What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

جسٹس رانا بھگوان داس

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر مارچ 21, 2007

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس رانا بھگوان داس کا طیارہ کراچی ایئر پورٹ پر اتر گیا ہے  ۔ جسٹس رانا بھگوان داس پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے آج دوپہر بھارتی وقت کے مطابق ڈھائی بجے دہلی سے روانہ ہو گئے تھے

Advertisements

6 Responses to “جسٹس رانا بھگوان داس”

  1. Abdullah said

    or aap kia fermaain gay is maslay kay beech kay aik hindo ko pakistan ka chief justice banna chahiay ya naheen?

  2. اجمل said

    عبداللہ صاحب
    بات میری خواہش کی نہیں بلکہ ملک کے آئین کی ہے اور میرے علم میں موجودہ آئین کی ایسی شرط نہیں کہ غیر مسلم ملک کا چیف جسٹس نہیں بن سکتا ۔ اب آتے ہیں تجربہ کی طرف ۔ پاکستان کے پہلے غیر مسلم چیف جسٹس کارنیلیس تھے ۔ آسٹریلیا میں منعقد ہونے والی ورلڈ چیف جسٹسز کانفرنس میں جب اس نقطے پر بحث ہو رہی تھی کہ کیسا آئین ہونا چاہیئے کہ انسانیت کے قریب ترین ہو تو جسٹس کارنیلیس نے کہا تھا کہ اسلام ایسا آئین اور ضابطۂِ حیات دیتا ہے ۔ اس کے مقابلہ میں جسٹس منیر جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے تو ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اُنہوں نے نظریہ ضرورت ایجاد کر کے گورنر جنرل غلام محمد کے غیر آئینی فیصلہ کو صحیح قرار دے کر ملک میں مارشل لاء کا راستہ بنایا اور ان کے فیصلہ کا نتیجہ قوم آج تک بھگت رہی ہے ۔

  3. Abdullah said

    Waisay mainay aap ki zati raay pochi hay is maslay per,
    dosra sawal jo mainay aap say kia tha dobara likh deta hoon kay kia aap nay us waqt bhi itna hi wawaila machaya tha jab aap kay Mian sahab nay justices sajad Ali shah per charhaai ki thi jis kay nateejay main unhain mustafi hona pera tha!

  4. اجمل said

    عبداللہ صاحب
    میری ذاتی رائے میں تو موجودہ حکمرانوں کے علاوہ پہلے والوں میں سے بھی کئی آئین کے مطابق اس کے اہل نہ تھے ۔ میں آج کوشش کروں گا 23 مارچ کے حوالہ سے ایک تحریر لکھوں ۔ اُسے ضرور پڑھئے گا ۔
    جسٹس سیّد سجاد علی شاہ کے وقت جو عدالتِ عظمٰی پر حملہ قسم کا واقعہ ہوا تھا میری لُغت میں غنڈہ گردی تھی ۔ اب جسٹس سیّد سجاد علی شاہ کا ذکر آ ہی گیا ہے تو اُسے خیف جسٹس بنانا بھی غلط اور غیر قانونی تھا ۔ اُنہیں اس کے نتیجہ میں نہیں بلکہ اُن کے خلاف ساتھی جج صاحبان کی بغاوت کی وجہ سے مستعفی ہونا پڑا تھا ۔

  5. Abdullah said

    yani aap mantay hain kay Nawaz shreef aik gunda hay kion kay yeh gunda gerdi usi kay eema per hoi thi,
    bilkul main aap say itifaq kerta hoon kay unka chief justice bnaya jana qanoon kay khilaf tha magar yeh baat nawaz shreef ko us waqt yaad aai jab unhon nay us kay khilaf daair refrences sunna shro kiay:)
    raha swaal judges ki bagawat ka to woh bhi to hawa ka rukh dekhtay hain!
    jo asal swal tha aap bhi us ka jawab gol ker gaay kay kia aap nay us waqt bhi itna hi shor machaya tha, mujhay andaza ho raha hay kay nheen machaya ho ga,uski wajah mera pakistan per likh chuka hoon,
    dosron ko deen or ikhlaqiaat ki tableeg kerna bohat aasaan hota hay magar khod amal……….

  6. اجمل said

    عبداللہ صاحب
    آپ نے میرے ماضی کو نہ جانتے ہوئے مجھ پر فتوٰی داغ دیا ہے ۔ کیا اسے اصول پسندی کہا جائے گا ؟ اس وقت اور اب میں فرق یہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں بلاگنگ شروع نہیں ہوئی تھی ۔ اگر فتوٰی صادر کرنے سے پہلے آپ انٹرنیٹ ایکسپلورر میں میرا پورا نام
    Iftikhar Ajmal Bhopal
    لکھ کر تلاش کرتے تو مختلف بلاگز کے علاوہ تھوڑے بہت میرے لکھے خطوط ڈان اور نیوز میں مل جاتے ۔ زیادہ اسلئے نہیں کہ ان کا زیادہ پرانا ریکارڈ اب ویب پر نہیں ہے ۔ میں نے لوگوں سے تعریفی سند نہیں لینا ہے ۔ میرا مالک مجھ سے راضی ہو جائے اس سے بڑھ کر مجھے کچھ نہیں چاہیئے ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: