What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

کراچی ۔ مزید حقائق

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر مئی 17, 2007

میں 12 مئی کو کراچی میں ہونے والے واقعات کا ایک رُخ "بدلتے دل” کے عنوان کے تحت 14 مئی کو بیان کر چکا ہوں ۔ اب تک پوری صورت حال سامنے آ چکی ہے لیکن ہمارے صدرِ محترم اور ان کے پالتو میکیاولی کے کامیابی کے فارمولے ” جھوٹ اتنا بولو کہ سچ سمجھا جانے لگے” پر قائم ہیں ۔

کچھ وکلاء کے تأثرات

چونکہ گھر میں کیبل نہیں اِس لئے باہر کے حالات سے ناواقف تھے ۔ قریب گیارہ بجے اپنے علاقے سے باہر آ کر دیکھا کیا حال ہے ۔ متحدہ کے کارکنان ماڈل موڑ پر نظر آئے اور اُن کو کوئی ارادہ ایسا نہ تھا کہ کسی کو ایئرپورٹ کی طرف جانے دیں گے ہم کافی دیر تک وہاں کھڑے رہے پھر گھر واپس آ گئے ۔ ٹیلیفون پر سنئر اور دوسرے دوستوں سے مشورہ کیا تو معلوم ہوا کہ حالات خراب ہیں، ہائی کورٹ کو متحدہ والے اسلحہ سے لیس ہو کر گھیرے میں لیئے ہوئے ہیں ۔ راستے میں بھی اُن کا راج ہے ۔ ہمارے ایک (وکیل )دوست ملیر بار سے آنے والی ریلی میں شریک تھے اُن کی زبانی معلوم ہوا کہ ملیر پندرہ اور کالا بورڈ سے تو متحدہ والوں نے ریلی کو گزرنے دیا مگر جیسے ہی ریلی ملیر ہالٹ کے قریب پہنچی تو اس جماعت کے مسلح کارکنوں نے چاروں طرف سے آگے، پیچھے، اور دائیں و بائیں جانب کے مورچوں سے جلوس پر سیدھے فائر مارے ۔ ساتھ ہی ساتھ گرنیڈ بم سے بھی حملہ کیا ۔ اُس کے بقول صرف اُس جگہ پر نہ نہ کرتے بھی کم از کم بیس سی پچس افراد ہلاک ہوئے ۔ خود اُس نے جمن گھوٹ میں پناہ لے کے جان بچائی ۔ بلوچ کالونی میں متحدہ کے بدمعاشوں کے ہاتھوں نشانہ بننے والے جلوس میں بھی ہمارے ایک سینئر شامل تھے ۔ وہ بھی بڑی مشکل سے جان بچا کر گھر پنہنچے ۔

بشکریہ شعیب صفدر صاحب

مکمل حالات کا خلاصہ

کراچی میں سنیچر [12 مئی] کے دن جو خونریزی اور ہنگامہ آرائی ہوئی، پاکستان کے اس سب سے بڑے شہر میں رہنے والوں نے وہ سب کچھ ٹی وی کی سکرین پر دیکھا، اور پھر شام ڈھلے جب لاشوں اور زخمیوں کو اٹھانے کا کام ابھی جاری تھا تو ٹی وی کیمروں کا رخ اسلام آباد کی جانب ہو گیا، جہاں صدر جنرل پرویز مشرف کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلی میں شامل گروہ ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑہ ڈال رہے تھے۔ اسی ریلی میں جنرل مشرف نے بلٹ پروف پوڈیم کے پیچھے کھڑے ہو کر سندھ میں اپنی حلیف جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے بقول ’کامیابی‘ پر اسے خراج تحسین پیش کیا۔

یہ سب دیکھ کر کراچی کے رہنے والے یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ کیا وہ اب تک پاکستان ہی کا حصہ ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر خون خرابہ کرنے والے دہشتگرد ہیں تو حکومت انہیں روکنے یا پکڑنے کی بجائے اپنی پیٹھ کیوں تھپک رہی ہے؟ اور جس ایم کیو ایم کو کراچی میں ہنگامہ آرائی کے لیے قصور وار ٹھہرایا جا رہا تھا اسی جماعت کو اسلام آباد کے سرکاری پنڈال میں شاباش کیوں دی جا رہی تھی؟

پاکستانی میڈیا پر ایک جانب تو حکومت کا دباؤ رہتا ہے اور دوسری جانب شدت پسند سیاسی، مذہبی اور لسانی تنظیموں کی جانب سے دھمکیاں اور مسلح حملے۔ ایسے میں کھل کر کسی ایک فریق کا نام لینا مقامی میڈیا کے لیے تو شاید ممکن نہیں لیکن کراچی میں میں نے چشم دیدگواہوں اور مقامی صحافیوں سے جو کچھ سنا، اور اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھا، اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے نہ صرف چیف جسٹس کی کراچی آمد کو بہانہ بنا کر اپنی عسکری طاقت کا مظاہرہ کیا، بلکہ اس کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ شہری اور صوبائی حکومتیں تو ایم کیو ایم کی اپنی تھیں ہی، شواہد یہ ہیں کہ مرکزی حکومت نے بھی یا تو ایم کیو ایم کو کھلی چھوٹ دیے رکھی اور یا وہ خود اس منصوبہ بندی کا حصہ تھی جس کے تحت ویک اینڈ پر کراچی میں اکتالیس ہلاکتیں ہوئیں، سینکڑوں زخمی ہوئے اور درجنوں گاڑیوں اور موٹر سائکلوں کو جلا دیا گیا۔

شاہراہ فیصل کو، جو شہر کی مرکزی گذرگاہ ہے، جمعے کی شام سے ہی بلاک کرنے کا کام شروع ہو گیا تھا۔ چشم دید گواہوں کے مطابق کہیں پولیس نے اور کہیں ایم کیو ایم کے مسلح کارکنوں نے بسوں، ٹرکوں اور ٹرالرز کو چھین کر انہیں ناکارہ بنایا اور پھر انہیں رکاوٹوں کے طور پر استعمال کیا۔ شاہراہ فیصل سے بیسیوں نہیں شاید سینکڑوں راستے نکلتے ہیں۔ ان سب کو بند کرنا، اور اس طرح کہ ایک گواہ کے مطابق وہاں سے موٹر سائکل سوار بھی نہ گذر سکے، اچھا خاصا بڑا کام ہے۔ یہ کوئی ایسی کارروائی نہیں جو چھپ چھپا کر ہو سکے اور قانون نافذ کرنے والوں کو پتا بھی نہ چلے۔ یہ کارروائی رات دو بجے تک مکمل ہو چکی تھی، اور شاہراہ فیصل ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہو چکی تھی۔ کراچی ائرپورٹ پر میں ایسے مسافروں سے بھی ملا جو سنیچر کی رات گیارہ بجے کے قریب وہاں پہنچے لیکن ہوائی اڈے کی عمارت سے باہر نہ جا سکے۔

پھر سندھ کے وکیلوں کو چیف جسٹس کے استقبال کے لیے ائرپورٹ، اور ان کا خطاب سننے کے لیے ہائی کورٹ پہنچنے سے روکنے کے لیے بھی تمام انتظامات پہلے سے کیے گئے تھے۔

ہائی کورٹ اور سٹی کورٹس کی عمارات پر پولیس کا پہرہ اور ان کے ارد گرد ایم کیو ایم کی ٹولیوں کی موجودگی سے یہ یقینی بنایا گیا کہ وکلاء ان عمارات میں نہ پہنچ سکیں اور جو پہنچ جائیں وہ باہر نہ آ سکیں۔ ملیر بار ایسوسی ایشن کے ارکان، جو چیف جسٹس اور ان کے ساتھیوں کے میزبان ہونے کے ناطے انہیں ائرپورٹ سے جلوس کی صورت میں لے جانا چاہتے تھے، ملیر کی حدود سے باہر بھی نہ آ پائے۔ میں چیف جسٹس کے ساتھ اسلام آباد ائرپورٹ پر موجود تھا، اور کراچی کی پرواز میں ابھی پندرہ بیس منٹ باقی تھے جب ان کے ایک وکیل کو فون پر ملیر بار کے ایک رکن نے بتایا کہ ایم کیو ایم کے لوگ ان سے مار پیٹ کر رہے ہیں اور ائرپورٹ کا رخ کرنے کی صورت میں اس سے بھی برے نتائج کی دھمکی دے رہے ہیں۔

وکلاء تو خیر ان سے کیا لڑتے لیکن اپوزیشن سیاسی جماعتوں اور کچھ مذہبی اور لسانی گروہوں کی ریلیوں میں بھی مسلح افراد موجود تھے۔ ان سے نمٹنے کے لیے ایم کیو ایم نے الگ حکمت عملی بنا رکھی تھی۔ سینئر صحافی ایاز امیر کے مطابق، جو سنیچر کو متاثرہ مقامات کا دورہ کرتے رہے، ایم کیو ایم نے مخالفین کی ریلیوں پر گھات لگا کر حملے کیے۔

ایم کیو ایم کے پاس اسلحہ بارود کس کثرت سے تھا اور ان کے لڑنے کا انداز کس قدر پیشہ ورانہ تھا اس پر ’آج’ ٹی وی کے ایک صحافی نے جنہوں نے بہت قریب سے اپنے دفتر پر ہونے والا حملہ بھی دیکھا تھا، تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ فوجیوں کی سی پھرتی سے پوزیشنیں سنبھالتے اور بدلتے رہے اور ان کے لیے بارود کی سپلائی بغیر وقفے کے چلتی رہی، جس کی بنا پر وہ چھ گھنٹے سے زیادہ گولی باری کرتے رہے۔

ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کی کراچی آمد ایک سازش کا حصہ تھی جس کا جواب دینے کے لیے اسے یہ سب تیاری کرنا پڑی جس میں شاہراہ فیصل کو بند کرنا بھی شامل تھا۔ تاہم جماعت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ تشدد کی ابتدا ان کے مخالفین کی جانب سے ہوئی۔ کراچی میں قریباً پچیس ہزار کے قریب پولیس اہلکار ہیں جو صوبائی حکومت کے زیر نگرانی ہیں، اور ان کے علاوہ دس ہزار سے زیادہ رینجر بھی شہر میں موجود تھے، جو وفاقی حکومت کے ملازم ہیں اور گورنر کے حکم پر کام کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے پاس شہری اور صوبائی حکومت کے بیشتر اختیارات تو ہیں ہی، گورنر بھی اسی جماعت کے ایک رہنما ہیں۔ ان حالات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حساس مقامات سے غیر حاضری یا جیسے ٹی وی پر دیکھا گیا کہ بلوائی کھلے عام گھوم رہے ہیں اور اہلکار ان کے قریب ہی منہ پھیرے کھڑے ہیں۔ اس صورتحال میں یہ کہنا بالکل بجا ہو گا کہ سکیورٹی اہلکار اس روز غیر جانبدار نہیں تھے۔

پھر چیف جسٹس کی کراچی آمد کے دن ہی ایم کیو ایم کا ریلی نکالنے پر اصرار بھی معنی خیز تھا۔ صوبے کے چیف سیکرٹری نے کم از کم ایک ہفتہ پہلے بتایا تھا کہ ان کے پاس خفیہ معلومات ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ چیف جسٹس کی آمد پر ہنگامے ہو سکتے ہیں۔ لیکن ان معلومات کو صرف چیف جسٹس کا دورہ مؤخر کرنے کی کوشش میں استعمال کیا گیا، عوام کی سکیورٹی کے لیے کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ اور ایک طرح سے ایم کیو ایم کو کھلی چھوٹ دی گئی۔ اس پر وزیر اطلاعات کا یہ کہنا کہ سنیچر کو پیش آنے والے واقعات کا پہلے سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تھا، کسی کی بھی سمجھ سے بالا تر ہے۔ اور پھر سب سے اہم بات تو خود صدر جنرل پرویز مشرف نے کہی، جنہوں نے اسلام آباد کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے عوام نے اپنی طاقت دکھا دی ہے۔ اور یہ کہ اس سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ پورے ملک کے عوام ان کے ساتھ ہیں۔

بشکریہ بی بی سی

Advertisements

7 Responses to “کراچی ۔ مزید حقائق”

  1. السلامُ علیکم
    پرویز مشرف صاحب کو نجانے یہ خوش فہمی کیوں ہے کہ قوم ان کے اشرے پر ویسے ہی ناچے گی جیسے ان کے خوشامدی ناچتے ہیں۔ پرویز مشرف نے یہ بھنگڑا ان بے گناہ شہریوں کی لاشوں پر ڈالا ہے جو بارہ مئی کو شہید ہوئے۔ کرائے کے لوگ سامنے بٹھا کر تقریر کرنے سے وہ یہ خوش فہمی نا پالیں کہ انہوں نے عوام کا دل جیت لیا ہے۔ مگر یہ ان کی خام خیالی ہے۔
    مشرف صاحب! اب اپنی غلطیوں کو سدھارنے کا وقت ختم ہو گیا ہے۔

  2. Asma said

    If you’ve gone through today’s Capital talk on Geo, MQM’s babar ghauri was giving such rubbish excuses for what happened on 12th may … putting all allegations on CJP’s shoulders ….!

  3. Wahaj/bsc said

    Allah he hafiz hay iss qaum ka jahan begunahon ko iss bedardi say mara jata hay aur sadar saheb khush hotay hain.
    Kiya kisi ko bhi aakhirat ka khiyal nahin? Musharraf kaisay jawab dega aur golian chalanay walay kiya kahain gay Khuda ko?
    Yahan hamain t’anay diyay jatay hain kih Muslims kill Muslims and therfore this religion is teaching violance. How can we defend?
    Mera aik dost kihta hay Jis Pakistan ko chorra tha woh dafan ho chuka hay.(That was several years ago)

  4. اجمل said

    صبا سیّد صاحبہ
    بپھرے ہوئے سانڈوں کو کچھ نظر نہیں آتا ۔ اللہ ہماری قوم کو شر سے بچائے

  5. اجمل said

    اسماء صاحبہ
    یہ لوگ اس فارمولے پر عمل کرتے ہیں کہ جھوٹ اتنا بولو کہ لوگ سچ سمجھنے لگیں

    بھائی وحاج احمد صاحب
    یہ لوگ اللہ کو مانتے ہوں تو اللہ سے ڈریں ۔

  6. asma said

    have a look at this one too … PML Q’s claims revealed

  7. اجمل said

    اسماء صاحبہ
    اطلاع کا شکریہ ۔ اتفاق سے میں یہ تصویر اور خبر پہلے ہی اپنے اس بلاگ پر شائع کر چکا تھا ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: