What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

بدلتے دل ۔ سانحہ کراچی

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر مئی 14, 2007

دل کو بدلنا آسان کام نہیں لیکن کوئی ایک چھوٹا یا بڑا حادثہ کبھی ایک دل کو اور کبھی بہت سے دلوں کو بدل کے رکھ دیتا ۔ سُنا ۔ پڑھا اور میری زندگی کا تجربہ بھی ہے کہ اللہ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے اسلئے انسان کو ہر چیز یا عمل میں بہتر پہلو کو تلاش کرنا چاہیئے ۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے 9 مارچ سے شروع ہونے والے ہفتہ میں ایسی حماقتیں کیں جن سے سب پریشان ہوئے لیکن ان حماقتوں نے اُس تحریک کو جنم دے دیا جو حزبِ مخالف چلانے میں ناکام رہی تھی ۔ اللہ اس تحریک کو جلد کامیابی سے ہمکنار کرے اور ہمارے وطن میں عوام کا خیال رکھنے والی مضبوط جمہوریت قائم ہو جائے ۔ اور ڈکٹیٹر شپ سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خلاصی ہو جائے ۔

12 مئی کو جو کچھ کراچی میں ہوا وہ کراچی والوں سے بہتر کون جانتا ہے ؟ اس کا اچھا پہلو جو میرے علم میں آیا ہے وہ یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے جانثار خاندانوں کی نئی نسل جس کو 10 مئی تک "قائد صرف ایک [الطاف حسین]” اور "جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے” کے علاوہ کچھ سوجھتا ہی نہ تھا اُس نوجوان نسل کے کئی ارکان کے دل 11 اور 12 مئی کے واقعات نے بدل کے رکھ دیئے ہیں ۔

ایک پڑھا لکھ نوجوان جو ایم کیو ایم کے علاقہ کا باسی ہے اور جس کا خاندان الطاف حسین کے جان نثاروں میں شامل ہے ۔ جس کے چچا نے 12 سال قبل الطاف حسین کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا تھا اور اس کو سلام آج بھی اس کے محلے میں ہر طرف لکھا ہوا ہے ۔ اُس نوجوان نے 11 مئی کو دیکھا کہ ایئرپورٹ کو جانے والے تمام راستوں پر ٹرالر ٹرک ۔ ٹینکر اور بسیں کھڑی کر کے ان کے ٹائروں میں سے ہوا نکال دی گئی ہے ۔ پھر شام کو اس نے دیکھا کہ خود کار ہتھیاروں سے لیس جوانوں نے مورچے سنبھال لئے ہیں اور کچھ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ 12 مئی کو ہسپتالوں میں چلے جائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی ایسا شخص طِبّی امداد نہ لینے پائے جو ایم کیو ایم کا نہ ہو ۔

دوسرے دن یعنی 12 مئی کو صبح 10 بجے اس نے ڈرگ روڈ اسٹیشن کے قریب دیکھا کہ اس کے ساتھی ریپیٹر اور کلاشِن کوف قسم کے خود کار ہتھیار خدمتِ خلق فاؤنڈیشن کی ایمبولینس میں بھر کر لے جا رہے ہیں ۔ اس نے دیکھا کہ شاہراہ فیصل سب کیلئے بند ہے مگر ایم کیو ایم کے جوان ہتھیار لئے آزادی سے گھوم رہے ہیں ۔پھر اس نے دیکھا کہ ایک جوان شخص گِڑگڑا کر التجائیں کر رہا ہے کہ مجھے جانے دو ۔ وہ اپنے بچے کی لاش ہسپتال سے گھر لے کر جا رہا تھا ۔ وہ کہہ رہا تھا خدا کیلئے مجھے جانے دو تا کہ میں اپنے اس معصوم بچے کے کفن دفن کا بندوبست کر سکوں ۔ ایک لمحہ آیا کہ ایم کیو ایم کے اس پڑھے لکھے نوجوان کے جسم نے ہلکی سی جھرجھری لی اور وہ وہاں سے چلا گیا ۔ 12 بجے کے قریب پہلی فارنگ ہوئی اور وہ خلافِ معمول گھر چلا گیا اور ٹی وی لگا کر بیٹھ گیا ۔ کچھ دیر بعد اُس کے دل نے اچانک اس کی ملامت شروع کردی کہ آج تک تیرا خاندان جو دلیری دکھاتا رہا وہ دراصل ایک مجبوری اور ضرورت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی درندگی تھی ۔ اُس نے فیصلہ کیا کہ اب وہ اپنے آپ کو مزید دھوکہ نہیں دے گا جس کیلئے اس کے چچا نے جان دی تھی وہ انسان نہیں درندہ ہے ۔ وہ قاتلوں کا قائد ہے مہاجروں کا نہیں ۔ رات تک اس کو معلوم ہو چکا تھا کہ مرنے والے پختونوں کے علاوہ سب اُس کی طرح مہاجروں کے بچے ہیں جن کا قصور یہ ہے کہ وہ الطاف حسین کی درندگی کی حمائت نہیں کرتے ۔

یہ کہانی یا افسانہ نہیں حقیقت ہے ۔ یہ ایم کیو ایم کے گڑھ میں رہنے والے صرف ایک نوجوان کی آپ بیتی ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ ایسے کئی اور پڑھے لکھے نوجوان ہوں گے جو اس پراگندہ ماحول اور خونی سیاست سے تنگ آ کر 12 مئی کو تائب ہوئے ہوں گے لیکن وہ اس کا برملا اظہار کرتے ہوئے شائد ڈر رہے ہوں مگر اس نوجوان نے اپنی دلیری کا رُخ بدلتے ہوئے نہ صرف ایم کیو ایم کے لیڈران کو تحریری طور پر اپنے دل کی تبدیلی کی اطلاع کر دی ہے بلکہ الطاف حسین کو 12 مئی کے قتلِ عام کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔ میری دلی دعا ہے کہ اللہ اس نوجوان ۔ اس جسے دوسرے جوانوں اور اُن کے اہلِ خانہ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔ میری محبِ وطن قارئین سے بھی التماس ہے کہ وہ بھی اُن کے لئے خصوصی دعا کریں ۔

Advertisements

11 Responses to “بدلتے دل ۔ سانحہ کراچی”

  1. Azhar said

    انکل جی ۔ ۔ یہ حقیقت ہے کہ ایم کیو ایم کے بہت سارے لوگ خود ایم کیو ایم سے تنگ ہیں ، مگر کیا کریں جب آپ کو ماں بہن اور بھائی باپ کی زندگیوں کو داؤ پر لگا ہوا دیکھیں تو شاید ۔ ۔ مجبور لوگ ۔ ۔ مجبوری میں ظالم کا ساتھ دیں ۔ ۔ ۔ میں ایسے کتنے ہی لوگوں کو جانتا ہوں ۔ ۔ جو ایم کیو ایم کی حقیقت سے آگاہ ہیں مگر مجبور ہیں ۔۔ ۔ ۔ بہت لوگوں کے دل اب پھر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ شاید جیسا کہ میں نے پہلے لکھا تھا واقعٰی ہی انقلاب کی چنگاری سلگ چکی ہے ۔ ۔ ۔اللہ ہمیں اچھے دن دیکھائے (آمین) . . . .

  2. مقبوضہ کراچی سے محمد عمران said

    آداب!

    افتخار صاحب جو کچھ آپ نے لکھا ہے بالکل بجا، ہم بھی اسی حالات سے گزر چکے ہیں‌اور 12 مئی سے اتنی شرمندگی محسوس کر رہا ہوں کہ کیا بتاؤ، میں بھی اُن لوگوں‌میں شامل ہوں‌جس نے جئے الطاف کے نعرے لگائے ہیں اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے۔

  3. فیصل said

    انکل آپ نی ایک اتنی بڑی بات کی ہے جو ہم سب جانتے بھی ہیں لیکن مانتے نہیں۔ میرا اس بات پر ایمان ہے کہ ہر بات میں خیر کا پہلو ہوتا ہے۔ اور بہت سی بار تو مکافاتِ عمل ہوتا ہے۔ میری زندگی میں جب بھی کوءی ناپسندیدہ بات ہوءی میں نے اپنے آپ کو اس قابل کبھی نہیں پایا کہ اللہ تعالی سے یہ سوال کر سکوں کہ یہ سب کیوں ہوا اور میرے ساتھ ہی کیوں ہوا۔ وجہ یہ کہ اپنے اعمال، بری نیتوں کا علم تو مجھے ہی ہے اور اگر لوگ کہیں بھی کہ آپ سے ساتھ بڑا ظلم ہوا، میں کبھی اس بات کو جسٹیفاءی نہیں کر سکتا۔ میرا خیال میں جب بھی ہمارے ساتھ ایسا کچھ ہو ہمیں آءینے کے سامنے کھڑے ہو کر اللہ سے نہیں خود سے وجہ پوچھنی چاہیے، اکثر جواب فورا ہی مل جاءے گا۔ اللہ ہم سب کو نیکی کی توفیق دے اور سچ کا سامنا کرنے ی جرات بھی۔ آمین۔

  4. imran tariq said

    میرا کہنا یہ ھے کہ کراچی کو دھشت گردوں کے حوالے جس نے کیا کیا وہ دھشت گرد نہین ھے اللہ جانے کاچی کو اس چنگل سے چھڑانے میں کتنی دیر لگے

  5. اجمل said

    عمران طارق صاحب
    بلاشُبہ وہ دہشت گرد ہیں ۔ اور اُن کے نام ہیں پرویز مشرف اور الطاف حسین

  6. Asma said

    Hoping that all ends in good … !

  7. اجمل said

    اسماء صاحبہ
    اللہ کرے ایسا ہی ہو ۔
    ہاں مجھے یاد آیا ۔ آپ کا تبصرہ نہ چھپنے کی ایک وجہ اور بھی ہو سکتی ہے اور وہ ہے کچھ نشانات جس کی ورڈپریس اجازت نہیں دیتا

  8. ابوشامل said

    محترمی اجمل صاحب آپ سے بالکل متفق ہوں، ایک تصحیح کر لیں کہ متحدہ کے غنڈے الخدمت فاؤنڈیشن کی ایمبولنسوں میں نہیں بلکہ خدمت خلق فاؤنڈیشن کی ایمبولنسوں میں اسلحہ بھر کر لاتے ہیں۔ الخدمت فاؤنڈیشن تو ان کی "ازلی دشمن” جماعت اسلامی کا ادارہ ہے جس کے سربراہ سابق ناظم کراچی نعمت اللہ خان ہیں۔

  9. اجمل said

    ابو شامل صاحب
    تصحیح کیلئے آپ کا ممنون ہوں ۔ یہ حروف کے لحاظ سے معمولی لیکن حقیقت میں بہت پڑی غلطی تھی ۔ جو میں نے اب ٹھیک کر دی ہے ۔

  10. Asma said

    نشانات کیسے نشانات؟؟

  11. اجمل said

    اسماء صاحبہ
    آپ اپنی ای میل دیکھئے اس میں کچھ نشانات ہیں جو انگریزی کے حروف نہیں لیکن میں نے صرف شُبہ ظاہر کیا تھا ۔ زیادہ وجہ دوبار شائع کرنا ہی ہو سکتی ہے جو کہ ورڈپریس کی خامی ہے ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: