What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

بالآخر بند ٹوٹ گیا

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اپریل 30, 2007

میرے متعلق خاندان تو کیا سب جاننے والوں میں مشہور ہے کہ میں بڑے دل کا مالک ہوں ۔ اللہ نے مجھے بنایا ہی اس طرح کا ہے کہ کوئی تکلیف میں ہو تو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا مگر دوسروں کی طرح ہمدردی میں بیہوش ہونے یا رو رو کر نڈھال ہونے کی بجائے میں فوراً ضروری مدد بہم پہنچانے میں لگ جایا کرتا ہوں ۔ اللہ مجھے حوصلہ دیتا ہے اور میری راہنمائی کرتا ہے اور میں اشکوں کو آنکھوں میں آنے سے پہلے ہی روک لیتا ہوں ۔ میں ہمیشہ سب کو کہا کرتا ہوں ” آپ لوگوں کی ہمدردی کس کام کی کہ مدد کی بجائے آپ خود مدد کے قابل ہو جاتے ہیں ؟” لیکن دو روز قبل میرا ساری زندگی کا بھرم ٹوٹ گیا حوصلہ ریت بن گیا اور اشک جاری ہو گئے کہ بات ہی کچہ ایسی تھی ۔

عدالتِ عظمٰی میں گم شدہ افراد کے کیس کی سماعت ہو رہی تھی کہ حُزن و ملال کا مجسمہ ایک خاتون عدالتی آداب و قرائن کو بالائے تاک رکھتے ہوئے اچانک کھڑی ہو گئی اور عدالت کو مخاطب کر کے گویا ہوئی "میری عمر 60 سال ہے ۔ میری آخری زندگی کا سہارا میرا صرف ایک بیٹا ہی تھا ۔ اُسے بھی حسّاس اداروں نے گرفتار کر لیا ۔ مجھے کوئی پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہے اور کسی حال میں ہے ؟ خدا کے لئے مجھے میرا بیٹا لا دو ۔ میں اُسے ساتھ لے کر یہ ملک چھوڑ جاؤ گی ۔ کیا ایم آئی اور آئی ایس آئی والے اس ملک کے باشندے نہیں ؟ کون ہماری دادرسی کرے گا ؟” خاتون بولتی جا رہی تھی اور اشکوں کا سیلاب اس کی آنکھوں سے جاری تھا ۔

میں باپ ہوں ۔ بچے بڑے اور ماشاء اللہ سمجھدار ہیں مگر جب تک گھر نہ آجائیں دل بے چین اور نیند حرام رہتی ہے ۔ بڑا بیٹا امریکہ میں ہے ۔ ہفتہ بھر اس سے بات نہ ہو تو دل بے چین ہو جاتا ہے ۔ لیکن ماں کی تو بات ہی کچھ اور ہوتی ہے جو صرف ماں ہی سمجھ سکتی ہے ۔ میں جوان تھا بڑا افسر تھا جب دفتر سے گھر آتے ہوئے اپنی سڑک میں داخل ہی ہوتا تو دور سے امی [اللہ جنت میں اعلٰی مقام دے] گھر کے باہر میرے انتظار میں کھڑی نظر آتیں ۔ مجھ پر نظر پڑتے ہی وہ اندر چلی جاتیں ۔ کبھی کبھی میں امی سے کہتا "امی آپ روزانہ گھینٹہ بھر میری انتظار میں گھر کے باہر کھڑے ہو کر تھکتی ہیں ۔ آپ آرام کیا کیجئے کہ آپ کا بیٹا تو دفتر سے سیدھا گھر آتا ہے” ۔ تو نظر ملائے بغیر کہتیں "میں تو ویسے ہی باہر نکلی تھی ۔ تم کیوں پریشان ہوتے ہو ؟” میری بیوی کو بھی میرے بچے کہتے رہتے ہیں "امی ۔ آپ ایسے نہ کیا کریں ۔ جب بھی ہم گھر سے باہر ہوں تو آپ پریشان ہو جاتی ہیں” ۔ زکریا بھی ٹیلفون پر یہی کہتا رہتا ہے ۔

ذرا اندازہ لگائیے اس ماں کے دل کا حال کیا ہو گا جس کا واحد لختِ جگر یوں غائب کر دیا جائے کہ اسے کچھ معلوم نہ ہو کہ مر گیا ہے یا زندہ ہے اور اگر زندہ ہے تو اس کا کیا حال ہے ۔

Advertisements

2 Responses to “بالآخر بند ٹوٹ گیا”

  1. السلامُ علیکم
    میرا بھائی بھی اکلوتا ہے۔ اور اس وجہ سے محض اٹھارہ سال کی عمرمیں اس نے بابا کے ساتھ کاروبار میں ہاتھ بٹانا شروع کیا اور اس وجہ سے اکثر اسے دور دراز کے علاقوں کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ اس کی روٹین کو پانچ سال ہونے کو آئے ہیں کہ وہ صبح گھر سے نکلتا ہے تو بعض دفعہ دوپہر کا کھانا کھانے بھی نہیں آتا، رات گئے اس کی واپسی ہوتی ہے۔ اس دوران پورے دن میں میری والدہ صاحبہ، تقریباً دس بارہ فون کرواتی ہیں کہ اسے پون کر کے پوچھے کہاں ہے، کب آئے گا، کھانا کھایا یا نہیں، طبیعیت ٹھیک ہے، گرمی تو نہیں لگ رہی۔ مجھے نہیں یاد کہ ان پانچ سالوں میں کوئی ایک دن ہو جب والدہ صاحبہ نے اسے ہر پہر فون کر کے خیریت نا پوچھی ہو۔ جب اسے دیر ہوتی ہے تو والدہ کی بیقراری اپنے عروج پر ہوتی ہے، یہ کھڑکی، وہ کھڑکی، یہ گیلری، وہ گیلری، بس ادھر سے ادھر چکر لگاتی رہتی ہیں۔ کبھی موبائل کے سگنلز نا ہونے کی وجہ سے بیل نا جائے تو رونے بیٹھ جاتی ہیں۔ یہ اس ماں کاا حال ہ جو بارہ گھنٹے اپنے لختِ جگر کو نا دیکھنے پر ہوتا ہے۔ تو وہ ماں جس کا بیٹا نا جانے کب سے لا پتہ ہے، اس کے دل پر کس چرح سے آرے چلتے ہونگے۔ روز اس پر ناجانے کان کان سی قیامتیں گزرتیں ہونگی۔ مرنے والے پر صبر کیا جا سکتا ہے، مگر لا پتہ ہوجانے پر انسان تا حیات تڑبتا رہتا ہے کہ وہ کہاں ہے، کس حال میں ہے۔ وہ ماں کھانا کھاتی ہوگی تو لقمہ اس کے حلق میں اٹک جاتا ہوگا یہ ساچ کر کہ میرے بچے کو کھانا ملا ہوگا یا نہیں۔ وہ لوگوں کو ہنستے مسکراتے دیکھتی ہوگی تو اس کے دل میں نا جنے کتنے خنجر چلتے ہونگے اپنی بیٹے کی سکراہٹ یاد کرکے۔
    جن لوگوں نے یہ معصوم لوگ غائب کیے ہیں وہ بھی کسی کے بچے ہیں، ان کی بھی مائیں ہیں، خود ان کے بھی بچے ہیں، ایک بار اپنے دل پر یہ ّزاب لے کر دیکھیں اور بتائیں کہ کس طرح ان کا دل کانپ جاتا ہے یہ تصور کر کے۔ یہ حکمران گونگے، بہرے اور اندھے ہیں، یہ کچھ نہیں کریں گے۔ ان ماؤں کے لختِ جگروں کو نہ جانے کن اندھے کنوؤں میں پھینک دیا ہے، اس گناہ کا عذاب تمام ذمےداران کو بھگتنا ہوگا۔ اللہ کی رسی دراز ہے مگر جب وہ اسے جب کھینچے کا تو ناجانے کتنی گرنیں کھنچ جائیں گی۔
    میری دعا ہے اللہ، بیبی ہاجرہ (رض) کی ممتا، اور معصومینِ کربلا کے صدقے ان جگر گوشوں کو اپنی ماؤں سے ملا دے۔ آمین۔

  2. اجمل said

    صبا سیّد صاحبہ
    آپ نے ماں کے جذبات کا درست اظہار کیا ہے ۔ آپ نے ضمیر فروش ۔ ننگِ دین ۔ ننگِ وطن کے الفاظ پڑھے ہوں گے ۔ ہمارے موجودہ حکمران اور ایجینسیوں کے لوگوں کی تعریف کرنے کیلئے ان کے علاوہ مزید الفاظ دریافت کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: