What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

ذمہ دار کون ہو گا ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر مئی 10, 2007

پانچ اور چھ مئی کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو اسلام آباد تا لاہور جی ٹی روڈ پر پچیس گھنٹے کے سفر میں جس انداز کی عوامی پذیرائی ملی اس کے نتیجے میں مشرف حکومت اور اتحادی جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ اور ایم کیو ایم کو غالباً یہ فرض سونپا گیا ہے کہ وہ اب کھل کے سامنے آئیں اور چیف جسٹس کے حق میں امڈنے والی لہر کو روکنے کے لیے پوری طاقت اور وسائل بروئے کار لائیں۔
سرکاری وکلاء نے نہ صرف عدالت کے اندر جارحانہ رویہ اختیار کر لیا ہے بلکہ مظاہرے کا جواب مظاہرے سے اور جلسے کا جواب جلسے سے دینے کی حکمتِ عملی پر بھی عمل شروع ہوگیا ہے۔ پہلے مرحلے میں اردو میں شائع ہونے والے بڑے قومی اخبارات میں پہلے اور آخری صفحے پر سات مئی سے ایم کیو ایم لیگل ایڈ کمیٹی کے علاوہ عدلیہ تحفظ کمیٹی اور غیر جانبدار وکلاء کے نام سے چوتھائی صفحے کے اشتہارات شائع کرائے جا رہے ہیں۔

اس بات کا امکان کم ہے کہ یہ اشتہارات انفرادی سطح پر شائع کیے جا رہے ہوں کیونکہ فرنٹ پیج پر چوتھائی اشتہار کا نرخ ایک اخبار میں آٹھ لاکھ روپے اور دوسرے اخبار میں دو لاکھ ساٹھ ہزار روپے کے لگ بھگ ہے۔ جبکہ بیک پیج کا نرخ ایک اخبار میں سوا پانچ لاکھ روپے اور دوسرے اخبار میں ایک لاکھ اسی ہزار روپے ہے اور روزانہ دو بڑے اخبارات میں اتنی قیمت کے اشتہار شائع کروانا کسی ایک فرد کے لیے خاصا مشکل ہے۔

عدلیہ تحفظ کمیٹی کے اشتہار کا لبِ لباب یہ ہے کہ چیف جسٹس نادانستہ طور پر اعتزاز احسن، منیر ملک، رشید رضوی اور حامد خان جیسے وکلاء کے ذریعے بے نظیر بھٹو کے لیے استعمال ہورہے ہیں جن کی حکومت سے ڈیل ہورہی ہے۔ غیر جانبدار وکلاء کے نام سے جو اشتہارات شائع کرائے جا رہے ہیں ان میں چیف جسٹس سے پوچھا گیا ہے کہ جو سیاستدان اس وقت آپ کے ہاتھ چوم رہے ہیں اور جو وکلاء آپ کا مقدمہ لڑ رہے ہیں یا جو وکلاء آپ کے مخالف فریق کی جانب سے پیش ہورہے ہیں۔اگر ان میں سے کسی کا مقدمہ آئندہ آپ کی عدالت میں آتا ہے تو بحیثیت انسان اور جج کیا آپ انصاف کر پائیں گے۔

ایم کیو ایم لیگل ایڈ کمیٹی کے نام سے شائع ہونےوالے تفصیلی اشتہار میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کے نام پر سیاست اور عدالتی بائیکاٹ کے نتیجے میں لاکھوں سائلوں پر انصاف کے دروازے بند ہو چکے ہیں لہٰذا یہ کھیل بند کیا جائے اور عدالت کی بات عدالت میں ہی کی جائے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ق) نے اسلام آباد میں بارہ مئی کو لاکھوں افراد جمع کرنے کے لیے پارٹی اور حکومت کے تمام ضروری وسائل استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔امکان ہے کہ صدر مشرف بھی ریلی سے خطاب کریں گے۔جبکہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اعلان کیا ہے کہ بارہ مئی کو کراچی کی سڑکیں ان کے حامیوں سے بھر جائیں گی۔ چیف جسٹس کی حامی وکلاء قیادت تو پہلے ہی کراچی میں چیف جسٹس کے استقبال کے شیڈول اور جلوس کے روٹ کا اعلان کر چکی ہے۔

مبصرین خدشہ ظاہر کررہے ہیں اگر اس موقع پر کوئی فریق اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے سے باز نہیں آتا اور بلا لچک رویے کے نتیجے میں تصادم ہوتا ہے تو پھر حکومت کو ایمرجنسی نافذ کرنے اور بنیادی حقوق معطل کرنے کا جواز ہاتھ آ سکتا ہے۔اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہ یا تو رب جانے یا مشرف جانے۔

بی بی سی اُردو سروس

Advertisements

6 Responses to “ذمہ دار کون ہو گا ؟”

  1. Noumaan said

    بارہ مئی کا جلسہ ایک دم فضول اور واہیات ڈرامہ ہوگا اور مجھے امید ہے کہ لاکھ جتن کرنے پر بھی الطاف حسین کوئی خاص پرفارمنس نہ دے سکے گا۔

  2. اجمل said

    نعمان صاحب
    اگر الطاف حسین کی جماعت بڑا جلوس نکالنے میں کامیاب ہو بھی جائے تو اس کی قدر نہیں ہو گی کیونکہ اس میں سرکاری بجٹ اور اثرورسوخ بے تحاشہ استعمال کیا جائے گا ۔

  3. کل کے اخبارات میں چیف سیکریٹری سندھ نے چیف جسٹس سے اپیل کی کے وہ اپنی کراچی آمد مؤخر کردیں تاکہ تصادم کی صورت حال سے بچا جا سکے۔ لطیفہ دیکھیں کے انتظامیہ بجائے اس کے کہ اپنے جلسے کو مؤخر کریں اپوزیشن سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ اپنا جلسہ مؤخر کریں۔۔

  4. اجمل said

    راشد کامران صاحب
    اسے پنجابی میں کہتے ہیں ۔ نالے چور نالے چتّر ۔ اور اُردو میں کہتے ہیں ۔ خود میاں فصیحت اور دوسروں کو نصیحت

  5. umair said

    i know that when you will push the cat to the wall she(well! he can be a he too 🙂 ) will attack back at you ….

    but still even after all of this … i dont think that being chief justice, iftikhar should use politics …
    (and being an army person sharfoo ( musharaf
    ) should have also not use politics at first place )

  6. اجمل said

    عمیر صاحب
    آپ نے کبھی سوچا ہے کہ پولیٹِکس کا مطلب کیا ہے اور یہ لفظ کہاں سے آیا ؟ یہ یونانی زبان کے ایک لفظ پولِس سے بنا ہے جس کا مطلب ہے شہر یا ریاست ۔ اور پہلی بار پولِٹیکا کا لفظ ارسطو نے ریاست اور اس میں بسنے والوں کے حوالہ میں استعمال کیا ۔ جو بھی بات یا عمل یا چیز شہر یا ریاست سے یا اس میں بسنے والوں سے متعلق ہو گی وہ پولیٹِکس کہلائے گی ۔ عدالت اور جج کا تعلق براہِ راست ریاست یا شہر اور ریاست یا شہر میں بسنے والوں سے ہوتا ہے تو پھر عدالت یا جج پولیٹِکس سے باہر کیسے رہ سکتا ہے ؟

    بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں سرٹیفیکیٹ بہت سے لوگوں نے لے رکھے ہیں مگر تعلیم یافتہ بہت کم ہیں ۔ خدا را جاہلوں کے نعروں پر نہ جائیں اور علم حاصل کریں ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: