What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

ظلم کا حد سے بڑھ جانا

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 25, 2007

کہتے ہیں کہ ظلم حد سے بڑھ جانا ہے دوا ہو جانا ۔ ظلم تو حد سے بہت آگے بڑھ چکا ۔ اب اس کے دوا ہونے کی انتظار ہے ۔ آج لال مسجد کے چند زخمی طلباء جو تا حال ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں کا کچھ احوال معلوم ہوا ۔ دو تین طلباء کے بازوؤں پر گولیاں لگی تھیں اور ایک کے پیٹ میں کئی گولیاں لگی تھیں ۔ پیٹ میں گولیاں لگنے والے لڑکے کے متعلق ڈاکٹر نے کہا کہ ہم حیران ہیں کہ یہ اب تک زندہ کیسے ہے ۔ طلباء نے بتایا کہ جب اعلان ہوا کہ جو باہر نکلے گا اسے کچھ نہیں کہا جائے گا اور 5000 روپیہ فی کس گھر جانے کا خرچہ بھی دیا جائے گا تو وہ باہر نکلے لیکن باہر نکلتے ہی ان پر فائر کھول دیا گیا جس سے کئی طلباء زخمی ہوئے اور ہو سکتا ہے شہید بھی ہوئے ہوں کیونکہ یہ لوگ زخمی ہو کر گر گئے تھے اور کسی کو ایک دوسرے کا ہوش نہ تھا ۔ جب وہاں کوئی سرکاری آدمی موجود نہ تھا تو ایک زخمی نے منت کی کہ ہمیں کسی طرح ہسپتال سے نکال لے جائیں ۔ جس زخمی کو ہسپتال والے فارغ کرتے ہیں اسے ہتھکڑیاں لگا کر پتہ نہیں کہاں لے جاتے ہیں کہ پھر اس کی کوئی خبر نہیں آتی ۔

حکومت نے اپنے ظلم کے نشانات مٹانے کیلئے دن رات کام کیا ۔ 1500 سے زائد طالبات کے جلے ہوئے جسموں کو راتوں کی تاریکی میں کسی نامعلوم غیرآباد جگہ یا کئی جگہوں پر بڑے بڑے گڑھے کھود کر دبا دیا گیا ۔ طالبات کاسامان ٹرکوں میں بھر کر مختلف غیرآباد جگوں پر پھینکا گیا ۔ مندرجہ ذیل وڈیو میں صرف ایک جگہ [جی سیون ٹو کے گندے نالے] کی چھوٹی سی جھلک دیکھئے کہ وہاں سے کیا ملا ۔ اس مقام پر بھی اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس جلد ہی پہنچ گئی تھی اور انہوں نے قرآن شریف اور حدیث کی کتابوں کے اوراق اور انسانی جسموں کے ٹکرے جو اس وقت تک لوگوں نے علیحدہ کئے تھے یہ کہہ کر اٹھا لئے کہ دفن کریں گے ۔ پھر عام آدمیوں کو وہاں سے ہٹا کر پہرہ لگا دیا گیا ۔ بعد میں بقایا ملبہ 4 ٹرکوں میں بھر کر اٹھا لیا گیا جس کے متعلق کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ لیجا کر اسلام آباد کے کسی جنگل میں بکھیر دیا گیا ۔

Advertisements

2 Responses to “ظلم کا حد سے بڑھ جانا”

  1. مُحترم اجمل انکل
    السلامُ عليکُم
    اُمّيد ہے آپ بخير ہوں گے سب سے پہلے ميں آپ سے معزرت خواہ ہُوں کہ آپ کی کل کی ميل اور آج کی ميل کا جواب نہيں ديا وجہ گھريلُو مصرُوفيات ہيں تو ليکن اُس سب سے بڑھ کر آج جوحالات ہيں اور آپ اتني محنت سے اکٹھے کر کے جو کُچھ ہمار ے سامنے لا رہے ہيں وہ قابل ستائش تو ہے ہی ليکن اُن باتوں نے جيسے دُکھی کيا ہے اُس کے بعد اپنے انسان ہونے سے بھي نفرت ہو رہی ہے شايد جانور بھی ايسی حيوانيّت نہيں دکھاتے ہوں گے کتنی عجيب بات ہے کہ اس عارضی دُنيا اور زندگی کے لۓ اتنی تگ و دو کيا ہم لوگ انسان کہلانے کے مُستحق ہيں يہ عجيب وقت صرف پاکستان کے لۓ نہيں پُوری مُسلم اُمّہ کے لۓلمحہء فکريہ ہے ليکن ہم فکر کرنا نہيں چاہتے ہم اُن نشے باز ہيروئينچيوں سے کم تو نہيں ہيں جو نشہ کر کے دُنيا و مافيہا سے بے خبر ہو کر شايد يہ سمجھتے ہيں کہ دُنيا اُن کے لۓ ايک معمُولی شے ہے اور صرف اپنی ہی ذات اُن کے نزديک اہم ہوتی ہے باقی دُنيا جاۓ جہنّم ميں ،اپنی ذات سے ايسا ہي پيار آج ہميں اس مُقام پر لے آيا ہے کہ ہم اپنے علاوہ کُچھ بھی سوچنے کو تيّار نہيں سو جب حالات ايسے ہوں تو کُچھ بھی ديکھنے کو مل سکتا ہے دُکھ کی بات تو يہ ہے کہ يہ سب کُچھ ايک مُسلم مُلک کے ارباب اقتدار کر رہے ہيں اور کسی قسم کی شرم نہيں کر رہے رات کے اس پہربھی نيند ايسے آنکھوں سے کوسوں دُور ہے اس سوچ کے ساتھ کہ ہم کہاں جا رہے ہيں اپنے ذاتی دُکھ اور مسائل جو پہلے ہی نيند کے دُشمن ہيں ايسے ميں ہر تازہ دُکھ ايسے جان پر وارد ہوتا ہے کہ بس بيان سے باہر ہے
    يہ پوسٹ ظُلم کا حد سے بڑھ جاناکے لۓ تھی يہاں پوسٹ اب کررہی ہُوں اور جو وڈيو تھی وہ اب ديکھی ہے اُس کے بعد الفاظ کھو گۓ ہيں ختم ہو گۓ ہيں کُچھ نہيں ہے ہمارے پاس سواۓ دُعاؤں کے اے اللہ ہميں معاف کردے بخش دے اور استقامت دے صبر دے بہت چھوٹا لفظ ہے صبر کروکہنا آ سان ہے جس پر بيتتی ہے وہی جانتا ہے صبر کرنا کس قدر مُشکل ہے اللہ تعاليٰ ہميں آزمائش کی اس گھڑی ميں ثابت قدم رکھے ،آمين
    دُعاؤں ميں ياد رکھيۓ گا
    اللہ حافظ
    شاہدہ اکرم

  2. اجمل said

    بیٹی شاہدہ اکرم ۔ السلامُ عليکُم
    میں بیٹیوں اور بیٹوں کی دعاؤں ہی سے تو زندہ ہوں ۔ آپ لوگ میرے لئے اتنی دعائیں کرتے رہتے ہیں تو میں بیمار کیسے ہو سکتا ہوں ؟ ورنہ جن حالات سے گذر رہا ہوں سوچتا ہوں کہ ہوش میں کیوں ہوں ۔ جسم تو چلتا پھرتا ہے لیکن دماغ ماؤف ہو گیا ہے ۔ جو کچھ ہوا کبھی وہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔ آپ نے درست لکھا ہے کہ قوم کسی نشے میں ہے ورنہ ذی ہوش سے تو ایسی درندگی اور ایسی بے حسی کی توقع نہیں کی جا سکتی ۔ بیٹیوں کیلئے تو ہمیشہ سُکھ ہی سوچا جاتا ہے اور سُکھ کا ہی بندوبست کیا جاتا ہے لیکن کیا کروں چاروں طرف دکھ ہی دکھ ہے تو پھر کیا بانٹوں ۔
    فی امان اللہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: