What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

دِل کی اے دھڑکن ۔ ۔ ۔

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 24, 2006

نعمان صاحب بيان تو کراچی کے کُتوں کے خصائل کر رہے تھے  مگر  رگڑا  اہلِ کراچی کو لگا رہے تھے ۔ ميرے خيال ميں حالت پورے مُلک کی تقريباً يکساں ہے بالخصوص کراچی ۔ لاہور اور اسلام آباد کی ۔  البتہ بُرائياں اور مشہوری آبادی کے مطابق کم يا زيادہ ہے ۔ 

کُتا تو آخر کُتا ہے ۔ کُتے دا پُتر ہے اور کُتيا کا بچہ بھی۔ ۔  ۔  قابلِ غور بات يہ ہے کہ اپنے آپ کو اشرف المخلوقات سمجھنے والے کُتوں سے بازی لے جانے کی تگ و دَو ميں ہيں ۔ نعمان صاحب کے لکھے کے علاوہ بہت سی باتيں ہيں مگر فی الحال جو زيادہ اہم ہيں ۔ 

صرف کراچی ميں اوسط ايک دن ميں سرکاری اعداد و شُمار کے مطابق ۔ اصل زيادہ ہو سکتے ہيں

تين آدمی قتل کئے جاتے ہيں ۔ گولی ۔ چھُری يا گاڑی سے

پانچ گھروں ميں ڈاکے پڑتے ہيں

پچيس گاڑياں چوری کی جاتی يا چھينی جاتی ہيں ۔

ساٹھ موبائل فون چھينے جاتے ہيں ۔ 

پُرانا آدمی ہوں تو شعر بھی پُرانے ياد آتے ہيں ۔  کسی زمانہ کی عورت گايا کرتی تھی

آپ کی نظروں نے  سمجھا  پيار کے قابل مُجھے

دِل کی اے دھڑکن ٹھہرجا  مِل گئی منزِل مجھے

ليکن اب تو نئی منزليں اور نئی راہيں ہيں ۔ روشن خيال حکومت کی پاليسيوں کی بدولت مُلک ترقی کر گيا ہے اور عورت آزادی حاصل کر کے مرد کے شانہ بشانہ ميدانِ عمل ميں اُتر آئی ہے ۔ ملاحظہ فرمائيے چند جھلکياں ۔

دو يا تين عورتيں تيزی سے چلتے ہوئے بازار  يا  مارکيٹ ميں شاپِنگ کرتی ہوئی عورت يا لڑکی کو دھکا ديتی ہيں اور اُس کے  سنبھلنے سے قبل اُس کے بيگ ميں سے موبائل فون يا نقدی يا دونوں نکال کر رفو چکر ہو جاتی ہيں ۔

دو خواتين نے ايک ٹيکسی لی ۔ منزلِ مقصود پر پہنچ کر اُتر گئيں ۔ ٹيکسی ڈرائيور نے کرايہ مانگا تو ايک نے اپنے بيگ ميں سے پستول نکال کر اس کی ٹيکسی کا ٹائر برسٹ کر ديا اور چلی گئيں ۔ 

ايک آدمی نے قسطوں پر رکشا خريدا ۔ اُس کی قسط 3000 روپے دينے جا رہا تھا کہ دو عورتوں نے روک کر ساحل سمندر جانے کو کہا ۔ ايک سُنسان جگہہ لے جا کر اُتريں اور ايک نے رکشا والے کی کنپٹی پر پستول تان ليا اور دوسری نے اُس کی جيبوں کی تلاشی لے کر 3000 روپے سميت سب رقم نکال لی اور دھَمکاتے ہوئے غائب ہو گئيں ۔

       اسلام آباد ميں ايک سپيشيلِسٹ ڈاکٹر ہسپتال سے فارغ ہو کر گھر جا رہے تھے ۔ راستہ ميں دو عورتوں نے رُکنے کا اشارہ کيا اور کہا کہ ہميں کوئی سواری نہيں مل رہی تھوڑا  آگے اُتار ديں ۔ ڈاکٹر صاحب نے کار کا پچھلا دروازہ کھولا اور وہ بيٹھ گئيں ۔ کار چلتے ہی اُن عورتوں نے روشن خيالی شروع کر دی ۔ ڈاکٹر صاحب تاريک خيال تھے گھبرا گئے اور عورتوں سے تہذيب کی درخواست کی ليکن اُلٹا عورتوں نے قُربت اختيار کرنا چاہی جس پر ڈاکٹر صاحب نے کار  روک کر عورتوں کو اُتر جانے کا کہا ۔ ايک بولی "اگر 500 روپيہ ديديں تو ہم اُتر جاتی ہيں ورنہ شور مچا کر لوگوں کو اکٹھا کر ليں گی"۔ ڈاکٹر صاحب نے  500 روپيہ دينے ہی ميں خيريت جانی ۔

    میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے

   Hypocrisy Thy Name – – http://iabhopal.wordpress.com – – یہ منافقت نہیں ہے کیا

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: