What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

بچے برائے فروخت

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر فروری 15, 2007

میاں چنوں میں ایک شخص شوکت علی نے اپنی غربت کے باعث بچوں کے گلے میں برائے فروخت کے چارٹ لٹکا کر مظاہرہ کیا ۔ سننے میں آیا ہے کہ اس خبر کی اشاعت کے بعد حکومت ۔ مختلف این جی اوز ۔ مخیر حضرات اورخیراتی اداروں نے میاں چنوں کا رخ کر لیا ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم سیکرٹریٹ نے میاں محمد امیر بودلہ چیئرمین پبلک سیفٹی کمیشن کے توسط سے شوکت علی کو بینک سکیورٹی گارڈ کی نوکری کی پیشکش کی ہے۔ ایک ٹیکسٹائل کے منیجر نے 6000 ہزار روپے تک کی نوکری، لاہور کے ایک شہری نے پاک پتن میں واقع اپنے بورڈنگ اسکول میں اس کے بچوں کی تعلیم رہائش اور مکمل اخراجات برداشت کرنے کی آفر دی ہے جبکہ کراچی چیمبر آف کامرس نے بھی شوکت علی کو مالی امداد کا عندیہ دیا ہے علاوہ ازیں بیرون ممالک ناروے، انگلینڈ، امریکا، و دیگر ممالک سے درد دل رکھنے والے پاکستانیوں نے بھی رابطہ کر کے مدد کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

نوائے وقت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جنگ

Advertisements

5 Responses to “بچے برائے فروخت”

  1. esSJee said

    انکل مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ یہ سب صرف اس شخص کے لیۓ ہو گا۔ان سب کے لیۓ کیا؟جو ایسے ہی حالات میں ہیں مگر اس طرح اپنی مجبوریوں کا بتا نہیں سکتے؟؟؟ حکومت کا کوي حال نہیں۔ خیر۔۔۔ اللہ بہتری کرے سب کے لیۓ

  2. یعنی قیمت لگی کی اس کی جو بازار میں آیا ہو بکنے کو!!!!۔۔۔۔۔

  3. اجمل said

    ایس جی صاحبہ
    بیٹی ۔ آج کی دنیا میں شرافت کا کوئی مُول نہیں ۔ جو بات مغربی میڈیا تک پہنچ جاتی ہے اس پر کچھ پیش قدمی ہو جاتی ہے ۔ اس میں بھی بعض اوقات بیان دے دیا جاتا ہے لیکن عمل نہیں ہوتا ۔
    ہم سب اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ۔ ایک حدیث کے مطابق مسلمان وہ ہے جو کھانا کھا کر سوئے تو اس کے قرب و جوار میں کوئی بھوکا نہ ہو ۔ ذرا اس پیمانہ سے دیکھیں کتنے مسلمان ہیں ہمارے ملک میں ۔
    مثالیں تو ہم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی دیتے ہیں جن کا قول ہے کہ اگر دجلہ کے کنارے ایک کُتا بھی بھوکا مر گیا تو عمر اُس کیلئے جوابدہ ہو گا ۔ دجلہ ان دنوں اسلامی خلافت کی سرحد پر تھا ۔ اس پیمانے پر ہماری حکومت کی مسلمانی ناپ لیجئے ۔
    دعا کیا کیجئے اپنے لئے کہ اللہ سیوھی راہ پر چلائے اور ہو سکے تو مجھے اپنی دعا میں یاد رکھئے ۔ جزاک اللہ خیرٌ

    شعیب صفدر صاحب
    ہاں ۔ آج کی دنیا کا شیوا یہی ہے ۔ ہر چیز کی قیمت بازار میں لگتی ہے ۔ آجکل بہت سی نیک سیرت لڑکیوں کی شادی صرف اسلئے نہیں ہوتی کہ وہ اپنے حُسن کا بازار لگانے پر تیار نہیں ہوتیں ۔ اللہ معاف کرے اور محفوظ رکھے ہر شر سے ۔

  4. فیصل said

    اسکا مطلب ہے کہ ایسی آفریں حاصل کرنے کے لءے مزید اشتہارات بھی لگیں گے!

  5. اجمل said

    فیصل صاحب
    آپ بھی ٹھیک کہتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں غربت اور منافقت دونو ہی پریشان کُن حد تک بڑھ چکے ہیں ۔ اس سلسلہ میں میری آج کی پوسٹ بھی پڑھ لیجئے ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: