What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

ہینگ لگے نہ پھٹکری ۔ رنگ چوکھا آئے

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 7, 2007

بہبودِ عامہ کے کاموں کیلئے مالدار ہونا ضروری نہیں ۔ ایسے بہت سے کام ہیں جو ہر شخص کی دسترس میں ہوتے ہیں ۔ ایسے بھی بہت سے بہبودِ عامہ کے کام ہیں جن پر کوئی پیسہ خرچ نہیں ہوتا ۔ یہ کام باہمی مشورہ سے ہو سکتے ہیں اور انفرادی طور پر بھی ۔ چند مثالیں پیشِ خدمت ہیں ۔

درخت لگانا ۔ صرف اپنے گھر میں نہیں بلکہ کھُلی زمین پر اور اس کی پرورش کرنا ۔ پہلے سے لگے درختوں کی پرورش اور حفاظت کرنا ۔

سڑک ۔ محلے یا گلی میں پانی کا نلکا لگا ہے اور کوئی کھُلا چھوڑ گیا جس سے پانی ضائع ہو رہا ہے ۔ اسے بند کر دینا اور اپنے جاننے والوں سے ادب کے ساتھ ذکر کرنا کہ نلکا کھُلا نہیں چھوڑنا چاہیئے اس سے ہمارا ہی نقصان ہوتا ہے ۔

زیرِ زمین پانی کا پائپ پھٹ جانے سے پانی ضائع ہو رہا ہو تو متعلقہ محکمہ تک اطلاع پہنچائی جائے اور اس وقت تک یاد دہانی کرائی جائے جب تک پائپ کی مرمت نہ کر دی جائے ۔

کوئی شخص کوڑا کرکٹ کی مخصوص جگہ کی بجائے کسی اور جگہ کوڑا وغیرہ پھینکے تو اسے اُٹھا کر مخصوص جگہ پر پھینک دیا جائے اور اپنے جاننے والوں کو مؤدبانہ طریقہ سے وقتاً فوقتاً یاد دہانی کرائی جائے کہ کوڑا مخصوص جگہ پر ہی پھینکنا چاہیئے ۔ اگر کسی کو غلط جگہ کوڑا پھینکتے دیکھ لیا جائے تو اس کے سامنے ہی اُٹھا کر مخصوص جگہ پھینکا جائے اور اسے مؤدبانہ طریقہ سے کہا جائے کہ آئیندہ مخصوص جگہ پر کوڑا پھینکا کیجئے ۔

کوئی گالی گلوچ کر رہا ہو تو اسے پیار سے سمجھایا جائے کہ آپ تو بڑے اچھے انسان ہیں ۔ ضروری بات ہے کہ آپ کو تکلیف پہنچی جس کی وجہ سے آپ غلط الفاظ کہنے پر مجبور ہوئے لیکن اس سے دوسرے کا کچھ نہیں بگڑتا ۔ آپ دوسرے کو اپنے اچھے سلوک سے متأثر کر سکتے ہیں ۔

کوئی بچہ یا بچی یا عمر رسیدہ خاتون یا مرد یا نابینا سڑک کے کنارے کھڑا ہے اور سڑک عبور کرنا چاہتا ہے ۔ ٹریفک کو روک کر اور اس کا ہاتھ پکڑ کر سڑک پار پہنچا دیا جائے ۔

ایسے اور بہت سے عمل ہیں جو بہبودِ عامہ کے دائرہ میں آتے ہیں اور ان کیلئے پیسہ درکار نہیں ۔ اور سبحان اللہ ۔ ایسی تمام اچھائیاں کارِ ثواب ہیں اور اللہ ان کا بہت اجر دیتا ہے ۔

Advertisements

8 Responses to “ہینگ لگے نہ پھٹکری ۔ رنگ چوکھا آئے”

  1. ایک اور بہت اہم کام جو ہرکوئی کرسکتا ہے۔ کسی غریب کو مفت پڑھانا یا اسے پڑھائی کی طرف راغب کرنا۔ یہ ایک ایسا صدقہ جاریہ ہے جس کا کئی نسلوں تک اثر رہے گا۔

  2. Noumaan said

    بہت عمدہ لکھا ہے۔ ایسے کئی چھوٹے چھوٹے کام دراصل بہت اہم ہیں۔ ہر انسان کو معاشرے میں اپنی ذمے داری سمجھنا چاہئے

  3. اجمل said

    افضل صاحب
    آپ کا مشورہ بجا ہے اور قیمتی بھی ۔ میں نے آغاز انتہائی معمولی باتوں سے کیا ہے ۔ تعلیم میں وقت زیادہ لگتا ہے ۔

  4. اجمل said

    نعمان صاحب
    ہمارے معاشرہ کا مسئلہ ہی یہی ہے کہ کوئی اول تو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہی نہیں اور جو سمجھتا ہے وہ بھی پوری کرنے میں سُستی کتا ہے یا ہچکچاتا ہے ۔

  5. ساجد said

    بہت اچھی تحریر ہے۔ ہم سب کو نہ صرف حتی المقدور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنا چاہئیے بلکہ دوسروں کو بھی تحریک دینی چاہئیے۔

  6. اجمل said

    ساجد صاحب
    متفق ہونے کا شکریہ ۔

  7. اجنبی said

    بہت اچھی تحریر ہے اجمل صاحب

  8. اجمل said

    اجنبی صاحب
    شکریہ
    اللہ آپ کو معروف کرے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: