What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

کراچی کیا لاہور کیا

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر مئی 9, 2007

کراچی میں کسی کو پستول دکھا کر موبائل فون چھین لیا جائے تو کوئی خبر نہیں ہوتی ۔ کراچی میں میٹرو بس میں سفر کرتے ہوئے میرے بھتیجے کا دو سال میں دو بار موبائل فون چھینا جا چکا ہے ۔ کراچی میں کوئی دن نہیں ہوتا جب کم از کم 50 موبائل فون نہ چھینے جائیں ۔ اب یہ وباء پنجاب میں بھی پھیل رہی ہے ۔ پچھلے سال میرے ایک بھانجے کو موٹر سائیکل سوار نے دھکا دیا وہ زمین پر گرا اور اس کا موبائل ہاتھ سے گر گیا جو موٹر سائیکل سوار لے گیا ۔ آج صبح لاہور میں میرا ایک اور بھانجا جو پیتھالوجسٹ ہے اتفاق ہسپتال اپنی ڈیوٹی کیلئے پہنچا ۔ کار پارک کر کے چلا ہی تھا کہ ایک موٹر سائیکل سوار نے پستول کنپٹی پر رکھ کر کہا "موبائل اور جو کچھ ہے نکال دو” اور بیش قیمت موبائل فون اور بٹوا لے کر چلا گیا ۔ لاء اینڈ آرڈر حکومت کے کنٹرول میں ہونے کے باعث بے کار ہو چکا ہے ۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: