What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

بیتی باتیں

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 1, 2007

میرے بزرگوار دادا جان جن کا نام روشن الدین تھا حیدرآباد دکن اور جموں [ریاست جموں کشمیر] میں حاجی صاحب کے نام سے مشہور تھے چونکہ اُنہوں نے جوانی ہی میں میری محترمہ دادی جان کو ساتھ لے جا کر حج کر لیا تھا اور اس زمانہ میں ہندوستان سے عام طور پر بوڑھے لوگ حج کرنے جاتے تھے ۔ دادا جان نے مجھے بتایا تھا کہ وہ ریل گاڑی پر ممبئی گئے جو اُن دنوں بمبے کہلاتا تھا ۔ وہاں سے بحری جہاز پر عدن گئے کیونکہ اس زمانہ میں جدہ کی بندرگاہ نہیں تھی ۔ عدن سے مکہ مکرمہ ۔ مدینہ منورہ اور واپسی اُونٹوں پر سفر کیا ۔ حج کیلئے مکہ مکرمہ سے منی ۔ عرفات ۔ مزدلفہ ۔ منی اور مکہ مکرمہ پیدل سفر کیا تھا ۔

ہندوستانی قوم جب 1857 کی جنگِ آزادی میں ناکام ہوئی تو انگریزوں نے سب سے زیادہ ظلم مسلمانوں پر کیا ۔ ہمارے آباؤ اجداد نے انگریزوں کی حکومت کا ساتھ نہ دیا جس کے نتیجہ میں سینکڑوں ایکڑ زرخیز اراضی ضبط کر لی گئی جان کا بھی خطرہ تھا اسلئے میرے پردادا [دادا کے والد] اور ان کے بھائی جہاں جگہ ملی چلے گئے ۔ میرے پردادا نظام الدین نے شہر جموں کا انتخاب کیا کہ وہاں انگریزوں کا عمل دخل براہِ راست نہ تھا ۔

میرے دادا جان 1869 عیسوی میں پیدا ہوئے ۔ سب کچھ چھن جانے کے بعد ان کا خاندان بمشکل گذارہ کر رہا تھا اسلئے ایکہ باعِلم خاندان کا چشم و چراغ ہوتے ہوئے میرے دادا کی تعلیم کا بندوبست نہ ہو سکا اور 8 سال کی عمر میں انہوں نے کام سیکھنا شروع کیا ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی مہربانی سے نوجوانی ہی میں بین الاقوامی تاجر بن گئے اور 27 سال کی عمر میں 1896 عیسوی میں ایک بین الاقوامی کمپنی باقاعدہ طور پر قائم کی جسے 1930 عیسوی میں میرے محترم والد صاحب کے سپرد کر کے خود گھریلو ذمہ داریوں اور بہبود عامہ میں لگ گئے ۔ اس کمپنی کا صدر دفتر ممبئی میں قائم کیا پھر وہاں سے آگرہ ۔ حیدآباد دکن ۔ مصر میں قاہرہ ۔ فلسطین منتقل ہوتے ہوئے 1948 عیسوی میں راولپنڈی میں قائم ہوا ۔

قائداعظم کی وفات اور قائدِ ملت کے شہید کئے جانے کے بعد وطن پر قوم کے دشمنوں کا قبضہ ہو گیا اور آہستہ آہستہ دیانتدار تاجروں کیلئے حالات مشکل ہوتے گئے ۔ اس پر طُرّہ یہ کہ 1955 میں والد صاحب شدید بیمار ہو گئے اور ان کو لاہور لیجا کر گنگا رام ہسپتال میں داخل کرا دیا ۔ بیماری کی تشخیص اور علاج میں ایک سال گذر گیا ۔ والد صاحب نے جس شخص کو منیجر رکھا ہوا تھا وہ تاجر بن گیا اور ہمارے بزرگوار دادا صاحب کی قائم کردہ کمپنی 1956 عیسوی میں دیوالیہ ہو گئی ۔ میں ان دنوں گارڈن کالج راولپنڈی میں ایف ایس سی [انٹرمیڈیئٹ] میں پڑھتا تھا ۔

میں نے اس کمپنی کے لیٹر پیڈ کا ایک کاغذ سنبھال کر رکھا ہوا تھا جو آج مجھے مل گیا

Advertisements

2 Responses to “بیتی باتیں”

  1. خاور said

    بہت اچهی باتیں لکهی هیں ـ
    میرے اباجی ایک دفعه اپنے خاندان کے بزرگوں کے نام بتا رہے تهے کیاره پیرهی پہلے همارے ایک بزرگ کا نام رحیم تها ـ
    میرے دادا ابهی حیات هیں اور صحدمند بهی
    لیکن میری بد قسمتی که جب ان سے اپنے اباء کی باتیں سننے كا وقت ہے میں جلا وطن دربدر پهر رها هوں ـ
    میرے دادا محمد رمضان عرف بابا بلھا کی بہت سی باتیں سنی هیں ـ
    اور میرے پڑنانا حاجی خوشی محمد آپنے دور میں پہلوان تهے
    وزن اٹهانے میں ان کا نام تها ایمن آباد والے بساکھی کے میلے میں چھٹ اٹهانے میں
    ایک دفعه گوجرانواله میں ایک بزرگ نے مجهے دیکھ کر کہا تها که میں تمہیں نہیں جانتا مگر تم تلونڈی کے کمہاروں کے لڑکے هوـ
    جب میں هاں کہا تو انہوں نے بتایا که تمہاری شکل پهلوان خوشی محمد سے ملتی ہے ـ
    آپ کی فیملی ایک علمی فیمل تهی مگر ہم زرا عام سے لوگ هیں ناں جی ـ

  2. اجمل said

    خاور صاحب
    آپ کو چاہیئے کہ اپنے دادا سے معلومات حاصل کریں ۔ میں تو ابھ بالغ نہیں ہوا تھا کہ میرے دادا فوت ہو گئے ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: