What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

خواتين کے حقوق محفوظ ہوگئے ؟ ؟ ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جنوری 23, 2007

ميں شعيب صفدر صاحب کا مشکور ہوں کہ نئے قانون تحفظِ حقوق خواتين کے ويب پر شائع ہوتے ہی اس کا لِنک مجھے بھيج ديا ۔ اس کا مطالعہ سکون سے کرنا ضروری تھا ۔ ميں کچھ ذاتی کاموں ميں مصروف تھا ۔ پھر ايک رات جب کہ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نيچے تھا ميں آدھی رات کو لحاف سے نکل کر قدير احمد رانا صاحب کی طرح صرف شلوار قميص پہنے غسلخانہ چلا گيا جو کہ غسلخانہ کيا برف خانہ تھا ۔ سو مجھے تيز بخار ہو گيا ۔ بخار کم ہوا تو ميرے کمپيوٹر کے سرور [Server] نے نخرے دکھانے شروع کر ديئے ۔ چنانچہ تاخير ہو گئی ۔

زنا زبردستی سے کيا جائے يا باہمی رضامندی سےقرآن شريف اور سنّتِ رسول اللہ محمد صَلَّ اللہُ عَلَيہِ وَ سَلَّم کے مطابق زانی اور زانيہ کی سزا ميں کوئی فرق نہيں ہے اور سزاسو کوڑے يا رجم ہے البتہ زنا بالجبر کی صورت ميں عورت کو باعزت بری کر ديا جاتا ہے اور زانی مرد کو سزا دی جاتی ہے ۔

تحفظِ حقوق خواتين کا قانون منظور کرانے کا مقصد خواتين کے حقوق محفوظ کرنا ہے يا بے راہ روی کو محفوظ کرنا ۔ يہ نئے قانون کی مندرجہ ذيل صرف تين دفعات پڑھنے سے ہی واضح ہو جاتا ہے ۔


زنابالجبر کے لئے سزا 376

[1] جو کوئی زنا بالجبر کا ارتکاب کرتا ہے اسے سزائے موت یا کسی ایک قسم کی سزائے قید جو کم سے کم پانچ سال یا زیادہ سے زیادہ پچیس سال تک ہو سکتی ہے دی جائے گی اور جرمانے کی سزا کا بھی مستوجب ہو گا۔


٤٩496۔ ب ۔ باہمی رضا مندی سے زنا کی سزا

[2] اگر عورت اور مرد باہمی رضامندی سے زنا کے مرتکب ہوں تو انہيں قيد کی سزا دی جا سکتی ہے جس کی معياد پانچ سال تک بڑھائی جا سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ جرمانہ بھی کيا جا سکتا ہے جو دس ہزار روپے سے زيادہ نہ ہو ۔


٢٠٣ 203 ۔ الف ۔ زنا کی صورت ميں نالش

[1] کوئی عدالت زناء کے جرم (نفاظ حدود) آرڈیننس کے تحت کسی جرم کی سماعت نہیں کرے گی ماسوائے اس نالش کے جو کسی اختیار سماعت رکھنے والی مجاز عدالت میں دائر کی جائے۔

[2] کسی نالش جرم کا اختیار سماعت رکھنے والی عدالت کا افسر صدارت کنندہ فوری طور پر مستغیث اور زنا کے فعل کے کم از کم چار چشم دید بالغ گواہوں کی حلف پر جرم کے لئے ضروری جانچ پڑتال کرے گا۔

[3] مستغیث اور عینی گواہوں کی جانچ پڑتال کرنے کے لئے مواد کو تحریر تک محدود کر دیا جائے گا اور اس پر مستغیث اور عینی گواہوں کے علاوہ عدالت کے افسر صدارت کنندہ کے بھی دستخط ہوں گے۔

[4] اگر عدالت کے افسر صدارت کنندہ کی یہ رائے ہو کہ کاروائی کے لئے کافی وجہ موجود ہے تو عدالت ملزم کی اصالتاَ حاضری کے لئے سمن جاری کرے گا۔

[5] کسی عدالت کا افسر صدارت کنندہ جس کے روبرو نالش دائر کی گئی ہو یا جس کو یہ منتقل کی گئی ہو اگر وہ مستغیث اور چار یا زائد عینی گواہوں کے حلفیہ بیانات کے بعد یہ فیصلہ دے کہ کاروائی کے لئے کافی وجہ موجود نہیں ہے، نالش کو خارج کر سکے گا اور ایسی صورت میں وہ اس کی وجوہات قلمبند کرے گا۔

ڈسٹرکٹ اينڈ سيشن جج کو مجاز جج قرار ديا گيا ہے ۔


تبصرہ ۔

زنا بالجبر ثابت ہو جانے پر بھی موت کی سزا دينا ضروری نہيں رہا بلکہ پانچ سال قيد کی سزا دے کر بھی فارغ کيا جا سکتا ہے ۔ سو کوڑے يا رجم کی سزا ختم کر دی گئی ہے جو اللہ تعالٰی کے حکم کی صريح خلاف ورزی ہے ۔

اگر باہمی رضامندی سے زنا کا ارتکاب ثابت ہو جائے تو زيادہ سے زيادہ پانچ سال قيد کی سزا دی جا سکتی ہے ۔ اس ميں بھی سو کوڑے يا رجم کی سزا ختم کر دی گئی ہے جو اللہ تعالٰی کے حکم کی صريح خلاف ورزی ہے ۔

چار تزکيۂِ نفس رکھنے والے چشم ديد گواہ کہاں سے آئيں گے جن پر مجاز جج کو بھی اعتبار ہو ؟

کيا متذکّرہ تخفيف شدہ سزا بھی صرف کھُلے عام زنا کرنے والوں کيلئے ہے ؟  قانون کی شِقوں سے تو ايسا ہی ظاہر ہوتا ہے ۔

ڈسٹرکٹ اينڈ سيشن جج کو مجاز جج قرار ديا گيا ہے ۔ نہ پوليس اور نہ کسی اور جج کو زنا کے سلسلہ ميں کسی قسم کی کاروائی کا کوئی اختيار ہو گا اور نہ کوئی جج از خود نوٹس لے کر کاروائی کر نے کا مجاز ہو گا ۔ چنانچہ کسی دُور دراز علاقہ ميں بھی کوئی زنا کا مرتکب ہو گا تو مستغيث اور چار چشم ديد گواہوں کو ڈسٹرکٹ ہيڈکوارٹر جا کر ڈسٹرکٹ اينڈ سيشن جج کے سامنے پيش ہو کر اپنے بيانات قلمبند کرانا ہوں گے جبکہ ہمارے ملک ميں تو اپنے ہی شہر ميں مقدمہ درج کروانا مشکل ہوتا ہے ۔

اس قانون سے تو يہی اخذ کيا جا سکتا ہے کہ زنا کے مرتکب مرد اور عورت کو صرف اسی وقت سزا ملے گی جب کوئی بااثر شخص اُنہيں سزا دينا چاہے گا اور وہ سچے يا جھوٹے گواہ مہيّا کر دے گا ۔ جہاں تک بااثر لوگوں کا تعلق ہے وہ اب بغير خطرے کے پہلے سے زيادہ رنگ رلياں منائيں گے ۔

کہاں گئے مغرب زدہ اين جی اوز اور دوسرے روشن خيالوں کے جديد طريقوں کے وہ بلند بانگ دعوے جن کو قرآن شريف پر ترجيح دی جا رہی تھی ؟ حقيقت يہ ہے کہ اُن کی عياشی پر قدغن تھی سو اب وہ مکمل طور پر آزاد ہو گئے ہيں ۔ جس دن يہ قانون منظور ہوا لاہور کے بازارِ حُسن ميں جشن منايا گيا تھا اور مٹھائی بانٹی گئی تھی ۔ چند مادر پدر آزاد اين جی اوز نے بھی مٹھائی بانٹی اور ايک دوسرے کو مبارکباد دی ۔ يہ ہے وہ تاريک اور گھناؤنا غار جس ميں ہمارے روشن خيال حکمران ہماری قوم کو دھکيل رہے ہيں ۔

Advertisements

9 Responses to “خواتين کے حقوق محفوظ ہوگئے ؟ ؟ ؟”

  1. انکل صرف قدیر احمد ہی لکھ دیا کریں ، وہی کافی ہے 🙂

    اور ہاں ۔ ابھی آپ نے میرے جتنی ترقی نہیں کی ۔ میں تو رات کو نیکر بنیان پہن کر سوتا ہوں اور سخت سردی میں بھی اسی حالت میں پھرتا ہوں
    😀

  2. انکل جی میری نظر میں تو صرف پاکستانی قوم کی “روشن خیالی“ کو قانونی شکل دی گئی ہے ، میں نے ابھی تک جتنی بھی حواتین (ماسوائے چند “دقیانوسی اسلام پسندوں“ کے ) کو سنا ہے یا پڑھا ہے ، وہ تو ابھی مزید آزادی چاہتی ہیں قانونی طور پر ، رہی بات کہ قانون قرآن و سنت سے ٹکراتا ہے تو ۔ ۔ اس پر کہنے کو بہت کچھ ہے اور کچھ لوگ آپ کی طرح کہ بھی رہے ہیں ، مگر ہماری قوم کو ہی “آزادی“ چاہیے اسی لئے اب سوائے “طالبانائزیشن“ کے کوئی بھی حل بے کار ہو گا ۔ ۔ ۔ آپ کی تحریر پڑھتے ہوئے مجھے میرے کزن کا پی ایچ ڈی کا مقالہ “قرآن اور قانون جدید“ یاد آ گیا ، جو کتابی شکل میں بھی شائع ہو چکا ہے ، یہ سب کچھ انہوں نے کافی عرصہ پہلے کہا اور پی ایچ ڈی سے نوازے بھی گئے مگر ۔ ۔ ایسی ہی کتنی ہی تحقیقات ضائع گئیں ہیں ۔ ۔ صرف روشن خیالی کے چکر میں ۔ ۔ ۔

    قدیر پا جی ، تسی ، مافیا کے ملک میں ہو ، وہاں آپ کا بیان کردہ لباس کافی ستر پوش ہے ۔ ۔ ۔ 🙂

  3. اجمل said

    قدير احمد صاحب
    آپ جديد ترقی يافتہ دنيا کے فرد ہيں اور ميں پُرانے غير ترقی يافتہ دور کی يادگار ۔ ہی ہی ہی

    اظہرالحق صاحب
    گرچہ بُت ہيں جماعت کی آستينوں ميں
    مجھے ہے حُکمِ اذاں لا الٰہ الاللہ

  4. umair said

    afsoos … sad … afsoos …

  5. جانے اس قوم کا کیا بنے گا۔

  6. اجمل said

    عمير صاحب
    مجھے تو اکبر الٰہ آبادی کا شعر ياد آيا ہے ۔
    بے پردہ جو نظر آئيں کل چند بيبياں
    پوچھا کہ وہ جو پردہ تھا کيا ہوا ؟
    ہنس کے بوليں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گيا

    محمد شاکر عزيز صاحب
    اس قوم کا وہی بنے گا جس کيلئے يہ قوم کوشش کرے گی

  7. السلام علیکم،۔
    آج موقعہ ملا مجھے مفتی تقی عثمانی صاحب کا پہلا انٹرویو حقوۡ نسواں بل سے متعلق۔ سوچا ربط بھیج دوں تاکہ سب لوگ مستفید ہو سکیں۔
    http://video.google.ca/videoplay?docid=4763829972393791162
    والسلام
    ابو حلیمہ

  8. اجمل said

    ابو حليمہ صاحب
    رابطہ بھيجنے کا شکريہ

  9. اجمل said

    ابو حليمہ صاحب
    ميں اسلام آباد ميں ہونے کی وجہ سے کسی بلاگسپاٹ کے بلاگ پر تبصرہ نہيں لکھ سکتا ۔ اسلئے معذرت خواہ ہوں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: