What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

سچا کون ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر نومبر 1, 2006

حکومت کا يہ دعویٓ بھی غلط نکلا کہ باجوڑ کا مدرسہ جس پر 30 اکتوبر کو صبح 5 بجے بمباری سے 82 بےگناہوں کا ناحق خون ہوا ان ميں مدرسے کے مہتم مولانا فقير محمد بھی ہلاک ہو گئے جن کو امريکی حکومت طالبان کمانڈر قرار دے کر دہشتگرد کہتی ہے ۔ دراصل مدرسہ کے مہتمم مولانا لياقت ہيں جو کہ شہيد ہو گئے ہيں ۔ مولانا فقير محمد زندہ ہيں ۔

ديگر 31 اکتوبر کو بد قسمت قوم کے خوش قسمت صدر اور چيف آف آرمی سٹاف جنرل پرويز مشرف نے کہا کہ باجوڑ مدرسہ ميں مارے جانے والے سب دہشتگرد تھے اور وہ مدرسہ کے اندر دہشتگردی کی تربيت باقاعدہ اسلحہ کے ساتھ لے رہے تھے ۔ جو کہتا ہے کہ وہ دہشتگرد نہيں تھے وہ جھوٹا ہے اور وہ طاقت کا استعمال جاری رکھيں گے

اہم خبر ۔ بی بی سی کے مطابق باجوڑ مدرسہ ميں مرنے والوں کی عمریں بارہ سے سولہ سال کے درمیان تھیں۔

کمال يہ ہے کہ مدرسہ کے ملبہ سے انسانی جسموں کے ٹکڑےاور مسخ شدہ لاشيں تو مليں مگر سوائے ميزائل کے ٹکڑوں کے ايک بھی ٹکڑا ہتھيار کا نہ ملا

پرويز مشرف کے بھونپو ميجر جنرل شوکت سلطان نے کہا ہے کہ حملہ کيلئے افغانستان ميں موجود امريکی انٹيليجنس کی مہيّا کردہ معلومات استعمال کی گئيں ۔ اب صرف يہ کہنا باقی رہ گيا ہے کہ حملہ بھی امريکہ نے پرويز مشرف کو بتا کر کيا تھا ۔ ويسے بتانے کی ضرورت بھی کيا ؟ غلاموں پر کون اعتماد کرتا ہے

ميں صرف يہ کہتا ہوں کہ جھوٹے پر اللہ کی لعنت ہو

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: