیا بلکہ وہ لکھا گیا جو انگریزی میں اَو گاڈ ہوتا ہے ۔ ان کے مطابق اس سے بھی ثابت ہوا کہ دین کا ریاست کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ محترمہ نے اپنی تُند و تیز آواز کا بھر پور فائدہ اُٹھایا اور کسی کو بولنے نہ دیا ۔

صلح حدیبیہ کے وقت اور حالات کا تدارک کیا جائے تو سمجھ میں آ جاتا ہے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کی بجائے یا اللہ کیوں لکھا گیا لیکن محتمہ اتنی ترقی کر گئی تھیں کہ ان کو "یا اللہ” تو معلوم نہ تھا "او گاڈ” معلوم تھا ۔ بہرحال یہ اوائل اسلام کا واقعہ ہے اس وقت یا اللہ لکھنا بھی بڑی بات تھی کیونکہ مکہ کے کافر مسلمانوں کی کوئی بات ماننے کیلئے تیار نہ تھے ۔ باقی لگتا ہے کہ محترمہ نے قرآن شریف کبھی پڑھا ہی نہیں کیونکہ قرآن شریف میں سارے ریاستی امور کی حدود مقرر کی گئی ہیں جو میں انشاء اللہ پھر کبھی تحریر کروں گا [میں حدود آرڈیننس کی بات نہیں کر رہا ۔ حد کی کی جمع حدود کی بات کر رہا ہوں]

پی ٹی وی اور جیو ٹی وی پر چُن چُن کر ایسے لوگ بُلائے جاتے ہیں کہ دین اسلام کی تضحیک کی جا سکے یا اسے صیہونی رنگ میں پیش کیا جا سکے یا ثابت کیا جا سکے چودہ سو سال پرانا دین آج کے ترقی یافتہ دور میں نہیں چل سکتا ۔ یہ سب کچھ وہ لوگ کر رہے ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ۔ کسی نے شائد ان کے متعلق ہی کہا تھا "ہو دوست تم جسکے ۔ دشمن اسکا آسماں کیوں ہو”۔

جولائی ہی میں ایک فلم "خدا کیلئے” بہت زیادہ اشتہاربازی کے بعد ریلیز کی گئی ۔ خیال رہے کہ کوئی فلم حکومت کی منظوری کے بغیر ریلیز نہیں ہو سکتی ۔ سُنا گیا ہے کہ اس فلم میں ایک مسلم عالم دکھایا گیا ہے جس سے دو فقرے کہلوائے گئے ہیں ۔

ایک ۔ اسلام میں مسلم لڑکی کو عیسائی لڑکے سے شادی کی اجازت ہے
دوسرا ۔ اسلام میں موسیقی کی ممانعت نہیں

جہاں تک مسلم لڑکی کی غیر مسلم لڑکے سے شادی کا تعلق ہے تو اسکی سورةت ة 2 ۔ البقرہ ة ۔ آیت 221 میں صریح ممانعت کی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ سورت نمبر 5 ۔ المآئد ہ  ۔ آیت 51 ۔ سورت ة نمبر 9 ۔ التوبہ ۔ آیات 84 اور 113 ۔ ان آیات میں یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست بنانے ۔ غیر مسلموں کا جنازہ پڑھنے اور خواہ وہ رشتہ دار ہوں ان کیلئے دعائے مغفرت کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے ۔ [آیات کا ترجمہ نیچے نقل کیا ہے]

جہاں تک موسیقی کا تعلق ہے تو ہر وہ چیز جو یادِ الٰہی سے غافل کر دے اس کی قرآن شریف میں ممانعت کی گئی ہے ۔ موسیقی کے علاوہ تاش کھیلنا اور دیگر کئی عمل بھی ایسے ہیں جو یادِ الٰہی سے غافل کرتے ہیں ۔ اس کے متعلق متعدد آیات ہیں ۔ عدنان صاحب جو کسی زمانہ میں موسیقی کے رَسیا تھے اور یہ فلم بنانے والے شعیب منصور کے مداح بھی انہوں نے اپنے روزنامچہ پر اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے ۔

اب تک جو کچھ ہو چکا ہے اسے اس تناظر میں دیکھا جائے تو صرف ایک احساس اُبھرتا ہے کہ ہمارے ملک پر پرویز مشرف کی حکومت بھی نہیں بلکہ صیہونیوں اور انتہاء پسند عیسائیوں کی حکومت ہے ۔

سور ت 2 ۔ البقرہ  ۔ آیت 221
اور تم مشرک عورتوں کے ساتھ نکاح مت کرو جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائیں، اور بیشک مسلمان لونڈی (آزاد) مشرک عورت سے بہتر ہے خواہ وہ تمہیں بھلی ہی لگے، اور (مسلمان عورتوں کا) مشرک مردوں سے بھی نکاح نہ کرو جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائیں، اور یقیناً مشرک مرد سے مؤمن غلام بہتر ہے خواہ وہ تمہیں بھلا ہی لگے،

سورت نمبر ة 5 ۔ المآئدةہ ۔ آیت 51 ۔
اے ایمان والو! یہود اور نصارٰی کو دوست مت بناؤ یہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور تم میں سے جو شخص ان کو دوست بنائے گا بیشک وہ ان میں سے ہو گا، یقیناً اﷲ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا

سورة ت نمبر 9 ۔ التوبہ ۔ آیت 84
اور آپ کبھی بھی ان میں سے جو کوئی مر جائے اس (کے جنازے) پر نماز نہ پڑھیں اور نہ ہی آپ اس کی قبر پر کھڑے ہوں ۔ بیشک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور وہ نافرمان ہونے کی حالت میں ہی مر گئے

سورت ة نمبر 9 ۔ التوبہ ۔ آیت 113
نبی اور ایمان والوں کی شان کے لائق نہیں کہ مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت کریں اگرچہ وہ قرابت دار ہی ہوں اس کے بعد کہ ان کے لئے واضح ہو چکا کہ وہ (مشرکین) اہلِ جہنم ہیں

Advertisements

19 Responses to “ہم کدھر جا رہے ہیں ؟”

  1. انکل سورۃ البقرۃ کی آیت 221 کا حوالہ دے کر اچھا کیا!

  2. راہبر said

    میرے نزدیک یہ پرویز مشرف کی حکومت کا سنگین ترین پہلو ہے کہ جس طرح اسلام اور اسلام سے قلبی لگاؤ رکھنے والوں کو ذلیل اور بدنام کیا گیا ہے، اس کی مثال پچھلے کسی دور میں نہیں ملتی۔ اسلام سے وابستی اور لفظ "مولوی” یا "ملا” کو تضحیک کی علامت بنادیا گیا ہے۔ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے یہ۔

  3. اجمل said

    شعیب صفدر صاحب
    دع کیا کئجئے کہ اللہ مجھے عقل اور ہمت عطا کرے کہ میں صحیح لکھتا رہوں

    رہبر صاحب
    جب لوگ اللہ سے دور ہو جاتے ہیں تو انہیں اللہ کا نام لینے والے بُرے لگنے لگتے ہیں

  4. wahaj said

    Ajmal bhai you have given the correct Aya ref. but the point is not clear for some who may not be familiar with other aya in S. Al-Maida. The numbering of some ayat in S. V is different so I am quoting the translation here. (Allama Yusuf Ali, marks it as 6th aya from whom I am giving quote)This also very well-known aya.
    "This day are all things good and pure made lawful to you………….(Lawful unto you in marriage) are (not only) chaste women who are believers, but chaste women among the people of the book revealed before time…………….”
    This aya clearly says that a Muslim man can marry a woman from Jews or Christians but says nothing for a Muslim woman (that she can marry a Christian or Jew.This cannot mean that Muslimah can marry a Christian or a Jew (I am aware of some such marriages in this country, but I think that is because some parents agree, (majbooran) to their daughter’s request knowing that it is haram
    Also,I am writing this additional part because years ago I was told Imam Waris D Muhammad (son of Elijah) had allowed marriage between a Muslim girl and a Christian man. I could not confirm this "news”. You have been in the West and I know you are as acutely aware of this problem as I am (have been in the West for over45 years now) and I know you have better understanding of Qur’an than myself. I face this subject frequently, so I had to make a thorough study. Some may say on the Baqara Aya you have quoted, that the prohibition is for "mushrik” and not man from "the people of the book” and therefore I feel the above aya, that I have added needs to be given also. I am fully aware of the fact that you are familiar with it and many more Muslims are also aware and I also know some "Moderates” may still be unconvinced but still I felt I should quote that.
    Allah apko jaza-e-khair day

  5. اجمل said

    بھائی وہاج احمد صاحب
    پہلی بات تو یہ ہے کہ قرآن شریف کی کسی بھی مصدّقہ تحریر میں آیت نمبر کا کوئی فرق نہیں ہے ۔ عام طور پر انگریزی میں آیت نمبر آیت کے شروع لکھا جاتا ہے اور اُردو یا عربی میں عام طور پر آیت کے آخر میں لکھا جاتا ہے ۔

    جہاں تک میرا ذہن کام کرتا ہے قرآن شریف میں اہلِ کتاب کے متعلق سے شادی کا ذکر ہے یہودیوں اور عیسائیوں کا نہیں ۔ قرآن شریف میں کئی جگہ بتایا گیا ہے کہ اہلِ کتاب کون ہیں اور اپنے آپ کو یہودی یا عیسائی کہنے والے کون ہیں ۔ آپ سورت المآئدہ ہی پڑھ کر دیکھ لیجئے ۔
    جن لوگوں نے سیّدنا عیسٰی کو خدا یا خدا کا بیٹا کہا وہ مشرک ہو گئے ۔ پھر جب اللہ نے دین اسلام کو دین مقرر کر دیا اور دین مکمل کرنے کی حجّت تمام کردی تو پھر جنہوں نے قرآن شریف کو نہ مانا وہ کافر اور مشرک ٹھہرے ۔
    ایک بات کا خیال رکھیں کہ اہلِ کتاب سے شادی کی اجازت دی گئی یہ نہیں کہا گیا کہ مسلمانوں کی بیویاں غیر مسلم ہو سکتی ہیں ۔ چنانچہ سورت بقرہ کی آیت جو میں نے اُوپر نقل کی ہے وہ ہر لحاظ سے لاگو ہے ۔

    جہاں تک میرا مطالعہ ہے علیجاہ نے دین میں کچھ عوامل اپنی طرف سے ڈالے تھے ۔ میرے خیال میں وہ مستند دینی عالم نہیں ہوتا جو قرآن اور سنّت کے علاوہ اپنی طرف سے کوئی ایسا عمل پیش کرے جس کا قرآن یا سنّت سے ٹکراؤ ہو ۔

    میں جانتا ہوں کہ کئی مسلم مردوں کی بیویاں غیر مسلم ہیں اور کئی اور کئی مسلم عورتوں کے خاوند غیرمسلم ہیں اور ان میں سے کئی اسی آیت کے حوالہ سے اپنے آپ کو جھوٹی تسلی دیتے ہیں جس کا حوالہ آپ نے دیا ہے

  6. اجمل said

    بھائی وہاج احمد صاحب
    اس وقت مجھے کہیں جانا تھا اس لئے مکمل جواب نہ لکھ سکا ۔ آپ نے سورت المآئدہ آیت 5 کا حوالہ دیا ہے

    الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلاَ مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ وَمَن يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ

    جس کا اُردو ترجمہ ہے ۔

    کُل چیزیں آج تمہارے لئے حلال کی گئیں اور اہلِ کتاب کا ذبیحہ تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کیلئے حلال ہے اور پاکدامن مسلمان عورتیں اور جو لوگ تم سے پہلے کتاب دئیے گئے ہیں ان کی پاک پاکدامن عورتیں بھی حلال ہیں جبکہ تم ان کے مہر ادا کرو اس طرح کہ تم ان سے باقاعدہ نکاح کرو یہ نہیں کہ اعلانیہ زنا کرو یا پوشیدہ بدکاری کرو ۔ منکرینِ ایمان کے اعمال ضائع اور اکارت ہیں اور آخرت میں وہ ہارنے والوں میں سے ہیں ۔

    عبداللہ یوسف علی صاحب کا لکھا ہوا انگریزی ترجمہ ہے

    This day are (all) things good and pure made lawful unto you. The food of the People of the Book is lawful unto you and yours is lawful unto them. (Lawful unto you in marriage) are (not only) chaste women who are believers, but chaste women among the People of the Book, revealed before your time,- when ye give them their due dowers, and desire chastity, not lewdness, nor secret intrigues if any one rejects faith, fruitless is his work, and in the Hereafter he will be in the ranks of those who have lost (all spiritual good).

    ان دونوں تراجم سے کہاں واضح ہوتا ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں سے شادی جائز ہے ؟ ذرا غور کیجئے کہ صرف مردوں کو کیوں اجازت دی گئی تھی ؟

  7. زکریا said

    اگر یہودیوں اور عیسائیوں سے شادی جائز نہیں تو پھر پچھلے چودہ سو سال کے بیشتر علمائ غلط ہیں۔

  8. اجمل said

    زکريا بيٹے
    ايسي اہلِ کتاب عورتوں سے شادي کي اجازت دي گئي جو پاکدامن ہوں اور مشرک نہ ہوں ۔ اگر وہ مشرک ہوں تو ان سے شادي نہيں ہو سکتي جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائيں ۔ 1400 سال پہلے ايسے يہودي اور عيسائي تھے جو کہ مشرک نہيں تھے اور ان ميں سے بہت سے بعد ميں مسلمان بھي ہو گئے ۔

  9. Adnan Siddiqi said

    Zakarya,

    Muslim men are allowed to marry with People of Book only. It’s not said that Muslim women have been allowed to marry People of book or other non-Muslims. A big difference.

    Rahbar bhai, mujhe urdu me likhne mey diqqat hoti lehaza maaf kijieyee.

    Agar aap Islam k tareekh-e-Islami par nazar dalain tu isse badtar misalain miley gi chahye aap Imam Malik(RA) ki history parhain ya kisi aur ki. Hajaj aur Akbar jaise log hamesha se bharay paray hain.

  10. اجمل said

    عدنان صدیقی صاحب
    تبصرہ کا شکریہ ۔ آپ نے درست کہا ہے کہ مسلمان مردوں کو اہلِ کتاب عورتوں سے شادی کی اجازت دی گئی تھی اور اس کی وجہ بھی بیان کی گئی ہے "یہ نہیں کہ اعلانیہ زنا کرو یا پوشیدہ بدکاری کرو”۔

    اگر آپ کے کمپیوٹر پر ونڈوز ایکس پی ہے تو مین آپ کو اردو لکھنے کا آسان طریقہ لکھ کر بھیج سکتا ہوں ۔

    آپ کی آخری بات کے بارے میں عرض ہے کہ شیطان تو اول روز سے ہی انسان کا دشمن ہے ۔ نبی آخرالزماں سے پہلے نبیوں کی کتنی اذیتیں دی گئیں اور کئی قتل کئے گئے ۔

  11. زکریا said

    یہ خیال کہ 1400 سال پہلے کے یہودی اور عیسائی مشرک نہ تھے بلکہ اہل کتاب تھے اور آج کے مشرک ہیں کافی غلط معلوم ہوتا ہے۔ تقریبا تمام فقہاء کا اس سے اختلاف ہے۔ سب یہی کہتے ہیں کہ اہل کتاب سے مراد عیسائی اور یہودی ہیں اور کوئی اس پر مزید شرائط نہیں ڈالتا (سوائے پاکدامنی کے)۔

    عدنان: آپ کے جواب کا میرے تبصرے سے کوئی تعلق نہیں۔

  12. اجمل said

    زکریا بیٹے
    میں نے یہ نہیں کہا کہ آج کے دور میں سب یہودی اور عیسائی مشرک ہیں ۔ علماء یا فقہاء کو شرط لگانے یا نہ لگانے کا حق کس نے دیا ہے جبکہ بات قرآن شریف سے واضح ہے ۔ آپ کے اس سوال کی وجہ سے میں دونوں متعلقہ آیات آج ہی اس روزنامہ پر لکھ رہا ہوں ۔ پڑھ لیں ۔

  13. فہد احمد (ابو شامل) said

    کوئی شخص خلاف شریعت کوئی بھی کام کرے اور اس امر کو تسلیم کرے کہ میں یہ غلط کر رہا ہوں، اور اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، یہ صرف میرا ذاتی فعل ہے، یہاں تک تو بات درست ہے لیکن موجودہ دور میں ایسے نام نہاد اسکالر تک سامنے آ گئے ہیں جو اپنے قبیح افعال کی توجیہ اسلام سے پیش کرتے ہیں اور ان کی دیکھا دیکھی نام نہاد "روشن خیال” افراد بھی ان ان اسلامی احکامات کو اپنی نفسانی خواہشات کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں جن پر گذشتہ 1400 سالوں سے مسلمانوں کو کوئی اختلاف نہ تھا، پھر اس پر طرہ یہ کہ ان عناصر کی بھرپور حوصلہ افزائی بھی ہو رہی ہے، ہر سطح پر ہر پیمانے پر، اور پاکستان کے نجی ٹی وی چینل تو ان کو ہاتھوں ہاتھ لے رہے ہیں، کیونکہ انہیں کھولا ہی اس مقصد کے لیے گیا تھا کہ پاکستانیوں کی بنیادی اقدار اور عقائد کو بدل دو۔ اب موسیقی پر پابندی ہی کو لیجیے، یہ ان چند احکامات میں سے ہے جن پر اسلام کے تمام فرقوں کے درمیان بہت کم اختلاف ہے، کم از کم تمام بڑے مسالک تو موسیقی کو حرام سمجھتے ہی ہیں لیکن یہ طاغوت کے ٹکڑوں پر پلنے والے "روشن خیال” (چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر) نام نہاد اسکالرز اس سے بھی کہیں آگے بڑھ کر مسلمان عورت کی غیر مسلم سے شادی حتی کہ بہت جلد زنا بالرضا کو بھی جائز قرار دے دیں گے۔ اللہ ہمیں اس دور فتنہ گر میں اپنی امان میں رکھے

  14. Roghani said

    اجمل صاحب نے دو مباحث شروع کرائے ہیں ۔ ایک اہل کتاب سے شادی اور دوسری موسیقی کی حرمت کے حوالے سے ۔

    مجھے پہلے سے موضوع پر زیادہ معلومات نہیں تاہم آپ لوگوں نے موسیقی کی حرمت پر اپنی طرف سے گویا مہر ہی ثبت کردی ہے ، یہ دیکھے بغیر کہ قرآن اور حدیث اس بارے میں کیا کہتا ہے ۔ ہمارے خیال میں قرآن میں کسی بھی مقام پر موسیقی کی حرمت کا ذکر نہیں آیا اور نہ ہی اس کی حرمت کسی حدیث سے اب تک ثابت کی جاسکی ہے ۔ آپ لوگوں نے جذبات میں‌ آکر ان علما کی توہین کی ہے جو موسیقی کی اباحت (اباحت سے مراد کسی چیز کا مباح یا جائز ہونا ہے) کے قائل ہیں ۔ تاہم موسیقی کی اباحت چند شرائط اور حدود و قیود کے اندر ہے ۔ جو علما اباحبت کے قائل ہیں ان میں مجھے اس وقت عالم عرب کے متبحر اور جدید عالم دین علامہ یوسف القرضاوی ، مولانا جعفر شاہ پھلواری اور جناب جاوید احمد غامدی کے نام یاد آرہے ہیں ۔

  15. اجمل said

    روغانی صاحب
    محترم ۔ میں نے کبھی دعوٰی نہیں کیا کہ میں بہت پڑھا لکھا ہوں بلکہ ہمیشہ یہی کہا ہے کہ میں طالب علم ہوں ۔ آپ غور سے پڑھیئے کہ میں نے کیا لکھا ہے ۔ البتہ اگر آپ کا استدلال صحیح سمجھ لیا جائے تو تو پھر اُن کئی چیزوں کا کیا ہوگا جن کی حرمت کا ذکر قرآن و سنّت میں نہیں ہے مگر حرام ہیں ۔ میں بحث میں پڑنا مناسب نہیں سمجھتا ۔ آپ جن چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں ان کی مکمل فہرست بنا لیجئے اور پھر قرآن اور حدیث میں تلاش کیجئے کہ سب کا ذکر ہے ؟

    یہ علماء کی توہین والا فلسفہ میری سمجھ میں نہیں آیا ۔ کیا ان حضرات نے قرآن اور سنّت سے ثابت کیا ہے کہ موسیقی حلال ہے ؟ اگر نہیں تو پھر ان کا بیان ان کی رائے ہے اور میرا بیان میری رائے ۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ جس عمل کا ذکر قرآن و سنّت میں نہیں اس پر اختلاف رائے جائز ہے ؟

    موجودہ حکومت نے قرآن اور سنّت کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے حقوقِ نسواں بل منظور کیا ۔ کیا جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے اس کے خلاف آواز اُٹھائی تھی ؟ اگر نہیں تو یہ کیسے عالمِ دین ہیں ؟

  16. Roghani said

    محترمی

    1۔ میں نے سب کو مخاطب کیا تھا جن میں تبصرہ نگار بھی شامل تھے اور مجھ سے پہلے تبصرہ کرنے والے حضرت ابوفہد نے تبصرے میں مخالف رائے رکھنے والوں کو طاعوت کے ٹکڑوں پر پلنے والے روشن خیالوں سے تعبیر کیا تھا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی سنجیدہ بحث کے لئے اس طرح کے الفاظ کسی طرح بھی موزوں نہیں ۔ اپنی رائے دیجئے ؛ دوسرے کی سنیئے اور جس رائے پر اطمینان ہو اس پر عمل کیجئے ۔ یہی صحیح طریقہ ہے ۔

    2۔ “اُن کئی چیزوں کا کیا ہوگا جن کی حرمت کا ذکر قرآن و سنّت میں نہیں ہے“
    حضرت والا ایسا ممکن ہی نہیں ۔ اللہ تعالی نے اس دین کی تکمیل کردی ہے ، اسے مکمل کرکے ہمارے سپرد کیا ہے ۔ آپ کو ہر چیز قرآن و سنت میں ملے گی کیونکہ یہی دین ہے ۔ آپ کو کسی چیز کی حرمت یا عدم حرمت قرآن سے ہی ثابت کرنے پڑے گی اور ہاں ان علما نے یہی کیا ہے ۔ ماہنامہ اشراق کا ایک خصوصی نمبر (اسلام اور موسیقی ) اس موضوع پر نکلا ہے اور آپ کسی سے منگوا کر مطالعہ کرسکتے ہیں ۔

    3۔ بالکل اختلاف رائے جائز ہے ۔

    4۔ شائد آپ کو یاد نہیں کہ جاوید احمد غامدی نے حقوق نسواں بل پر اختلاف رائے کی وجہ سے اسلامی نظریاتی کونسل سے استعفٰی دیا تھا اور اس طرح انہوں نے اپنا احتجاج ریکارڈ کردیا ہے ۔ انہوں نے اس بل پر سخت تنقید کی تھی اور اپنی رائے نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کردی تھی ۔ ہاں وہ سیاسی مولویوں کی طرح نہیں کہ موچی دروازے میں کھڑے ہوکر احتجاجی جلوسوں سے تقریریں کریں وہ عالم دین ہیں اور کسی بھی موضوع پر اپنی رائے قرآن و سنت کے دلائل کے ساتھ دے کر اپنا فرض پورا کرلیتے ہیں ۔

  17. اجمل said

    روغانی صاحب
    سب قارئین کو اظہارِ رائے کی آزادی ہے ۔ کسی مخصوص فرد کے نام کے ساتھ بُرا لاحقہ لگانا معیوب ہو سکتا ہے لیکن عام گفتگو میں جیسا فہد احمد عرف ابو شامل صاحب نے لکھا معیوب نہیں کہا جا سکتا کیونکہ انہوں نے ایک حقیقت کا اظہار کیا ہے ۔
    آپ نے لکھا ہے کہ ہر چیز قرآن اور سنّت میں ملے گی جب کہ ہر چیز قرآن اور سنّت میں نام بنام موجود نہیں ہے ورنہ غامدی صاحب موسیقی کو جائز قرار نہ دیتے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام ایک کامل دین ہے اور قیامت تک کیلئے ہے ۔

    سڑکوں پر احتجاج سیست اور جمہوریت کا لازمی جزو ہے ۔ اگر قلم مؤثر ثابت نہ ہو تو بعض اوقات عالِم کیلئے بھی سڑک پر احتجاج کرنا ضروری ہو جاتا ہے ۔ آپ نے لکھا ہے کہ جاوید احمد غامدی صاحب نے اسلامی نظریاتی کونسل سے استعفٰی دیا تھا ۔ کیا انہوں نے صرف دکھاوے کیلئے استعفٰی دیا تھا کیونکہ وہ ابھی تک کونسل کے رکن ہیں ۔ مندرجہ ذیل ربط پر سیریل نمبر 6 پر ان کا نام موجود ہے ۔
    http://www.cii.gov.pk/about/council.asp
    اگر ان کو یقین ہوتا کہ داتا اللہ ہے پرویز مشرف نہیں تو وہ پرویز مشرف کی نوکری چھوڑ دیتے ۔ اس لحاظ سے ان میں اور سیاسی مولویوں میں کوئی فرق نہیں رہا ۔
    دیگر شائد آپ نے دیکھا ہو مگر میں نے کسی عالمِ دین کو موچی دروازہ یا اسی طرح کی کسی اور جگہ احتجاجی تقریر کرتے نہ دیکھا اور نہ کسی سے سنا ۔
    معذرت خواہ ہوں لیکن آپ نے مجھے مجبور کیا کہ غامدی صاحب کے چہرے سے تھوڑا سا پردہ ہٹا دوں ۔

  18. Roghani said

    محترم اجمل صاحب !

    آپ ایک دو جملوں میں کسی کا پردہ چاک نہیں کرسکتے ۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کے قارئین کو ایک ویب سائٹ کا ایڈریس دے دوں تاکہ وہ خود وہاں جاکر جاوید غامدی کی شخصیت کا پردہ چاک کرسکیں !

  19. اجمل said

    محترم روغانی صاحب
    مجھے کسی کا پردہ چاک نہیں کرنا ۔ اللہ تعالٰی مجھے محفوظ رکھے ۔ ہر شخص نے اپنے کئے کا پھل پانا ہے اللہ سے ۔ آپ غامدی صاحب کو بیچ میں لے آئے اور ان کا وہ مسلک درج کیا جو میرے جیسے کی عقل نے بھی مسترد کر دیا ۔ میں آپ کا دیا ہوا ربط حذف کر رہا ہوں تاکہ غامدی صاحب کا پردہ [بقول آپ کے] میرے روزنامچہ پر چاک نہ ہو ۔ میری دعا ہے کہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی سب کو سیدھی راہ دکھائے ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: