What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

Archive for جولائی 4th, 2007

حکومت کے وعدے ؟ ؟ ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 4, 2007

سینکڑوں طالبات کے والین یا بھائی اسلام آباد اپنی بچیوں یا بہنوں کو لینے کیلئے پہنچے ہوئے ہیں جن میں سے کئی دور دراز کے علاقوں سے آئے ہوئے ہیں ۔ حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا تھا کہ جو طلباء و طالبات باہر نکل آئیں گے انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا اور وہ اپنے گھروں کو جا سکتے ہیں ۔ اس اعلان کے بعد کوئی 170 طلباء اور پانچ سو کے قریب طالبات لال مسجد اور جامعہ حفصہ سے باہر نکل آئے ۔ فوجی آفیسر نے ان سب کے نام پتے درج کئے اور ساتھ ساتھ ہر ایک کا انگوٹھا بھی لگوایا پھر گاڑیاں ان کو لے کر نمعلوم مقام کی طرف روانہ ہو گئیں اور ان کے والدین یا بھائی اسلام آباد میں پریشان بیٹھے ہیں ۔ ویگن پر چڑھتے ہوئے ایک طالبہ سے صحافی نے کچھ پوچھنا چاہا تو اس نے کہا کہ ہمیں منع کر دیا گیا ہے ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ طالبات کو فی الحال حاجی کیمپ میں رکھا گیا ہے یا قید کر دیا گیا ہے جبکہ 170 طلباء کو اڈیالہ جیل میں قید کر دیا گیا ہے ۔

Advertisements

Posted in خبر | Leave a Comment »

لال مسجد کے قریب رہنے والوں سے رابطہ

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 4, 2007

سیکتڑ جی ۔ 6 اسلام آباد میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے اردگرد رہنے والوں سے معلوم ہوا ہے کہ حکومتی کارندوں نے پیر 2 جولائی کی شام کو اُنہیں علاقہ چھوڑنے کا کہا تھا اور لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی تھی ۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں ایسے بچے بچیاں بھی محصور ہیں جو 3 جولائی کو قرآن شریف پڑھنے گئے تھے اور ایسے لوگ بھی ہیں جو کسی ذاتی وجوہ سے گئے تھے ۔ ان سب نے کسی طرح انتظامیہ سے رابطہ کر کے گھر جانے کیلئے محفوظ راستہ مانگا تھا جو وعدہ کرنے کے باوجود مہیا نہیں کیا گیا ۔ اس کے علاوہ ابھی تک جامعہ حفصہ کی کئی کمسن بچیاں بھی محصور ہیں ۔ اس سے واضح ہے کہ آپریشن کی تیاری بہت پہلے کر لی گئی تھی اور مذاکرات کا ڈرامہ صرف لوگوں کو بیوقوف بنانے کیلئے تھا ۔ مزید یہ کہ آپریشن کا حکم دینے والے کو معصوم بچوں سے بھی کوئی ہمدردی نہیں ۔ ٹھیک ہے کہ لال مسجد والوں نے اچھا نہیں کیا لیکن کون سے ملک میں اپنے ہی ملک کے باشندوں کو اس بیدردی سے مارا جاتا ہے ؟

ڈیڈ لائین 12 بجے دوپہر تک بڑھائے جانے کے بعد 250 سے زائد طلباء اور 100 طالبات مناسب حفاظتی اور ٹرانسپوٹ کا انتظام نہ ہونے کے باوجود باہر نکل کر کھڑے ہو گئے ہیں اور سنا ہے کہ کچھ رفاہِ عامہ کے ادارے انہیں لیجانے کیلئے اپنے طور پر بندوبست کر رہے ہیں ۔

Posted in روز و شب | Leave a Comment »

بے بس وزیرِاعظم

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 4, 2007

جیو نیوز سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ میں نے مولانا عبدالرشید غازی سے رابطہ کرکے کہا ہے کہ اگر آپ بھرپور تعاون کریں تو ہم بھی آپ کی مدد کریں گے جس کے بعد مولا نا عبد ا لرشید نے مذاکرات پر رضامندی اور بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ اس یقین دہانی کے بعد انہوں نے وزیراعظم سے رابطہ کیا او رانہیں صورتحال بتائی جس پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لال مسجد کے خلاف کارروائی کے لئے ہم احکامات جاری کرچکے ہیں اور واپسی بہت مشکل ہے تاہم انہوں نے مدد کی یقین دہانی کرائی۔ جس کے بعد علماء سے بات چیت ہوئی اور علمائے کرام لال مسجد انتظامیہ سے مذاکرات کے لئے آئے ہیں لیکن سیکیورٹی انتظامات کی وجہ سے اندر نہیں جاسکے۔

ٹی وی اور اخبارات پر پابندی کی وجہ سے صحیح صورتِ حال سامنے آنا مشکل ہے ۔ موقعہ پر ٹرِپل وَن بریگیڈ کی لوگ اور فوج کے کمانڈوز بھی پہنچ گئے ہوئے ہیں ۔ آپریشن تو کل دوپہر 12 بجے شروع کیا گیا تھا مگر گذشتہ آدھی رات کے بعد 2 بجے جبکہ ایک رینجر کے علاوہ 20 شہری اور طلباء و طالبات ہلاک اور 400 کے قریب زخمی ہو چکے تھے [کئی درجن شدید زخمی ہیں] پریس کانفرنس میں حکومت نے اعلان کیا کہ حالات کے پیشِ نظر آپریشن کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ۔ کمال تو یہ ہے کہ آپریشن شروع کرنے سے پہلے 5 سے 10 سال کی کمسن بچیوں کو بھی نکالنے کا موقع نہ دیا گیا اور پہلے زخمی ہونے والے جو 6 طلباء ہسپتال پہنچائے گئے اُنہیں پولیس نے گرفتار کر لیا ۔

یہ پہلا واقعہ نہیں ۔ بلوچستان اور وزیرستان میں کیا ہو رہا ہے اور 12 مئی کو کراچی میں کیا ہوا تھا ۔ اپنوں کے خون کی پیاسی حکومت ۔ بے بس وزیرِاعظم اور دھوبی چھاپ پارلیمنٹ نمعلوم اس ملک کا کیا حشر کریں گے ۔ اللہ ہمارے گناہ معاف کرے اور ہمیں اس عذاب سے بچائے ۔ آمین

ڈیڈ لائین ۔ حکومت کی طرف سے صبح 10 بج کر 34 منٹ پر اعلان کیا گیا کہ اگر لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے محصورین نے 11 بجے قبل دوپہر تک اپنے آپ کو حکومت کے حوالے نہ کیا تو آپریشن شروع کر دیا جائے گا ۔ ہمارے حکومتی اہلکار جو 26 گھینٹوں میں کوئی فیصلہ نہیں کر پاتے وہ توقع رکھتے ہیں کہ دوسرے لوگ 26 منٹ میں فیصلہ کریں ۔

Posted in خبر | 5 Comments »