What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

چاچا وردی لاندا کیّوں نئیں

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر مئی 27, 2007

۔ ۔ ۔ ۔ پنجابی لوک گیت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اُردو ترجمہ

بن کے مرد وخاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بن کے مرد دکھاتے کیوں نہیں
اپنا قول نبھاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنا وعدہ نبھاتے کیوں نہیں
لَے کے پِنشن جاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لے کے پنشن جاتے کیوں نہیں
چاچا وردی لاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چچا وردی اتارتے کیوں نہیں

تیری مدّت ہو گئی پوری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تمہاری مدت تو ہو چکی پوری
ہُون تے جانا اے مجبوری۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جانا ہے اب تمہاری مجبوری
رجیا نئیں تُوں کھا کھا چُوری۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پیٹ نہیں بھرا کھا کھا چوری
تَوڑیاں نے حدّاں دستوری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ توڑی ہیں حدیں دستورکی
عزّت نال گھر جاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عزت سے گھر جاتے کیوں نہیں
چاچا وردی لاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چچا وردی اتارتے کیوں نہیں

آیاں اے کی چَن چڑھاون ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آئے ہو تم نیا چاند چڑھانے
یورپ دا ماحول بناون ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یورپ کا ماحول بنانے
دھیاں بھہناں نچرا پاون ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بیٹیاں بہنیں ناچ ناچیں
سڑکاں اُتے دَوڑاں لاون ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سڑکوں پر وہ دوڑیں لگاویں
ڈُب کے تُوں مر جاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ڈوب کے تو مر جاتا کیوں نہیں
چاچا وردی لاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چچا وردی اتارتے کیوں نہیں

نَس کے تُوں واشنگٹن جاویں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھاگ کے تم ہو واشنگٹن جاتے
بُش نوں جا جا مسکہ لاویں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بُش کو جا جا مکھن لگاتے
پَیراں وِچ ڈِگ ڈِگ جاویں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاؤں میں اس کے تم گِر گِر جاتے
مظلوماں نُوں تُوں تَڑیاں لاویں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مظلوموں کو ہو تم دھمکیاں دیتے
ظالم نال ٹکراؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ظالم سے ٹکراتے کیوں نہیں
چاچا وردی لاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چچا وردی اتارتے کیوں نہیں

باطل نے شطرنج وچھائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باطل نے ہے چوپال بچھائی
مَوہرہ رکھ چال چلائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ موہرہ رکھ کے ہے چال چلائی
مِلّت نُوں تُوں مات دوائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ملت کو تو نے مات دلوائی
جا کے دُشمن نال نبھائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جا کے دشمن سے دوستی نبھائی
جُرم تے شرماؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جرم کر کے تو شرماتا کیوں نہیں
چاچا وردی لاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چچا وردی اتارتے کیوں نہیں

اپنی قوم نُوں ضربا لائیاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنی قوم کو ضربیں لگائیں
کوہ چھَڈیا اے وانگ قصائیاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ذبح کرتا ہے جیسے قصائی
ہلّہ شیری پار بلایاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فخر کرتے ہو سرحد پار جا کے
دیندا اے کشمیر دُہائیاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کشمیر دے رہا ہے دہائیاں
اَوتھے ٹَور وخاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہاں اکڑ دیکھاتے کیوں نہیں
چاچا وردی لاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چچا وردی اتارتے کیوں نہیں

قاتل نُوں دِلدار بنا کے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ قاتل کو محبوب بنا کے
کی لَبیا اے ظُلم کما کے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا ملا تمہیں ظلم کما کے
افغاناں دا خُون بہا کے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ افغانوں کا خُون بہا کے
ساری ملّت نُوں زخما کے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ساری ملت کو زخما کے
کِیتی تے پشتاندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کئے پہ تو پچھتاتا کیوں نہیں
چاچا وردی لاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چچا وردی اتارتے کیوں نہیں

اَکھیاں کھول کے تک بے دردی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آنکھیں کھول کے دیکھو بے دردی
امریکہ دی دہشت گردی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ امریکہ کی دہشت گردی
کِیڑَیاں وانگوں اُمت مردی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مکوڑوں کی طرح ہے امت مرتی
غیرت نُوں اپناؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ غیرت کو اپناتا کیوں نہیں
چاچا وردی لاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چچا وردی اتارتے کیوں نہیں

جو لُٹیرے لُٹ لُٹ رَجّن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو لٹیرے لوٹ لوٹ کے سیر نہ ہوں
قوم دے ڈاکو تیرے سَجّن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ قوم کے ڈاکو ہیں تیرے ساجن
کھُلے ڈھُلے نَسّن بھَجّن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کھلے عام دندناتے وہ ہیں
مسجداں تے چھاپے وَجّن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پر مسجدوں پر چھاپے پڑتے ہیں
کھَسماں نُوں تُوں کھاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ [اکتاہٹ کے ساتھ] ہماری جان تو چھوڑتا کیوں نہیں
چاچا وردی لاؤندا کیّوں نئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چچا وردی اتارتے کیوں نہیں

یو ٹیوب پر لوک گیت کی ایک دلچسپ وڈیو دیکھی ۔ جس کے بول اوپر لکھے ہیں ۔ یہاں کلک کر کے وڈیو دیکھی جا سکتی ہے

Advertisements

14 Responses to “چاچا وردی لاندا کیّوں نئیں”

  1. صبا سید said

    السلامُ علیکم
    پڑھ کر مزہ آگیا۔ بس اب اس پر ایک وڈیو بننی چاہیے۔ مازے آ جائیں گے صدر صاحب کے۔ ویسے لگے ہاتھوں مجھے پنجابی کے مزید الفاظ سیکھنے کو مل گئے۔ ہی ہی۔
    فی امان اللہ

  2. اجمل said

    صبا سیّد صاحب
    جیسا کہ میری پوسٹ کے آخر میں لکھا ہے یوٹیوب پر اس کی وڈیو موجود ہے ۔ آپ پوسٹ کی آجری سطر پر کلک کر کے دیکھ سکتی ہیں ۔

  3. […] ہی میں انٹرنیٹ پر براؤسنگ کے دوران افتخار کے بلاگ پر یہ پنجابی لوک گیت پڑھا۔ یہ گیت آپ ہی کے بارے میں ہے اور اس میں آپ کے کچھ […]

  4. صبا سید said

    کوشش کی تھی، لیکن ٹھٹھہ میں انٹرنیٹ اتنا سلو ہے کہ بس کمنٹس پوسٹ ہو جائیں تو بڑی بات ہے۔

  5. […] اس وجہ سے بھی لوگ ویڈیوز پوسٹ نہیں کر رہے۔ جیسے شائد انکل اجمل نے یہ والی ویڈیو اپنے بلاگ پر انسرٹ کرنی تھی لیکن وہ […]

  6. اجمل said

    نعمان صاحب
    آپ کے نام نہاد چچا کو میں نے پچھلے سال ان کے پتہ پر ای میل بھیجی تھی ۔ اس سے پہلے رجسٹرڈ خط بھیجا تھا مگر آج تک یہ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ ان تک کچھ پہنچا بھی کہ نہیں ۔

  7. اجمل said

    صبا سیّد صاحبہ
    آپ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کوشش کر کے دیکھئے

  8. اجمل said

    باتمیز صاحب
    آپ نے صحیح پہچانا ۔

  9. Asma said

    aaLa 🙂

  10. اجمل said

    اسماء صاحبہ
    شکریہ ۔ یہ آپ نے انگریزی میں اُردو کیوں لکھنا شروع کی ہوئی ہے ؟

  11. umair said

    great… post it to musharaf… 😀

  12. […] حقدار ٹھرائے جائیں گے اور دربار سے انعام پائیں گے۔چاچا وردی لاندا کیوں نئیں اور چاچا وردی پائی رکھ کے جواب میں ملاحظہ فرمائیے […]

  13. […] انکل اجمل کے بلاگ کی تحریر سے مجھے سب سے پہلے “چاچا ورد… پڑھی اور اُن کے مہیا کردہ لنک سے دیکھی اور اپنے پاس کمپیوٹر پر اُتار بھی لی!! پھر نعمان کے بلاگ پر اُس چاچے کے  بھتیجے کا خط پڑھا!! یہ نظم اِس قدر مشہور ہوچکی کی “قدیر“ کے شہر سے آنے والے وکیل دوستوں نے بتایا کہ وہاں بار روم میں ہرتال کے دوران وکیل حضرات اِسے لگا کر اِس پر دھمال ڈالتے ہیں!!! بھائی یہ وکیلوں کام کام نہیں ہے!!! ممکن ہے اُس شہر کے “چند ایک “ بلاگر کا اثر ہو گیا ہو!! کراچی میں ایک دو فوٹو اسٹیٹ کی دوکانوں پر اس نظم کو آویزاں دیکھا ہے! غالب قیاس یہ ہے کہ یہ جماعت اسلامی والوں کی کاوش ہے! آڈیو فارمیٹ میں اُن کی ویب سائیٹ پر موجود ہے! آج اسی نظم کی پیروڈی ملی وہ بھی جنرل صاحب کے حق میں نہیں ہے تحریر سہیل تنویر کی ہے مجھے یہاں پر نظر آئی! […]

  14. […] “۔چاچا وردی لاندا کیوں نئیں” اور “چاچا وردی پائی رکھ” کے شعرا کو پرائڈ […]

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: