What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

Archive for اپریل, 2007

بالآخر بند ٹوٹ گیا

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اپریل 30, 2007

میرے متعلق خاندان تو کیا سب جاننے والوں میں مشہور ہے کہ میں بڑے دل کا مالک ہوں ۔ اللہ نے مجھے بنایا ہی اس طرح کا ہے کہ کوئی تکلیف میں ہو تو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا مگر دوسروں کی طرح ہمدردی میں بیہوش ہونے یا رو رو کر نڈھال ہونے کی بجائے میں فوراً ضروری مدد بہم پہنچانے میں لگ جایا کرتا ہوں ۔ اللہ مجھے حوصلہ دیتا ہے اور میری راہنمائی کرتا ہے اور میں اشکوں کو آنکھوں میں آنے سے پہلے ہی روک لیتا ہوں ۔ میں ہمیشہ سب کو کہا کرتا ہوں ” آپ لوگوں کی ہمدردی کس کام کی کہ مدد کی بجائے آپ خود مدد کے قابل ہو جاتے ہیں ؟” لیکن دو روز قبل میرا ساری زندگی کا بھرم ٹوٹ گیا حوصلہ ریت بن گیا اور اشک جاری ہو گئے کہ بات ہی کچہ ایسی تھی ۔

عدالتِ عظمٰی میں گم شدہ افراد کے کیس کی سماعت ہو رہی تھی کہ حُزن و ملال کا مجسمہ ایک خاتون عدالتی آداب و قرائن کو بالائے تاک رکھتے ہوئے اچانک کھڑی ہو گئی اور عدالت کو مخاطب کر کے گویا ہوئی "میری عمر 60 سال ہے ۔ میری آخری زندگی کا سہارا میرا صرف ایک بیٹا ہی تھا ۔ اُسے بھی حسّاس اداروں نے گرفتار کر لیا ۔ مجھے کوئی پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہے اور کسی حال میں ہے ؟ خدا کے لئے مجھے میرا بیٹا لا دو ۔ میں اُسے ساتھ لے کر یہ ملک چھوڑ جاؤ گی ۔ کیا ایم آئی اور آئی ایس آئی والے اس ملک کے باشندے نہیں ؟ کون ہماری دادرسی کرے گا ؟” خاتون بولتی جا رہی تھی اور اشکوں کا سیلاب اس کی آنکھوں سے جاری تھا ۔

میں باپ ہوں ۔ بچے بڑے اور ماشاء اللہ سمجھدار ہیں مگر جب تک گھر نہ آجائیں دل بے چین اور نیند حرام رہتی ہے ۔ بڑا بیٹا امریکہ میں ہے ۔ ہفتہ بھر اس سے بات نہ ہو تو دل بے چین ہو جاتا ہے ۔ لیکن ماں کی تو بات ہی کچھ اور ہوتی ہے جو صرف ماں ہی سمجھ سکتی ہے ۔ میں جوان تھا بڑا افسر تھا جب دفتر سے گھر آتے ہوئے اپنی سڑک میں داخل ہی ہوتا تو دور سے امی [اللہ جنت میں اعلٰی مقام دے] گھر کے باہر میرے انتظار میں کھڑی نظر آتیں ۔ مجھ پر نظر پڑتے ہی وہ اندر چلی جاتیں ۔ کبھی کبھی میں امی سے کہتا "امی آپ روزانہ گھینٹہ بھر میری انتظار میں گھر کے باہر کھڑے ہو کر تھکتی ہیں ۔ آپ آرام کیا کیجئے کہ آپ کا بیٹا تو دفتر سے سیدھا گھر آتا ہے” ۔ تو نظر ملائے بغیر کہتیں "میں تو ویسے ہی باہر نکلی تھی ۔ تم کیوں پریشان ہوتے ہو ؟” میری بیوی کو بھی میرے بچے کہتے رہتے ہیں "امی ۔ آپ ایسے نہ کیا کریں ۔ جب بھی ہم گھر سے باہر ہوں تو آپ پریشان ہو جاتی ہیں” ۔ زکریا بھی ٹیلفون پر یہی کہتا رہتا ہے ۔

ذرا اندازہ لگائیے اس ماں کے دل کا حال کیا ہو گا جس کا واحد لختِ جگر یوں غائب کر دیا جائے کہ اسے کچھ معلوم نہ ہو کہ مر گیا ہے یا زندہ ہے اور اگر زندہ ہے تو اس کا کیا حال ہے ۔

Advertisements

Posted in روز و شب | 2 Comments »

ظالم کون ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اپریل 29, 2007

ظالم کون ہے مدرسہ حفصہ کی طالبات یا روشن خیال آنٹی شمیم ؟ اور دیکھئے کہ مینجمنٹ سائنس میں بھی کیسا کمال حاصل کر لیا ہے لوگوں نے ۔ شکیل انجم کی تحقیقاتی رپورٹ کا مکمل متن یہاں کلک کر کے پڑھیئے ۔

This unusual sex business was open to all and sundry in G-6/1 Sector from 9am to 2pm sharp. “I searched for a job for more than seven months after the death of my husband, who worked as a supervisor in a private firm. I failed to get a suitable job, as wherever I went I was overtly or covertly asked for sexual favours,” a young widow, ‘N’, told this correspondent in an interview. “In the beginning, I fell into the hands of a dirty old man,” the widow in her late twenties said. “The old man had employed me as a personal secretary in his office in Blue Area but later exploited me sexually.” Later, she was somehow introduced to Aunty Shamim, who received her affectionately and behaved like a "mother”. She was thus forced by circumstances to accept her offer. She agreed to sell her body to earn money as starvation loomed over her family. She had to feed her children as well as old parents. She told her in-laws and parents that she was working with a semi-governmental organisation.

“The aunty got 70 per cent of the total earned money because she paid as much as 35 per cent to the area police,” she alleged. “It is a dirty but very lucrative job,” she said and maintained, “In this trade in Islamabad one can make millions within a few months.”

”Dozens of women were involved in this trade”, she said, adding that most of them were educated and had told their families that they were employed in some private organisations. “The women spent five hours in the brothel during the ‘office timings’ and left an hour before the office hours,” she revealed.

“The police provided complete protection to the business and the business centre,” ‘T’, who used to be second-in-command of Aunty Shamim alleged. “The police used to inform us well before time if there was to be any raid. In fact, the area police were running the sex trade,” she said and asserted, “No one could dare take on us because of the police shelter.”

Besides the young widow ‘N’, three other women, on Saturday met this correspondent in The News Bureau Office and claimed that they had been associated with Aunty Shamim and wanted to “expose” her. Aunty Shamim was said to be so highly connected that she was never touched by any law-enforcement agency despite several complaints lodged by the neighbours and others. However, recently after she was kidnapped by the Jamia Hafsa students and made to announce that she would stop this business, Aunty Shamim left for some unknown destination.

Posted in روز و شب | Leave a Comment »

گُڈ گورننس ۔ ۔ ۔ ہور چُوپو

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اپریل 27, 2007

کل یعنی جمعرات 26 اپریل کو عدالتِ عظمٰی میں ایک کیس پیش ہوا جس سے عدالتِ عظمٰی کے تمام جج صاحبان کے خلاف پریزڈینشل ریفرنس کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے ۔ سن 2004 عیسوی میں پبلک سروس کمیشن کے سلیکشن بورڈ نے فتح شیر جویا صاحب سپرنٹنڈنٹ پولیس کی بطور ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ترقی کی سفارش کی ۔ وزیرِ اعظم شوکت عزیز صاحب نے فتح شیر جویا صاحب کا نام نکال کر اس کی بجائے ظفر اقبال لکھ اور ظفر اقبال قریشی صاحبان جن کے نام ترقی والی فہرست میں موجود ہی نہ تھے کو ترقی دے کر ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس بنا دیا تھا ۔ بعد میں ظفر اقبال قریشی صاحب کا نام واپس لے لیا گیا تھا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ظفر اقبال لکھ [جسے قانون قاعدے کے خلاف ترقی دی گئی] کے خلاف کرپشن کے الزامات تھے جو کہ اس کی اپنی وزارت کے ریکارڈ میں تھے ۔ فیصل آباد کے مشہور لینڈ سکینڈل میں اس کے خلاف کاروائی نیشنل اکاؤنٹی بیلیٹی بیورو [NAB] میں ہو رہی تھی ۔

فتح شیر جویا صاحب کی درخواست عدالتِ عظمٰی کے بنچ کے سامنے ہے جس میں جسٹس صاحبان خلیل الرحمٰن رمدے ۔ فلک شیر اور محمد جاوید بُٹر شامل ہیں ۔ جسٹس فلک شیر صاحب نے کہا کہ یہ کیسی گُڈ گورننس ہے ؟ اور کیا کرپشن اس حکومت کی ترجیح ہے ؟

عدالتِ عظمٰی کے چیف جسٹس نے وزیراعظم شوکت عزیز صاحب کی سربراہی میں پرائیویٹائز ہونے والی پاکستان سٹیل مل کی فروخت پر کرپشن کا الزام عائد کیا تھا تو سب نے دیکھا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ۔ مندرجہ بالا واقعہ سے تو پوری عدالتِ عظمٰی کی عزت اور وقار خطرے میں نظر آتا ہے ۔

Posted in روز و شب | 2 Comments »

رہائی اور انوکھا واقع

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اپریل 26, 2007

رہائی

حکومت پاکستان نے رواں سال ماہ فروری میں ملک بھر میں الرشید ٹرسٹ کے اٹھائیس دفاتر سیل کر دیے تھے اور حکومت کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی اقوام متحدہ کی ہدایت پر کی گئی ہے۔ الرشید ٹرسٹ کے چیئرمین محمد سلیمان نے پابندی کے اس فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور اس مقدمے کی گزشتہ سماعت کے موقع پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کیےگئے تھے۔ جمعرات کو سماعت کے موقع پر سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد اور جسٹس علی سائیں ڈنو میتلو پر مشتمل بینچ نے سرکاری وکیل سے معلوم کیا کہ ٹرسٹ پر پابندی کا کیا کوئی حکم نامہ یا نوٹیفیکیشن ہے ؟ جس پر حکومت پابندی کا کوئی بھی نوٹیفیکیشن پیش نہ کرسکی۔ اس پر عدالت نے حکم جاری کیا کہ ملک بھر میں ٹرسٹ کے تمام دفاتر کھول دیے جائیں ۔ چیف جسٹس نے حکومت سے یہ بھی سوال کیا کہ کیا اقوام متحدہ کا قانون بلاواسطہ پاکستان کے عوام پر لاگو ہوتا ہے ؟


انوکھا واقعہ

قانونی ماہرین کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس کا کہنا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ جو کچھ آرمی ہاؤس میں ہوا اس کی مثال مہذب معاشرے میں نہیں ملتی۔ یہ بات پاکستان میں موجودہ قانونی بحران کا جائزہ لینے کے لیے آنے والے’ آئی سی جے‘ کے ایک مشن کے سربراہ داتو پرام کمارا سوامی نے اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے کیرئیر میں اس طرح کا ’انوکھا واقعہ‘ پہلے نہیں دیکھا۔داتو پرام کمارا سوامی نے کہا’اگرچہ میں اس روز یہاں نہیں تھا لیکن میں نے جو دیکھا اور جو سنا، اس کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ کسی مہذب معاشرے میں اس طرح ہو سکتا ہے‘۔

ملائیشیا سے تعلق رکھنے والے داتو پرام آئی سی جے کے نائب صدر ہونے کے علاوہ اقوام متحدہ کے ججوں اور وکلاء کی آذادی سے متعلق خصوصی نمائندے بھی رہ چکے ہیں۔ وہ اس مشن کی سربراہی کر رہے تھے جس نے پاکستان کے ایک ہفتے کے دورے کے دوران موجودہ قانونی بحران کا جائزہ لیا۔ اس سلسلے میں وہ اسلام آباد کے علاوہ کراچی، پشاور اور لاہور بھی گئے اور مقامی وکلاء اور حکومتی اہلکاروں سے بات کی۔

مشن نے اپنے ابتدائی مشاہدات میں لکھا ہے کہ پاکستان میں ماضی میں انتظامیہ کی عدلیہ میں مداخلت کے واقعات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ نو مارچ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی یونیفارم میں ملبوس صدر جنرل پرویز مشرف سے آرمی ہاوس میں ملاقات اور استعفی کے مطالبے کی مثال دنیا کی قانونی تاریخ میں بھی نہیں ملتی۔ داتو پرام کماراسوامی کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کو آرمی ہاؤس میں تقریباً پانچ گھنٹے تک رکھا گیا جس کے دوران ان کا باہر کی دنیا سے رابطہ کٹا رہا۔ ’اس دوران کافی عجلت میں قائم مقام چیف جسٹس کا حلف دلوایا گیا اور سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس کے لیے ججوں کو کراچی اور لاہور سے خصوصی طیاروں میں اسلام آباد لایا گیا‘۔ مشن کے مطابق آرمی ہاؤس سے واپسی پر چیف جسٹس کا تمام پروٹوکول واپس لے لیا گیا یہاں تک کہ ان کی گاڑی سے پرچم بھی ہٹا دیا گیا۔ انہیں واپس دفتر نہیں جانے دیا گیا بلکہ پولیس انہیں ان کی رہائش گاہ لے گئی۔ ’جب چیف جسٹس گھر پہنچے تو اٹھارہ خفیہ اداروں کے اہلکار وہاں موجود تھے‘۔

داتو پرام کماراسوامی کے خیال میں چیف جسٹس کو بظاہر بدنام کرنے کی کوشش میں ریفرنس میں شامل الزامات پر مشتمل ایک خط تمام ملک میں پھیلایا گیا۔ ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ انتظامیہ کی طرف سے چیف جسٹس کی بڑھتی ہوئی عدالتی فعالیت کا ردعمل تھا۔’سٹیل مل کیس اور لاپتہ افراد کے مقدمات میں چیف جسٹس کی کارروائی سے انتظامیہ کے ادارے ناراض ہوئے۔’

Posted in روز و شب | Leave a Comment »

پابندياں صرف مسلمانوں کيلئے

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اپریل 25, 2007

 

بدھ مت پر عمل کرنے والی خواتين اپنا جسم اور بال ڈھانپتی ہيں مگر ان کا يہ عمل اپنے عقيدہ سے خلوص کہا جاتا ہے ۔ ان کے سر ڈھانپنے کو کوئی عليحدگی کا مظہر قرار نہيں ديتا ۔

 

 

 

 

عيسائی راہبائيں [نَنّز] بھی اپنا جسم اور بال ڈھانپتی ہيں مگر ان کا بھی يہ عمل اپنے عقيدہ سے خلوص کہا جاتا ہے ۔ ان کے سر ڈھانپنے کو کوئی عليحدگی کا مظہر قرار نہيں ديتا ۔

 

 چونکہ مسلم خواتين اپنے دين کی پيروی کرتے ہوئے سر ڈھانپتی ہيں اسلئے مغربی ملکوں ميں ان کا سر ڈھانپنا ممنوع قرار ديا گيا ہے ۔ حال ہی ميں برطانيہ کے ايک وزير جيک سٹرا نے مسلم خواتين کے سر ڈھانپنے کو عليحدگی کا مظہر قرار ديا اور اُنہيں بے پردہ ہونے کی تلقين کی پھر اس کی تائيد کرتے ہوئے برطانيہ کے وزيرِاعظم ٹونی بليئر نے بھی اسے عليحدگی کا مظہر قرار ديا ۔

آخر کيوں مسلم خواتين کے جسم اچھی طرح ڈھانپنے کو بغاوت ۔ تنگدلی ۔ انتہاء پسندی ۔ جہالت ۔ جنسياتی وغيرہ سب کچھ کہا جاتا ہے ليکن حقيقت يعنی پيدا کرنے والے کی فرماں برداری ماننے سے انکار کيا جاتا ہے ؟

پھر دعوٰی ہے کہ مغربی دنيا والے کشادہ دل اور روشن خيال ہيں جبکہ ان کا قول و فعل انہيں منافق ثابت کرتا ہے ۔

بشکريہ : حجاب ہيپّوکريسی

Posted in معاشرہ | 6 Comments »

انقلاب کا بیج ؟؟؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اپریل 24, 2007

اظہرالحق صاحب کی تحریر "انقلاب کا بیج بویا جا چکا ہے ” پر تبصررہ کچھ تفصیل طلب تھا اور اس میں نوجوان نسل کیلئے اپنا علم اور تجربہ پیش کرنا بھی قومی فریضہ ہے ۔ اسلئے یہ تحریر نذرِ قارئین کر رہا ہوں ۔ لیکن پہلے اسلام آباد کی آج کی صورتِ حال ۔ آج صبح سویرے سے ہی شاہراہِ دستور [Constitution Avenue] کی طرف جانے والے تمام راستے شاہراہِ دستور سے 500 سے 1000 میٹر دور ہی مکمل طور پر بند کر دیئے گئے جس کی وجہ سے اسلام آباد میں بسنے والوں کو انتہائی پریشانی کا سامنا ہے ۔ سینکڑوں سیاسی لیڈر اور کارکن پچھلے دو تین دنوں میں گرفتار کئے جا چکے ہیں ۔

جب انصاف مٹ جائے یا اس کا حصول بہت مشکل ہو جائے تو سرد راکھ میں ایک ننھی سی چنگاری جنم لیتی ہے ۔ یہ بے ضرر سی چنگاری ہی دراصل انقلاب کا بیج ہوتی ہے ۔

حالات کی بے راہ روی یعنی ظلم یا نا انصافی قائم رہے تو اس چنگاری کو آکسیجن پہنچتی رہتی ہے اور آہستہ آہستہ اس چنگاری کا حجم بڑھتا چلا جاتا ہے لیکن یہ ابھی بھی راکھ کے نیچے دبی ہوتی ہے ۔

ظُلم یا بے انصافی جب برداشت سے باہر ہونے لگے اور متوسط طبقہ بھی اس کی زد میں آ جائے تو یہ ہوا کا ایسا تیز جھونکا ثابت ہوتا ہے جو اس چنگاری کو قوت بخشتا ہے اور ایک شعلہ بھڑک اُٹھتا ہے ۔ ایسے وقت میں اگر طاقت کے پُجاری اپنی من مانیاں ہی کرتے چلے جائیں اور طاقت کے زعم میں اس شعلے کو نحیف سمجھ کر نظر انداز کرتے ہوئے راکھ کے کسی دوسرے حصہ پر چڑھ دوڑیں تو یہ ننھا شعلہ بڑھک اُٹھتا ہے اور اسی کو انقلاب کہا جاتا ہے ۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اس علاقہ کے انسان دو گروہوں میں کھُلم کھُلا بٹ چکے ہوتے ہیں ۔ ایک قلیل ظالم اور عیّاش حکمران اور ان کے درباری اور دوسرا اکثریتی پسماندہ عوام ۔

ظُلم یا بے انصافی کے خلاف خلوص کی بنیاد پر اُٹھنے والا انقلاب کامیاب ہوتا ہے بشرطیکہ ان میں کا کوئی راہبر یا گروہ ظالم کے پیش کئے گئے لالچ میں آ کر اکثریت سے غدّاری نہ کرے ۔ اپنے ملک پاکستان سے محبت کرنے والے سب مل کر بارگاہِ ایزدی میں اپنی گذشتہ غلطیوں کی معافی مانگیں اور دعا کریں کہ فتح سچ اور انصاف کی ہو ۔

میری دعا ۔ یا میرے پیدا کرنے والے میرے رازق و حازق صرف اور صرف آپ ہی ہو ۔ مجھے سب کچھ آپ ہی نے دیا ہے اور میں جو کچھ بھی ہوں آپ کی ہی دی ہوئی توفیق سے ہوں ۔ آپ نے مجھ پر میرا عمل چھوڑا اور میں بھٹکتا رہا اور نافرمانیاں مجھ سے سرزد ہوتی رہیں گویا میں اپنے آپ پر ظُلم کرتا رہا ۔ آپ تو حلیم ہو ۔رحمٰن ہو ۔ رحیم ہو ۔ کریم ہو اور عفّو پسند فرماتے ہو اور آپ قادر بھی ہو ۔ آپ نے ہمیشہ مجھ پر رحم کیا اور ہر مشکل میں میری مدد فرمائی اور میرا حوصلہ بڑھایا ۔ مجھ پر اور میری قوم پر رحم فرمائیے اور ہماری غلطیاں معاف فرمائیے اور ہمیں حق کیلئے اور ظُلم و بے انصافی کے خلاف مضبوط بنائیے ۔ بے شک سب طاقت آپ ہی کے پاس ہے اور آپ ہی جسے چاہیں طاقت بخش دیتے ہیں ۔

Posted in روز و شب | 4 Comments »

ہر بيٹے کے نام

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اپریل 22, 2007

رياض الرحمٰن ساغر کی يہ نظم 8 جنوری 2007 کو نوائے وقت ميں چھپی تھی ۔

Posted in روز و شب | 6 Comments »

رنگِ زماں ۔ آدھی صدی پہلے

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اپریل 18, 2007

ایک ماہ قبل اپنی بيگم کی چُنيدہ قرآنی دعاؤں والی فائل ڈھونڈ رہا تھا کہ مُجھے اپنی بہت پُرانی ايک نوٹ بُک کے کُچھ اوراق ملے ۔ یہ نوٹ بُک حوادثِ زمانہ سہتے سہتے ورق ورق ہو کر منتشر ہو چکی تھی ۔ ان اوراق سے اپنی پچپن سال قبل لکھی ہوئی ايک نظم نقل کر رہا ہوں جب ميں نويں جماعت ميں پڑھتا تھا ۔ اُس زمانہ میں فيشن نے اچانک کروٹ لی اور جوان لڑکے لڑکيوں نے مغرب کی تقليد میں بہت چُست کپڑے پہننے شروع کر ديئے ايسے کہ بعض پہ شک ہوتا شائد جسم پر رکھ کر سِیئے گئے ہيں ۔ اس لباس کو ٹَيڈی لباس کہا جاتا تھا ۔ اس کے ساتھ ہی ميک اَپ اور فلم بينی کا رواج بھی بڑھا ۔

ہر موڑ پہ تم رنگِ زماں ديکھتے جاؤ
خاموش يہ سيلِ رواں ديکھتے جاؤ
تھيئٹر کو جاتے ہيں مسجِد سے نکل کر
اِسلام کے يہ روحِ رواں ديکھتے جاؤ
نازک جو ہوئی دخترِ ملت کی طبيعت
پردہ بھی ہوا اس پہ گِراں ديکھتے جاؤ
ہونٹوں پہ لِپ سٹِک رُخسار پہ پاؤڈر
يہ دُخترِ ملت ہے رواں ديکھتے جاؤ
اندھے ہوئے مغربی فيشن کے جنوں سے
انساں سے بنے ٹيڈی انہيں ديکھتے جاؤ
ہے اوجِ ترقی کی طرف رواں يہ زمانہ
اجمل کھڑے رفتارِ زماں ديکھتے جاؤ

Posted in شاعری | 5 Comments »

مذاکرات یا مذاق رات

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اپریل 17, 2007

اسلام آباد( نمائندہٴ جنگ)جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے مہتمم مولانا عبدالعزیز نے کہا ہے کہ پیر کے روز صبح ساڑھے دس بجے آرمی کا ہیلی کاپٹر جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے اوپر انتہائی نیچی پرواز کی اور اس سے مدرسے میں زیر تعلیم طالبات پر اعصاب شکن کیمیائی گیس پھینکی گئی جس سے کئی طالبات بیہوش اور سینکڑوں طالبات گھٹن کا شکار ہوگئیں ۔

ہیلی کاپٹر کی پرواز کے دوران سوئزر لینڈ کی خواتین جرنلسٹس جامعہ حفصہ میں موجود تھیں انہوں نے اس موقع پر صحافیوں کو بتایا کہ ہم جامعہ کے اندر موجود تھیں اور طالبات اپنی کلاسیں لے رہی تھیں کہ اچانک ہیلی کاپٹر سے کلاس روم پر اعصاب شکن کیمیائی گیس پھینکی گئی۔ ہیلی کاپٹر 20منٹ سے زیادہ پرواز کرتا رہا ۔ گیس کی بو کی وجہ سے کئی طالبات بے ہوش ہوگئیں‘ خود ہمارے گلے بھی بند ہوگئے اور ہم پرنیم غشی طاری ہوگئی۔

مولانا عبدالعزیز نے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ان حالات میں حکومت سے مزید مذاکرات جاری نہیں رہ سکتے۔ لگتا ہے حکومت مذاکرات کی آڑ میں آپریشن کی تیاری کر چکی ہے ۔ حکومت ایک طرف مذاکرات کر رہی ہے اور دوسری طرف ہمارے طلبہ کو گرفتار کیا جارہا ہے ۔ اس واقعے کے فوراً بعد لال مسجد میں علاقہ کے لوگ جمع ہوگئے اور لال مسجد میں مقیم طلبہ ڈنڈے ہاتھوں میں لے کر سڑک پرنکل آئے اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی

THE NEWS         By Myra Imran & Muhammad Anis

ISLAMABAD: Army helicopters hovered over the Jamia Hafsa and Lal Masjid and released gasses, claimed Principal of the seminary Umme Hassan here on Monday. Army sources, however, said the personnel on board the choppers were taking photographs of the seminary. “A number of minor girls fainted,” alleged Umme Hassan. “Girls were in their classrooms when the helicopters began circling low over the Madrassa and started spraying gasses through the classroom windows,” she told The News shortly after the incident.

Most of the girls managed to climb onto the rooftop but minor students fell unconscious after inhaling the mysterious gas, she alleged. Umme Hassan said there were three helicopters, two with Pakistani flags and the third without any marking, hovering over the Madrassa. “They were flying so low that we could see uniformed men in the cabins. Ropes were also dangling from the choppers, perhaps to be used for capturing some students.”

The incident happened when the principal was busy giving an interview to a foreign television channel. “The women interviewing me are witness to the attack; they helped many of the fainted girls recover,” she added.

Locals rushed to the seminary to assist the students in whatever way they could, witnesses said. Following the incident, many girls ended up with bad throats and skin and eye irritation, Umme Hassan said.

She said the past record of the administration shows that the government always negotiated to cool down the situation before taking action. “It seems that they are adopting the same policy with us now.” “The students usually don’t observe full Purdah (veil) when they are in their classrooms so taking their pictures is wrong,” she said.

He said a Swiss female journalist, who was also present inside the seminary, had also confirmed that chemical gas was sprayed from the helicopter. Ghazi said it was a condemnable act aimed at sabotaging the process of talks between the Lal Masjid management and the government.

Ghazi said he also talked to PML President Chaudhry Shujaat Hussain on the issue. “Chaudhry Shujaat has also expressed his anger and surprise over the latest development,” he said. About the road blockade by the students in front of the Jamia Hafsa and Lal Masjid, he said they had received a complete plan of military action and thus blocked the road in protest. He said Shujaat has promised to investigate the incident. To throw chemical gas on innocent people is also a violation of international laws. “I demand of the international community to take notice of the incident,” Ghazi said.

Posted in روز و شب | 2 Comments »

بجلی اور ایجنسیاں

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اپریل 17, 2007

میں نے کل لکھا تھا حال پانی کے بعد بجلی کی صرف ایک واردات کا ۔ تو ہوا یوں کہ بعد دوپہر 3 بجے بجلی پھر ایک گھینٹہ لاپتہ رہی اور ساڑھے چار بجے پھر غائب ہو گئی ۔ آجکل بہت انسان غائب ہو رہے ہیں اور بی بی سی کی تا زہ خبر کے مطابق پاکستان کے علاوہ آزاد جموں کشمیر کے صرف ایک شہر سے 15 افراد لاپتہ ہو گئے ہیں اور لوگ کہتے ہیں ایجنسیوں والے لے گئے ہیں ۔ گمان ہوا کہ بجلی بھی کہیں ایجنسی والوں کے ہاتھ نہ آ گئی ہو ؟   ایک تجربہ کار عقلمند نے کہا "نہیں ۔ ایجنسی والے بجلی کو ہاتھ نہیں لگا سکتے”۔  ہم نے پوچھا "آخر کیوں ؟”  تو بولے "بجلی کرنٹ مارتی ہے” ۔ کہتے ہیں کہ سیانے کی بات پلے باندھ لینا چاہیئے ۔ اب سمجھ آ ئی کہ بااثر لوگوں ۔ غنڈوں ۔ بدکاری کرنے والوں اور ڈاکووں  وغیرہ کو ایجنسیوں والے کیوں ہاتھ نہیں لگاتے ؟  وہ کرنٹ مارتے ہیں ۔

Posted in مزاح | 2 Comments »