What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

آپ نے ياد دِلايا تو ۔ ۔ ۔

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر اگست 1, 2006

اسلام آباد موٹر وے و ہائی وے پوليس اِسی سال اسلام آباد کے شہريوں کو متعارف کرائی گئی ۔ مئی ميں اِس کے رويّہ کے متعلق ميں لکھنے والا تھا کہ اچانک 23 مئی کی صبح ميری بيگم گِر گئيں اور اُن کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی ۔ پھر وہ دن اور آج کا دن مصروفيت کے باعث ميں پہلے سے لکھی ہوئی  تحريريں شائع کرتا رہا ۔ عتيق الرّحمٰن صاحب نے مُجھے ياد دِلا ديا ۔ شکريہ عتيق الرّحمٰن صاحب ۔

مئی کے مہينے ميں ہم لوگ جی 10 سے اپنے گھر ايف 8 آرہے تھے کہ ايف  10 کے پاس ايک کھڈّے سے گذرنے کے بعد ہماری کار  رُک گئی ۔ ميں باہر نکا ہی تھا کہ ايک پوليس کار آئی ۔ اُس ميں سے سليٹی رنگ کی وردی پہنے پوليس افسر نکلا۔  اُس نے ميرے ساتھ دَھکا لگا کر کار سڑک سے نيچے اُتاری تا کہ راستہ کھُلا رہے پھر اُس نے کار کا بونٹ کھول کر معائنہ شروع کيا ۔ ميں نے سارے تھِمبَل اُتار کر دوبارہ لگائے تو ميری کار چل پڑی ۔ پوليس افسر نے پوچھا "پھر تو بند نہيں ہو جائے گی ؟” ميرے "نہيں” کہنے کے باوجود پوليس کار ايک کلوميٹر تک ہماری کار کے پيچھے چلتی رہی ۔

کُچھ دن بعد ہم زيرو پوائنٹ سے شاہراہ فيصل پر آ رہے تھے کہ جناح ايوينيو سے کُچھ پہلے ٹائر ميں سے ہوا نکل گئی ۔ کيل چُب گيا تھا ۔ ميں کار سے اُترا ہی تھا کہ مُجھے مدھم سی آواز سُنائی دی ” سَر  رُک جائيں ۔ سَر  رُک جائيں” ميں نے ديکھا تو ايک جوان مکينِک کی وردی پہنے ميری طرف سرپٹ بھاگا آ رہا تھا ۔ ميرے پاس پہنچتے وہ ہانپنے لگا ۔ اُس کے ساتھ ايک پوليس مين بھی تھا ۔ اُس مکينِک نے پہيئہ بدل ديا تو ميں نے اُسے کچھ روپے دينا چاہے مگر اُس نے يہ کہہ کر نہ لئے "يہ فری سروس ہے ۔ ميں ٹريفک پوليس کا تنخواہ دار ملازم ہوں ۔ يہ تو شہر ہے اگر شہر کے باہر بھی آپ کو کسی قسم کی مدد درکار ہو تو 915 پر ٹيليفون کيجئے ہمارے آدمی آپ کی مدد کو پہنچ جائيں گے”۔

سُبحان اللہ ۔ مجھے يوں محسوس ہوا کہ ميں جنّت ميں پہنچ گيا ہوں ۔ سچ کہا تھا حکيم الاُمّت علامہ محمد اقبال نے

ذرا نَم ہو تو يہ مَٹّی بڑی ذرخيز ہے ساقی 
 

Advertisements

2 Responses to “آپ نے ياد دِلايا تو ۔ ۔ ۔”

  1. ثاقب سعود said

    اسلام علیکم

    اللہ آپ کو اور انٹی کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔

    اب ان کی جالت کیسی ہے؟

    ہم پہ تو ابھی تک کالی وردی کے سایہ ہی ہیں۔
    اگر مجھے الہ دین کا چراغ ملے تو میں ساری پولیس فورس کو فورس لیس کر دوں

  2. اجمل said

    ثاقب سعود صاحب

    بيمار پُرسی کا شکريہ ۔ بيمار پُرسی کا اللہ تعالٰی بہت اجر ديتا ہے ۔ ميری بيگم کی صحت اللہ کے فضل و کرم سے بہتر ہو رہی ہے ليکن ابھی بستر پر ہی ہے ۔ فريم واکر کے سہارے تھوڑا سا چل ليتی ہے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: