What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

بے بس وزیرِاعظم

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 4, 2007

جیو نیوز سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ میں نے مولانا عبدالرشید غازی سے رابطہ کرکے کہا ہے کہ اگر آپ بھرپور تعاون کریں تو ہم بھی آپ کی مدد کریں گے جس کے بعد مولا نا عبد ا لرشید نے مذاکرات پر رضامندی اور بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ اس یقین دہانی کے بعد انہوں نے وزیراعظم سے رابطہ کیا او رانہیں صورتحال بتائی جس پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لال مسجد کے خلاف کارروائی کے لئے ہم احکامات جاری کرچکے ہیں اور واپسی بہت مشکل ہے تاہم انہوں نے مدد کی یقین دہانی کرائی۔ جس کے بعد علماء سے بات چیت ہوئی اور علمائے کرام لال مسجد انتظامیہ سے مذاکرات کے لئے آئے ہیں لیکن سیکیورٹی انتظامات کی وجہ سے اندر نہیں جاسکے۔

ٹی وی اور اخبارات پر پابندی کی وجہ سے صحیح صورتِ حال سامنے آنا مشکل ہے ۔ موقعہ پر ٹرِپل وَن بریگیڈ کی لوگ اور فوج کے کمانڈوز بھی پہنچ گئے ہوئے ہیں ۔ آپریشن تو کل دوپہر 12 بجے شروع کیا گیا تھا مگر گذشتہ آدھی رات کے بعد 2 بجے جبکہ ایک رینجر کے علاوہ 20 شہری اور طلباء و طالبات ہلاک اور 400 کے قریب زخمی ہو چکے تھے [کئی درجن شدید زخمی ہیں] پریس کانفرنس میں حکومت نے اعلان کیا کہ حالات کے پیشِ نظر آپریشن کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ۔ کمال تو یہ ہے کہ آپریشن شروع کرنے سے پہلے 5 سے 10 سال کی کمسن بچیوں کو بھی نکالنے کا موقع نہ دیا گیا اور پہلے زخمی ہونے والے جو 6 طلباء ہسپتال پہنچائے گئے اُنہیں پولیس نے گرفتار کر لیا ۔

یہ پہلا واقعہ نہیں ۔ بلوچستان اور وزیرستان میں کیا ہو رہا ہے اور 12 مئی کو کراچی میں کیا ہوا تھا ۔ اپنوں کے خون کی پیاسی حکومت ۔ بے بس وزیرِاعظم اور دھوبی چھاپ پارلیمنٹ نمعلوم اس ملک کا کیا حشر کریں گے ۔ اللہ ہمارے گناہ معاف کرے اور ہمیں اس عذاب سے بچائے ۔ آمین

ڈیڈ لائین ۔ حکومت کی طرف سے صبح 10 بج کر 34 منٹ پر اعلان کیا گیا کہ اگر لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے محصورین نے 11 بجے قبل دوپہر تک اپنے آپ کو حکومت کے حوالے نہ کیا تو آپریشن شروع کر دیا جائے گا ۔ ہمارے حکومتی اہلکار جو 26 گھینٹوں میں کوئی فیصلہ نہیں کر پاتے وہ توقع رکھتے ہیں کہ دوسرے لوگ 26 منٹ میں فیصلہ کریں ۔

Advertisements

5 Responses to “بے بس وزیرِاعظم”

  1. uncle jee faisla to ho chuka hai . . . aur faisla karnay walay na mushraf sahib hain na ghazi sahib .. . woh to baray bhai hain . . . jin ka sanghasan aik safaid mahal main hai aur raaj saray aalam par .. . .

  2. محترم افتخار اجمل صاحب السلام علیکم۔ آپ کی تحریر پڑھی حقیقی باتوں کی نشاندہی کی ہے۔لال مسجد والوں کے رویے سے اختلاف کے باوجود کوئی بھی با شعور شخص حکومتی اقدام کی کسی صورت حمایت نہیں کر سکتا قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے اپنی ہی عوام کو فتح کرنے کے درپے ہیں۔انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں آپ نے دیکھا کہ کس طرح عام شہریوں پر رینجرز نے گولیاں بر سائیں اور پھر زخمی و ڈیڈ باڈیز تک ایمبو لینس کی رسائی نہیں ہونے دی گئ بلکہ ایک اطلاع کے مطابق دو ایبولینس والوں کو بھی رینجرز نے گولیوں کا نشانہ بنایا ہے درندگی کی اس انتہا سے امریکہ صاحب بہادر کو کتنی دیر تک خوش رکھا جا سکے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  3. Wahaj/bsc said

    I am not a fan of Ghazi saheb but as far as Musharraf is concerned, what else do we expect from a General of Army.
    For him it is an "operation” like so many he may have performed. After all that is what he is trained to do. It is so sad. But I have to place the blame on Ulama also, who I think should have come out for admonition of Ghazi saheb earlier.
    In my humble opinion, not only Musharraf would be answerable but the Ulama too would be considered answerable in the ultimate court, for this loss of life. Musharraf can dance now again for he is winning; pathetic.

  4. اجمل said

    محترم حکیم خالد صاحب ۔ السلام علیکم و رحمة اللہ
    حوصلہ افزائی کا شکریہ ۔ ہماری قوم کی اکثریت دین سے بیزار ہے جو کہ انحطاط پر دلیل ہے ۔ اللہ ہمیں دین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ میں دیر سے جواب دینے پر معذرت خواہ ہوں ۔

  5. اجمل said

    بھائی وہاج احمد
    اسلام اباد کے کئی لوگ کہتے ہیں ہین کہ یہ ڈرامہ حکومت نے رچایا ہوا ہے اپنے دوہرے فائدہ کیلئے ۔ مارے بچارے غریب گئے ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: