What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

واقعات

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر مارچ 13, 2007

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی کے خلاف پیر کو پاکستان کے چاروں صوبوں میں وکلاء نے زبردست احتجاج کیا ۔ بی بی سی پر لاٹھی چارج کے مناظر دیکھنے کیلئے یہاں کلک کیجئے ۔ لاہور میں احتجاجی مظاہرے پر پولیس کے لاٹھی چارج سے 40 وکلاء زخمی ہوئے اور 25 کے قریب گرفتار کر لئے گئے ۔

Two private TV channels remained off air for some time on Monday after getting a warning from the government’s media regularity authority for showing pictures of police baton-charge on protesting lawyers in Lahore against the suspension of Chief Justice Iftikhar Mohammad Chaudhry.

It was the Aaj TV which first showed the footage of police chasing and beating the protesting lawyers on the streets of Lahore at around 1pm. The TV channel showed senior Supreme Court lawyer Sardar Latif Khosa with a bleeding head being taken by colleagues for medical treatment. After a while, another private TV channel, Geo News, aired the footage of the same incident.

After some time, the two channels went off the air simultaneously. The transmission of the two channels resumed after several minutes with a different footage of the Lahore incident. Sources told Dawn that an official of the Pakistan Electronic Media Regulatory Authority (Pemra) in Sindh contacted the managements of the channels on telephone and told them not to telecast the scenes of police action against lawyers.

They said the Pemra official was particularly angry over the scenes in which Latif Khosa was shown bleeding from a cut on his head.

بی بی سی کی خبریں اختصار کے ساتھ

تبصرہ خطوط وحدانی یعنی [ ] کے اندر ہے

اگر اس وقت تک سپریم جوڈیشل کونسل غیر مؤثر چیف جسٹس افتخار چوہدری کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کرسکی تو جسٹس بھگوان داس کی موجودگی سے کونسل کی ہیت کے بارے میں آئینی سوالات اٹھ سکتے ہیں اور یہ بات مضحکہ خیز لگے گی کہ ملک کا سب سے سینئر جج کونسل سے باہر بیٹھا ہو‘۔
[اسی لئے جسٹس بھگوان داس کے چھٹھ پر جانے کے بعد یہ قدم اُٹھایا گیا ہے ورنہ ایسی کوئی ایمرجنسی نہ تھی]

انگریزی اخبار ’دی نیشن‘ کے اداریے کا عنوان ہے: ’سیاست کون چمکا رھا ہے‘۔
اخبار کی رائے ہے کہ ’ایک جانب تو حکومت مسلسل یہ کہہ رہی ہے کہ ایک آئینی اور قانونی مسئلے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔ دوسری جانب سندھ کے وزیرِ اعلیٰ ارباب غلام رحیم دھڑلے سے غیرمؤثر چیف جسٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
[ملک کے آئین اور قانون کے تحت صدر اور چیف آف آرمی سٹاف دونوں کو سیاسی جلسوں میں میں شرکت کی اجازت نہیں اور پرویز مشرف صاحب سیاسی جلسوں میں باقاعدہ تلقین کرتے پھرتے ہیں کہ اُسے ووٹ دیں جو مجھے صدر بنائے]

اخبار نے سوال اٹھایا ہے کہ ’اگر جسٹس افتخار پر کوئی پابندی نہیں تو ان کی صاحبزادی کو اپنی ایک دوست کو یہ ایس ایم ایس کیوں بھیجنا پڑا کہ گھر میں مسلح افراد گھس آئے ہیں اور ہمیں ایک کمرے تک محدود کردیا گیا ہے‘۔

اخبار ’ایکسپریس‘ نے خبر دی ہے کہ ’حکومتِ سندھ کے سو سے زائد افسران اور ملازمین کی فہرست تیار کی گئی ہے جو طلب کرنے پر سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے جسٹس افتخار کے سخت گیر اور نامناسب رویے کے بارے میں گواہی دیں گے۔اس فہرست میں چپڑاسی اور ڈرائیور بھی شامل ہیں‘۔

اخبار دی نیوز میں یہ رپورٹ شائع ہوئی ہے کہ ’سپریم جوڈیشل کونسل میں شامل تین میں سے ایک جج کے خلاف مبینہ طور پر زمین کی ہیراپھیری اور دوسرے جج کے خلاف مالیاتی بے قاعدگیوں کا ریفرنس پہلے ہی سے کونسل میں زیرِ التوا ہے۔ جبکہ تیسرے جج کی صاحبزادی کو ایک چیف منسٹر کے کوٹے پر میڈیکل کالج میں داخلہ ملا ہے‘۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’چونکہ جسٹس افتخار چوہدری پر سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی رہائش گاہ کو بلا استحقاق استعمال کرنے کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔ اس لیے صوبائی چیف جسٹس متاثرہ فریق ہیں اور انہیں سپریم جوڈیشل کونسل میں نہیں بیٹھنا چاہیے‘۔

’اسی طرح قائمقام چیف جسٹس جاوید اقبال کے غیر مؤثر چیف جسٹس کے خلاف الزامات کی سماعت سے مفادات کا ٹکراؤ ہوسکتا ہے کیونکہ اگر کونسل ان کی صدارت میں جسٹس افتخار کی بحالی کا فیصلہ دیتی ہے تو پھر جسٹس جاوید اقبال کے مستقل چیف جسٹس بننے کے امکانات ختم ہوسکتے ہیں‘۔

رپورٹ کے مطابق ’اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے ججوں کے خلاف تیئس ریفرنس اور شکایات پڑی ہیں جن میں سے کئی برسوں پرانی ہیں‘۔

اخبار ’ڈیلی ٹائمز‘ کی شہ سرخی ہے: ’ٹی وی، اخبار اور ٹیلی فون۔ چیف جسٹس کے لئے شجرِ ممنوعہ‘۔
[یہ بھی صرف اُس آئین کا حصہ ہے جس کا نام پرویز مشرف ہے]

اخبار نے وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن کا یہ بیان شائع کیا ہے کہ ’وکیل نعیم بخاری نے اپنے کھلے خط میں جسٹس افتخار کے صاحبزادے سے متعلق کیس کا جو حوالہ دیا ہے وہ سیاق و سباق سے بالکل ہٹ کر ہے اور نعیم بخاری نے اپنے خط کے ذریعے صدر اور چیف جسٹس میں خلیج پیدا کی ہے‘۔
[بھانڈا پھُوٹا چوراہے میں اسی کو کہتے ہیں]

Advertisements

5 Responses to “واقعات”

  1. esSJee said

    Zulam ki intehaa hay…. jhoot ki inteha hay..hakoomat k numainday sab ghaib hain uncle! kia bolain? wo kuch kehnay k kabiiil hee nahii hain….
    hum loag ko adalat k darwazay b nahi khatkhata sakaingay???jahan adal ki yeh halat hay….
    me kisi k character k baray me kuch ni jantii haan ye maloom hay k iss sanihay se hum sab bohat insecure hain…

  2. esSJee said

    just talked to an Uncle i know in Advocate Supreme court…he told me that most of the Advocates were not allowed to go to the Supreme court…the ones who made it early managed it some how…and today not even 10% of the advocates managed to reach the court…

    if only 10% can make such effort i wonder how most of them could shatter the system…

    😦
    its injust ki b had

  3. اجمل said

    ایس جی صاحبہ
    بیٹا ۔ یہ توبہ کا وقت ہے کہ اپنے گناہوں کی اللہ سے معافی مانگی جائے ۔ میں نے بچپن میں بزرگوں سے سُنا تھا کہ ایسے وقت یہی کرنا چاہیئے اور مردوں کو چائیے کہ اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر اذانیں دیں ۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ قرآن شریف کی تشبیح کے مطابق اللہ کے عذاب کو قریب کرنے کی چاہت کی جا رہی ہے ۔ اللہ مسلمانوں پر اپنا کرم کرے ۔ آج کی مختصر صورتِ حال میں تھوڑی دیر میں انشاء اللہ تحریر کروں گا

  4. esSJee said

    theek keh rahay hain aap uncle!
    humain b duaon me yaad rakhiay gaaa

  5. اجمل said

    ایس جی صاحبہ
    جزاک اللہِ خیرٌ
    معذرت کہ میں وعدہ کے مطابق فوراً نہ لکھ سکا ۔ اچانک لاہور سے مہمان آ گئے تھے ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: