What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

اے اِنسان

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جولائی 3, 2006

اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ  ہ  وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْ   ہ   وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ   ہ   وَ اِذَا الْقُبُورُ بُعْثِرَتْ   ہ   عَلِمَتْ نَفْسً مَّا قَدَّمَتْ وَأخَّرَتْ   ہ   يَا أيُّھَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ

  ترجمہ

  جب  آسمانی کُرّے پھَٹ جائیں گے اور جب سیّارے گِر کر بِکھر جائیں گے اور جب سمندر [اور دریا]  اُبھر کر بہہ جائیں گے اور جب قَبریں زیر و زبَر کر دی جائیں گی تو ہر شخص جان لے گا کہ کیا عمل اُس نے آگے بھیجا اور [کیا]  پیچھے چھوڑ آیا تھا ۔ اے انسان ۔ تجھے کس چیز نے اپنے ربِ کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا

*

 میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے

  Hypocrisy Thy Name – –  http://iabhopal.wordpress.com – – یہ منافقت نہیں ہے کیا

Advertisements

5 Responses to “اے اِنسان”

  1. السلام علیکم رحمہ اللہ و برکاتہ
    محترم بھائی جی ماشااللہ آج آپ کی قرآن پاک کی تحریر اردو سیارہ پر پڑھ کر جتنی دلی خوشی ہوئی ہے بیان نہیں کر سکتا۔اللہ سبحانہ و تعالےٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔آمین۔
    بھائی جی انشااللہ مجھے امید ہے کہ آئیندہ بھی آپ یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔
    جزاک اللہ خیر

  2. اجمل said

    پرديسی صاحب
    السّلام عليکم و رحمة الہہ

    جزاک اللہ خيرً

  3. زرا معزرت سے:

    سنا تہا کے ہم پاکستانی تہوڑے جگاڑ پسند ہوتے ہیں۔ اور زیادہ تر ہماری جگاڑ ہمارے اپنے لوگوں کے ساتہ ہی چلتی ہے۔ مثال کے طور پر ببن میاں نے اسکول سے کل ٹلا تو لگا لیا مگر یہ سوچا ہی نہیں تہا کے کل اسکول پہر آنا ہے اور ماسٹر جي کو گزرے ہوۓ کل کے ساتہ ساتہ آنے والے کل کا کام بہی کر کے دیکہانا ہوگا ۔ اب آپ یہ تو ضرور سوچ رہے ہوں ہوگے کہ ببن میاں یا تو اتنے ہوشیار ہونگے کے انہونے ان تمام کام پہلے سے ہی کر کے رکہا ہوا ہوگا جو آج کا دن ٹلے کی نظر کر رہے ہیں۔ اجی صاحب اسی بات کا ہی تو رونا ہے اور یہ ہر روز کا رونا ہے کہ ببن میاں نے پچہلے ہی ہفتے اپنے ہم جماعت پپومیاں کی کاپی کی وہ ناکام نکل کر ڈالی کے دونوں ببن اینڈ پپو میاں پورے دو گہنٹے جماعت کے باہر بیمار مر‏غوں کی اک جوڑی کی طرح نظر آۓ جسپر ہمارے محلے کے تمام مرغوں اور مرغیوں نے باہمی اتفاق کے ساتہ اک ترمیم پاس کی کہ ببن میاں یا تو اپنی ہرکات سے باز رہتے ہوۓ دل لگاکر دنیاوی علوم حاصل کریں یا پہر اک اچہے سیاست دان کی طرح اسکول سے جلا اسکولی اختیار کرلیں اور مرغ نسل کو بدنامي سے بچا‎ۓ ہماری طرح ببن میاں کا کوئ کام کبہی پایہ تکمیل تک کب پہنچا ہے مثال کے طور پر یہ خط خیر جناب اس تحریر کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہم نے اپنی شاعری کا ایک عدد دیوان لکہا ہے اور اب چاہتے ہیں کہ ہمارے سوا اس دیوان کو ساری دنیاں بہی پڑہے ہم نے بار ہا کوششیں کی کے اپنی شاعری کے بلاگ کو کچہ اس طرح کی مقبولیت دلا سکيں کے ہمارا بلاگ صفہ اول پر نمو دار ہو سکے مگر میاں کیا کريں منحوس ببن کی دوستی کے اٹہائیس برسوں کے نشان اتنی آسانی سے تہوڑا ہی دہليں گے۔ خربوزے کو دیکہکر خربوزہ نہیں تو کیا پپیتا رنگ پکڑے گا ہم نے سوچا کے کسی مشہورے زمانہ بلاگ پر چلتے ہیں اور لوگوں سے مشورہ کرتے ہیں یعنی جگاڑ لگاتے ہيں کہ ہم اپنے بلاگ پر زیادہ سے زیادہ لوگوں کی کسطرح حاضری لگوائیں اور اس مقصد کے ليے وہ کونسے حربے ہیں جنکے زریعے ہم اپنے قا‏ئم کر دہ مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکتے ہیں ۔ اگر آپ خواتین و حضرات مجہے مشورہ دیں کے میں ایسا کیا کرو کہ میرا بلاگ بہی میں کون ہوں جیسے خوبصورت اور با معنی بلاگ کی صفہ میں شامل کر سکوں میرے بلاگ پر مندرجہ ذیل لنک کے ذريعے پہنچا جاسکتا ہے۔
    http://insaafe.wordpress.com

    آپکی تشریف کا مطمنی
    زاہد حسین

  4. Zahid Hussain Says:
    July 15th, 2006 at 12:13 am
    زرا معزرت سے:

    سنا تہا کے ہم پاکستانی تہوڑے جگاڑ پسند ہوتے ہیں۔ اور زیادہ تر ہماری جگاڑ ہمارے اپنے لوگوں کے ساتہ ہی چلتی ہے۔ مثال کے طور پر ببن میاں نے اسکول سے کل ٹلا تو لگا لیا مگر یہ سوچا ہی نہیں تہا کے کل اسکول پہر آنا ہے اور ماسٹر جي کو گزرے ہوۓ کل کے ساتہ ساتہ آنے والے کل کا کام بہی کر کے دیکہانا ہوگا ۔ اب آپ یہ تو ضرور سوچ رہے ہوں ہوگے کہ ببن میاں یا تو اتنے ہوشیار ہونگے کے انہونے ان تمام کام پہلے سے ہی کر کے رکہا ہوا ہوگا جو آج کا دن ٹلے کی نظر کر رہے ہیں۔ اجی صاحب اسی بات کا ہی تو رونا ہے اور یہ ہر روز کا رونا ہے کہ ببن میاں نے پچہلے ہی ہفتے اپنے ہم جماعت پپومیاں کی کاپی کی وہ ناکام نکل کر ڈالی کے دونوں ببن اینڈ پپو میاں پورے دو گہنٹے جماعت کے باہر بیمار مر‏غوں کی اک جوڑی کی طرح نظر آۓ جسپر ہمارے محلے کے تمام مرغوں اور مرغیوں نے باہمی اتفاق کے ساتہ اک ترمیم پاس کی کہ ببن میاں یا تو اپنی ہرکات سے باز رہتے ہوۓ دل لگاکر دنیاوی علوم حاصل کریں یا پہر اک اچہے سیاست دان کی طرح اسکول سے جلا اسکولی اختیار کرلیں اور مرغ نسل کو بدنامي سے بچا‎ۓ ہماری طرح ببن میاں کا کوئ کام کبہی پایہ تکمیل تک کب پہنچا ہے مثال کے طور پر یہ خط خیر جناب اس تحریر کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہم نے اپنی شاعری کا ایک عدد دیوان لکہا ہے اور اب چاہتے ہیں کہ ہمارے سوا اس دیوان کو ساری دنیاں بہی پڑہے ہم نے بار ہا کوششیں کی کے اپنی شاعری کے بلاگ کو کچہ اس طرح کی مقبولیت دلا سکيں کے ہمارا بلاگ صفہ اول پر نمو دار ہو سکے مگر میاں کیا کريں منحوس ببن کی دوستی کے اٹہائیس برسوں کے نشان اتنی آسانی سے تہوڑا ہی دہليں گے۔ خربوزے کو دیکہکر خربوزہ نہیں تو کیا پپیتا رنگ پکڑے گا ہم نے سوچا کے کسی مشہورے زمانہ بلاگ پر چلتے ہیں اور لوگوں سے مشورہ کرتے ہیں یعنی جگاڑ لگاتے ہيں کہ ہم اپنے بلاگ پر زیادہ سے زیادہ لوگوں کی کسطرح حاضری لگوائیں اور اس مقصد کے ليے وہ کونسے حربے ہیں جنکے زریعے ہم اپنے قا‏ئم کر دہ مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکتے ہیں ۔ اگر آپ خواتین و حضرات مجہے مشورہ دیں کے میں ایسا کیا کرو کہ میرا بلاگ بہی میں کون ہوں جیسے خوبصورت اور با معنی بلاگ کی صفہ میں شامل کر سکوں میرے بلاگ پر مندرجہ ذیل لنک کے ذريعے پہنچا جاسکتا ہے۔
    http://insaafe.wordpress.com

    آپکی تشریف کا مطمنی
    زاہد حسین

  5. اجمل said

    زاہد حسين صاحب

    جواب آپ کے بلاگ پر لکھ ديا ہے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: