What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

Archive for جون, 2007

ماں کے نام

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 29, 2007

ميری والدہ مُحترمہ 25 جون 1980 بروز بدھ عصر کی نماز کے بعد تسبيح کر رہی تھيں کہ برين ہَيموريج [Brain Hemorrhage] ہوگيا اور وہ بے سُدھ ہو گئيں [went in to coma] ليکن اِس حالت ميں بھی جيسے تسبيح کرتے ہيں وہ اُنگليوں پر کچھ پڑھ کر اپنے اُوپر پھونکتی رہيں حتٰی کہ 29 جون کو ہولی فيملی ہسپتال راولپنڈی ميں اِس دارِ فانی سے رِحلَت کر گئيں ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی اُنہيں جنّت الفردوس ميں جگہ عطا فرمائے ۔ آمين ۔

يہ نظم ميں نے والدہ مُحترمہ کی وفات کے پانچ چھ ہفتے بعد لکھی تھی ۔ ميں نے جو نظم والدہ محترمہ کی وفات سے کچھ دن بعد لکھی تھی وہ نظرِ قارئين کر چکا ہوں اور يہاں کلِک کر کے پڑھی جا سکتی ہے ۔

کتنے نازوں ميں تو نے کی ميری پرورش
تجھے ہر گھڑی رہتا تھا بہت خيال ميرا
تيری دعاؤں ميں رہا سدا ميں شامل
تيری موت نے مگر کيا نہ انتظار ميرا
يہ زندگی کس طرح گذرے گی اب
نہ دل ہے ساتھ ميرے نہ دماغ ميرا
ميں جو کچھ بھی ہوں فقط تيری محنت ہے
نہ یہ ميری کوئی خوبی ہے اور نہ کمال ميرا
ميری اچھی امّی پھر کريں ميرے لئے دعا
کسی طرح آ جائے واپس دل و دماغ ميرا
تيرے سِکھلائے ہوئے حوصلہ کو واپس لاؤں
پھر کبھی چہرہ نہ ہو اس طرح اشک بار ميرا
تيرے سمجھائے ہوئے فرائض نبھاؤں ميں
کٹھن راہوں پہ بھی متزلزل نہ ہو گام ميرا
روز و شب ميں پڑھ پڑھ کر کرتا رہوں دعا
جنّت الفردوس ميں اعلٰی ہو مقام تيرا

Advertisements

Posted in آپ بيتی | 6 Comments »

مُنصِف کی حِسِ مزاح

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 28, 2007

حکومتی ریفرینس کے خلاف چیف جسٹس صاحب کی پیٹیشن سنتے ہوئے عدالتِ عُظمیٰ کے 13 رُکنی بنچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمان رمدے صاحب نے کہا ” اگر حکومتی وکلاء کی باتیں مان لی جائیں تو ایک دن ہمارے گھر والے بھی سپریم کورٹ کے باہر یہ بینر لے کر کھڑے ہوں گے ” ۔

سپریم کورٹ کا بتا کر گئے تھے اور اب تک واپس نہیں آئے

Posted in روز و شب | 2 Comments »

Action & Not Propaganda ڈفلی نہیں ۔ عمل ۔

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 25, 2007

میں زندگی بھر صحرا نورد اور طالبِ علم رہا ہوں ۔ میرا زیادہ وقت علمِ نافع کی کھوج میں گذرتا ہے تاکہ میں اپنی سمت درست سے درست تر کر سکوں ۔ تقاضہ کیا گیا تھا کہ اُردو محفل میں حاضری دوں ۔ چنانچہ میں نے وسط مئی میں اُردو محفل کی رُکنیت اختیار کی ۔ میں سمجھا تھا کہ فلاحی نظریات کی ترویج کیلئے مجھے دعوتِ دی گئی اور اسی لئے دو درجن خواتین و حضرات نے میرا پُر جوش خیر مقدم کر کے میری حوصلہ افزائی کی ۔ اس یقین اور اُمید کے ساتھ کہ سب نہ صرف جانتے ہیں بلکہ حامی ہیں ۔ میں نے ایک ایسے موضوع سے آغاز کیا جو زبان زدِعام ہے اور اہلِ وطن کی اکثریت اپنی نجی محافل میں اس پر گُل فشانی کرتی رہتی ہے یعنی بہبودِ عامہ ۔

میں نے 21 اور 23 مئی کو یہ موضوع اُردو محفل کے سامنے رکھا مگر "جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دُکان اپنی بڑھا گئے ” کے مِصداق ایک ماہ گذرنے کے بعدبھی میری التماس توجہ کی محتاج ہے ۔ بہبودِ عامہ ہر شخص کی ذمہ داری ہے ۔ بہبودِ عامہ ایسا فعل ہے جس سے کوئی مالی یا مادی فائدہ وابستہ نہ ہو اور نہ بڑائی یا مشہوری یا سند یا منظورِ نظر بننے کی خواہش ۔ بہبودِ عامہ ہر کوئی کر سکتا ہے خواہ وہ مالدار ہو یا نہ ہو ۔ پڑھا لکھا ہو یا نہ ہو ۔ تجربہ کار ہو یا ناتجربہ کار ۔ بوڑھا ہو یا جوان ۔ مذکر ہو یا مؤنث ۔ صرف عقل اور ارادہ شرط ہے ۔

آجکل پاکستان میں ہزاروں این جی اوز ہیں جو اپنا نصب العین تو بہبودِ عامہ بتاتی ہیں مگر اصل مقاصد کچھ اور ہیں ۔ بلا شبہ ایسے ادارے ہیں جو بہبودِ عامہ کا کام کر رہے ہیں لیکن ان کا دائرۂِ اختیار محدود کر دیا گیا ہے ۔ اسلام آباد میں چار درجن این جی اوز ہیں [ان میں وہ شامل نہیں جو خاموشی سے بہبودِ عامہ کا کام کر رہے ہیں اور اپنے آپ کو این جی او نہیں کہتے] ۔ میں نے پچھلے دس سال میں اسلام آباد کی اکثر این جی اوز کے دفاتر میں جا کر ان کے اغراض و مقاصد اور کام کے متعلق معلومات حاصل کیں اور صرف معدودے چند کو فعال پایا باقی سب صرف لفاظی نکلی ۔

ہمارے ملک میں عام آدمی کی اکثریت کو معلوم نہیں کہ فرائض اور ذمہ داریوں میں کیا فرق ہوتا ہے ۔ نہ کسی کو معلوم ہے کہ اس کے فرائض کیا ہیں ۔ نہ پتہ ہے کہ ذمہ داریاں کیا ہیں ۔لیکن حقوق کا بہت شور شرابہ ہے ۔ جب کوئی اپنے حق کی بات کرتا ہے تو دراصل وہ دوسروں کی ذمہ داری کی بات کر رہا ہوتا ہے کیونکہ ہر حق کے ساتھ ذمہ داری منسلک ہوتی ہے ۔ ہماری چھوٹی چھوٹی ذمہ داریاں ہیں جو ہم پوری نہیں کرتے نتیجہ یہ کہ قوم انحطاط کا شکار ہے ۔ کیا ہر شخص کو پہلے اپنی ذمہ داریوں کو نہیں پورا کرنا چاہیئے تاکہ وہ دوسروں کیلئے مثال بنے اور پھر دوسرے بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا سوچیں جو باقی لوگوں کے حقوق ملنے کا باعث بنیں ؟

Posted in روز و شب | 8 Comments »

اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 21, 2007

بیٹھے بیٹھے یہ الفاظ میرے دماغ میں گھومنے لگے ۔ نامعلوم ان کو اشعار کہا جا سکتا ہے یا نہیں ۔

اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان
تیرا  سجّن  یورپ  نہ  امریکہ
تیرا  ساتھی چین  نہ  جاپان
اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان

نہ کر بھروسہ غیروں کی مدد پر
اپنی  زمیں ا ور  اپنوں پر نظر کر
اور  رکھ اپنی طاقت  پر ایمان
اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان

دساور کا مال  جو  کھائے
ہڈ حرام   وہ  ہوتا  جائے
بھر اپنے کھیتوں سے کھلیان
اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان

دہشتگرد کہہ کر نہ گِرا
اپنوں کی لاشیں  جا بجا
اپنے خون کی کر  پہچان
اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان

کرے جو  تو  محنت  مزدوری
دال روٹی بن جائے حلوہ پوری
حق حلال کی اب  تُو  ٹھان
اُٹھ پاکستانی اپنا آپ پہچان

Posted in شاعری | 4 Comments »

ہم پاکستانی ۔ ڈھنڈورہ اور حقیقت

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 19, 2007

سیٹیلائیٹ ٹاؤن راولپنڈی میں ایک نجی رفاہی ادارہ ہے جو تھیلاسیمیا میں مبتلا بچوں کے علاج کا بندوبست کرتا ہے اور پورے اخراجات خود برداشت کرتا ہے ۔ یہ ادارہ کئی دہائیوں سے یہ خدمت سرانجام دے رہا ہے ۔ اللہ کے بندے اس ادارہ کے ساتھ تعاون کرتے ہیں ۔ اس ادارہ کا انتظام اور تعاون کرنے والے سب ایشیائی مسلمان ہیں اور اکثریت پاکستانیوں کی ہے ۔

پاکستان میں اس قسم کے اور بھی کئی ادارے ہیں جنہیں پاکستانی مسلمان ہی چلا رہے ہیں ۔ یہ ادارے پاکستان کی حکومت یا یورپی یا امریکی حکومت یا اداروں کی مدد کے بغیر چل رہے ہیں اور مختلف قسم کے رفاہی کام محنت اور خلوص کے ساتھ انجام دے رہے ہیں [یہ ادارے این جی او نہیں کہلواتے] ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جیسا ہماری قوم کو مسلمان ہونے کی حیثیت میں ہونا چاہیئے اس کا پاسکو بھی نہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پاکستان میں بسنے والے سب خودغرض ہیں ۔

سیٹیلائیٹ ٹاؤن والے ادارےکو ماہانہ 40 بوتل خون درکار ہوتا ہے چنانچہ وہ خون جمع کرنے لئے کیمپ لگاتے ہیں ۔ ان کا تجربہ ہے کہ ترقی یافتہ طبقہ کی نسبت غیر ترقی یافتہ لوگ رفاہِ عامہ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ اس کی تازہ ترین مثال انہوں نے خون جمع کرنے کے اپنے حالیہ کیموں کی دی ۔ ایک عالی شان یونیورسٹی میں کیمپ لگایا گیا جہاں طلباء اور طالبات کی تعداد کئی ہزار تھی اور بمشکل 22 بوتل خون حاصل ہوا ۔ جامعہ فریدیہ میں کیمپ لگایا تو 87 بوتل خون ملنے پر روکنا پڑا کیونکہ وہ صرف 90 بوتلیں لے کر گئے تھے جن میں سے تین ضائع ہو گئی تھیں ۔ جامعہ فریدیہ میں طلباء کی تعداد ایک ہزار سے کم تھی ۔ کیا کہا جائے اُن لوگوں کو جو مدرسوں کے طلباء کو جاہل ۔ انتہاء پسند ۔ دہشتگرد کہتے ہیں ؟

کچھ پاکستانی نہ جانے کن اثرات کے تحت مسلمانوں اور پاکستانیوں میں کیڑے نکالتے رہتے ہیں ۔ کیا ان کیلئے بہتر نہیں کہ دوسروں میں کیڑے نکالنے کی بجائے وہ اپنی اصلاح کریں ؟ آخر ایسے خواتین و حضرات یہ کیوں بھول جاتے ہیں وہ خود بھی پاکستانی ہیں ۔

پاکستانی بہن بھائیوں سے درخواست ہے کہ حقائق کی چھان بین کئے بغیر وہ اپنی قوم اور ملک کو بدنام کرنے سے پرہیز کیا کریں ۔

Posted in روز و شب | 8 Comments »

غیرقانونی تجاوزات

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 17, 2007

تجاوزات تو ہوتے ہی غیر قانونی ہیں لیکن حال ہی میں ہماری حکومت نے بات زوردار بنانے کیلئے ساتھ غیرقانونی لکھنا ضروری سمجھا ۔ "میرا پاکستان” پر اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر خالد مسعود کا بیان کہ "قابض جگہوں پر مساجد کی تعمیر غیر قانونی ہے” پڑھا تو کچھ حقائق پر روشنی ڈالنا ضروری سمجھا ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ حاکم وقت اپنی سہولت کے مطابق مقرر کرتے آئے ہیں ۔کسی زمانہ میں ایک سربراہ کا مؤقف تھا کہ روزانہ صرف تین نمازیں فرض ہیں ۔

ہمارے ملک میں تجاوزات اور ان کے سدِباب کی کہانی بہت پرانی ہے ۔ ہم 1949 سے 1964 عیسوی تک جھنگی محلہ راولپنڈی میں رہتے تھے ۔ ہمارے مکان کا فرش گلی سے دو فٹ اُونچا تھا اسلئے دروازے کے سامنے ایک چھوٹا سا پُشتہ ایک سیڑھی کے ساتھ بنا ہوا تھا ۔ ایک دن میں کالج سے گھر پہنچا تو دیکھا کہ سیڑھی اور پُشتہ غائب ہے تو بڑی مشکل سے گھر میں داخل ہوا ۔ پوچھا تو معلوم ہوا کہ میونسپل کمیٹی کے آدمی گرا گئے ہیں کہ یہ تجاوز تھا ۔ میں نے کہا کہ ہماری ہی گلی میں ایک مکان کا پُشتہ اس سے بڑا ہے وہ تو نہیں گرایا تو بتایا گیا کہ وہاں اس سکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب رہتے ہیں جہاں گرانے والوں میں سے کسی کا بیٹا پڑھتا ہے ۔

کیپیٹل ڈویلوپمنٹ اتھارٹی [سی ڈی اے] نے اس سال 7 مساجد مع تلاوتِ قرآن سکھانے کے مدرسوں کے گرا دیں ۔ مزید 80 مساجد اور مدارس کو گرانے کے نوٹس دے دئیے ۔ یہ وہ مساجد یا مدارس ہیں جو اُن بڑی سڑکوں کے قریب ہیں جہاں سے کسی وی آئی پی کا گذر ہو سکتا ہے ۔ ان میں ایک مسجد مری روڈ کے قریب وڈیروں کے فارم ہاؤسز کے سامنے ایک صدی پرانی تھی اور ایک مسجد شاہراہ اسلام آباد پر خود سی ڈی اے نے 25 سال قبل تعمیر کی تھی ۔ جو مساجد اور مدارس گرائے گئے یا جنہیں گرانے کے نوٹس جاری کئے گئے ان میں اکثریت ایسی مساجد اور مدارس کی ہے جو حکومتِ وقت کے مہیا کردہ فنڈز سے تعمیر ہوئے تھے ۔

ہمارے ملک میں بااثر اور ناجائز طاقت کے مالک جہاں بھی ہوں سرکاری زمین اور دوسرے لوگوں کی ملکیت پر ناجائز قبضے کرتے رہتے ہیں اور اُن کے خلاف کسی حکومتی ادارے نے کبھی آواز نہیں اُٹھائی بلکہ حکومتی اہلکار ان کے پُشت پناہ ہوتے ہیں ۔ اسلام آباد میں بہت سے ایسے غیرقانونی تجاوزات میرے علم ہیں ۔کئی کے خلاف محلے والوں نے جن میں بھی شامل تھا آواز اُٹھائی ۔ اخباروں کو اور حکومتی اہلکاروں کو لکھا مگر بے سود ۔

ہماری رہائش گاہ سے 500 میٹر کے فاصلہ پر ایک مسجد مشرق کی طرف اور ایک جنوب مغرب کی طرف سرکاری زمین پر ناجائز اور غیرقانونی قبضہ کر کے بغیر نقشہ پاس کرائے بنائی گئیں تھیں مگر نہ گرائی گئیں نہ گرانے کا نوٹس دیا گیا ۔ جو مسجد جنوب مغرب میں ہے وہ ایسی جگہ پر قبضہ کر کے بنائی گئی جس کی رفاہِ عامہ کیلئے عمدہ منصوبہ بندی اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں شامل تھی ۔

سٹریٹ نمبر 30 سیکٹر ایف 8/1 اسلام آباد کو ایک برساتی نالہ کراس کرتا ہے ۔ سڑک کے جنوبی جانب اس نالے کے مغرب کی طرف اسلام آباد کالج فار گرلز ہے اور مشرقی جانب کوٹھی نمبر 15 ہے جس کی الاٹ شدہ زمین 2000 مربع گز ہے ۔ اس کوٹھی کے مالک نے تقریباً 25 فٹ چوڑی اور 180 فٹ لمبی [500 مربع گز] سرکاری زمین اپنی کوٹھی میں شامل کر کے اپنے پلاٹ کا سائیز 2500 مربع گز بنا لیا ہوا ہے ۔ اس علاقہ میں 500 مربع گز  زمین کی قیمت ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد ہے ۔

سٹریٹ نمبر 51 سیکٹر ایف 7/۱ اسلام آباد پر حکومتی پارٹی کے رکن قومی اسمبلی کا گھر ہے ۔ اس نے سی ڈی اے سے اجازت لی کہ وہ اپنے گھر سے ملحقہ زمین میں پارک بنائے گا [مطلب تھا پبلک پارک] لیکن اس نے متعلقہ زمین کے گرد اُونچی دیوار بنا کر کئی ایکڑ  زمین اپنی کوٹھی میں شامل کر لی ہے ۔ ایک ایکڑ 4840 مربع گز ہوتا ہے ۔ اس علاقہ میں ایک ایکڑ  زمین کی قیمت 15 کروڑ  روپے سے زائد ہے ۔

راولپنڈی سے شاہراہ شیرشاہ سوری پر پشاور کی طرف روانہ ہوں تو آرمی کالج آف الیکٹریکل اینڈ مکینیکل انجنیئرنگ کے بعد سڑک کے بائیں ہاتھ اُونچائی پر ایک گنبد بنا ہوا ہے جو سڑک کے اندر گھُسا ہوا ہے ۔ یہ بظاہر مقبرہ ہے ۔ یہ 1964 اور 1968 عیسوی کے درمیان مکمل کیا گیا اورکسی قبضہ گروپ کی ملکیت ہے جو قبر پرستوں کےچڑھاوے وصول کرتا ہے ۔ یہاں کوئی آدمی دفن نہیں ہے اور اس جگہ پر اس وقت ناجائز قبضہ کیا گیا جب شاہراہ شیر شاہ سوری کو دوہرا کرنے کا اعلان ہوا تھا ۔

تصویر کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ راولپنڈی میں ایک قبضہ گروپ ڈویلوپر کے حقیقی تجاوزات کے خلاف ایکشن لینے پر حکومتِ پنجاب نے دو سکریٹریوں [سیکریٹری ہاؤسنگ اور سیکریٹری انفارمیشن] کو حال ہی میں ملازمت سے علیحدہ کر دیا ہے ۔ اس کی تفصیل یہاں کلک کر کے پڑھیئے ۔

Posted in روز و شب | 6 Comments »

لالچ

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 14, 2007

لالچ بُری بلا ہے ۔ ہمیشہ یاد رکھیئے

 

Posted in مزاح | 4 Comments »

زہر آلود چکا چوند

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 11, 2007

ایک ماہ سے زائد گذر گیا شعیب صفدر صاحب نے "دامن تر” کے عنوان سے ڈاکٹر شبیر احمد کا مضمون نقل کیا تھا ۔ میں نے اس پر اپنے مشاہدات لکھنے کا ان سے وعدہ کیا تھا ۔ پانچ ہفتے یوں گزر گئے کہ پہلے میں دس دن بیمار رہا ۔ پھر میرے پھوپھی زاد بھائی جو دودھیال میں میرے اکلوتے بھائی ہیں اور میرے بچپن سے دوست ہیں کو دل کا دورا پڑا اور اچانک آپریشن کرانا پڑا ۔

چاہے مرد ہو یا عورت شرم و حیاء بذاتِ خود ایک لباس ہے جب اسے اُتار دیا جائے تو پھر کسی چیز کی شرم نہیں رہتی اور انسان پھر انسان نہیں رہتا بلکہ جانور بن جاتا ہے ۔ یورپ اور امریکہ میں انسانوں کو شہروں کے باغیچوں میں اور شہروں سے منسلک جگلوں میں کھُلے عام جانوروں کی طرح جنسی ہوّس پوری کرتے دیکھا جا سکتا ہے ۔ بوس و کنار اور عورت مرد یا لڑکے لڑکی کا آپس میں چپکنا تو ہر جگہ دیکھنے میں آتا ہے ۔ سمندر کے کنارے چلے جائیں تو کئی عورتیں ۔ مرد ۔ لڑکیاں اور لڑکے بالکل ننگے نہا رہے ہوتے ہیں یا ریت پر لیٹے اپنی جلد کا رنگ گہرا کرنے میں مصروف ہوتے ہیں ۔ اسے معیوب نہیں سمجھا جاتا کیونکہ یہ ان کی خصلت بن چکی ہے ۔ یہ وہ آزادی ہے جو حقوق کے نام پر حاصل کی گئی ہے لیکن جس نے انسان اور جانور میں فرق مٹا دیا ہے

ابھی تک امریکی حکومت نے پچھلے دو سال کے اعداد و شمار شائع نہیں کئے ۔ 2004 عیسوی میں امریکہ میں 15 لاکھ بچے کنواری یعنی غیر شادی شدہ ماؤں کے ہاں پیدا ہوئے ۔ یہ کل پیدا ہونے والے بچوں کا 35.7 فیصد بنتے ہیں ۔ خیال رہے کہ بہت سے مانع حمل نسخے کئی دہائیاں قبل ایجاد ہو چکے ہیں جو نہ ہوتے تو بغیر شادی کے ماں بننے والیوں کی تعداد اس سے بہت زیادہ ہوتی ۔

امریکہ میں شادی شدہ جوڑوں کی تعداد 25 سال قبل 75 فیصد تھی جو کم ہو کر 56 فیصد رہ گئی ہے ۔ صرف ماں کے ساتھ رہنے والے بچوں کی تعداد 417 فیصد بڑھ گئی ہے اور اکیلے رہنے والے بچوں کی تعداد 1440 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 20 لاکھ ہو گئی ہے ۔ صرف 3 کروڑ 64 لاکھ بچے والدین کے ساتھ رہتے ہیں جو کہ کل بچوں کا 51 فیصد ہیں ۔

میرے انگریزی بلاگ [حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے] کی ایک 50 سالہ امریکی قاری لکھتی ہیں کہ اپنی جوانی کے تلخ تجربہ کے نتیجہ میں اس نے اپنی اکلوتی اولاد 18 سالہ بیٹی کی عفت کی حفاظت بہت زیادہ مشکلیں برداشت کر کے کی ۔ لکھتی ہیں کہ جب لڑکی 12 سال کی ہو گئی تو لڑکی کا دادا اسے اپنے پاس بلا کر کہتا رہتا "جاؤ کسی لڑکے کو دوست بناؤ اور زندگی کے مزے لوٹو”۔ لڑکی کا باپ کمپیوٹر پر عورتوں کی بے حیائی کی ننگی تصاویر بیٹی کمرے میں آ جائے تو بھی دیکھتا رہتا ہے ۔ مزید لکھتی ہیں کہ پورے شہر میں اسے اور اس کی بیٹی کو اُجڈ سمجھا جاتا ہے اور کوئی بھی ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا ۔ اس کی بیٹی کے سکول میں ہر سال حکومت کی طرف سے کچھ لیکچرز کا انتظام ہوتا ہے جس میں جنسی ملاپ کی ترغیب دی جاتی ہے ۔ اپنی سوسائٹی کے متعلق لکھتی ہیں کہ 14 سالہ لڑکیوں سے لے کر 60 سالہ عورتوں تک سب جنسی بے راہ روی کا شکار ہیں اور وہ اپنی عیاشیوں کے قصے مزے لے لے کر سناتی ہیں ۔

یہ ہے اس معاشررے کی ایک چھوٹی سی جھلک جس معاشرے کو دُور سے دیکھتے ہوئے ہمارے لوگوں کے دل للچاتے ہیں ۔

Posted in معاشرہ | 2 Comments »

پڑے سردی مریں غریب ۔ آئے گرمی مریں غریب

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 9, 2007

ملاحظہ ہوں ہمارے قابل خفیہ اداروں کا ایک اور کارنامہ بی بی سی کے ذوالفقار علی کی زبانی

پاکستان کی سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار حماد رضا کے قتل کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے پانچ ملزمان کے عزیزوں کا کہنا ہے کہ وہ بےگناہ ہیں اور وقوعے کے روز وہ سب کے سب اپنے اپنے گھروں میں موجود تھے۔ گرفتار ہونے والے پانچ میں سے چار افراد کا تعلق وادی نیلم کے گاؤں نیلم سے ہے اور ان میں سے تین سگے بھائی ہیں۔ چار افراد ابھی تک پولیس کی حراست میں ہیں جبکہ پانچویں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ اس گاؤں کے زیادہ تر لوگ محنت مزدوری اور کھیتی باڑی کرتے ہیں اور ان کی مالی حالت پسماندہ دکھائی دیتی ہے۔حراست میں لیے جانے والے چاروں افراد کے گھروں کی مالی حالت بظاہر دوسروں سے مختلف نہیں۔

حماد رضا کے قتل کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے شریف الدین گیلانی کی اہلیہ الفت رانی کہتی ہیں کہ’ اٹھارہ مئی کو سادہ کپڑوں میں ملبوس بارہ تیرہ مسلح افراد ہمارے گھر آئے اور میرے شوہر کے بارے میں دریافت کرنے لگے۔ وہ کون لوگ تھے ہمیں نہیں معلوم، لیکن انہوں نے اپنے ساتھ ایک شخص کے بارے میں کہا کہ یہ ہمارے کرنل صاحب ہیں۔‘ الفت کہتی ہیں کہ ’ہم رو رو کر ان سے پوچھ رہے تھے کہ کیا معاملہ ہے وہ میرے شوہر کو کہاں اور کس جرم میں لے جا رہے ہیں تو انہوں نے ہمیں وجہ بتانے کے بجائے یہ دھمکی دی کہ اگر کسی عورت نے اس میں مداخلت کی تو ہم گولی مار دیں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ اس وقت میرے شوہر جمعہ کی نماز پڑھنے مسجد گئے ہوئے تھے چنانچہ ہم نے ان لوگوں کو بتایا کہ وہ مسجد میں نماز پڑھنے گئے ہیں۔ میرے شوہر وہاں سے وہ واپس گھر نہیں آئے اور ان کو وہیں سے پکڑ کر لے گئے۔‘

انہوں نے کہا کہ’ دو ہفتے تک تو مجھے اپنے شوہر کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ ان کا کیا قصور ہے۔ہمیں اخبارات کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ میرے شوہر کو حماد رضا کے قتل کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ’ ہم غریب لوگ ہیں میرے شوہر لکڑی چرائی کر کے بچوں کا پیٹ پالتے تھے۔ ہمارے پاس قریبی قصبے اٹھمقام جانے کے لئے کرایہ نہیں ہوتا ہم حماد رضا جیسے بڑے آدمی کے قتل میں کیسے ملوث ہو سکتے ہیں۔‘ الفت رانی نے کہا’میرا شوہر بے قصور ہے اور ان پر غلط الزام لگایا گیا ہے۔‘ رانی کہتی ہیں کہ وقوعے کے روز ان کے شوہر گھر پر تھے۔ رانی نے اپنے زیر تعمیر لکڑی کے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ گھر تعمیر کر رہے تھے اور یہ کہ وہ کافی عرصے سے پاکستان گئے ہی نہیں۔‘

شریف الدین کو حراست میں لینے کے کوئی دس دن بعد اٹھائیس مئی کو ان کے بھائی بشیر الدین کو بھی حراست میں لیا گیا۔ بشیر الدین کی اہلیہ کلثوم بی بی کہتی ہیں کہ اٹھائیس مئی کوسادہ کپڑوں میں ملبوس دو مسلح اہلکار ان کے گھر آئے اور کوئی وجہ بتائے بغیر میرے شوہر کو زبردستی ساتھ لےگئے۔‘ انہوں نے کہا ’ہمیں کیا معلوم تھا کہ ہمارے ساتھ یہ کچھ ہوگا۔‘ کلثوم بی بی کہتی ہیں کہ ’میرے شوہر معذور ہیں اور وہ آسانی سے چل پھر نہیں سکتے ایسے میں وہ کس طرح کسی کا قتل کرسکتے ہیں اور میرے شوہر کوئی دو ماہ سے گاؤں سے باہر ہی نہیں گئے۔‘ کلثوم کے مطابق ان کے شوہر زلزلے کے دوران ایک دوکان کے ملبے تلے دب گئے تھے جس کے باعث ان کی ایک ٹانگ اور بازو ٹوٹ گیا تھا جس کے بعد وہ ایک سال تک بستر پر ہی رہے۔انہوں نے کہا کہ’ میرے شوہر کو تیز چلنے سے تکلیف ہوتی ہے ، وہ آہستہ چلتے ہیں اور وہ وزن بھی نہیں اٹھاسکتے۔‘ کلثوم نے بتایا کہ کچھ عرصے سے ان کے شوہر نے تھوڑا بہت کام کرنا شروع کردیا اور بچوں کا پیٹ پال رہے تھے۔


دو جون کو جب میں حراست میں لیے جانے والوں کے خاندان والوں سے ملاقات کرنے کے لئے نیلم گاؤں میں پہنچا تو وہاں سرخ رنگ کی ایک پجارو جیپ کھڑی تھی۔ اس میں سوار دو سادہ کپڑوں میں ملبوس لوگ ایک نوجوان کو مقامی لوگوں کے حوالے کر کے چلےگئے۔ یہ نوجوان شریف الدین اور بشیر الدین کے بھائی ضیاءالدین تھے۔

ضیاءالدین نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں اٹھارہ تاریخ کو وادی نیلم میں کیرن کے مقام سے سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے اٹھایا اور قریب ہی اٹھمقام قصبے میں ریسٹ ہاؤس میں لے گئے۔ انہوں نے کہا’ مجھے وہاں دو روز رکھا گیا اور وہاں سے مجھے آنکھوں پر پٹی باندھ کر ہیلی کاپڑ پر بٹھا کر کسی نہ معلوم جگہ پر لے گئے۔حراست کے دوران مجھے ڈنڈوں اور چمڑے سے مارا پیٹا کیا گیا اور رات کو بازو باندھ کر کھڑا رکھا جاتا۔‘ ضیاءالدین نے کہا ’مجھ پر دباؤ ڈالا جارہا تھا کہ میں اقرار کروں کہ میں نے ڈکیتی اور قتل کیا اور یہ بھی کہہ رہے کہ تھے کہ میں قبول کروں کہ میرے بھائیوں نے بھی ڈکیتی کی اور قتل کیا ہے۔ لیکن میں نے ان سے کہا کہ جب مجھے کسی چیز کا معلوم ہی نہیں تو میں کیسے اس کا اقرار کروں۔‘

ضیاءالدین عارضی طور پر پڑھاتے بھی رہے ہیں اور بعد ازاں انہوں نے وادی نیلم میں لوات کے مقام میں منیاری کی دوکان شروع کی اور اب وہ جنگل میں لکڑی کا کام کرتے ہیں۔  لیکن حکام ان کو حراست میں لینے کے بارے میں مکمل طور پر لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کی والدہ امریزہ بیگم اپنے ایک بیٹے کی واپسی پر خوش ہیں لیکن وہ زیر حراست اپنے دو بیٹوں کے حراست کے بارے میں بہت پریشان ہیں ۔ انہوں نے کہا ’اللہ کا شکر ہے کہ میرا ایک بیٹا واپس آیا گیا ہے۔ میں التجا کرتی ہوں کہ میرے دوسرے دو بیٹوں کو رہا کریں۔‘ انہوں نے کہا کہ’ ہم کہاں جائیں کس سے فریاد کریں ہمارے پاس وسائل ہی نہیں ہیں۔‘

اسی گاؤں کے ایک سابق فوجی بشارت میر بھی حماد رضا کے قتل کے الزام میں زیر حراست ہیں۔ ان کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ ذہنی حالت درست نہ ہونے کے باعث ان کو کچھ سال قبل فوج سے برخاست کیا گیا تھا اور علاج کی وجہ سے وہ اب بہتر تھے اور لکڑی چرائی کا کام کرتے تھے۔ ان کے والد کہتے ہیں کہ ’ ہمیں نہیں معلوم کہ میرے بیٹے کو کیوں حراست میں لیا گیا ہے۔ اٹھائیس تاریخ کو سادہ کپڑوں میں ملبوس مسلح اہلکار ہمارے گھر آئے اور میرے بیٹے کو ساتھ لے گئے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ فوجی تھے یا خفیہ ادارے کے اہلکار، ہمیں کچھ سمجھ نہیں آتا کہ وہ کون لوگ تھے۔‘ بشارت میر کے والد نے کہا ’ان لوگوں نے پورے گاؤں میں دہشت پھیلادی اور لوگوں پر تشدد شروع کیا۔ ان کا کہنا تھا ’ بشارت میرا واحد سہارا ہے۔ میرا ایک بیٹا بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی فوج کے ساتھ لڑتے ہوئے ہلاک ہوا جبکہ دوسرا نویں جماعت کا طالب علم ہے اور بشارت ہی ہمارا واحد سہارا ہے۔ بشارت شادی شدہ ہے اور اس کے چار بچے ہیں۔ ہمارے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔‘

بشارت کی والدہ نگار بی بی کہتی ہیں کہ’ وہ لوگ میرے بیٹے کی تلاش میں گھر آئے تو ہمارے گھر میں ادھیڑ عمر کے ایک رشتہ دار آئے ہوئے تھے۔ مسلح اہلکاروں نے ہمارے سامنے ان کو برہنہ کرکے مارا پیٹا کہ وہ ہمارے گھر کیوں آئے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نےگاؤں میں کئی دیگر افراد کو بھی مارا پیٹا۔‘ انہوں نے کہا کہ’ حماد رضا کے قتل کے روز میرا بیٹا گھر پر تھا اور ہم مکئی بو رہے تھے۔‘

حماد رضا کے قتل کے الزام میں گرفتار چوتھے شخص میر محمد افضل کا تعلق مظفرآْباد سے ہے۔ وہ کئی سال دبئی میں مزدوری کر تے رہے اور گزشتہ سال ستمبر میں واپس آئے۔ کچھ ماہ سے وہ وادی نیلم کے قصبے اٹھمقام میں گوشت کا کام کر رہے تھے۔ میر محمد افضل کے بھائی منیر اختر سلہریا کا کہنا ہے کہ’ وقوعے کے روز میرے بھائی بیمار تھے اور وہ گھر پر موجود تھے۔ میں ان کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر ایک میڈیکل اسٹور پر لے گیا جہاں ان کو ڈرپ لگائی گئی۔ میرے بھائی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ موٹر سائیکل چلاسکتے۔ منیر اختر نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی تاریخ میں ایک شخص دو جگہ پر موجود ہو؟

انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ میرے بھائی کو انتیس مئی کو گرفتار کیا گیا۔ ’ اٹھارہ مئی کو تین مسلح اہلکار ان کو اٹھمقام میں اپنی دوکان سے اٹھا کر لے گئے۔ ہم نے سنا ہے کہ وہ آئی ایس آئی اہلکار تھے اور ان کے ساتھ کوئی پولیس نہیں تھی۔‘ انہوں نے کہا کہ’ ہمارے گھر کے قریب تھانہ ہے۔ آپ کہیں سے بھی معلوم کرسکتے ہیں کہ ہمارے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ ہم نے عزت کی زندگی گزاری ہے۔‘

منیر اختر نے الزام لگایا کہ حماد رضا کو پاکستان کے صدر نے خفیہ ادارے والوں سے قتل کروایا اور انہوں نے کسی نہ کسی کو قربانی کا بکرا بنانا تھا اور ہمارے بھائی کو پھنسا دیا۔

ان چار افراد کے عزیزوں کا کہنا ہے کہ ملزمان کو دو مختلف دنوں یعنی اٹھارہ اور اٹھائیس مئی کو سادہ کپڑوں میں ملبوس مسلح اہلکاروں نے حراست میں لیا لیکن پاکستان کے وزیر داخلہ نے گزشتہ ماہ کے آخر میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان ملزمان کو مقامی پولیس کی مدد سے انتیس مئی کو حراست میں لیاگیا تھا۔ مظفرآباد کے ایڈینشل ڈپٹی کمشنر جنرل کا بھی یہی کہنا ہے کہ’ ان افراد کو انتیس مئی کو گرفتار کیا گیا اور ان کو گرفتار کرنے کے لیے مقامی پولیس نے اسلام آباد پولیس کی مدد کی اور ان کو تیس مئی کو مجسڑیٹ کے سامنے پیش کیا گیا اور بعد ازاں ان کو قانون کے مطابق اسلام آباد پولیس کے حوالے کیا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وادی نیلم کے پولیس سربراہ کا کہنا ہے کہ’ ان افراد کو وادی نیلم میں نہیں بلکہ مظفرآباد میں گرفتار کیا گیا اس لیے ان کو زیادہ تفصیلات معلوم نہیں ہیں۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان افراد کو ماضی کے جرائم کے ریکارڈ اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار کیا گیا ہے۔ لیکن ملزمان کے خاندان والے اس کی تردید کرتے ہیں کہ ان کے عزیز ماضی میں کسی جرم میں ملوث رہے ہیں۔ یہ افراد گناہ گار ہیں یا انہیں حبس بے جاہ میں رکھا جا رہا ہے، یہ فیصلہ تو عدالت ہی کرے گی لیکن حقیقت سامنے آنے تک ان کے خاندانوں کا سکون برباد ہوچکا ہے۔

Posted in روز و شب | 2 Comments »

جھوٹ چھپائے نہیں چھُپتا

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 8, 2007

پاکستان الیکشن کمیشن کے سیکرٹری کنور محمد دلشاد نے انکشاف کیا ہے کہ سال2002 عیسوی کے عام انتخابات اور صدارتی ریفرنڈم کے وقت تیار کردہ ووٹر فہرست میں شامل تقریباً 2 کروڑ ووٹرز جعلی تھے پاکستان کے الیکٹرول ایکٹ کے تحت کسی ایسے شخص کا نام انتخابی فہرست میں نہیں ہو سکتا جس کے پاس قومی شناختی کارڈ نہ ہو۔

الیکشن کمیشن نے ایک بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق گھر گھر جا کر جو نئی ووٹر فہرستیں مرتب کی گئی ہیں ان میں کل ووٹرز کی تعداد 52،102،428 ہے جب کہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق سال 2002 عیسوی میں ہونے والے صدارتی ریفرنڈم اور عام انتخابات میں کل ووٹرز کی تعداد 71،900،000 کے قریب تھی ۔ جس کا مطلب ہوا کہ 19،787،572 ایسے ووٹروں کا اندراج کیا گیا تھا جو موجود ہی نہ تھے ۔ پاکستان میں آبادی کی شرح میں اضافے کو مد نظر رکھتے ہوئے بھی اگر تجزیہ کیا جائے تو نئی ووٹر فہرست میں ووٹرز کی تعداد پہلے سے زیادہ ہونی چاہیے لیکن صورتحال اس کے برعکس بنتی ہے۔

اس سے پوری طرح واضح ہو گیا ہے کہ پرویز مشرف نے ریفرنڈم کس طرح جیتا اور اس کے ساتھی 2002 کے الیکشن میں کیسے جیتے ۔ یہ ہے پرویز مشرف کا بنایا ہوا شفاف الیکشن ۔

Posted in خبر | Leave a Comment »