What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

Archive for جنوری, 2007

سليقہ کی اہميت

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جنوری 29, 2007

 

 عشق سے مغلوب ہو کر اس ويڈيو کلِپ والے لڑکے کی طرح تيزی نہ دکھايئے ۔ صبر ۔ سليقہ اور تميز ہر کام کيلئے لازمی ہيں

Advertisements

Posted in مزاح | 7 Comments »

بلاگسپاٹ کے بلاگرز کے نام

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جنوری 27, 2007

کل يعنی جمعہ مبارک صبح سے بلاگسپاٹ کے بلاگ کھلنا شروع ہو گئے تھے اور آج دوپہر تک کھل رہے تھے ليکن آج عصر کے بعد سے پھر بلاگسپاٹ کا کوئی بلاگ مجھ سے نہيں کھُل سکا ۔ اسلئے اُن تمام خواتين اور حضرات جن کے بلاگسپاٹ پر بلاگ ہيں کو مطلع کرنا چاہتا ہوں کہ پابندی کی وجہ سے پاکستان ميں بلاگسپاٹ اگر کسی طرح کھول بھی ليں تو اس پر تبصرہ شائع نہيں کر سکتے ۔ ميرا خيال ہے کہ پاکستان ميں رہنے والے باقی قارئين کو بھی اسی صورتِ حال کا سامنا ہوگا ۔

جن خواتين و حضرات کے بلاگ بلاگسپاٹ پر ہيں اگر وہ چاہتے ہيں کہ اُن کے بلاگ پاکستان ميں بسنے والے پڑھيں اور اپنی رائے کا اظہار بھی کريں تو اُن سے درخواست ہے کہ وہ اپنے بلاگ کسی اور ڈومين پر منتقل کر ليں ۔ ان ميں مندرجہ ذيل بلاگر بالخصوص توجہ کريں

urdudaan.blogspot.com
khawarking.blogspot.com
radianceofexistance.blogspot.com
subhanaahmed.blogspot.com
urdutechnews.blogspot.com
urduonline.blogspot.com
urdijahan.blogspot.com
emullah.blogspot.com

Posted in خبر | 3 Comments »

خبردار کا جواب

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جنوری 25, 2007

گو مسئلہ خاور کھوکھر صاحب نے پيش کيا ہے مگر ہے سب مسلمانوں کا مسئلہ اسلئے تمام قارئين کی نذر کر رہا ہوں ۔

خاور کھوکھر صاحب لکھتے ہيں کہ وہ مہينہ ايک آدھ بار گريک سنڈوچ يا ڈونر کباب کھاليا کرتے تھے ۔ اس کا نام دراصل شَورما ہے اور يہ مسلمانوں کے کھانوں ميں سے ايک ہے جو کہ بين الاقوامی بن گيا ۔ شَورما بنيادی طور پر بکرے يا دُنبے يا گائے کے گوشت سے بنايا جاتا ہے ۔ آجکل جسے برگر کہتے ہيں اس کا نام پہلے ہَيمبُرگر تھا کيونکہ جرمنی کے شہر ہَيمبُرگ ميں بنايا گيا تھا اور اس سے پہلے اس کا نام وِمپی تھا جو کہ مسلمان ترکو ں نے بنايا تھا ۔ اسلئے اس ميں بھی بکرے ۔ دُنبے يا گائے کا گوشت استعمال ہوتا تھا ۔ اسی طرح ساسيجز ميں بھی کسی زمانہ ميں صرف گائے کے گوشت کا قيمہ ہوتا تھا ۔ مگر اب مغربی ملکوں ميں اس کی گارينٹی نہيں دی جا سکتی ۔ وہاں تو يہ حال ہے کہ 1977 عيسوی ميں ہالينڈ کے شہر ماس ترِکت کے ايک ہوٹل ميں صرف اُبلے ہوئے چاول منگوائے ۔ جب چاول لائے گئے تو اُن پر بالکل چھوٹے چھوٹے ٹکڑے لال رنگ کے پڑے تھے ۔ پوچھا تو سؤر کا گوشت تھا ۔ پوچھا يہ کيا ؟ جواب ملا ڈيلی کيسی ہے ۔ بغير کھا پيسے دئے اور ايک ريڑی سے کيلے اور سيب ليکر کھا لئے ۔


اب خاور صاحب کی بيماری کا علاج ۔

جناب آپ نے بے خبری ميں کھا ليا اُس کيلئے اللہ سے معافی مانگ ليجئے اور آئيندہ احتياط کيجئے ۔ اللہ رحيم و کريم ہے ۔ رمضان ميں بھول کر کہ روزہ ہے کوئی کچھ کھا لے تو روزہ نہيں ٹوٹتا ۔ يہ تو آپ کے علم ہی ميں نہ تھا ۔ ميرے خيال ميں گناہگار وہ ہے جس نے علم ہوتے ہوئے اسے حلال کے طور بيچا ۔ متعلقہ آيات درج ہيں ۔


سُورت الْبَقَرَہ ۔ آيات 172 اور 173

اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں اور اﷲ کا شکر ادا کرو اگر تم صرف اسی کی بندگی بجا لاتے ہو ۔

اس نے تم پر صرف مُردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور وہ جانور جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام پکارا گیا ہو حرام کیا ہے، پھر جو شخص سخت مجبور ہو جائے نہ تو نافرمانی کرنے والا ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر کوئی گناہ نہیں، بیشک اﷲ نہایت بخشنے والا مہربان ہے


سُورت الْمَآئِدَہ ۔ آيات 3 اور 4

تم پر مردار حرام کر دیا گیا ہے اور خون اور سؤر کا گوشت اور وہ جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام پکارا گیا ہو اور گلا گھٹ کر مرا ہوا اور ضرب سے مرا ہوا اور اوپر سے گر کر مرا ہوا اور سینگ مارنے سے مرا ہوا اور وہ جسے درندے نے پھاڑ کھایا ہو سوائے اس کے جسے تم نے ذبح کر لیا، اور جو آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ کہ تم پانسوں کے ذریعے قسمت کا حال معلوم کرو یہ سب کام گناہ ہیں۔ آج کافر لوگ تمہارے دین [کے غالب آجانے کے باعث اپنے ناپاک ارادوں] سے مایوس ہو گئے، سو [اے مسلمانو!] تم ان سے مت ڈرو اور مجھ ہی سے ڈرا کرو ۔ آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو [بطور] دین [یعنی مکمل نظامِ حیات کی حیثیت سے] پسند کر لیا۔ پھر اگر کوئی شخص بھوک کی شدت میں اضطراری حالت کو پہنچ جائے [اس شرط کے ساتھ] کہ گناہ کی طرف مائل ہونے والا نہ ہو تو بیشک اﷲ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے

لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ ان کے لئے کیا چیزیں حلال کی گئی ہیں، آپ فرما دیں کہ تمہارے لئے پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں اور وہ شکاری جانور جنہیں تم نے شکار پر دوڑاتے ہوئے یوں سدھار لیا ہے کہ تم انہیں (شکار کے وہ طریقے) سکھاتے ہو جو تمہیں اﷲ نے سکھائے ہیں، سو تم اس [شکار] میں سے [بھی] کھاؤ جو وہ [شکاری جانور] تمہارے لئے [مار کر] روک رکھیں اور [شکار پر چھوڑتے وقت] اس پر اﷲ کا نام لیا کرو اور اﷲ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اﷲ حساب میں جلدی فرمانے والا ہے

Posted in دین | 8 Comments »

خواتين کے حقوق محفوظ ہوگئے ؟ ؟ ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جنوری 23, 2007

ميں شعيب صفدر صاحب کا مشکور ہوں کہ نئے قانون تحفظِ حقوق خواتين کے ويب پر شائع ہوتے ہی اس کا لِنک مجھے بھيج ديا ۔ اس کا مطالعہ سکون سے کرنا ضروری تھا ۔ ميں کچھ ذاتی کاموں ميں مصروف تھا ۔ پھر ايک رات جب کہ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نيچے تھا ميں آدھی رات کو لحاف سے نکل کر قدير احمد رانا صاحب کی طرح صرف شلوار قميص پہنے غسلخانہ چلا گيا جو کہ غسلخانہ کيا برف خانہ تھا ۔ سو مجھے تيز بخار ہو گيا ۔ بخار کم ہوا تو ميرے کمپيوٹر کے سرور [Server] نے نخرے دکھانے شروع کر ديئے ۔ چنانچہ تاخير ہو گئی ۔

زنا زبردستی سے کيا جائے يا باہمی رضامندی سےقرآن شريف اور سنّتِ رسول اللہ محمد صَلَّ اللہُ عَلَيہِ وَ سَلَّم کے مطابق زانی اور زانيہ کی سزا ميں کوئی فرق نہيں ہے اور سزاسو کوڑے يا رجم ہے البتہ زنا بالجبر کی صورت ميں عورت کو باعزت بری کر ديا جاتا ہے اور زانی مرد کو سزا دی جاتی ہے ۔

تحفظِ حقوق خواتين کا قانون منظور کرانے کا مقصد خواتين کے حقوق محفوظ کرنا ہے يا بے راہ روی کو محفوظ کرنا ۔ يہ نئے قانون کی مندرجہ ذيل صرف تين دفعات پڑھنے سے ہی واضح ہو جاتا ہے ۔


زنابالجبر کے لئے سزا 376

[1] جو کوئی زنا بالجبر کا ارتکاب کرتا ہے اسے سزائے موت یا کسی ایک قسم کی سزائے قید جو کم سے کم پانچ سال یا زیادہ سے زیادہ پچیس سال تک ہو سکتی ہے دی جائے گی اور جرمانے کی سزا کا بھی مستوجب ہو گا۔


٤٩496۔ ب ۔ باہمی رضا مندی سے زنا کی سزا

[2] اگر عورت اور مرد باہمی رضامندی سے زنا کے مرتکب ہوں تو انہيں قيد کی سزا دی جا سکتی ہے جس کی معياد پانچ سال تک بڑھائی جا سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ جرمانہ بھی کيا جا سکتا ہے جو دس ہزار روپے سے زيادہ نہ ہو ۔


٢٠٣ 203 ۔ الف ۔ زنا کی صورت ميں نالش

[1] کوئی عدالت زناء کے جرم (نفاظ حدود) آرڈیننس کے تحت کسی جرم کی سماعت نہیں کرے گی ماسوائے اس نالش کے جو کسی اختیار سماعت رکھنے والی مجاز عدالت میں دائر کی جائے۔

[2] کسی نالش جرم کا اختیار سماعت رکھنے والی عدالت کا افسر صدارت کنندہ فوری طور پر مستغیث اور زنا کے فعل کے کم از کم چار چشم دید بالغ گواہوں کی حلف پر جرم کے لئے ضروری جانچ پڑتال کرے گا۔

[3] مستغیث اور عینی گواہوں کی جانچ پڑتال کرنے کے لئے مواد کو تحریر تک محدود کر دیا جائے گا اور اس پر مستغیث اور عینی گواہوں کے علاوہ عدالت کے افسر صدارت کنندہ کے بھی دستخط ہوں گے۔

[4] اگر عدالت کے افسر صدارت کنندہ کی یہ رائے ہو کہ کاروائی کے لئے کافی وجہ موجود ہے تو عدالت ملزم کی اصالتاَ حاضری کے لئے سمن جاری کرے گا۔

[5] کسی عدالت کا افسر صدارت کنندہ جس کے روبرو نالش دائر کی گئی ہو یا جس کو یہ منتقل کی گئی ہو اگر وہ مستغیث اور چار یا زائد عینی گواہوں کے حلفیہ بیانات کے بعد یہ فیصلہ دے کہ کاروائی کے لئے کافی وجہ موجود نہیں ہے، نالش کو خارج کر سکے گا اور ایسی صورت میں وہ اس کی وجوہات قلمبند کرے گا۔

ڈسٹرکٹ اينڈ سيشن جج کو مجاز جج قرار ديا گيا ہے ۔


تبصرہ ۔

زنا بالجبر ثابت ہو جانے پر بھی موت کی سزا دينا ضروری نہيں رہا بلکہ پانچ سال قيد کی سزا دے کر بھی فارغ کيا جا سکتا ہے ۔ سو کوڑے يا رجم کی سزا ختم کر دی گئی ہے جو اللہ تعالٰی کے حکم کی صريح خلاف ورزی ہے ۔

اگر باہمی رضامندی سے زنا کا ارتکاب ثابت ہو جائے تو زيادہ سے زيادہ پانچ سال قيد کی سزا دی جا سکتی ہے ۔ اس ميں بھی سو کوڑے يا رجم کی سزا ختم کر دی گئی ہے جو اللہ تعالٰی کے حکم کی صريح خلاف ورزی ہے ۔

چار تزکيۂِ نفس رکھنے والے چشم ديد گواہ کہاں سے آئيں گے جن پر مجاز جج کو بھی اعتبار ہو ؟

کيا متذکّرہ تخفيف شدہ سزا بھی صرف کھُلے عام زنا کرنے والوں کيلئے ہے ؟  قانون کی شِقوں سے تو ايسا ہی ظاہر ہوتا ہے ۔

ڈسٹرکٹ اينڈ سيشن جج کو مجاز جج قرار ديا گيا ہے ۔ نہ پوليس اور نہ کسی اور جج کو زنا کے سلسلہ ميں کسی قسم کی کاروائی کا کوئی اختيار ہو گا اور نہ کوئی جج از خود نوٹس لے کر کاروائی کر نے کا مجاز ہو گا ۔ چنانچہ کسی دُور دراز علاقہ ميں بھی کوئی زنا کا مرتکب ہو گا تو مستغيث اور چار چشم ديد گواہوں کو ڈسٹرکٹ ہيڈکوارٹر جا کر ڈسٹرکٹ اينڈ سيشن جج کے سامنے پيش ہو کر اپنے بيانات قلمبند کرانا ہوں گے جبکہ ہمارے ملک ميں تو اپنے ہی شہر ميں مقدمہ درج کروانا مشکل ہوتا ہے ۔

اس قانون سے تو يہی اخذ کيا جا سکتا ہے کہ زنا کے مرتکب مرد اور عورت کو صرف اسی وقت سزا ملے گی جب کوئی بااثر شخص اُنہيں سزا دينا چاہے گا اور وہ سچے يا جھوٹے گواہ مہيّا کر دے گا ۔ جہاں تک بااثر لوگوں کا تعلق ہے وہ اب بغير خطرے کے پہلے سے زيادہ رنگ رلياں منائيں گے ۔

کہاں گئے مغرب زدہ اين جی اوز اور دوسرے روشن خيالوں کے جديد طريقوں کے وہ بلند بانگ دعوے جن کو قرآن شريف پر ترجيح دی جا رہی تھی ؟ حقيقت يہ ہے کہ اُن کی عياشی پر قدغن تھی سو اب وہ مکمل طور پر آزاد ہو گئے ہيں ۔ جس دن يہ قانون منظور ہوا لاہور کے بازارِ حُسن ميں جشن منايا گيا تھا اور مٹھائی بانٹی گئی تھی ۔ چند مادر پدر آزاد اين جی اوز نے بھی مٹھائی بانٹی اور ايک دوسرے کو مبارکباد دی ۔ يہ ہے وہ تاريک اور گھناؤنا غار جس ميں ہمارے روشن خيال حکمران ہماری قوم کو دھکيل رہے ہيں ۔

Posted in روز و شب | 9 Comments »

میراتھان ریس اور اِسلام

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جنوری 20, 2007

میں نے پچھلی تحریر میں حفظانِ صحت کے اصولوں اور لمبی دوڑ [Marathon Race]کا جائزہ پیش کیا تھا ۔ اب لمبی دوڑ اور دِین اِسلام کا تقابل ۔ تقابل میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دین اِسلام ورزش یا کھیل یا حفظانِ صحت کی مخالفت کرتا ہے ؟ ۔ صحیح جواب ہے ” نہیں ایسا بالکل نہیں ہے” ۔

ہماری یہ عادت بن چُکی ہے کہ ہم پراپیگنڈا سے بہت جلد اور بہت زیادہ مُتأثر ہوتے ہیں ۔ دین کے معاملہ میں بھی ہم گھر میں مترجم قُرآن شریف موجود ہونے کے باوجود اُسے پڑھ کر اُس پر عمل کرنے کی بجائے پراپیگنڈہ کے دین پر عمل کرتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے متعدد بار [بِلا ارادہ] قُرآن اور اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں ۔ ہم اَلْحَمْدُللہ مسلمان ہیں اِسلئے ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم قرآن الحکیم ۔ احادیث اور اسواءِ حَسَنہ سے اِستفادہ حاصل کریں ۔

قُرآن الحکیم کی سورت اَلْانْفَالْ کی آیت 60 کا ترجمہ ہے ” اور جس قدر ہو سکے طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے مہیا رکھو تا کہ تم اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو ڈراتے رہو اور اُن دوسرے دشمنوں کو بھی جن کو تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے ۔ "

یہ آیت دفاعی تیاری کے متعلق ہے ۔ اِس میں دو چیزوں کا واضح ذکر ہے ۔ ایک طاقت اور دوسری تیار گھوڑے ۔ طاقت کے لئے مناسب اور باقاعدہ ورزش بہت ضروری ہے جس میں کھیل کود بھی شامل ہے ۔ تیار گھوڑے سے مُراد سِدھائے ہوئے گھوڑے ہے اور اِن کا استعمال سواری ہے ۔ گھوڑوں کو سِدھانے اور سواری کے لئے بھی خاص قسم کی ورزش کی باقاعدہ ضرورت ہے ۔ خيال رہے کہ اُس زمانہ ميں آجکل کی طرح فوج ايک عليحدہ گروہ نہيں ہوتی تھی بلکہ ہر عاقل بالغ مرد فوجی ہوتا تھا ۔ چنانچہ يہ حُکم ہر مُسلمان کيلئے ہے ۔

قرآن شریف میں کھانے پینے اور رہنے سہنے کے جو طریقے سمجھائے گئے ہیں وہ سب حِفظانِ صحت کے اُصُولوں کے عین مطابق ہیں ۔ احادیث اور اسواءِ حسنہ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صَلّ اللہِ عَلَیہِ وَ سَلَّم نے دوڑ لگانے ۔ تیر اندازی ۔ تلوار بازی اور نیزہ بازی کی ترغیب دی ۔ اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام نہ صرف صحتمند کھیلوں کا مخالف نہیں بلکہ اُن کی حمائت کرتا ہے ۔

لاہور کی لمبی دوڑ کی مخالفت میں مولوی حضرات نے جو مؤقف اِختیار کیا وہ یہ تھا کہ خواتین مردوں کے شانہ بشانہ نہ بھاگیں ۔ چنانچہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ مولوی صحتمند عمل کی مخالفت کرتے ہیں ۔ جس بناء پر مولوی حضرات نے مخالفت کی وہ ایک الگ اور وسیع موضوع ہے اور اُسے بھی قرآن اور سُنّت کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہے ۔

Posted in روز و شب | 2 Comments »

حفظانِ صحت اور لمبی دوڑ

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جنوری 16, 2007

ہمارے مُلک میں تقریباً ہر چیز مُخَلّط کر دی گئی ہے یعنی اشیاء يا فرائض يا ذمّہ داريوں کی ایسی ملاوٹ کہ سمجھ نہ آئے اصل کونسی ہے ؟ آج بات لمبی دوڑ [Marathon Race] کے متعلق جو ایک ایسا سوال بنا دی گئی کہ لوگوں کے دماغ اُلجھ کر رہ گئے ۔ بحث میں ملوّث ہونے سے پہلے اپنے عْلم اور تجربہ کا مُختصر بیان ۔

میری عمر 65 سال سے زیادہ ہے ۔ قد 5 فٹ ساڑھے 9 اِنچ ۔ وزن آجکل 65 کیلو گرام ہے اور 72 کیلو گرام سے زیادہ کبھی نہیں ہوا ۔ میری کمر [Belt Size] آجکل 35 اِنچ ہے ۔ سکول اور کالج میں 28 اِنچ تھی ۔ درمیان میں زیادہ عرصہ 32 اور 34 اِنچ کے درمیان رہی ۔ میں اپنے سکول اور کالج میں اتھلِیٹ [Athlete] تھا اور 100 مِیٹر کی دوڑ میں اول یا دوم آیا کرتا تھا ۔ سکول میں ہاکی کا اور کالج میں باسکٹ بال کا کھلاڑی بھی تھا ۔ اِس کے علاوہ بہن بھائیوں اور دوستوں کے ساتھ چِڑی چھِکّا [Badminton] کھیلتا تھا ۔ 1956 سے 1971 عیسوی تک میں نے پِنگ پانگ [Table Tennis] بھی کھیلی ۔ 1965 سے 1976 عیسوی تک میں نے سکواش [Squash] کھیلی ۔ نویں اور دسویں جماعتوں میں سائکل دوڑ میں بھی حصّہ لیا اور چوتھے اور تیسرے نمبر پر رہا [ آگے سے ۔ پیچھے سے نہیں ۔ ہی ہی ہی] ۔

سکول اور کالج میں ہماری تربیت والٹن سکول کے گریجوئیٹ [Graduate] قومی اتھلیٹک ٹیم کے رُکن اور بعد میں کوچ رہنے والے تجربہ کار اساتذہ نے کی ۔ اُنہیں پی ٹی آئی [Physical Training Instructor] کہا جاتا تھا ۔ اُس زمانہ میں دوڑیں 100 ۔ 200 ۔ 1625 ۔ 3250 اور 6500 میٹر ہوتی تھیں ۔ 6500 میٹر کو کراس کنٹری [Cross Country] کہا جاتا تھا ۔ خیال رہے کہ اُس زمانہ میں طلباء کے لئے پی ٹی [Physical Training] لازمی ہوتی تھی اور اس سے چھٹکارے کی صرف ایک ہی صُورت تھی کہ طالب علم سکول یا کالج کے کِسی کھیل کی باقاعدہ ٹیم کا رُکن ہو ۔ میں نے متذکّرہ بالا کھیلوں کے علاوہ سکول اور کالج میں پی ٹی بھی باقاعدہ کی ۔ 200 میٹر سے زیادہ کی دوڑیں صرف طلباء کے لئے ہوتی تھی طالبات کے لئے نہیں ۔ دیگر لمبیِ دوڑوں کے لئے پی ٹی آئی خود خاص قسم کے طلباء کا اِنتخاب کرتے تھے ۔ ہر کِسی کو اِس میں حصّہ لینے کی اجازت نہ تھی ۔ اِن منتخب طلباء کا خاص طِبّی معائینہ [Medical examination ] ہوتا اُس کے بعد طِبّی امتحان [Physical Test] ہوتا سب میں سے کامیاب ہونے کے بعد وہ لمبی دوڑ میں حصّہ لے سکتے ۔

ہمارے پی ٹی آئی سکول والے اور کالج والے بھی ہم سے کوِک مارچ [Quick march] کرواتے تھے اور کبھی کبھی تھوڑا دوڑاتے تھے مگر ڈبل مارچ [Jogging] سے منع کرتے تھے ۔

میں نے 1962 میں ملازمت شروع کی جو مقابلہ کے امتحان میں کامیابی کے بعد یکم مئی 1963 سے پکّی ہو گئی ۔ اُس زمانہ میں کلاس وَن آفیسروں کا ہر سال مکمل طِبّی معائنہ ہوتا تھا جو 1976 سے 1983 عیسوی تک میری مُلک سے باہر پوسٹنگ [Posting] کی وجہ سے نہ ہوا ۔ میں نے 1984 عیسوی میں زیادہ تفصیلی معائنہ کروایا اور اپنے میڈیکل سپیشیلِسٹ [Medical Specialist] سے کہا کہ مجھے ماہرِ امراضِ قلب کے پاس بھی تفصیلی معائنہ کے لئے بھیجے ۔ معائنہ مشہور ماہر امراضِ قلب کرنل ذوالفقار [ اب جنرل ریٹائرڈ] نے کیا ۔ اُس نے کہا "واک کرتے ہو ؟” میں نے ہاں میں جواب دے کر پوچھا "جاگِنگ کیا کروں ؟” اُس نے سختی سے کہا "بالکل نہیں”۔ میں نے کہا "لوگ جاگِنگ کرتے ہیں کہ دِل کے لئے ٹھیک ہوتی ہے”۔ اُس نے کہا "اخباروں اور رسالوں میں پڑھ کر کرتے ہیں ۔ جاگِنگ دِل کے لئے مُضِر ہے”۔

دین اِسلام سے قطعءِ نظر لمبی دوڑ [Marathon Race] کے حامیوں نے کبھی سوچا کہ لمبی دوڑ حِفظانِ صحت کے اُصُولوں کے مطابِق ہے بھی یا نہیں ؟ يا اُس کيلئے مناسب ہے يا مُضر ؟ جن لوگوں کی ہم نقّالی کرنے لگے ہیں اُن کے ہاں تو حفظانِ صحت کا ایک جامع نظام کئی دہائیوں سے مروّج ہے اِس لئے وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اُنہیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں ۔ ہم بغیر سوچے سمجھے اُن کی تقلید کرنے لگ جاتے ہیں ۔ اگر امریکن یا یورپی لوگوں کا چہرہ سُرخ دیکھیں اور اپنا تھپّڑ مار مار کر یا بھیڑوں سے کٹوا کر سُرخ کر لیں ۔ یہ کہاں کی عقلمندی ہے ؟

Posted in روز و شب | 8 Comments »

جاگتی مغربی دنيا

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جنوری 12, 2007

 اگر آپ 15 دسمبر سے یکم جنوری تک یورپ یا امریکہ میں رہے ہوں اور غروبِ آفتاب کے بعد سير کو نکلے ہوں تو آپ نے رات گئے تک چونکا دینے والی رونق دیکھی ہو گی ۔ میرا تجربہ بہت پُرانا ہے ۔ میں اور دو پاکستانی ساتھی 1966 عیسوی میں کسی پراجیکٹ کے سلسلہ میں ڈوسل ڈورف[Dueüsseldorf] جرمنی میں تھے ایک رات رونق دیکھنے نکلے ۔ بقول ایک مغرب زدہ پاکستانی کے ہم تینوں ہی نالائق اور اُجَڈ تھے کیونکہ نہ تو ہم اُم الخباعث [alcoholic drinks] پیتے تھے اور نہ ہمیں ناچنا آتا تھا ۔ اسلئے ہم سڑکوں پر گھوم کر دُور دُور سے ہی رونق دیکھتے رہے ۔ پھر بھی ہمیں دلچسپ واقعات دیکھنے کو ملے ۔ ایک جگہ کچھ لوگ اکٹھے ایک دائرہ کی شکل میں کھڑے تھے ۔ ہم نے وہاں پہنچ کر دیکھا تو ایک عورت اور ایک مرد کوئی 3 میٹر کے فاصلہ سے ایک کھمبے کی طرف باری باری یہ کہہ کر بھاگتے ہوئے آتے کہ اس بار کھمبے پر چڑھ جانا ہے لیکن کھمبے کے پاس پہنچ کر رُک جاتے اور واپس چلے جاتے ۔ اُن کی تصویر تو میرے پاس نہیں مگر یہ بھی کُچھ اسی طرح کی حرکت ہے

Posted in مزاح | 3 Comments »

کسوٹی

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جنوری 8, 2007

عُنوان ميں لکھا لفظ اب کسَوٹی بولا جاتا ہے ۔ فيروزاللغات ميں بھی اسے کسَوٹی لکھا جا چکا ہے گو ترجمہ صحيح کيا گيا ہے ۔ يہ ايک چھوٹا سا پتھر يعنی وَٹی ہوتا ہے جس پر سُنار جنہيں آجکل سَنيارے کہا جاتا ہے سونا گھِس کر اس کا کَھرا ہونا پرکھتے ہيں ۔ چنانچہ اس کا نام کَس وَ ٹی تھا ۔ خير آمدن برسرِمطلب ۔ آج اپنے مسلمان ہونے کے عمل کو کَسوَ ٹی پر پرکھتے ہيں .

يہ صدا عام ہے کہ مسلمان کيوں ہر طرف ذليل ہو رہا ہے ؟ کچھ لوگ دين اسلام کو ہی ناقابلِ عمل قرار دينے لگ گئے ہيں ۔ جبکہ حقيقت يہ ہے کہ اسلام ميں کوئی خامی نہيں ہے ۔ آج کا مسلمان اس وجہ سے ذليل و خوار ہے کہ وہ دين اسلام پر عمل ہی نہيں کرتا ۔

ہم لوگ جو اپنے آپ کو مُسلمان کہتے ہيں اگر ہر ماہ کی پہلی تاريخ کو گذشتہ ماہ کے اپنے عمل پر غور کريں تو معلوم ہو گا کہ محظ شغل اور بھولپن ميں ہم اللہ کے واضح احکام کی کھُلے عام خلاف ورزی کرتے ہيں ۔

صرف چند مثاليں:

کار فنانسنگ جسے کار لِيزنگ کا نام ديا گيا ہے ۔ يہ سود کا کاروبار ہے جس ميں اپنی شان بنانے کی خاطر لوگ شامل ہوتے جا رہے ہيں ۔

ساڑھے سات ہزار روپے کا انعامی بانڈ خريديئے اور ايک کروڑ روپے انعام پايئے ۔ وغيرہ ۔ يہ جُواء ہے جو برسرِعام کھيلا جارہا ہے اور گناہ کا احساس نہيں ۔

فلاں تاريخ تک کار خريديئے اور مُفت ٹی وی سيٹ کے علاوہ لکی ڈرا ميں حصہ ليجئے ۔ پہلا انعام ايک کلوگرام سونا ۔ وغيرہ ۔ يہ بھی جُواء ہے جو برسرِعام کھيلا جارہا ہے اور احساسِ گناہ نہيں ۔

ايس ايم ايس کيجئے اور فلاں موبائل سيٹ يا فلاں ہوائی سفر کيلئے ٹکٹ کے ڈرا ميں حصہ ليجئے ۔ ايس ايم ايس کے پچيس روپے جمع ٹيکس ۔ وغيرہ ۔ يہ بھی جُواء ہے جو برسرِعام کھيلا جارہا ہے ۔ کيا يہ گناہ نہيں ؟

اخبارات ميں چند صفحے رنگين ہوتے ہيں جيسے دی نيوز ميں اِن سٹَيپ ۔ اِن صفحات ميں عورتوں کی نيم عُرياں اور جِنسی کشش والی تصاوير ہوتی ہيں جنہيں اخبار بينوں کی اکثريت ديکھتی ہے ۔ يہ فحاشی کا فروغ ہے اور يہ تصاوير چھاپنا اور ديکھنا گناہ ہے جو بلا تکلّف ہو رہا ہے ۔

ٹی وی پر ناچ گانا اور جسم کے خدوخال نماياں کئے يا نيم عُرياں عورتيں روزانہ کا معمول بن چکا ہے ۔ اس کے علاوہ مرد بھی کچھ نہ کچھ حصہ ڈالتے ہيں ۔ يہ فحاشی کا فروغ ہے اور اس ميں ملوّث ہونا گناہ ہے جو کہ کيا اور ديکھا جا رہا ہے ۔

ہماری حکومت نے پرفارمنگ آرٹس کے نام پر پاکستان کی بتيس يونيورسٹيوں کی طالبات کو الحمراء لاہور ميں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کی ترغيب دی اور اس شغل ميں قوم کے نام نہاد شرفاء اور جواں سال لڑکياں بھی شامل ہوئيں ۔ ان کے ناچ کی رنگارنگ تصادير اخبارات ميں بھی چھپيں اور ٹی وی پر بھی دکھائی گئی ہونگی ۔ يہ فحاشی کا فروغ اور گناہ ہے مگر سب اسے ديکھ کے خوش ہوتے ہيں اور بلاتکلف گناہ کا ارتکاب کرتے ہيں ۔

کمال تو يہ ہے کہ ناچنے گانے والوں يا واليوں اور مووی فلموں ميں جسم کی نمائش کرنے واليوں نے متعدد بار اپنی کاميابی پر کہا کہ اللہ کی مہربانی سے ميرا شو کامياب رہا ۔گويا ان کی فحاشی کے گناہ ميں کاميابی اللہ کی مہربانی سے ہوئی ۔ نعوذ باللہ من ذالک ۔

دين عمل سے ہے باتوں سے نہيں ۔

وما علينا الالبلاغ

Posted in روز و شب | 8 Comments »

کانگرس مَين کا قرآن شريف پر حلف

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جنوری 6, 2007

امريکہ کے پہلے مسلم کانگرس مَين کيتھ اَيلِسن نے کانگرس ميں اپنی رُکنيت کا حلف انجيل کی بجائے قرآن شريف پر اُٹھايا ۔ تفصيل کيلئے يہاں کلِک کيجئے ۔

Posted in خبر | 2 Comments »

خطبہ حج 2006

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جنوری 4, 2007

اس سال يعنی 9 ذوالحجہ 1427 ہجری بمطابق 29 دسمبر 2006 ميدانِ عرفات ميں امام کعبہ شيخ عبدالعزيز بن عبداللہ الشّيخ کے خطبہ سے اقتباس کا اُردو ترجمہ ۔

روشن خيالی اور سوشلِزم جيسے نعرے اسلام کی روح کے خلاف ہيں ۔ باطل قوتيں آج مسلمان عورتوں کو اپنی روِش پر ڈال کر اسے بے پردہ اور دينی روايات سے دستبردار کرانا چاہتی ہيں ۔ مسلم عورت کو اپنی حفاظت کيلئے اللہ کے مقرر کردہ احکامات ميں ہی پناہ مل سکتی ہے ۔ عالمِ اسلام کشمير ۔ فلسطين اور عراق کے مظلوم مسلمانوں کو آزادی دلانے کيلئے کردار ادا کرے ۔ باطل قوتوں نے مسلمانوں کو صحيح عقيدے سے گمراہ کرنے کيلئے خفيہ تحريکوں کا جال بچھا ديا ۔ ان سازشوں کے ذمہ دار عناصر کو بے نقاب کرنا اُمت کی سياسی قيادت پر لازم ہے ۔ اُمت اسلام کے خلاف سازشوں کا مقابلہ کرنے کيلئے متحد ہو جائے ۔ اُمتِ مسلمہ کو آپس ميں لڑانے کی سازشيں کی جا رہی ہيں ۔ ہميں اپنا اتحاد پارہ پارہ نہيں کرنا چاہيئے ۔

مسلمان اللہ تعالٰی کی بندگی اور اطاعت کا راستہ اختيار کريں ۔ شرک سے بچيں ۔ اتحاد اور يکجہتی مسلم اُمت کی بنيادی ضرورت ہے ۔ نبی کريم صلّ اللہ عليہ و سلّم پوری انسانيت کيلئے حق لے کر آئے ۔ قرآن کا عظيم تحفہ مسلمانوں کو پيش کيا ۔ مسلمان قرآنی احکامات کی روشنی ميں زندگی بسر کريں ۔ حضور صلّ اللہ عليہ و سلّم کی زندگی مسلم اُمت کيلئے مشعلِ راہ ہے ۔ مسلمان صبر و استقامت کے ساتھ مشکلات کا مقابلہ کريں ۔ اللہ تعالٰی کا دين غالب ہونے کيلئے آيا ہے جس کيلئے مسلمانوں کو جدوجہد کرنا ہو گی ۔ اسلام امن اور بھائی چارے کا دين ہے ۔ اسلامی تعليمات پر عمل پيرا ہو کر ہم دنيا اور آخرت کی کاميابی حاصل کر سکتے ہيں ۔ مسلمان نيکی کے کاموں ميں ايک دوسرے کا ساتھ ديں اور گناہ اور ظلم کی باتوں ميں دوسروں کے ساتھ تعاون نہ کريں ۔ قانون سب کيلئے يکساں ہونا چاہيئے ۔ مسلمان فساد سے بچيں ۔ دہشت گردی کی اسلام ميں کوئی گنجائش نہيں ۔ اسلام کا نام ليتے ہوئے شرمانا نہيں چاہيئے ۔ اسلام عظيم دين ہے ۔ اس دين کے ہوتے ہوئے فرقہ واريت اور تعصب کے نعرے ختم ہو جاتے ہيں ۔

دين اسلام کا مستبل روشن ہے ۔ يہ دين قيامت تک رہے گا ۔ اس راہ ميں آنے والی رکاوٹيں ختم ہو جائيں گی ۔ عالمِ اسلام کے نشرياتی اداروں سے وابستہ افراد اسلام کے خلاف پراپيگنڈے کا توڑ کريں ۔ قرآن کے ذريعہ بتايا گيا کہ يہ دين ہر عيب سے پاک ہے ۔ چار نکاح تک جائز ہيں تاکہ تم زنا سے بچ سکو ۔ زنا ايک فحش عمل ہے ۔ اللہ کا حکم ہے کہ کنوارے کيلئے زنا کی سزا کوڑے ہيں اور شادی شدہ زانی کو رجم کيا جائے ۔ چور کے ہاتھ کاٹ دو تاکہ انسانوں کے مالوں کی حفاظت ہو سکے ۔ اللہ نے قصاص مقرر فرمايا اور کہا کہ اس ميں تمہارے لئے زندگی ہے ۔ فساديوں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے کا حکم ديا يا انہيں علاقہ بدر کر ديا جائے ۔ اللہ نے حکم ديا کہ مومنون جادو سے بچو اور جادوگر کے پاس نہ جاؤ ۔ اپنے ايمان بچاؤ ۔ اللہ کے نظام کے بغير چين نصيب نہيں ہو سکتا ۔ جتنے بھی ديگر نظام ہيں وہ ہلاکت کی طرف لے جانے والے ہيں ۔ اُمتِ مسلمہ کے عالِمو بيدار ہو جاؤ اور مغربی تہذيب کی يلغار کو شکست دو ۔ دشمن چاہتا ہے کہ اسلامی جوان اپنی شناخت کھو ديں ۔ وہ تمہيں دين سے دور کرنا چاہتا ہے ۔ جو لوگ حق پر ہونگے اللہ انہيں تنہاء نہيں چھوڑے گا ۔ عورتوں کيلئے جہاد ميں ايک فضيلت رکھی ہے اور عورت کيلئے حج ايک جہاد ہے ۔

اللہ ہميں عذابِ جہنم سے بچائے۔ ہماری کمزورياں ختم کر دے ۔ آج ہم تيرے گنہگار بندے کھڑے ہيں ۔ تيری رحمت کے طلبگار ہيں ۔ ہمارے گناہ معاف فرما ۔ تيرے بغير کوئی معبود نہيں ۔ اے اللہ ہمارے حج کو قبول فرما ۔ ہماری خطاؤں کو معاف کر دے ۔ مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق نصيب فرما ۔ ہمارے حکمرانوں کو ہدائت عطا فرما ۔ شاہ عبداللہ پر بھی رحم فرما ۔ اللہ اس کے ذريعہ اسلام کی مدد فرما ۔ اے اللہ دوسرے حکمرانوں پر بھی رحم فرما ۔

Posted in روز و شب | 9 Comments »