What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

Archive for جولائی 24th, 2007

بچ نکلنے والی طالبہ کا انٹرویو

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 24, 2007

بدھ 11 جولائی کو حکومت کے مطابق آخری 30 طالبات جامعہ حفصہ سے نکلیں تھیں ۔ انہیں حراست میں لے لیا گیا تھا اور دو دن بعد انہیں انکے والدین کے حوالہ کر دیا گیا تھا ۔ ان طالبات میں ایک مرگلہ کی پہاڑیوں پر کوٹلہ گاؤں سے تعلق رکھنے والی شہناز اختر بھی ہے ۔ شہناز اختر عام سکول سے آٹھویں جماعت پاس کرنے کے بعد گذشتہ 6 سال سے جامعہ حفصہ میں زیرِ تعلیم تھی اور اب عالِمہ کے کورس کے آخری سال میں تھی کہ سب کچھ آگ اور بارود کی نظر ہو گیا ۔ شہناز اختر کے مطابق ۔ 550 طالبات حدیث کی عالِمہ کا کورس مکمل کر چکی تھیں جس دن ان کی تقسیمِ اسناد کی تقریب ہونا تھی اسی دن نمازِ فجر کے وقت جامعہ حفصہ پر پہلی شدید فائرنگ اور گولہ باری ہوئی ۔

شہناز اختر نے بتایا کہ وہ 5 دوسری طالبات کے ساتھ ایک چھوٹے سے کمرہ میں تھی ۔ دوسرے کمروں میں سے ایک میں ایک میں گولہ آ کر گرا جس سے ایک دم آگ لگ گئی اور 30 طالبات جل کر شہید ہوگئیں ۔ اس کے بعد اُم حسّان نے کہا کہ تمام طالبات کی فہرست تیار کی جائے تو وہ فہرست بنانے میں لگ گئی مگر دوسرے دن تک ابھی 1000 طالبات کے کوائف لکھے تھے کہ ایک اور شدید حملہ ہوا جس میں 85 طالبات شہید ہو گئیں ۔ تیسرے دن حملہ اور بھی شدید تھا جس کے نتیجہ میں 270 طالبات شہید ہو گئیں اور 50 کے لگ بھگ زخمی ہوئیں جن کو کوئی طبّی امداد نہ ملی ۔

شہناز اختر نے بتایا کہ رات کو کامیاب مذاکرات کی بات ہوئی [10 اور 11 جولائی کی درمیانی رات والے آخری مذاکرات] لیکن فجر کے وقت اچانک دھماکوں اور شدید فائرنگ کی آوازیں آنے لگیں ۔ ہمیں تہہ خانے میں جانے کا کہا گیا ۔ وہاں اس وقت تقریباً 1500 طالبات تھیں ۔ دن نکلا اعلان ہوا کہ جو باہر نکل آئے گا اسے کچھ نہیں کہا جائے گا ۔ دن کو ساڑھے گیارہ بجے ہم 30 طالبات باہر نکل آئیں ۔ باقی نے یہ کہہ کر باہر جانے سے انکار کر دیا کہ یہ دھوکہ دے رہے ہیں اور پھر ہم باہر نکل کر جائیں گی کہاں ؟ [ان طالبات کی زیادہ تعداد زلزلہ سے متأثر علاقہ سے تعلق رکھتی تھی] ۔ جب ہم جامعہ سے باہر نکلے تو دیکھا کہ جامعہ کی چھت پر کمانڈو کھڑے تھے ۔ انہوں نے ہم پر فائرنگ شروع کردی ۔ بڑی مشکل سے ان کو چیخ کر بتایا کہ ہم باہر جا رہی ہیں ۔ ہم برستی گولیوں میں باہر نکل آئیں تو باہر پھر ہمیں کمانڈوز نے گھیر لیا ۔ پھر زنانہ پولیس نے ہماری تلاشی لی اور سب کچھ رکھوا لیا جس میں 1000 طالبات کے کوائف والی فہرست بھی شامل تھی ۔ کمانڈوز نے ہم پر طنز کیا اور ہمارے ساتھ بدتمیزی بھی کی ۔ پھر ہمیں نقاب اُتارنے کا حکم دیا گیا ۔ بعد میں ہمیں تھانہ آبپارہ لیجایا گیا وہاں پر بھی اہلکار بدتمیزی سے بات گفتگو کرتے رہے ۔ آبپارہ تھانہ سے ہمیں سپوٹس کمپلیکس لیجایا گیا جہاں سے بعد میں مجھے میرے گھر والے اپنا شناختی کارڈ جمع کرا کر لے آئے ۔

بشکریہ اُمّت ۔ مکمل انٹرویو پڑھنے کیلئے یہاں کلِک کیجئے ۔

Posted in خبر, روز و شب | 2 Comments »

تصحیح

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 24, 2007

میں نے کل لکھا تھا ” جامعہ حفصہ کے قریب نالے میں طالبات کا سامان پھینکا ہوا پایا گیا تھا"۔ طالبات کا سامان جی سیون ٹو کے نالے میں پایا گیا تھا جبکہ جامعہ حفصہ جی سِکس وَن اور جی سِکس فَور کے درمیان ہے ۔ سامان ملنے والی جگہ جامعہ حفصہ سے تقریباً ایک کلو میٹر دور ہے ۔

اس سامان میں کیا تھا جاننے کیلئے یہاں کلک کیجئے اور پھر سوچئے کہ کیا ہم سب مسلمان ہیں ؟ ؟ ؟

Posted in خبر | 2 Comments »

شہید تم سے یہ کہہ رہے ہیں

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 24, 2007

اپنے کمپیوٹر کا ساؤنڈ سسٹم آن کر لیجئے [switch on sound system of your computer] اور سنئے ۔
یہ واحد نظم ہے جو عبدالرشید غازی شہید نے خود لکھی اور جامعہ فریدیہ کی ایک محفل میں پڑھی تھی ۔

Posted in شاعری | 8 Comments »