What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

احوالِ او ۔ آر

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر ستمبر 18, 2006

1986عيسوی میں آپريشنز ريسرچ و کوانٹی ٹيٹِو ٹَيکنِيکس کورس [Operations Research and Quantitative Techniques Course] کيا ۔ اُن دنوں ميں پاکستان آرڈننس فيکٹريز ميں جنرل مينجر مَينجمنٹ انفارميشن سِسٹمز [General Manager, Management Information Systems] تھا ۔ کورس ميں سرکاری اور غيرسرکاری اداروں کے دو درجن سے زائد سينئر افسران نے شموليت کی ۔ ڈائريکٹر جنرل ٹريننگ نے پہلے دن فيکلٹی اور کورس کے تعارف کے علاوہ انتخابات منعقد کئے ۔ مندرجہ ذيل اساميوں پر انتخاب ہوا ۔ مُنتخب لوگ متعلقہ کاموں کے ذمہ دار تھے ۔ فادر آف نيشن کا انتخاب ووٹوں سے نہيں ہوا ۔ اُسےسب سے زيادہ عمر کی بنياد پر چُنا گيا ۔ باقی سب کيلئے باقاعدہ ووٹِنگ ہوئی ۔

فادر آف نيشن ۔ Father of Nation
ماسٹر آف پروٹوکال ۔  Master of Protocol
ماسٹر آف کامن سروسز ۔ Master of Common Services
ماسٹر آف سَیرِیمَونِیز ۔ Master of Ceremonies
ماسٹرآف سوشل سروسMaster of Social Service
ماسٹر آف پريئرز ۔  Master of Prayers 

فادر آف نيشن کا کام اُس وقت شروع ہوتا جب کسی چيز کا فيصلہ کرنے ميں دقت ہو رہی ہو ۔ ماسٹر آف پروٹوکال تمام ماسٹرز کا ماسٹر تھا يعنی سب کاموں کی ذمہ داری اُس پر تھی ۔ ڈائريکٹر جنرل اے يو خان صاحب معمولی سی بات پر لمبی تقرير کر ديتے تھے ۔ کورس بہت سخت تھا ۔ اس طرح وقت ضائع ہونے پر آدھی رات تک بيٹھ کر کام کرنا پڑتا تھا ۔ ايک دن ميں نے کورس ميں حصہ لينے والے دس لوگوں کی لکھی ہوئی رپورٹس کی تصحيح کر کے پھر اُن پر مُشتمل ايک جامع رپوٹ لکھ کر دوسرے دن جمع کرانا تھی ۔ ڈائريکٹر جنرل صاحب کی تقرير ختم ہوتے شام ہو گئی اور ميں کامنہ کر سکا ۔ ميرا مغز خراب ہو چکا تھا سو ميں گھر چلا گيا ۔ رات کو کافی دير تک کام کيا ۔ صبح کلاسز 8 بجے شروع ہوتی تھيں چنانچہ دوسرے دن ميں صبح 6 بجے انسٹيٹيوٹ پہنچ گيا ۔ اللہ کے فضل سے ڈيڑھ گھينٹہ ميں رپورٹ تيار ہو گئی ۔ باقی 30 منٹ گذارنے کيلئے ميں حسبِ حال نظم لکھ دی جو اُسی دن چائے کے وقفے ميں پڑھی گئی ۔ رديف قافيہ اور وزن کا خيال نہ کيجئے گا ۔ ميں شاعر نہيں ہوں ۔ چھ سات ہفتے قبل يہ نظم کی تلاش کی مگر نہ ملی ۔ اب اس کے علاوہ کچھ اور پُرانے نُسخے بھی ملے ہيں جو انشاء اللہ ايک ايک کر کے نذرِ قارئين کئے جائيں گے ۔

احوالِ اَو ۔ آر

تھا آرام سے بيٹھا ايم آئی ايس ميں
يونہی ياں اَو آر پڑھنے بُلايا گيا ہوں
پھر ساتھيوں کی خُفيہ سازش سے
ماسٹر آف پروٹوکال بنايا گيا ہوں
مزيد فادر آف نيشن کی وساطت سے
بزورسوشل سروس پہ لگايا گيا ہوں
جب کبھی جی چاہا محنت کرنے کو
لمبی تقريروں سے ٹرخايا گيا ہوں
سُنائی بات شگفتگی ماحول کی خاطر
بسيارگو کے ليبل سے ڈرايا گيا ہوں
واہ بادشاہی ماسٹر آف کامن سروسز کی
دال چاول بلا ناغہ کھلايا گيا ہوں
کبھی کھلا کے جی ۔ 9 کے چپّل کباب
ميں آدھی رات تک جگايا گيا ہوں
اور جب کچھ بھی نہ بن پڑی يارو
پاپ کارن دے کے بہلايا گيا ہوں
جانے يہ کِس جُرم کی ہے پاداش
اے يو خان کے پاس لايا گيا ہوں
لے لو قسم ماسٹر آف سَيرِيمَنِيز کی
ايسی جگہ پہ کبھی نہ آيا گيا ہوں
ماسٹر آف پريئرز ميرے لئے ذرا کرنا دُعا
چلا جاؤں واپس جيسا کہ بھجوايا گيا ہوں

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: