What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

ہماری ثقافت يا کلچر کیا ہے ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 30, 2006

کئی سالوں سے ثقافت یا کلچر کا بہت شور و غوغا ہے ۔ آخر ہماری ثقافت ہے کیا اور کہیں ہے بھی کہ نہیں ؟  یہ ثقافت یا کلچر ہوتی کیا بلا ہے ؟  آج سے پچاس سال پہلے جب میں انٹرمیڈیٹ میں پڑھتا تھا تو میرا ثقافت کے ساتھ پہلا تعارف کچھ اِس طرح ہوا ۔ اپنے ایک ہم جماعت کے گھر گیا وہ نہ ملا ۔ دوسرے دن اس نے آ کر معذرت کی اور بتایا کہ رشیّن کلچرل ٹروپے نے پرفارمینس دینا تھی ۔ میں دیکھنے چلا گیا ۔ میں نے پوچھا کہ پھر کیا دیکھا ؟  کہنے لگا ” اہُوں کلچر کیا تھا نیم عریاں طوائفوں کا ناچ تھا ” ۔ 

اب اپنے ملک کے چند تجربات جو روز مرّا کا معمول بن چکے ہیں  

ميرے دفتر کے تين پڑھے لکھے ساتھی آفيسروں نے چھٹی کے دن سير کا پروگرام بنايا اور مجھے بھی مدعُو کيا  ۔ صبح 8 بجے ايک صاحب کے گھر پہنچ کر وہاں سے روانگی مقرر ہوئی ۔ وہ تينوں قريب قريب رہتے تھے ۔ ميرا گھر اُن سے 40 کلوميٹر دور تھا ۔ ميں مقررہ مقام پر5 منٹ کم 8 بجے پہنچ گيا تو موصوف سوئے ہوئے تھے ۔ دوسرے دونوں کے گھر گيا تو اُنہيں بھی سويا پايا ۔ مجھے ايک گھينٹہ انتظار کرانے کے بعد اُنہوں نے 9 بجے سير کا پروگرام منسوخ کر ديا اور ميں اپنا سا مُنہ لے کر 3 گھينٹے ضائع اور 80 کلوميٹر کا سفر کر کے واپس گھر آ گيا  ۔   

چند سال قبل ميں لاہور گيا ہوا تھا اور قيام گلبرگ ميں تھا ۔ رات کو بستر پر دراز ہوا تو اُونچی آواز ميں ڈھما ڈھا موسيقی ساتھ بے تحاشہ شور ۔ سونا تو کُجا دماغ پھٹنے لگا ۔ انتہائی کَرب ميں رات گذری ۔ صبح اپنے مَيزبان سے ذِکر کيا تو بيزاری سے بولے "ہماری قوم پاگل ہو گئی ہے ۔ يہ بسنت منانے کا نيا انداز ہے "۔ محلہ میں کوئی شیرخوار بچہ ۔ بوڑھا یا مریض پریشان ہوتا ہے تو اُن کی بلا سے ۔ 

آدھی رات کو سڑک پر کار سے سکرِیچیں ماری جا تی ہیں ۔ اُن کی بلا سے کہ سڑک کے ارد گرد گھروں میں رہنے والے بِلبلا کر نیند سے اُٹھ جائیں ۔ ہمارے گھر کے پيچھے والی سڑک پر رات گيارہ بارہ بجے کسی مالدار کی ترقی يافتہ اولاد روزانہ اپنی اِسی مہارت کا مظاہرہ کرتی تھی ۔ اللہ نے ہم پر بڑا کرم کيا کہ وہ خاندان يہاں سے کُوچ کر گيا ۔    

ایک جگہ بھِیڑ اور شور و غُوغا سے متوجہ ہوۓ پتہ چلا کہ کوئی گاڑی ایک دس بارہ سالہ بچّے کو ٹکر مار کر چلی گئی ہے ۔ بچہ زخمی ہے ۔ کوئی حکومت کو کوس رہا ہے کوئی گاڑی والے کو اور کوئی نظام کو مگر بچّے کو  اُٹھا کر ہسپتال لیجانے کے لئے کوئی تیار نہیں ۔ يہ کام شائد اللہ تعالٰی نے مجھ سے اور ميرے جيسے ايک اور غير ترقی يافتہ [؟]  سے لينا تھا ۔ ایک مارکیٹ کی پارکنگ میں گاڑیاں عمودی پارک کی جاتی ہیں ۔ کار پارک کر کے چلا ہی تھا کہ ایک صاحب نےمیری کار کے پیچھے اپنی کار پارک کی اور چل دیئے ۔ ان سے مؤدبانہ عرض کیا کہ جناب آپ نے میری گاڑی بلاک  کر دی ہے پارکنگ میں بہت جگہ ہے وہاں پارک کر دیجئے ۔ وہ صاحب بغیر توجہ دیئے چل ديئے ۔ ساتھ چلتے ہوئے مزید دو بار اپنی درخواست دہرائی مگر اُن پر کوئی اثر نہ ہوا ۔ آخر اُن کا بازو پکڑ کر کھینچا اور غُصہ دار آواز میں کہا "گاڑی ہٹائیے اپنی وہاں سے” ۔ تو وہ صاحب اپنی ساتھی کو وہیں ٹھیرنے کا کہہ کر مُڑے اور اپنی کار ہٹائی  

پھَل لینے گئے ۔ دکاندار سے کہا "بھائی داغدار نہ دینا بڑی مہربانی ہو گی” ۔ دکاندار بولا "جناب ہماری ایسی عادت نہیں” ۔ اس نے بڑی احتیاط سے چُن چُن کے شاپنگ بیگ میں ڈال کر پھَل تول دیئے ۔ گھر آ کر دیکھا تو 20 فيصد داغدار تھے ۔ ۔ ۔ دراصل اُس نے صحیح کہا تھا "ہماری ایسی عادت نہیں” یعنی اچھا دینے کی ۔ 

پندرہ سولہ سال پہلے کا واقع ہے جب میں جنرل منیجر [گریڈ 20] تھا ہسپتال میں دوائی لینے کے لئے ڈسپنسری کے سامنے قطار میں کھڑا تھا چپڑاسی سے آفسر تک سب ایک ہی قطار میں کھڑے تھے ۔ ایک صاحب [گریڈ 19] آۓ اور سیدھے کھِڑکی پر جا کر چِلّائے” اوۓ ۔ یہ دوائیاں دو” ڈسپنسر نے سب سے پہلے اسے دوائیاں دے دیں ۔  

ایک آفیسر کسی غیر ملک کا دورہ کر کے آۓ ۔ میں نے پوچھا کیسا ملک ہے ؟  بولے ” کچھ نہ پوچھیئے ۔ وہاں تو روٹی لینے کے لئے لوگوں کی قطار لگی ہوتی ہے” ۔ کہہ تو وہ صحیح رہے تھے مگر غلط پیراۓ میں ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہاں تو بس پر چڑھنے کے لئے بھی قطار لگتی ہے ۔ ہسپتال میں دوائی لینے کے لئے بھی ۔ کیونکہ وہ لوگ ایک دوسرے کے حق کا احترام کرتے ہیں ۔         

والدین اور اساتذہ نے ہمیں تربیت دی کہ جب کسی سے ملاقات ہو جان پہچان نہ بھی ہو تو سلام کرو ۔ کبھی کسی کو سلام کیا اور اس نے بہت اچھا برتاؤ کیا اور کبھی صاحب بہادر ہميں حقير جان کر اکڑ گئے ۔ 

کوئی ہفتہ پہلے ميں کار پر جا رہا تھا ۔ ايک چوک پر ميں داہنی لين  ميں تھا جو داہنی طرف مُڑنے يا سيدھا جانے کيلئے تھی ۔ ايک لين ميرے بائيں طرف تھی جو بائيں جانب مُڑنے يا سيدھا جانے کيلئے تھی ۔ بتی سبز ہونے پر چل پڑے ۔ ميں چوک يا چوراہا يا چورنگی ميں داخل ہوا ہی چاہتا تھا کہ ايک کار ميری بائيں جانب سے بڑی تيزی سے  ميرے سامنے سے گُذر کر داہنی طرف کو گئی ۔ ديکھا تو وردی ميں ملبوس ايک کرنل اُس کار کو چلا رہے تھے ۔ سُنا تھا کہ فوج ميں بڑا ڈسِپلِن  ہوتا ہے ۔      

بازار میں آپ روزانہ دیکھتے ہیں کہ بلا توقف  نقلی چیز  اصل کے بھاؤ بیچی جا رہی ۔ 

ہم ہیں تو مسلمان مگر ہم نے ناچ گانا ۔ ڈھول ڈھمکْا اور نیو ایئر نائٹ اپنا لی ہے ۔ بسنت پر پتنگ بازی کے نام پر راتوں کو ہُلڑبازی ۔ اُونچی آواز میں موسیقی ۔ شراب نوشی ۔ طوائفوں کا ناچ غرضیکہ ہر قسم کی بد تمیزی جس میں لڑکیاں يا عورتيں بھی لڑکوں کے شانہ بشانہ ہوتی ہیں ۔ [ابھی ہولی اور کرسمس باقی رہ گئی ہيں]  کیا یہی ہے ہماری ثقافت یا کلچر ؟   کیا پاکستان اِنہی کاموں کے لئے حاصل کيا گيا تھا ؟  کیا یہی ترقی کی نشانیاں ہیں ؟ 

یا اللہ ہمیں صحیح راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما ۔ آمین ۔

*

میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔ 

Hypocrisy Thy Name – –  http://iabhopal.wordpress.com – – یہ منافقت نہیں ہے کیا

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: