What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

میراتھان ریس اور اِسلام

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جنوری 20, 2007

میں نے پچھلی تحریر میں حفظانِ صحت کے اصولوں اور لمبی دوڑ [Marathon Race]کا جائزہ پیش کیا تھا ۔ اب لمبی دوڑ اور دِین اِسلام کا تقابل ۔ تقابل میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دین اِسلام ورزش یا کھیل یا حفظانِ صحت کی مخالفت کرتا ہے ؟ ۔ صحیح جواب ہے ” نہیں ایسا بالکل نہیں ہے” ۔

ہماری یہ عادت بن چُکی ہے کہ ہم پراپیگنڈا سے بہت جلد اور بہت زیادہ مُتأثر ہوتے ہیں ۔ دین کے معاملہ میں بھی ہم گھر میں مترجم قُرآن شریف موجود ہونے کے باوجود اُسے پڑھ کر اُس پر عمل کرنے کی بجائے پراپیگنڈہ کے دین پر عمل کرتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے متعدد بار [بِلا ارادہ] قُرآن اور اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں ۔ ہم اَلْحَمْدُللہ مسلمان ہیں اِسلئے ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم قرآن الحکیم ۔ احادیث اور اسواءِ حَسَنہ سے اِستفادہ حاصل کریں ۔

قُرآن الحکیم کی سورت اَلْانْفَالْ کی آیت 60 کا ترجمہ ہے ” اور جس قدر ہو سکے طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے مہیا رکھو تا کہ تم اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو ڈراتے رہو اور اُن دوسرے دشمنوں کو بھی جن کو تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے ۔ "

یہ آیت دفاعی تیاری کے متعلق ہے ۔ اِس میں دو چیزوں کا واضح ذکر ہے ۔ ایک طاقت اور دوسری تیار گھوڑے ۔ طاقت کے لئے مناسب اور باقاعدہ ورزش بہت ضروری ہے جس میں کھیل کود بھی شامل ہے ۔ تیار گھوڑے سے مُراد سِدھائے ہوئے گھوڑے ہے اور اِن کا استعمال سواری ہے ۔ گھوڑوں کو سِدھانے اور سواری کے لئے بھی خاص قسم کی ورزش کی باقاعدہ ضرورت ہے ۔ خيال رہے کہ اُس زمانہ ميں آجکل کی طرح فوج ايک عليحدہ گروہ نہيں ہوتی تھی بلکہ ہر عاقل بالغ مرد فوجی ہوتا تھا ۔ چنانچہ يہ حُکم ہر مُسلمان کيلئے ہے ۔

قرآن شریف میں کھانے پینے اور رہنے سہنے کے جو طریقے سمجھائے گئے ہیں وہ سب حِفظانِ صحت کے اُصُولوں کے عین مطابق ہیں ۔ احادیث اور اسواءِ حسنہ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صَلّ اللہِ عَلَیہِ وَ سَلَّم نے دوڑ لگانے ۔ تیر اندازی ۔ تلوار بازی اور نیزہ بازی کی ترغیب دی ۔ اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام نہ صرف صحتمند کھیلوں کا مخالف نہیں بلکہ اُن کی حمائت کرتا ہے ۔

لاہور کی لمبی دوڑ کی مخالفت میں مولوی حضرات نے جو مؤقف اِختیار کیا وہ یہ تھا کہ خواتین مردوں کے شانہ بشانہ نہ بھاگیں ۔ چنانچہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ مولوی صحتمند عمل کی مخالفت کرتے ہیں ۔ جس بناء پر مولوی حضرات نے مخالفت کی وہ ایک الگ اور وسیع موضوع ہے اور اُسے بھی قرآن اور سُنّت کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہے ۔

Advertisements

2 Responses to “میراتھان ریس اور اِسلام”

  1. Dr. said

    sahii baat hay bilkul….
    i was in lahore jis din marathon thii… had huii…uncle 3 bajai tak adha lahore blocked tha…na janay kesi sehat hay ye k ambulances…hospital nahi ja skteeen theeennn

  2. Dr.
    يہ روشن خيالی ہے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: