What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

وطن سے دور بسنے والوں کے احساسات

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اکتوبر 19, 2006

ميں 1967 ميں وطن سے دور جرمنی کے شہر ڈوسل ڈَورف ميں تھا ۔ عيد کا دن تھا ۔ ڈوسل ڈَورف کی گہما گہمی کے باوجود محسوس کر رہا تھاکے ميں کسی بياباں يا صحرا ميں بالکل اکيلا ہوں جہاں کوئی چرِند پرِند بھی نہيں ۔ کچھ دير گُم سُم رہا پھر وطن کی ہر چيز ذہن ميں متحرک ہو گئی ۔ اُس دن جو شعر ميں دہراتا رہا يہاں درج کر رہا ہوں

چمن چھُٹا تو گُل و ياسمن کی ياد آئی
پہنچ کے دشت ميں صبحِ چمن کی ياد آئی

وطن وہ مرکزِ صِدق و صَفا حرِيمِ جمال
وطن وہ کعبہءِ عِلم و ہُنر عرُوجِ کمال
وطن کہ سُرمہءِ چشم طلب ہے خاک اس کی
وطن کہ شہرِنغمہءِ نکہت ۔ ديارِ حُسن و جمال
وطن جہاں ميری اُمنگوں کا حُسنِ تاباں ہے
وطن کہ جہاں ميری شمعءِ وفا فروزاں ہے
وطن جہاں ميری يادوں کے دِيپ جلتے ہيں
وطن جو يوسفِ بے کارواں کا کنعاں ہے

ديارِ شوق سے تيرا اگر گذر ہو صباء
گُلوں سے کہنا کہ پيغمبرِ بہار ہوں ميں
ميرے نفس سے ہيں روشن چراغِ لالہ و گُل
چمن کا روپ ہوں ميں ۔ حُسنِ لالہ زار ہوں ميں

ميرے خلوصِ سُخن پہ جو اعتبار آئے
روِش روِش پہ چمن ميں کوئی پُکار آئے
ہميں بھی باغِ وطن سے کوئی پيامِ يار آئے
ہميں بھی ياد کرے کوئی جب بہار آئے

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: