What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

Archive for اکتوبر, 2006

ظُلم کی انتہاء اور کيا ہوتی ہے ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اکتوبر 31, 2006

باجوڑ ايجنسی ميں مدرسہ ضياءالعلوم تعليم القرآن پر پير 30 اکتوبر کی صبح 5 بجے کے لگ بھگ مزائل مار کر مدرسہ کے
مہتمم مولانا فقير محمد ۔ تين اساتذہ اور 7طلباء کو ہلاک کر ديا گيا جن ميں 30 حافظِ قرآن اور درجن سے زائد نابالغ بچے باقی اٹھارہ سے پچيس سال تک کے تھے ۔ مقامی لوگوں کے مطابق امريکہ کے بغير پائلٹ طيّارے [ڈرون] کچھ دنوں سے اس علاقہ پر پرواز کرتے رہے ۔ آخر پير کی صبح دو امريکی ڈرون آئے ان ميں سے ايک نے دو ميزائل چلائے ۔ ايک مدرسہ ميں گرا اور دوسرا قريبی نالہ ميںپھر تيسرا ميزائل دوسرے ڈرون نے چلايا ۔ اس کے تقريباً 15 منٹ بعد پاک فوج کے گن شِپ ہيلی کاپٹر آئے اور انہوں نے ملحقہ پہاڑی پر راکٹ چلائے جن کا دھماکہ پہلے تين دھماکوں سے بہت کم تھا ۔ خيال رہے کہ اس سال جنوری ميں بھی امريکہ نے مولانا فقير محمد کو مارنے کيلئے ميزائل داغے تھے جس سے 18 بيگناہ شہری جن ميں زيادہ تر عورتيں اور بچے تھے ہلاک ہو گئے تھے ۔ اُس وقت بھی امريکہ نے يہی کہا تھا کہ وہاں ايمن الظواہری نے ڈنر پر آنا تھا ۔ اس قتل پر اتنا شديد ردِعمل ہوا تھا کہ پاکستان کی حکومت امريکہ سے احتجاج کرے پر مجبور ہو گئی تھی امريکی ٹی وی چينل اے بی سی نے بتايا کہ حملہ ان اطلاعات پر کيا گيا کہ مدرسے ميں ايمن الظواہری ٹھہرے ہوئے ہيں ۔ لہٰذا چھوٹے امريکی جاسوس طيّارے [ڈرون] سے اسے نشانہ بنايا گيا تاہم تصديق نہيں ہو سکی کہ ايمن الظواہری وہاں تھے اور ان کا کيا انجام ہوا ۔ اے بی سی ٹی وی کے مطابق حملہ ميں دو سے پانچ تک عسکريت پسند ہلاک ہوئے جن ميں برطانوی طيّارہ کيس کا ماسٹر مائينڈ بھی شامل ہے

پاک فوج کے ترجمان ميجر جنرل شوکت سلطان نے کہا کہ کچھ دنوں سے خفيہ اطلاعات مل رہی تھيں کہ اس مدرسہ ميں دہشتگردی کی تربيت دی جاتی ہے اور يہ کہ حملہ پاکستان کی سيکيورٹی فورسز نے کيا ۔ امريکی ٹی وی کی خبر کی انہوں نے واضح ترديد نہ کی ۔ ايمن الظواہری کی مدرسہ ميں موجودگی اور برطانوی طيّارہ سازش کے ماسٹر مائينڈ کی ہلاکت کی تصديق نہيں کی اور کہا کہ يہ محض مفروضہ ہے ۔

جن اخبارات کے مندرجات کو اختصار کے ساتھ پيش کيا گيا
دی ڈان
دی نيوز
نيشن
نوائے وقت
جسارت

اب تو يوں محسوس ہونے لگا ہے کہ جن کو ہم حکمران سمجھتے رہے وہ دراصل غيرملکی طاقت کے غلام ہيں ۔ اس لئے ہموطنوں کے قتلِ عام پر مجبور ہيں ۔ اور اپنے آقاؤں کی تابعداری ميں دينی تعليم [صرف اسلام کی] کو دہشتگردی کا نام ديتے ہيں ۔

Advertisements

Posted in خبر | Leave a Comment »

عجوبہءِ روزگار ہوٹل

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اکتوبر 28, 2006

Posted in تاریخ | 2 Comments »

آزادی آزادی آزادی

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اکتوبر 24, 2006

ہم کيا چاہتے ہيں ؟
آزادی آزادی آزادی

انشاء اللہ العزيز

ستم شعار سے تجھ کو چھُڑائيں گے اِک دِن
ميرے وطن تيری جنّت ميں آئيں گے اِک دِن

ميں مسلم ہائی سکول راولپنڈی ميں دسويں جماعت ميں تھا ۔ 24 اکتوبر 1952 کو صبح سويرے سارے سکول کے طلباء کے سامنے ہمارے ايک اُستاذ نے اقوامِ متحدہ کی خوبياں بيان کرنا شروع ہی کی تھيں کہ سکول کے باہر سے آواز آئی ۔ ہم منائيں گے يومِ کشمير ۔ اُن کی آواز ميں ہماری جماعت کے طلباء نے آواز ملائی پھر کيا تھا پورا سکول نعروں سے گونج اُٹھا ۔ کرائيں گے آزاد جموں کشمير ۔ اقوامِ متحدہ مردہ باد ۔ سکول کے باہر گورنمنٹ کالج کے طلباء جلوس کی شکل ميں آئے تھے

جمعہ 24 اکتوبر 1947 کو جس دن سعودی عرب میں حج ہو رہا تھا جموں کشمیر کے مسلمانوں نے انسانوں سے مايوس ہو کر اپنے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے جہاد کا اعلان کر دیا اور مسلح تحریک آزادی ایک جنگ کی صورت اختیار کر گئی ۔ مجاہدین نے ایک ماہ میں مظفرآباد ۔ میرپور ۔  کوٹلی اور بھمبر آزاد کرا کے صوبہ جموں میں کٹھوعہ اور صوبہ کشمیر میں سرینگر اور پونچھ کی طرف پیشقدمی شروع کر دی ۔ ان آزادی کے متوالوں کا مقابلہ شروع تو مہاراجہ ہری سنگھ کی ڈوگرہ فوج سے ہوا ليکن ايک ہفتہ بعد بڑی تعداد میں بھارتی فوج بھی محاذ پر پہنچ گئی اور ہندوستان کے وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے فضائی حملوں کے لئے برطانوی فضائیہ کو برما سے جموں کشمیر کے محاذ پر منتقل کروا دیا ۔ برطانوی فضائیہ کی پوری کوشش تھی کہ کوہ مری کے قريب پاکستان کو کشمير سے ملانے والا کوہالہ پُل توڑ دیا جائے لیکن اللہ سُبْحَانہُ وَ تعالٰی کو یہ منظور نہ ہوا ۔ 

جنگ آزادی میں حصہ لینے والے مسلمانوں کے پاس زیادہ تر پہلی جنگ عظیم میں استعمال ہونے والی طرّے دار بندوقیں تھیں يا دوسری جنگ عظیم کے بچے ہوئے ہینڈ گرنیڈ جبکہ بھارتی فوج ہر قسم کے اسلحہ سے لیس تھی اور برطانوی فضائیہ نے بھی اس کی بھرپور مدد کی ۔ بے سروسامانی کی حالت میں صرف اللہ پر بھروسہ کر کے شہادت کی تمنا دل میں لئے آزادی کے متوالے اللہ کی نُصرت سے آگے بڑھتے رہے ڈوگرہ اور بھارتی فوجیں پسپا ہوتے گئے یہاں تک کہ مجاہدین پونچھ کے کافی علاقہ کو آزاد کرا کے پاکستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ جنوب کی طرف پیشقدمی کرتے ہوئے کٹھوعہ کے قریب پہنچ گئے ۔

بھارت کو جموں کشمیر سے ملانے والا واحد راستہ پٹھانکوٹ سے جموں کے ضلع کٹھوعہ میں داخل ہوتا تھا جو ریڈکلف اور ماؤنٹ بیٹن نے گورداسپور کو بھارت میں شامل کر کے بھارت کو مہیا کیا تھا ۔ بھارت نے خطرہ کو بھانپ لیا کہ مجاہدین نے کٹھوعہ پر قبضہ کر لیا تو بھارت کے لاکھوں فوجی جو جموں کشمیر میں داخل ہو چکے ہیں محصور ہو جائیں گے ۔ چنانچہ بھارت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے اقوام متحدہ سے رحم کی بھیک مانگی ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا ۔ پنڈت نہرو نے اقوام متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ امن قائم ہوتے ہی رائے شماری کرائی جائے گی پھر جو فیصلہ عوام کریں گے اس پر عمل کیا جائے گا اور فوری جنگ بندی کی درخواست کی ۔

اس معاملہ میں پاکستان کی رائے پوچھی گئی ۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان جنگ بندی کے حق میں نہ تھے مگر وزیرِ خارجہ ظفراللہ نے کسی طرح ان کو راضی کر لیا ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جنوری 1948 میں جنگ بندی کی قرارداد اس شرط کے ساتھ منظور کی کہ اس کے بعد رائے شماری کرائی جائے گی اور عوام کی خواہش کے مطابق پاکستان یا بھارت سے ریاست کا الحاق کیا جائے گا ۔ پھر یکے بعد دیگرے کئی قرار دادیں اس سلسلہ میں منظور کی گئیں ۔ مجاہدین جموں کشمیر نے پاکستان کی عزت کا خیال کرتے ہوئے جنگ بندی قبول کر لی ۔ بعد میں نہ تو بھارت نے یہ وعدہ پورا کیا نہ اقوام متحدہ کی اصل طاقتوں نے اس قرارداد پر عمل کرانے کی کوشش کی ۔ 

آجکل پاکستان کی حکومت بھی پاکستان دُشمن قوتوں کے نِرغے ميں ہے اورجموں کشمير کے مسلمانوں کے قاتلوں کے ساتھ محبت کی پينگيں بڑھا رہی ہے ۔ يوں محسوس ہوتا ہے کہ اندر کھاتے امريکہ کے دباؤ کے تحت بھارت کی ہر بات ماننے بلکہ ہر خواہش پوری کرنے کا وعدہ ہمارے روشن خيال حکمران امريکہ کو دے کر اُن کی زبانی شاباشوں پر پھولے نہيں سماتے ۔ ليکن تاريخ پڑھنے والے جانتے ہيں کہ نيک مقصد کيلئے ديا ہوا خون کبھی رائيگاں نہيں جاتا اور غاصب و ظالم حکمران کے خلاف آزادی کی جدوجہد سے بڑھ کر نيک مقصد اور کيا ہو سکتا ہے ؟ جموں کشمير کے مسلمان پچھلے 60 برس ميں پونے پانچ لاکھ جانيں ظُلم کی بھينٹ چڑھا چکے ہيں ۔ انشاء اللہ يہ بيش بہا قربانياں ضائع نہيں جائيں گی اور رياست جموں کشمير آزاد ہو کر رہے گی ۔ 

Posted in خبر | Leave a Comment »

کيا آج چاند نظر آئے گا ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اکتوبر 23, 2006

ميں نے 3 اکتوبر کو روئتِ ہلال کے متعلق لکھا تھا ۔ آج ميں اجرامِ فلکی کے علم کے مطابق حاصل کی گئی اشکال پيش کر رہا ہوں ۔ فيصلہ قارئين خود کريں کہ چاند کب نظر آئے گا ۔

سب سے اُوپر والی تصوير ميں 23 اکتوبر کی صورتِ حال ہے اور دعویٰ ہے کہ ايک فيصد چاند نظر آتا ہے ۔ درميان والی تصوير ميں اکتوبر کی صورتِ حال ہے اور دعویٰ ہے کہ4٤ فيصد چاند نظر آتا ہے سب سے نيچے والی تصوير ميں 25 اکتوبر کی صورتِ حال ہے اور دعویٰ ہے کہ 9 فيصد چاند نظر آتا ہے 

 

 

 

 

 

 

 

 

Posted in خبر | Leave a Comment »

عيدالفطر مبارک

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اکتوبر 22, 2006


تمام مسلم محترم بزرگوں ۔ بہنوں ۔ بھائيوں اور پيارے بچوں بالخصوص پاکستانی محترم بزرگوں ۔ بہنوں ۔ بھائيوں اور پيارے بچوں کی خدمت ميں عيدالفطر کا ہديہِ تبريک پيش کرتا ہوں اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی طرف سے ۔ اللہ سبحانُہُ و تعالٰی آپ سب کے روزے اور عبادتيں قبول فرمائے اور آپ سب کو دائمی عمدہ صحت ۔ مُسرتيں اور خوشحالی سے نوازے ۔ آمين ثم آمين ۔

ميری مؤدبانہ گذارش ہے کہ ايک سال پہلے کی عيد نہ بھولئے ۔ لاکھوں بزرگ ۔ بہنيں ۔ بھائی اور بچے آزاد جموں کشمير اور پاکستان کے شمالی علاقوں ميں آپ کے منتظر ہيں

Posted in پيغام | Leave a Comment »

وطن سے دور بسنے والوں کے احساسات

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اکتوبر 19, 2006

ميں 1967 ميں وطن سے دور جرمنی کے شہر ڈوسل ڈَورف ميں تھا ۔ عيد کا دن تھا ۔ ڈوسل ڈَورف کی گہما گہمی کے باوجود محسوس کر رہا تھاکے ميں کسی بياباں يا صحرا ميں بالکل اکيلا ہوں جہاں کوئی چرِند پرِند بھی نہيں ۔ کچھ دير گُم سُم رہا پھر وطن کی ہر چيز ذہن ميں متحرک ہو گئی ۔ اُس دن جو شعر ميں دہراتا رہا يہاں درج کر رہا ہوں

چمن چھُٹا تو گُل و ياسمن کی ياد آئی
پہنچ کے دشت ميں صبحِ چمن کی ياد آئی

وطن وہ مرکزِ صِدق و صَفا حرِيمِ جمال
وطن وہ کعبہءِ عِلم و ہُنر عرُوجِ کمال
وطن کہ سُرمہءِ چشم طلب ہے خاک اس کی
وطن کہ شہرِنغمہءِ نکہت ۔ ديارِ حُسن و جمال
وطن جہاں ميری اُمنگوں کا حُسنِ تاباں ہے
وطن کہ جہاں ميری شمعءِ وفا فروزاں ہے
وطن جہاں ميری يادوں کے دِيپ جلتے ہيں
وطن جو يوسفِ بے کارواں کا کنعاں ہے

ديارِ شوق سے تيرا اگر گذر ہو صباء
گُلوں سے کہنا کہ پيغمبرِ بہار ہوں ميں
ميرے نفس سے ہيں روشن چراغِ لالہ و گُل
چمن کا روپ ہوں ميں ۔ حُسنِ لالہ زار ہوں ميں

ميرے خلوصِ سُخن پہ جو اعتبار آئے
روِش روِش پہ چمن ميں کوئی پُکار آئے
ہميں بھی باغِ وطن سے کوئی پيامِ يار آئے
ہميں بھی ياد کرے کوئی جب بہار آئے

Posted in آپ بيتی | Leave a Comment »

رِيڈل نے مشرف کا بھانڈا پھوڑ ديا

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اکتوبر 19, 2006

صدر جنرل پرويز مشرف کی کتاب کی رونمائی کے ساتھ ساتھ امريکہ کے سابق صدر بِل کلِنٹن کے مشيرِ خاص بروُس رِيڈل کی کتاب چھپی ہے جس ميں اُس نے جولائی ميں اس وقت کے وزيرِ اعظم نواز شريف اور صدر بِل کلِنٹن کے مابين ہونے والے ايک اہم اجلاس کی مختصر کاروائی لکھتے ہوئے معرکہ کرگل اور حکومت پر فوج کے متوقع قبضہ کے متعلق حقائق بيان کئے ہيں جس سے جنرل پرويز مشرف کے دعوے غلط ہو جاتے ہيں مندرجہ ذيل رابطے پر کلِک کر کے يا اسے براؤزر ميں لکھ کر تفصيل پڑھيئے http:// hypocrisythyname.blogspot.com/2006/10/truth-musharraf-vs-nawaz.html

Posted in خبر | Leave a Comment »

جے اخبار کہندا اے تے ٹھيک ای ہوسی

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اکتوبر 16, 2006

کئی سال قبل پشاور ٹی وی پر ايک پروگرام ہوتا تھا جس کا عنوان تھا ۔ جے اخبار کہندا اے تے ٹھيک ای ہوسی ۔ يعنی اگر اخبار يہ کہتا ہے تو ٹھيک ہی ہو گا ۔ اس پروگرام ميں بتايا جاتا تھا کہ اخبار حقيقت کے برعکس کوئی خبر يا مضمون چھپے تو لوگ اسے حقيقت مانتے ہيں ۔ آج کے زمانہ ميں پروپيگنڈا بہت کامياب ہتھيار ہے جو حقيقت کو غَلَط کا اور اِختراع کو حقيقت کا رُوپ ديتا ہے

ميں سہ پہر کے وقت راولپنڈی کے کمپنی باغ ميں پاکستان کے پہلے مُنتخب وزيرِاعظم نوابزادہ لياقت علی خان کو ہلاک کر ديا گيا۔ متوقع ردِ عمل کی شدّت کو کم رکھنے کيلئے بہت پہلے سے ناعاقبت انديش پاکستانيوں نے غير ملکی دشمنوں کے ہاتھوں ميں کھيلتے ہوئے اُن کے دامن کو پروپيگنڈا کے زور سے داغدار بنانے کی کوشش کی ۔ نوابزادہ لياقت علی خان امريکہ گئے تو ان کی بيوی بھی ان کے ہمراہ تھيں ۔ ايک طوفان بپا ہوا کہ شرم نہيں آتی بيوی کو ساتھ لے گيا ۔ واپسی پر پھيلايا کہ امريکہ کا زيرِ نگوں بن کے آگئے ہيں ۔ پھر اُن کی بيوی کے متعلق کہا گيا کہ مسلمان نہيں ہے ۔ اخباروں ميں اور ہر کس و ناکس کی زبان پر يہی تذکرے آگئے

ميری بچپن سے عادت ہے کہ اگر کسی کی اچھائی بيان کی جائے تو جلدی مان ليتا ہوں ليکن بُرائی بيان کی جائے تو بغير تحقيق کے نہيں مانتا ۔ سو ميں نے تحقيق جاری رکھی ۔ بيگم لياقت علی خان کا مُسلم ہونا تو لياقت علی خان صاحب کے قتل کے بعد ثابت ہوگيا جب سب نے اُنہيں باقاعدہ تلاوت کرتے ديکھا ۔ کئی دہائياں بعد ايک ريٹائرڈ سينيئر سرکاری ملازم سے معلوم ہوا کہ نوابزادہ لياقت علی خان صاحب کو مع بيوی کے امريکہ آنے کی دعوت دی گئی تھی اور وہاں اُن پر امريکہ کا حواری بننے کيلئے بہت دباؤ ڈالا گيا مگر وہ نہ مانے ۔ آخر اُن کو قتل کروا ديا گيا تاکہ امريکہ نواز لوگ حکومت ميں آ سکيں ۔ قتل کی سازش کو کامياب بنانے کيلئے کرائے کا قاتل سَيد اکبر [سيّد نہيں] حاصل کيا گيا اور قتل کے فوراً بعد ايک تھانيدار نے سَيد اکير کو گولی مار کر ہلاک کر ديا

ان سوالوں کا خاطر خواہ جواب کسی نے آج تک نہيں ديا

سرکاری احکامات کے خلاف اس دن بُلٹ پروف روسٹرم سٹيج پر کيوں نہ تھا ؟ بلکہ روسٹرم تھا ہی نہيں

سَيد اکبر ايک عام آدمی اور غيرملکی ہوتے ہوئے پستول ليکر سب سے اگلی صف ميں کس طرح بيٹھ گيا اور کسی سکيورٹی والے کو وہ نظر بھی نہ آيا جب کہ اگلی صف سکيورٹی والوں کی تھی ؟

ايک تھانيدار نے سَيد اکبر کو گولی مار کر ہلاک کيوں کيا جبکہ دوسری صف ميں بيٹھے ايک سيکيورٹی اہلکار نے سَيد اکبر کو
قابو کر ليا تھا

تھانيدار پر سَيد اکبر کو قتل کرنے اور اس قتل سے ملک کے وزيراعظم کے قتل کی تفتيش ميں رخنہ ڈالنے کا مقدمہ کيوں نہ چلايا گيا ؟

پاکستان کے دوسرے وزيراعظم خواجہ ناظم الدين کے متعلق مشہور کيا گيا کہ بہت زيادہ کھاتے ہيں اور صرف روسٹ مُرغياں
کھاتے ہيں ۔ بہت لالچی آدمی ہيں ۔ جب اُن کی نظريں سير نہيں ہوتيں تو کھايا ہوا قے کر کے اور کھاتے ہيں ۔ کسی نے يہ بات
بھی پھيلانے کی کوشش کی کہ وہ امريکہ کے منظورِ نظر ہيں اسلئے مسند پر بيٹے ہيں ورنہ بالکل نا اہل ہيں ۔ حقيقت يہ تھی وہ کم خور تھے اور اُن کے جسم کو پانی قابو کرنے واٹر ريٹينشن کی بيماری تھی جس کا اُس زمانہ ميں خاطرخواہ علاج معلوم نہ تھا ۔ وہ موروثی زميندار تھے اگر وہ لالچی ہوتے تو سارا زميندارا چھوڑ کر قوم اور ملک کی خدمت ميں نہ لگ جاتے ۔ وہ انتہائی شريف منش آدمی تھے اس لئے پاکستان دشمن لوگوں کا خيال تھا کہ مغرب کے پٹھو غلام محمد کے گورنرجنرل بن جانے پر وہ کوئی مزاہمت نہيں کريں گے ليکن سياسی وابستگی کے تحت امريکی گندم کی اُنہوں نے مخالفت کی جس کے نتيجہ ميں غلام محمد نے خواجہ ناظم الدين کی منتخب حکومت برطرف کردی اور غلام محمد کے ہم نوالا و ہم پيالہ جسٹس منير نے اس غلط اقدام کو جائز قرار دے کر نظريہ ضرورت کا پھندہ ہميشہ کيلئے پاکستانی قوم کے گلے پر کَس ديا ۔ بعد ميں يہی سياسی گندم کا تحفہ پاکستان کے پہلے فوجی ڈکٹيٹر جنرل ايوب خان نے قبول کيا اور پاکستانی قوم محکوم ہونا شروع ہوگئی ۔

Posted in معاشرہ | Leave a Comment »

ايک نظر ادھر بھی

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اکتوبر 15, 2006

پنجاب يونيوسٹی ميں ناچ گانے کي باقاعدہ کلاسز کی محالفت کرنے پر سٹوڈنٹس کو يونورسٹی سے نکالنے کی تيارياں ۔ نيچے ديئے رابطہ پر کلک کر کے يا اسے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے

Posted in معاشرہ | Leave a Comment »

جھگڑے اور شرمندگی سے نجات

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اکتوبر 12, 2006

ہماری ہر بات اور عمل اپنا اثر رکھتے ہيں جس طرح پانی ميں پتھر پھينکا جائے تو لہريں پيدا ہوتی ہيں جو دور تک جاتی ہيں ۔ ہميں اپنی مرضی کے مطابق بولنے اور عمل کرنے کا حق ضرور ہے ليکن ہمارے بولے ہوئے الفاظ اور ہمارے عمل کے نتيجہ کی ذمہ داری بھی ہم پر ہی عائد ہوتی ہے ۔ جلدی ميں بولے ہوئے الفاظ نے متعدد بار پيار کرنے والے مياں بيوی يا دوستوں کے درميان ديوار کھڑی کی ہے ۔

بعض اوقات ہم کسی کے متعلق غلط سوچ قائم کرتے ہيں اور پھر غُصّے يا جذبات ميں آ کر جو منہ ميں آتا ہے کہہ ڈالتے ہيں ۔ ايسے ميں اگر ہم توقّف کريں تو جلد ہی غصہ يا جذبات دھيمے پڑ جاتے ہيں اور اس کی جگہ رحمدلی يا تدبّر لے ليتا ہے ۔ اسلئے غصے يا جذبات سے مغلوب ہو کر کچھ بولنا يا کوئی قدم اُٹھانا بڑی غلطی ہے۔ بہتر يہ ہے کہ غصہ يا جذبات کے زيرِ اثر نہ کوئی بات کی جائے اور نہ کوئی عملی کام ۔ عين ممکن ہے ايک آدھ دن ميں يا تو غصے کا سبب ہی ختم ہو جائے يا کوئی بہتر صورت نکل آئے ۔ بالفرضِ محال اگر صورتِ حال جوں کی توں رہتی ہے تو کم از کم بہتر اقدام کے بارے ميں سوچنے کا وقت تو مل گيا ہو گا ۔ زيادہ قياس يہی ہے کہ غصہ کھانے کی وجہ ہی نہيں رہی ہو گی ۔

سُورة 41 فُصِّلَت / حٰم السَّجْدَ آيت 34

اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتے، اور برائی کو بہتر (طریقے) سے دور کیا کرو سو نتیجتاً وہ شخص کہ تمہارے اور جس کے درمیان دشمنی تھی گویا وہ گرم جوش دوست ہو جائے گا

Posted in روز و شب | Leave a Comment »