What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

رہائی اور انوکھا واقع

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اپریل 26, 2007

رہائی

حکومت پاکستان نے رواں سال ماہ فروری میں ملک بھر میں الرشید ٹرسٹ کے اٹھائیس دفاتر سیل کر دیے تھے اور حکومت کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی اقوام متحدہ کی ہدایت پر کی گئی ہے۔ الرشید ٹرسٹ کے چیئرمین محمد سلیمان نے پابندی کے اس فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور اس مقدمے کی گزشتہ سماعت کے موقع پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کیےگئے تھے۔ جمعرات کو سماعت کے موقع پر سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد اور جسٹس علی سائیں ڈنو میتلو پر مشتمل بینچ نے سرکاری وکیل سے معلوم کیا کہ ٹرسٹ پر پابندی کا کیا کوئی حکم نامہ یا نوٹیفیکیشن ہے ؟ جس پر حکومت پابندی کا کوئی بھی نوٹیفیکیشن پیش نہ کرسکی۔ اس پر عدالت نے حکم جاری کیا کہ ملک بھر میں ٹرسٹ کے تمام دفاتر کھول دیے جائیں ۔ چیف جسٹس نے حکومت سے یہ بھی سوال کیا کہ کیا اقوام متحدہ کا قانون بلاواسطہ پاکستان کے عوام پر لاگو ہوتا ہے ؟


انوکھا واقعہ

قانونی ماہرین کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس کا کہنا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ جو کچھ آرمی ہاؤس میں ہوا اس کی مثال مہذب معاشرے میں نہیں ملتی۔ یہ بات پاکستان میں موجودہ قانونی بحران کا جائزہ لینے کے لیے آنے والے’ آئی سی جے‘ کے ایک مشن کے سربراہ داتو پرام کمارا سوامی نے اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے کیرئیر میں اس طرح کا ’انوکھا واقعہ‘ پہلے نہیں دیکھا۔داتو پرام کمارا سوامی نے کہا’اگرچہ میں اس روز یہاں نہیں تھا لیکن میں نے جو دیکھا اور جو سنا، اس کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ کسی مہذب معاشرے میں اس طرح ہو سکتا ہے‘۔

ملائیشیا سے تعلق رکھنے والے داتو پرام آئی سی جے کے نائب صدر ہونے کے علاوہ اقوام متحدہ کے ججوں اور وکلاء کی آذادی سے متعلق خصوصی نمائندے بھی رہ چکے ہیں۔ وہ اس مشن کی سربراہی کر رہے تھے جس نے پاکستان کے ایک ہفتے کے دورے کے دوران موجودہ قانونی بحران کا جائزہ لیا۔ اس سلسلے میں وہ اسلام آباد کے علاوہ کراچی، پشاور اور لاہور بھی گئے اور مقامی وکلاء اور حکومتی اہلکاروں سے بات کی۔

مشن نے اپنے ابتدائی مشاہدات میں لکھا ہے کہ پاکستان میں ماضی میں انتظامیہ کی عدلیہ میں مداخلت کے واقعات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ نو مارچ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی یونیفارم میں ملبوس صدر جنرل پرویز مشرف سے آرمی ہاوس میں ملاقات اور استعفی کے مطالبے کی مثال دنیا کی قانونی تاریخ میں بھی نہیں ملتی۔ داتو پرام کماراسوامی کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کو آرمی ہاؤس میں تقریباً پانچ گھنٹے تک رکھا گیا جس کے دوران ان کا باہر کی دنیا سے رابطہ کٹا رہا۔ ’اس دوران کافی عجلت میں قائم مقام چیف جسٹس کا حلف دلوایا گیا اور سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس کے لیے ججوں کو کراچی اور لاہور سے خصوصی طیاروں میں اسلام آباد لایا گیا‘۔ مشن کے مطابق آرمی ہاؤس سے واپسی پر چیف جسٹس کا تمام پروٹوکول واپس لے لیا گیا یہاں تک کہ ان کی گاڑی سے پرچم بھی ہٹا دیا گیا۔ انہیں واپس دفتر نہیں جانے دیا گیا بلکہ پولیس انہیں ان کی رہائش گاہ لے گئی۔ ’جب چیف جسٹس گھر پہنچے تو اٹھارہ خفیہ اداروں کے اہلکار وہاں موجود تھے‘۔

داتو پرام کماراسوامی کے خیال میں چیف جسٹس کو بظاہر بدنام کرنے کی کوشش میں ریفرنس میں شامل الزامات پر مشتمل ایک خط تمام ملک میں پھیلایا گیا۔ ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ انتظامیہ کی طرف سے چیف جسٹس کی بڑھتی ہوئی عدالتی فعالیت کا ردعمل تھا۔’سٹیل مل کیس اور لاپتہ افراد کے مقدمات میں چیف جسٹس کی کارروائی سے انتظامیہ کے ادارے ناراض ہوئے۔’

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: