What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

کہا "کُوچ کرو” اور کُوچ کر گئے

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اپریل 9, 2007

سولہ ماہ قبل میں نے جو لکھا تھا مشیّت نے مجھے اس میں ایک اضافہ کے ساتھ دوبارہ لکھنے پر مجبور کر دیا ہے ۔

حسن اتفاق ۔ ایک غزل بہت معروف ہوئی وہ لکھنے والے کی مشہور غزلوں میں سے آخری بن گئی اور گانے والے کی مشہور غزلوں میں سے بھی آخری ثابت ہوئی ۔ ابن انشاء کی لکھی اور استاد امانت علی کی گائی ہوئی ۔

اور اب دوسرا گانے والا اسد امانت علی بھی چل بسا ۔ گویا وہ پوری طرح باپ کے نقشِ قدم پر چلا ۔

انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو
اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کوسکوں سے کیا مطلب
جوگی کا ڈگر میں ٹھکانہ کیا
اس دل کے دریدہ دامن میں
دیکھو توسہی سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوۓ
اس جھولی کو پھیلانا کیا
شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا
زنجیر پڑی دروازے میں
کیوں دیر گئے گھر آۓ ہو
سجنی سے کرو گے بہانہ کیا
جب شہر کے لوگ نہ رستہ دیں
کیوں بن میں نہ جا بسرا ہم کریں
دیوانوں کی سی نہ بات کرے
تو اور کرے دیوانہ کیا

Advertisements

2 Responses to “کہا "کُوچ کرو” اور کُوچ کر گئے”

  1. السلام و علیکم
    یہ تو بڑا خطرناک اتفاق ہوا۔ آپ نے اسے حُسنِ اتفاق لکھ دیا۔
    یہ نظم تو شاندار ہے ہی (میں نے سنی نہیں ہے) اور تبصرے بھی بہت اچھے کیے ہیں بلوگرز نے۔
    فی امان اللہ

  2. اجمل said

    صبا سیّد صاحبہ
    اسے حسِ اتفاق ہی کہا جا سکتا ہے ۔ اللہ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے اور غیب کا علم صرف اللہ کو ہے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: