What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

سيکولرزم

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر فروری 25, 2007

حضرت عيسٰی عليہ السلام کے اس دنيا سے اُٹھائے جانے کے بعد کی تاريخ کے مطالع سے پتہ چلتا ہے کہ رفتہ رفتہ کليسا کے محافظ دنياوی لذتوں ميں پڑ کر حضرت عيسٰی عليہ السلام کی تعليمات سے روگردانی کرنے لگے پھر عيسائی حکمران اپنے مفاد کی خاطر دولت اور طاقت کے زور پر کليسا سے الہامی کُتب ميں تبديلياں کرا کے مذہب کے نام پر اپنی من مانی چلاتے رہے ۔ يہاں تک کہ حضرت عيسٰی عليہ السلام کو کچھ نے خدا کا بيٹا اور کچھ نے خدا ہی کہنا شروع کر ديا ۔ بدن سے بدن لگانے کو گناہ کی فہرست سے نکال ديا گيا ۔ لوگ دوسری خرافات کے ساتھ جنسی بے راہروی کا شکار ہو گئے اور کليسا بارسوخ لوگوں کی پردہ پوشی ميں مصروف رہا ۔ لين دين کی انتہائی ہيرا پھيری کے نتيجہ ميں دو صدياں قبل اس برائے نام مذہب کے خلاف بغاوت کے طور پر بیداری کی تحريک اُٹھی جو سيکولرزم کے نام سے مشہور ہوئی ۔ اس کے نتيجہ ميں رياست سے مذہب کو الگ کر کے کليسا ميں بند کر ديا گيا مگر يہ علاج انسان کيلئے مفيد ثابت نہ ہوا ۔

آج کے دور ميں جن حکومتوں پر سيکولر کی چھاپ ہے ان کا عمل کسی طرح بھی سيکولر نہيں بلکہ انتہائی تعصبانہ ہے ۔ منافقت آج کے دور کی ريت بن چکی ہے ۔

سيکولرزم کا مفروضہ ہے کہ دین ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہے اسلئے رياست کے نظام سے دين کو نکال ديا جائے اور سب فيصلے دين سے مبرّا کئے جائيں ۔ مُختصر اور عام فہم بات کی جائے تو سيکولرزم تھيوری کے مطابق حکومت کے کاروبار کے علاوہ کھانا ۔ پينا ۔ کھيلنا ۔ نہانا ۔ تيرنا۔ مِلنا جُلنا ۔ لکھنا ۔ پڑھنا – وغيرہ سيکولر عمل ہيں اور ان کے ساتھ دين کا کوئی تعلق نہيں اور نان سيکولر عمل ہيں عبادت کرنا اور عبادت گاہ ميں جانا اسلئے انہيں فرد تک محدود رہنا چاہئيں ۔

سب سے اہم مثال ارتکابِ زنا کی ہے ۔ دين حُکم ديتا ہے کہ زنا اگر باہمی رضامندی سے بھی کيا جائے تو بھی جُرم ہے اور قابلِ سزا ہے جبکہ سيکولرزم کہتا ہے چونکہ زنا کاروں نےاگر اپنی خوشی اور لُطف کی خاطر بند کمرے ميں زنا کيا اور اس سے کسی تيسرے شخص کا کچھ نہيں بگڑا چنانچہ يہ جُرم نہيں ۔ اسی طرح جس فعلِ بد کی وجہ سے قوم لوط کو اللہ تعالٰی نے تباہ کر ديا سيکولرزم باہمی رضا ہونے پر اس غير فطری فعل کی اجازت ديتا ہے ۔

کاروبار ميں بھی بہت سی قباحتيں ہيں جو سيکولرزم کے تحت جائز ہيں ليکن دين ان کی اجازت نہيں ديتا ۔ ايک عام فہم سی چيز رشوت ہے جو سيکولرزم کے تحت کميشن بن کر جائز ہو جاتی ہے جس کا جواز قوم کی يا کمپنی کی يا کسی فرد کی بہتری کہا جا سکتا ہے ليکن دين اس کی اجازت نہيں ديتا ۔

دين اسلام ايک مکمل ضابطۂ حيات ہے اور نظامِ حکومت مع قانون اور عدالتی نظام اس ميں شامل ہے ۔ شرعِ اسلام ميں کھانا ۔ پينا ۔ ملنا ملانا ۔ کھيلنا ۔ نہانا ۔ تيرنا۔ ملازمت ۔ تجارت ۔ رياستی امور ۔ لکھنا ۔ پڑھنا ۔ وغيرہ سب کے قوائد موجود ہيں چنانچہ مسلمان رياست ميں ان افعال کو دين سے عليحدہ نہيں کيا جا سکتا ۔

اگر سيکولرزم کا مطلب يہ ہے کہ بلا امتياز مذہب و ذات پات سب کے ساتھ يکساں سلوک کيا جائے تو پھر سيکولرزم کی ضرورت ہی کيا ہے ؟ اللہ کا دين اسلام اس کی تاکيد کرتا ہے ۔ دنيا کے کسی بھی نظام کے مقابلہ ميں دين اسلام سب سے زيادہ حقوق العباد پر زور ديتا ہے يہاں تک کہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے فرمايا ہے کہ جس زيادتی کا تعلق کسی انسان سے ہو گا وہ اس وقت تک معاف نہيں کی جائے گی جب تک کہ متعلقہ انسان خود معاف نہ کر دے ۔

جب مدينہ منوّرہ ميں اسلامی حکومت قائم ہو چکی تھی تو ايک علاقہ کے غير مسلم قبيلہ کے متعلق رسول اکرم صلّ اللہ عليہ و آلہ و سلّم نے حکم ديا کہ اُنہيں اپنے طور طريقے جاری رکھنے دئيے جائيں اور ان کے ساتھ ويسا ہی سلوک کيا جائے جيسا مسلمانوں کے ساتھ کيا جاتا ہے ۔ يہی اسلامی سلطنت کا اصول ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ وقت گذرنے پر اس قبیلہ کے لوگ مسلمانوں کے کردار سے متأثر ہو کر مسلمان ہو گئے ۔

ماہرِ مذاہب اور سیکولرزم سے کما حقہ آگاہ کارن آرمسٹرانگ [Karen Armstrong] نے اپنی کتاب خدا کی تاریخ [A History of God] میں لکھا ہے کہ سیکولرزم ایک منکرِ خدا فرقہ ہے [secularism is a godless cult] ۔ سیکولرزم کی آزادی اور دوسرے اوصاف کا جہاں تک تعلق ہے مغربی دنیا کی نومسلم نکاتا خولہ [Nakata Khaula] نے اپنے مسلمان ہونے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے سیکولرزم کی پُرفریب آزادی کی بجائے اسلام کا انتخاب کیا ۔ ۔ ۔ آخر کیوں تعلیم یافتہ عورتیں ساری دنیا میں آزادی اور خودمختاری کو چھوڑ کر اسلام قبول کر رہی ہیں ؟ [I chose Islam rather than the illusory freedom of secular life… why are so many educated young women all over the world abandoning ‘liberty’ and ‘independence’ and embracing Islam?]

اگر یہ صحیح ہے کہ سیکولرزم میں ہر قسم کی آزادی ہے اور ترقی کا موجب ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ بقول نیشنل جیوگرافک ۔ دی اِکانومسٹ ۔ سی این این اور بی بی سی آج کی دنیا میں اسلام سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے ؟

اصل مسئلہ يہ ہے کہ اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے جب اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی بجائے اختراعات پر چلتے ہيں تو دين کی شکل گھناؤنی ہو جاتی ہے اور بجائے اپنی جہت درست کرنے کے سيکولرزم کا سہارا لينے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ سيکولرزم کے حامی کچھ حضرات کہتے ہيں کہ سيکولر ہونے کا مطلب دين سے دوری نہيں ہے ۔ ديکھتے ہيں کہ ڈکشنرياں جو کہ غير مُسلموں نے لکھی ہيں کيا کہتی ہيں ۔

Word Reference.com English Dictionary
Secularism a doctrine that rejects religion and religious considerations

Merriam-Webster’s Online Dictionary, 10th Edition
Indifference to or rejection or exclusion of religion and religious considerations

Cambridge International Dictionary of English
The belief that religion should not be involved with the ordinary social and political activities of a country

Encarta® World English Dictionary, North American Edition
1. exclusion of religion from public affairs: the belief that religion and religious bodies should have no part in political or civic affairs or in running public institutions, especially schools
2. rejection of religion: the rejection of religion or its exclusion from a philosophical or moral system

Wiktionary
1. A position that religious belief and practice should be kept in the private sphere
2. The related political belief in the separation of church and state

The American Heritage® Dictionary of the English Language
1. Religious skepticism or indifference.
2. The view that religious considerations should be excluded from civil affairs or public education.

علامہ اقبال کو يورپ کے معروف مفکّروں نے بھی فلسفی مانا ہے ۔ ميں نے ان کی شان ميں جرمن زبان ميں لکھا ہوا مقالہ 1967 عیسوی میں ميونخ يونيورسٹی ميں ديکھا تھا ۔ جب يونيورسٹی کے ريکٹر کو پتہ چلا کہ ميں پاکستانی مسلم ہوں تو اس نے علامہ اقبال سے عقيدت کی وجہ سے ميری آؤ بھگت کی ۔ علامہ اقبال کا کہنا ہے ۔

جُدا ہو ديں سياست سے تو رہ جاتی ہے چنگيزی ۔

Advertisements

11 Responses to “سيکولرزم”

  1. ماشا اللہ بہت خوب لکھا آپ نے ۔ واقعتآ ہمیں سیکولرازم نہیں اسلام چاہیئے مگر وہ اسلام جس کی بنا قرآن و سنت پر ہو ، طالبان یا کسی اور اس طرح کے گروہ کے اختراعات پر مبنی نہ ہو ۔ جس طرح ہم سیکولر اسلام کی تشریح سے برات ظاہر کررہے ہیں اسی طرح ہمیں طالبان اور تنگ نظر مذہبیت والے اسلام کی تشریح سے بھی برات کا اظہار کرنا چاہیئے ۔

  2. جُدا ہو ديں سياست سے تو رہ جاتی ہے چنگيزی

    انکل جی اب یہ شعر یوں پڑا جاتا ہے ۔ ۔ ۔

    جُدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے پرویزی

  3. اجمل said

    وقار علی روغانی صاحب
    اسلام صرف اسلام ہے اس کوئی کُنیت نہیں ہے ۔ میری طالبان میں سے کسی سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی اسلئے میں نہیں جانتا کہ اُن کا مسلک کیا ہے اور بغیر تفصیل معلوم کئے کسی کے متعلق لکھنا میرا شیوا نہیں ۔

    اظہرالحق صاحب
    اپنی اپنی مرضی کی بات ہے

  4. Gul G said

    MashAllah to this valueable post!

    Main to darti hun haalaat aur waqt kay badaltay is dour say kay kaheen yeh secularism ki waba Pakistan ko bhi safa e hasti say mitanay main apna haq ada na karay, wesay kafi had taq Pakistan bhi is ki lapait main hai, afsos sad afsos.

  5. اجمل said

    گُل جی
    جزاک اللہ خیر ۔ بیٹی ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے ۔ آپ کا خدشہ درست ہے ۔ پچھلے پانچ چھ سالون سے مجھے یہی غم کھائے جا رہا ہے ۔ بیٹی اللہ کو یاد کیا کرو اور اسی سے التجاء کیا کرو وہ رحیم و کریم ہے اور قادر بھی ۔

    آج کی جوان نسل کے بگاڑ کے ذمہ دار ہیں ۔
    1 ۔ میری عمر کے لوگ
    2 ۔ ہمارے ملک کے ذرائع ابلاغ
    3 ۔ ہماری حکومت

  6. esSJee said

    Assalamolaikum Uncle!!!

    Masla ye hay k hum sab apna bojh dooosron k sar dal kar apni zimedari se mawaraa ho jatay hain… bilashubah Deen k bagher na to hum ba izzat zindagee guzar saktay hain naa hii pur sakoon…. hum loag isko azadi kehtay hain…magar ye humari pastii ko batati hay… is se barh kar or pastii kia hogii k Aik mukamal zabta hiyaat chor k janwaron wali zindagee ko apnaya jai…

  7. اجمل said

    ایس جی
    آپ نے بالکل ٹھیک کہا لیکن جن کیلئے شیطان نے زندگی کو بظاہر رنگین بنا دیا ہے وہ مجھ جیسوں کو بیوقوف سمجھتے ہیں ۔

    ما وراء نہیں ہو جاتے بلکہ مبرّا ہو جاتے ہے ۔”ما” کا مطلب ہے "جو” یا "کیا” اور "وراء” کا مطلب ہے "پیچھے” ۔

  8. انکل آپ کا لکھا ہوا یہ سچ یار لوگ مختلف تاویلوں کی مدد سے ماننے سے انکاری ہیں!! سیکولرزم کے ہامی پاکستان میں اس نظریہ کو پھلانے کے لئے ایک گمراہ کن تاویل یہ دیتے ہیں کہ یہ اسلام کے قریب ترین ہے!!!!
    دراصل معاشرے کی اصلاح کا نظریہ اس جملے نے ہم سے دور کردیا کہ “میں نے اپنی قبر میں جانا ہے اور تم نے اپنی“
    آپ نے اوپر ایک نومسلم کا ذکر کیا!!! میں نے ایک نومسلم کا انٹرویوں پڑھا جب اُس سے پوچھا گیا کہ آپ کا کیا خیال ہے آج کے مسامنوں کے بارے میں؟ تو اُن کا جواب تھا اگر میں اسلام کے پیروکاروں کو دیکھ کر اسلام سے دور ہو جاتا میں نے اسلام کی تعلیمات کا مطالعہ کر کے اسے اپنایا ہے“

  9. Iftekhar Abid Bhopal said

    Dear Brother.

    What you have written is true.

    Your research is the best.

    Abid bhopal

  10. اجمل said

    شعیب صفدر صاحب
    جن لوگوں کی بات آپ کر رہے ہیں ان کی مثال عقل کے اندھے نام نین سُکھ سے بہتر نہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر ایک نے اپنے اپنے اچھے یا بُرے کامون کا نتیجہ پانا ہے لیکن اچھائی کو اپنانے کی کوشش بذاتِ خود ایک اچھائی ہے ۔ نو مسلم نے ٹھیک کہا اور حقیقت بھی یہی ہے کہ کوئی پھل آپ پسند کرتے ہیں تو اُس پھل کی اچھائی کی وجہ سے نہ کہ پھل کھانے والوں کی وجہ سے ۔

  11. اجمل said

    برادرم عابد
    میرے بلاگ کی زیارت کا شکریہ ۔ اُمید ہے میری حوصلہ افزائی کیلئے آتے رہیں گے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: