What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

يورپ ميں مذہبی منافقت

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر نومبر 29, 2006

عيسائی راہبہ [نَن] اپنا جسم حتٰہ کہ سر کے بال اور گردن بھی پوری طرح ڈھانپتی ہے کيونکہ يہ انجيل ميں لکھا ہے ۔ اُسے جرمنی کے سکولوں ميں پڑھانے کی اجازت ہے

۔

۔

۔

۔

ايک مسلم خاتون اپنا اسی طرح اپنا جسم اور سر کے بال ڈھانپتی ہے کيونکہ يہ قرآن ميں لکھا ہے ۔ اُس کا  جرمنی  کے  سکولوں ميں پڑھانا ممنوع ہے ۔

۔

۔

۔

۔

۔

۔

۔

۔

۔

۔

۔

۔

۔

۔

۔

۔

ايک فرانسيی دُلہن اپنے مذہب کے مطابق سر پر دوپٹہ ليتی ہے ۔ اُسے مدبّر سمجھا جاتا ہے اور اُسے فرانس  کے  رجسٹری آفس ميں شادی کرانے کی اجازت ہے ۔

۔

۔

۔

۔

۔

۔

۔

۔

۔

۔

۔

۔

۔

۔

ايک مسلم عورت سر پر دوپٹہ ليتی ہے ۔ اُسے معاشرہ کی پِسی ہوئی کہا جاتا ہے اور اُسے فرانس کی رجسٹری ميں شادی  کرانے کی اجازت نہيں

۔

کمال تو يہ ہے کہ فرانس ميں مسلم لڑکيوں يا خواتين کو اپنے دين کی پيروی ميں تو سر ڈھانپنے کی اجازت نہيں ليکن فيشن کے طور پر سر ڈھانپنے کی اجازت ہے ۔

۔ 

اب ناروے ميں بھی عام مقامات پر بُرقعہ يا نقاب اوڑھنے پر پابندی لگانے پر غور شروع ہو گيا ہے ۔ اگر مجوّزہ قانون منظور ہو گيا تو پردہ پر پہلی سرکاری پابندی ہو گی ۔

۔ 

بشکريہ : حجاب ہيپّوکريسی

Advertisements

One Response to “يورپ ميں مذہبی منافقت”

  1. Dr. said

    true!
    muslims have forgot their ideology…they r not strong enough to fight!!!
    i fear after some time even in muslim countries like Turkey….covering head would become a crime….

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: