What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

Archive for جون, 2006

ہماری ثقافت يا کلچر کیا ہے ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 30, 2006

کئی سالوں سے ثقافت یا کلچر کا بہت شور و غوغا ہے ۔ آخر ہماری ثقافت ہے کیا اور کہیں ہے بھی کہ نہیں ؟  یہ ثقافت یا کلچر ہوتی کیا بلا ہے ؟  آج سے پچاس سال پہلے جب میں انٹرمیڈیٹ میں پڑھتا تھا تو میرا ثقافت کے ساتھ پہلا تعارف کچھ اِس طرح ہوا ۔ اپنے ایک ہم جماعت کے گھر گیا وہ نہ ملا ۔ دوسرے دن اس نے آ کر معذرت کی اور بتایا کہ رشیّن کلچرل ٹروپے نے پرفارمینس دینا تھی ۔ میں دیکھنے چلا گیا ۔ میں نے پوچھا کہ پھر کیا دیکھا ؟  کہنے لگا ” اہُوں کلچر کیا تھا نیم عریاں طوائفوں کا ناچ تھا ” ۔ 

اب اپنے ملک کے چند تجربات جو روز مرّا کا معمول بن چکے ہیں  

ميرے دفتر کے تين پڑھے لکھے ساتھی آفيسروں نے چھٹی کے دن سير کا پروگرام بنايا اور مجھے بھی مدعُو کيا  ۔ صبح 8 بجے ايک صاحب کے گھر پہنچ کر وہاں سے روانگی مقرر ہوئی ۔ وہ تينوں قريب قريب رہتے تھے ۔ ميرا گھر اُن سے 40 کلوميٹر دور تھا ۔ ميں مقررہ مقام پر5 منٹ کم 8 بجے پہنچ گيا تو موصوف سوئے ہوئے تھے ۔ دوسرے دونوں کے گھر گيا تو اُنہيں بھی سويا پايا ۔ مجھے ايک گھينٹہ انتظار کرانے کے بعد اُنہوں نے 9 بجے سير کا پروگرام منسوخ کر ديا اور ميں اپنا سا مُنہ لے کر 3 گھينٹے ضائع اور 80 کلوميٹر کا سفر کر کے واپس گھر آ گيا  ۔   

چند سال قبل ميں لاہور گيا ہوا تھا اور قيام گلبرگ ميں تھا ۔ رات کو بستر پر دراز ہوا تو اُونچی آواز ميں ڈھما ڈھا موسيقی ساتھ بے تحاشہ شور ۔ سونا تو کُجا دماغ پھٹنے لگا ۔ انتہائی کَرب ميں رات گذری ۔ صبح اپنے مَيزبان سے ذِکر کيا تو بيزاری سے بولے "ہماری قوم پاگل ہو گئی ہے ۔ يہ بسنت منانے کا نيا انداز ہے "۔ محلہ میں کوئی شیرخوار بچہ ۔ بوڑھا یا مریض پریشان ہوتا ہے تو اُن کی بلا سے ۔ 

آدھی رات کو سڑک پر کار سے سکرِیچیں ماری جا تی ہیں ۔ اُن کی بلا سے کہ سڑک کے ارد گرد گھروں میں رہنے والے بِلبلا کر نیند سے اُٹھ جائیں ۔ ہمارے گھر کے پيچھے والی سڑک پر رات گيارہ بارہ بجے کسی مالدار کی ترقی يافتہ اولاد روزانہ اپنی اِسی مہارت کا مظاہرہ کرتی تھی ۔ اللہ نے ہم پر بڑا کرم کيا کہ وہ خاندان يہاں سے کُوچ کر گيا ۔    

ایک جگہ بھِیڑ اور شور و غُوغا سے متوجہ ہوۓ پتہ چلا کہ کوئی گاڑی ایک دس بارہ سالہ بچّے کو ٹکر مار کر چلی گئی ہے ۔ بچہ زخمی ہے ۔ کوئی حکومت کو کوس رہا ہے کوئی گاڑی والے کو اور کوئی نظام کو مگر بچّے کو  اُٹھا کر ہسپتال لیجانے کے لئے کوئی تیار نہیں ۔ يہ کام شائد اللہ تعالٰی نے مجھ سے اور ميرے جيسے ايک اور غير ترقی يافتہ [؟]  سے لينا تھا ۔ ایک مارکیٹ کی پارکنگ میں گاڑیاں عمودی پارک کی جاتی ہیں ۔ کار پارک کر کے چلا ہی تھا کہ ایک صاحب نےمیری کار کے پیچھے اپنی کار پارک کی اور چل دیئے ۔ ان سے مؤدبانہ عرض کیا کہ جناب آپ نے میری گاڑی بلاک  کر دی ہے پارکنگ میں بہت جگہ ہے وہاں پارک کر دیجئے ۔ وہ صاحب بغیر توجہ دیئے چل ديئے ۔ ساتھ چلتے ہوئے مزید دو بار اپنی درخواست دہرائی مگر اُن پر کوئی اثر نہ ہوا ۔ آخر اُن کا بازو پکڑ کر کھینچا اور غُصہ دار آواز میں کہا "گاڑی ہٹائیے اپنی وہاں سے” ۔ تو وہ صاحب اپنی ساتھی کو وہیں ٹھیرنے کا کہہ کر مُڑے اور اپنی کار ہٹائی  

پھَل لینے گئے ۔ دکاندار سے کہا "بھائی داغدار نہ دینا بڑی مہربانی ہو گی” ۔ دکاندار بولا "جناب ہماری ایسی عادت نہیں” ۔ اس نے بڑی احتیاط سے چُن چُن کے شاپنگ بیگ میں ڈال کر پھَل تول دیئے ۔ گھر آ کر دیکھا تو 20 فيصد داغدار تھے ۔ ۔ ۔ دراصل اُس نے صحیح کہا تھا "ہماری ایسی عادت نہیں” یعنی اچھا دینے کی ۔ 

پندرہ سولہ سال پہلے کا واقع ہے جب میں جنرل منیجر [گریڈ 20] تھا ہسپتال میں دوائی لینے کے لئے ڈسپنسری کے سامنے قطار میں کھڑا تھا چپڑاسی سے آفسر تک سب ایک ہی قطار میں کھڑے تھے ۔ ایک صاحب [گریڈ 19] آۓ اور سیدھے کھِڑکی پر جا کر چِلّائے” اوۓ ۔ یہ دوائیاں دو” ڈسپنسر نے سب سے پہلے اسے دوائیاں دے دیں ۔  

ایک آفیسر کسی غیر ملک کا دورہ کر کے آۓ ۔ میں نے پوچھا کیسا ملک ہے ؟  بولے ” کچھ نہ پوچھیئے ۔ وہاں تو روٹی لینے کے لئے لوگوں کی قطار لگی ہوتی ہے” ۔ کہہ تو وہ صحیح رہے تھے مگر غلط پیراۓ میں ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہاں تو بس پر چڑھنے کے لئے بھی قطار لگتی ہے ۔ ہسپتال میں دوائی لینے کے لئے بھی ۔ کیونکہ وہ لوگ ایک دوسرے کے حق کا احترام کرتے ہیں ۔         

والدین اور اساتذہ نے ہمیں تربیت دی کہ جب کسی سے ملاقات ہو جان پہچان نہ بھی ہو تو سلام کرو ۔ کبھی کسی کو سلام کیا اور اس نے بہت اچھا برتاؤ کیا اور کبھی صاحب بہادر ہميں حقير جان کر اکڑ گئے ۔ 

کوئی ہفتہ پہلے ميں کار پر جا رہا تھا ۔ ايک چوک پر ميں داہنی لين  ميں تھا جو داہنی طرف مُڑنے يا سيدھا جانے کيلئے تھی ۔ ايک لين ميرے بائيں طرف تھی جو بائيں جانب مُڑنے يا سيدھا جانے کيلئے تھی ۔ بتی سبز ہونے پر چل پڑے ۔ ميں چوک يا چوراہا يا چورنگی ميں داخل ہوا ہی چاہتا تھا کہ ايک کار ميری بائيں جانب سے بڑی تيزی سے  ميرے سامنے سے گُذر کر داہنی طرف کو گئی ۔ ديکھا تو وردی ميں ملبوس ايک کرنل اُس کار کو چلا رہے تھے ۔ سُنا تھا کہ فوج ميں بڑا ڈسِپلِن  ہوتا ہے ۔      

بازار میں آپ روزانہ دیکھتے ہیں کہ بلا توقف  نقلی چیز  اصل کے بھاؤ بیچی جا رہی ۔ 

ہم ہیں تو مسلمان مگر ہم نے ناچ گانا ۔ ڈھول ڈھمکْا اور نیو ایئر نائٹ اپنا لی ہے ۔ بسنت پر پتنگ بازی کے نام پر راتوں کو ہُلڑبازی ۔ اُونچی آواز میں موسیقی ۔ شراب نوشی ۔ طوائفوں کا ناچ غرضیکہ ہر قسم کی بد تمیزی جس میں لڑکیاں يا عورتيں بھی لڑکوں کے شانہ بشانہ ہوتی ہیں ۔ [ابھی ہولی اور کرسمس باقی رہ گئی ہيں]  کیا یہی ہے ہماری ثقافت یا کلچر ؟   کیا پاکستان اِنہی کاموں کے لئے حاصل کيا گيا تھا ؟  کیا یہی ترقی کی نشانیاں ہیں ؟ 

یا اللہ ہمیں صحیح راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما ۔ آمین ۔

*

میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔ 

Hypocrisy Thy Name – –  http://iabhopal.wordpress.com – – یہ منافقت نہیں ہے کیا

Posted in معاشرہ | Leave a Comment »

دیر سے دے جو مرغا بانگ

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 27, 2006

ہمارے پڑوسی نے دو ماہ پیشتر ایک مرغا پال لیا ۔ وہ رات گیارا بجے بانگیں دینا شروع کر دیتا ہے اور میری نیند خراب کر دی ۔ یہی کچھ کم نہ تھا کہ میرے چھوٹے بھائی کو کسی نے مرغا تحفہ دے دیا ۔ دونوں میں بانگوں کا مقابلہ جاری ہوا  اور میری نیند اور چین حرام ۔ میں نے بھابھی کو پیشکش کی کہ اس نسل کا گوشت بہت لذیذ ہوتا ہے ۔ میں اسےذبح کر دیتا ہوں کھانے میں لُطف آئے گا ۔ جواب ملا کہ دینے والے نے وعدہ لیا تھا کہ اِسے ذبح نہیں کرنا ۔ یا میرے مولا تیرے یہ مجبور بندے کدھر جائیں ؟ 

سنا ہے کِسی زمانہ میں مرغا دوپہر یا آدھی رات کو بانگ دے تو اُسے ذبح کر دیا جاتا تھا ۔ اب تو جانور بھی آزاد ہیں جو چاہیں سو کریں

 

*

میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔

  Hypocrisy Thy Name – –  http://iabhopal.wordpress.com – – یہ منافقت نہیں ہے کیا

Posted in مزاح | 2 Comments »

دِل کی اے دھڑکن ۔ ۔ ۔

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 24, 2006

نعمان صاحب بيان تو کراچی کے کُتوں کے خصائل کر رہے تھے  مگر  رگڑا  اہلِ کراچی کو لگا رہے تھے ۔ ميرے خيال ميں حالت پورے مُلک کی تقريباً يکساں ہے بالخصوص کراچی ۔ لاہور اور اسلام آباد کی ۔  البتہ بُرائياں اور مشہوری آبادی کے مطابق کم يا زيادہ ہے ۔ 

کُتا تو آخر کُتا ہے ۔ کُتے دا پُتر ہے اور کُتيا کا بچہ بھی۔ ۔  ۔  قابلِ غور بات يہ ہے کہ اپنے آپ کو اشرف المخلوقات سمجھنے والے کُتوں سے بازی لے جانے کی تگ و دَو ميں ہيں ۔ نعمان صاحب کے لکھے کے علاوہ بہت سی باتيں ہيں مگر فی الحال جو زيادہ اہم ہيں ۔ 

صرف کراچی ميں اوسط ايک دن ميں سرکاری اعداد و شُمار کے مطابق ۔ اصل زيادہ ہو سکتے ہيں

تين آدمی قتل کئے جاتے ہيں ۔ گولی ۔ چھُری يا گاڑی سے

پانچ گھروں ميں ڈاکے پڑتے ہيں

پچيس گاڑياں چوری کی جاتی يا چھينی جاتی ہيں ۔

ساٹھ موبائل فون چھينے جاتے ہيں ۔ 

پُرانا آدمی ہوں تو شعر بھی پُرانے ياد آتے ہيں ۔  کسی زمانہ کی عورت گايا کرتی تھی

آپ کی نظروں نے  سمجھا  پيار کے قابل مُجھے

دِل کی اے دھڑکن ٹھہرجا  مِل گئی منزِل مجھے

ليکن اب تو نئی منزليں اور نئی راہيں ہيں ۔ روشن خيال حکومت کی پاليسيوں کی بدولت مُلک ترقی کر گيا ہے اور عورت آزادی حاصل کر کے مرد کے شانہ بشانہ ميدانِ عمل ميں اُتر آئی ہے ۔ ملاحظہ فرمائيے چند جھلکياں ۔

دو يا تين عورتيں تيزی سے چلتے ہوئے بازار  يا  مارکيٹ ميں شاپِنگ کرتی ہوئی عورت يا لڑکی کو دھکا ديتی ہيں اور اُس کے  سنبھلنے سے قبل اُس کے بيگ ميں سے موبائل فون يا نقدی يا دونوں نکال کر رفو چکر ہو جاتی ہيں ۔

دو خواتين نے ايک ٹيکسی لی ۔ منزلِ مقصود پر پہنچ کر اُتر گئيں ۔ ٹيکسی ڈرائيور نے کرايہ مانگا تو ايک نے اپنے بيگ ميں سے پستول نکال کر اس کی ٹيکسی کا ٹائر برسٹ کر ديا اور چلی گئيں ۔ 

ايک آدمی نے قسطوں پر رکشا خريدا ۔ اُس کی قسط 3000 روپے دينے جا رہا تھا کہ دو عورتوں نے روک کر ساحل سمندر جانے کو کہا ۔ ايک سُنسان جگہہ لے جا کر اُتريں اور ايک نے رکشا والے کی کنپٹی پر پستول تان ليا اور دوسری نے اُس کی جيبوں کی تلاشی لے کر 3000 روپے سميت سب رقم نکال لی اور دھَمکاتے ہوئے غائب ہو گئيں ۔

       اسلام آباد ميں ايک سپيشيلِسٹ ڈاکٹر ہسپتال سے فارغ ہو کر گھر جا رہے تھے ۔ راستہ ميں دو عورتوں نے رُکنے کا اشارہ کيا اور کہا کہ ہميں کوئی سواری نہيں مل رہی تھوڑا  آگے اُتار ديں ۔ ڈاکٹر صاحب نے کار کا پچھلا دروازہ کھولا اور وہ بيٹھ گئيں ۔ کار چلتے ہی اُن عورتوں نے روشن خيالی شروع کر دی ۔ ڈاکٹر صاحب تاريک خيال تھے گھبرا گئے اور عورتوں سے تہذيب کی درخواست کی ليکن اُلٹا عورتوں نے قُربت اختيار کرنا چاہی جس پر ڈاکٹر صاحب نے کار  روک کر عورتوں کو اُتر جانے کا کہا ۔ ايک بولی "اگر 500 روپيہ ديديں تو ہم اُتر جاتی ہيں ورنہ شور مچا کر لوگوں کو اکٹھا کر ليں گی"۔ ڈاکٹر صاحب نے  500 روپيہ دينے ہی ميں خيريت جانی ۔

    میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے

   Hypocrisy Thy Name – – http://iabhopal.wordpress.com – – یہ منافقت نہیں ہے کیا

Posted in معاشرہ | Leave a Comment »

نئی شاہراہ

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 18, 2006

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ نے ایک شاہراہ بنوائی اور اِس کے افتتاح کے لئے ایک دوڑ کا اعلان کیا جس میں تمام شہری حصہ لیں اور یہ کہ جو سب سے اچھا سفر کرے گا بادشاہ اُسے اِنعام دے گا ۔ سب نے بڑے جوش و خروش سے حصہ لیا۔ شاہراہ کے دوسرے سِرے پر بادشاہ سب دوڑنے والوں کے تاءثرات پُوچھتا رہا ۔ کسی نے شاہراہ کی تھوڑی کسی نے زیادہ تعریف کی مگر سب نے بتایا کہ شاہراہ پر ایک جگہ بجری پڑی ہے ۔ اگر اُسے اُٹھوا دیا جائے تو بہت اچھا ہو ۔

شام تک سب لوگ چلے گئے تو بادشاہ اُٹھ کر جانے لگا ۔ ایک سپاہی نے خبر دی کہ دوڑ میں حصہ لینے والوں میں سے ایک آدمی جو شاہراہ میں صبح سویرے داخل ہوا تھا ابھی آنا باقی ہے ۔ کچھ دیر بعد ایک درمیانی عمر کا شخص دھُول میں لت پت تھکا ہارا  ہاتھ میں ایک تھیلی پکڑے پہنچا اور بادشاہ سے مخاطب ہوا "جناب عالی ۔ میں معافی چاہتا ہوں کہ آپ کو انتظار کرنا پڑا ۔ راستہ میں کچھ بجری پڑی تھی ۔ میں نے سوچا کہ آئندہ اِس شاہراہ سے گذرنے والوں کو دقّت ہو گی ۔ اُسے ہٹانے میں کافی  وقت لگ گیا ۔ بجری کے نیچے سے یہ تھیلی ملی ۔ اس میں ایک سو سونے کے سِکّے ہیں ۔ آپ کے سڑک بنانے والوں میں سے کسی کے ہوں گے ۔ اُسے دے دیجئے گا " ۔ بادشاہ نے کہا " یہ تھیلی اب تمہاری ہے ۔ میں نے رکھوائی تھی ۔ یہ تمہارا انعام ہے ۔ بہترین مسافر وہ ہوتا ہے جو مستقبل کے مسافروں کی سہولت کا خیال رکھے" ۔      

دعا ہے کہ اللہ ہمارے ملک میں بھی ایسے لوگ پیدا کر دے ۔ مجھے یقین ہے کہ وہ بادشاہ سے نہیں تو اللہ سے انعام ضرور پائیں گے ۔

*

  میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔ 

Hypocrisy Thy Name – –  http://iabhopal.wordpress.com – – یہ منافقت نہیں ہے کیا

Posted in ذمہ دارياں | Leave a Comment »

آزاد يا کَٹھ پُتلی ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 15, 2006

آزادیءِ نسواں ايک پُر کشش نعرہ ہے جو عورتوں کے دِل موہ ليتا ہے اور وہ مردوں کی غلامی سے نجات کے شوق ميں مردوں کی کٹھ پُتلی بن جاتی ہيں ۔ کيا يہ حقيقت نہيں کہ آج مغربی دُنيا کی نام نہاد آزاد عورت کی حيثيت ايک کٹھ پُتلی کی سی ہے جس کا ہر عمل مرد کی خواہشات کا مرہونِ منت ہے ؟   

عورت کی عُمدگی کو اس کی عقل و فہم کی بجائے  اس کے جسمانی خدوخال اور جِنسی کشش سے ناپا جانے لگا  ۔ عورت سے اس کا قدرتی منصب و کردار [ماں ۔ بہن ۔ بيوی ۔بيٹی] چھين کر اسے اشتہاروں ۔ سينماؤں ۔  سٹيج اور محفل کی زينت بنا ديا گيا تاکہ وہ مرد کی تفننِ طبع کا سامان مہياء کر سکے ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے عطا کردہ تمام حقوق جن کی رو سے وہ گھر کی مالکن اور قابلِ احترام بنتی ہے عورت سے چھين کر نہ صرف روزی کمانے کی ذمہ داری اس پر ڈالی گئی بلکہ مرد گاہکوں کی خوشنودی کی خاطر دفاتر اور ہوٹلوں کی زينت بنايا گيا ۔ عورت کو آزادی کا چکمہ دے کر مرد نے اسے اپنی نفسانی خواہشات کا کھلونا بنا ديا اور اب عورت کو اس جال سے باہر نکلنے کا راستہ بھی ميسّر نہيں ۔  

آخر ايسا کيوں ہے کہ اشتہار موبائل فون کا ہو ۔ کار ۔ ٹيليويزن حتٰی کہ  ريزر بليڈ کا ۔ اس ميں تصوير عورت کی ہوتی ہے ۔ نيم عُرياں يا عُرياں ناچ ہو تو عورت کا ۔ کپڑوں کے اشتہار ہوں يا کوئی اور اُن ميں سب سے بڑا عنصر عورت کے جسم کی نمائش کا ہوتا ہے ۔ کيا نيم عُرياں نوجوان عورت کا کُولہے مٹکا کر مردوں سے داد و تحسين پانا آزادیءِ نسواں کہلاتا ہے ؟  

مغربی دنيا ميں مرد جب چاہتا ہے عورت سے لُطف اُٹھاتا ہے اور اس کے نتيجہ ميں بچہ جننا يا ضائع کرنا مرد کے حُکم کا تابع ہوتا ہے جبکہ ساری تکليف يا زحمت عورت اُٹھاتی ہے ۔ خاوند کے ساتھ ساتھ بيوی بھی گھر کے خرچ کيلئے پيسہ کماتی ہے اور امورِ خانہ داری اور بچوں کی پرورش عورت کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ کيا يہی مساوات يا مساوی حقوق ہيں ؟  اگر مادی مساوات ہی کرنا ہے تو پھر مردوں کو بھی امورِ خانہ داری کے علاوہ بچوں کی پرورش کرنا چاہيئے ۔ اس کے علاوہ مردوں کے بھی نيم عُرہاں يا عُرہاں ناچ ہونا چاہئيں تھے اور بچہ جننے کی تکليف عورت اور مرد باری باری اُٹھاتے ۔ ليکن ايسا نہيں ہے اور نہ ہو گا ۔  

مغربی معاشرہ جہاں عورت کی آزادی کا ڈھنڈورہ پيٹا جاتا ہے وہاں عورت کی بے بسی قابلِ رحم ہے ۔ عورت مرد کو خوش کرتے ہوئے عام طور پر شادی سے پہلے حاملہ ہو جاتی ہے اور پھر اسی مرد کی خوشنودی کی خاطر حمل ضائع کر کے جسمانی اور ذہنی اذيّت سے گذرتی ہے ۔ شادی کے بعد اپنے خاوند کے بچہ پيدا کرنا يا  ضائع کرنا بھی خاوند کے حُکم سے ہوتا ہے ۔  

آج تو حالات بالکل ہی دِگرگُوں ہو چکے ہيں ۔ لگ بھگ چار دہائياں پہلے کی بات ہے ميں اس زمانہ ميں مغربی جرمنی ميں تھا ۔ ايک ہم عمر آسٹروی نزاد جرمن ميرا دوست بن گيا ۔ ہم اکٹھے گومتے پھرتے ۔ جب میرا  واپسی کا سلسلہ ہوا تو کہنے لگا "اجمل ميرے لئے کسی دن بہت سا وقت نکالو ميں تمہارے ساتھ بہت سی باتيں کرنا چاہتا ہوں"۔ اگلے اتوار کو سارا دن اکٹھے گذارا ۔ اُس نے اپنی پيدائش سے ليکر اُس دن تک کی آپ بيتی اور اپنے خيالات بتائے ۔ آخر ميں کہنے لگا " اجمل ۔ ميں مسلمانوں کی بہت عزت کرتا ہوں ۔ ميں نے آسٹريا ۔جرمنی اور تُرکی ميں تعليم حاصل کی ہے ۔ ميں دو سال انقرہ يونيورسٹی ميں رہا ۔ وہاں تُرکوں کی تمام عادتيں يورپ کے لوگوں کی طرح تھيں ۔ شراب پيتے ۔ لحم الخنزير کھاتے ۔ ناچتے گاتے مگر ايک عجيب بات تھی وہاں بہت ڈھونڈنے سے شائد کوئی عورت ملے جو شادی سے پہلے کسی مرد کے ساتھ سوئی ہو جبکہ يورپ ميں بہت ڈھونڈنے سے شائد کوئی عورت ملے جو شادی سے پہلے کسی مرد کے ساتھ نہ سوئی ہو ۔ وہاں سے آنے کے بعد ميں بالکل بدل گيا ۔ ميں نے الکُحل بلکہ بيئر پينا بھی چھوڑ دی ۔ لڑکيوں کے ساتھ ناچنا بھی چھوڑ ديا ۔ اب ميں اپنے وطن ميں اجنبی ہوں ۔ مسلمان جيسے کيسے بھی ہيں ميرے دل ميں اُن کيلئے بہت عزت ہے"۔ کيا يہی ہے آزادیءِ نسواں جس کا پرچار مغرب والے کرتے ہيں ؟ 

ہمارے ہم وطن "کوا دُم ميں مور کا پنکھ لگا کر لگا تھا مور بننے ۔ نہ تو مور بنا نہ کوّوں ميں واپس آ سکا" کی مثال بن رہے ہيں ۔ ہمارا مسئلہ آزادیءِ نسواں نہيں بلکہ عورت کا جو احترام اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے مردوں پر واجب کيا ہے اُسے بحال کرنا ہمارا اصل مسئلہ اور ہر مسلمان کا فرض ہے ۔ نہ تو اللہ نے عورت کو قيد کرنے کا حُکم ديا ہے اور نہ آوارہ گردی کی اجازت ۔ 

حقيقت يہ ہے کہ آزادیءِ نسواں کا نعرہ مردوں نے روشناس کروايا اور عورتوں کو ماں بہن بيوی اور بيٹی کے پاکيزہ اور مقدّس مقام سے دھکيل کر جِنسِ نمائش اور مردوں کی خواہشات کی کٹھ پُتلی بنا ديا ۔  اصل ميں تو  يہ آزاریءِ نسواں کی بجائے مرد کو کھُلی چھُٹی ہے ۔ اے مُسلماں ۔ کھول آنکھ کہ زمانہ چال قيامت کی چل گيا ۔

    * 

میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔

  Hypocrisy Thy Name – –  http://iabhopal.wordpress.com  – – یہ منافقت نہیں ہے کیا

Posted in معاشرہ | Leave a Comment »

لاثانی

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 12, 2006

اپنی زوجہ کے تعارف میں کہا اِک شخص نے

دِل سے ان کا معترف ہوں میں زبانی ہی نہیں

چائے بھی اچھی  بناتی ہیں  میری  بیگم  مگر

مُنہ  بنانے  میں  تو   ان  کا  کوئی  ثانی  نہیں

 

انور مسعود

 * 

میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔

  Hypocrisy Thy Name – –  http://iabhopal.wordpress.com – –   یہ منافقت نہیں ہے کیا

Posted in مزاح | Leave a Comment »

عشق و محبت

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 9, 2006

لیلٰی و قیس [مجنوں] ۔ شیریں و فرہاد ۔ ہیر و  رانجا ۔ سوہنی و مہیں وال ۔ سسّی و پُنُوں ۔ سہتی و مُراد وغیرہ کے عِشقیہ افسانے کون نہیں جانتا ۔ لیلٰی کو حاصل نہ کر سکنے کے نتیجہ میں شہزادہ قیس پاگل [مجنوں] ہو گیا اور جنگلوں میں بھٹکتا  رہا ۔ شیریں کی قُربت کیلئے فرہاد پتھر کے پہاڑوں میں نہر کھودتا رہا ۔ ہیر کو حاصل کرنے کیلئے تخت ہزارہ کے شہزادے نے رانجا کا روپ دھار کر ہیر کے باپ کا کمّی [غلام] بننا قبول کیا ۔ سوہنی کے عشق میں ایک زمیندار سب کچھ چھوڑ کر سوہنی کے باپ کا مہیں وال [بھنسیں چرانے والا] بنا ۔ سسّی کو پانے کیلئے شہزادہ پُنّوں صحراؤں کی گردش میں گم ہو گیا ۔ بلوچستان کے نواب کا بیٹا مُراد جھنگ سے گذرتے ہوئے سہتی کے عشق میں گرفتار ہوا ۔ سہتی کے خاندان کے بلوچوں میں لڑکی بیاہنے سے انکار کے باوجود جھنگ میں ہی الغوزہ بجاتا رہا ۔  

اُردو کاایک  مصدر ہے " تسلیم کرنا " یعنی مان لینا ۔ اِ سکا اِسم فاعل ہے " مُسلِم" چنانچہ مُسلم وہ ہوتا ہے جو تسلیم کرے یا مانے ۔ اب فرض کیجئے کہ ایک شخص کو بُخار ہے اور وہ تسلیم کرتا ہے یا مانتا ہے کہ بُخار پَیناڈول کھانے سے بخار اُتر جائے گا تو ضروری بات ہے کہ وہ پَیناڈول کھا لے گا ۔ اور اگر نہیں کھائے گا تو اِس کا مطلب ہو گا کہ وہ کہہ تو رہا ہے کہ مانتا ہوں کہ پيناڈول سے بخار اُتر جائے گا لیکن حقیقتا میں مانتا نہیں ہے ۔  

مُسلِم کے لُغوی معنی تو اُوپر لکھ دیئے مگر اِصطلاحی طور پر مُسلِم یا مُسلمان اُس شخص کو کہا جاتا ہے جو اللہ سُبْحَانُہُ وَ تَعَالٰی کی اطاعت قبول کرتا ہے یعنی اللہ کا ہر حُکم مانتا یا کم از کم ماننے کا دعویدار ہوتا ہے ۔ ايک مُسلم يا مُسلمان اللہ کا حُکم تب ہی ماننے کے قابل ہو گا جب اُسے معلوم ہو گا کہ اللہ کا حُکم کیا ہے ۔ اللہ کے حُکم کو جاننے کے لئے اُسے قرآن الحکیم کو پڑھ کر اسکے معنی سمجھنا پڑیں گے ۔  

قرآن شریف میں سب سے پہلی شرط اللہ کو یکتا معبود ماننے کی ہے ۔ مندرجہ بالایعنی محبوب یا معشوق وقتی اور محدود فائدہ والے لوگ ہیں ۔ معبود وہ ہوتا ہے جِسے دل اور عقل دونوں اپنا محبوب مانيں چنانچہ  معبود کا درجہ محبوب یا معشوق سے بہت بُلند ہوتا ہے مگر معبود کے لئے مُسلم یا مُسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے والے کيا کرتے ہيں کبھی سوچا ہم نے ؟           

چلئے ليلٰی مجنوں شيريں فرہاد کے تو پُرانے قصّے ہیں ۔ آجکل لوگوں کا عام طور پر رویّہ یہ ہوتا ہے کہ جس کسی سے کسی وقتی فائدہ کی اُمید ہو اُس کی خدمت کے بہانے ڈھونڈے جاتے ہیں اور اُسے خوش رکھنے کی حتی الوسع کوشش کی جاتی ہے اور اس کوشش میں جو سب کو فائدہ پہنچانے والا ہے اور بے حساب فائدہ پہنچاتا ہے اُس کو بھول جاتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ ہم مُسلمان ہیں ۔   

آج کے مُسلمان کا حال يہ ہے کہ تجارت ۔ لين دين ۔ انصاف ۔ رشتہ داروں سے سلوک ۔ محلہ داروں سے سلوک ۔ غريبوں يا مِسکينوں سے سلوک سب ميں اللہ اور رسول کے بتائے ہوئے اصولوں کی بجائے صرف اپنی خودغرضی ياد رکھتا ہے ۔ يہ بھی خيال نہيں کرتا کہ اگر کوئی دوسرا اس کے ساتھ ايسا کرے تو وہ کيا محسوس کرے گا ۔ يہ کوتاہ انديشی ہے جسے ہوشياری سمجھ ليا گيا ہے ۔

اللہ ہمیں قرآن الحکیم کو پڑھنے ۔ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔

*

میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔

   Hypocrisy Thy Name – –  http://iabhopal.wordpress.com  – – یہ منافقت نہیں ہے کیا

Posted in دین | Leave a Comment »

ميرے بچپن کی شاعری

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 6, 2006

ميں جب سکول ميں پڑھتا تھا اُن دنوں ہماری رہائش جھنگی محلہ  راولپنڈی ميں تھی ۔ ميری  والدہ [اللہ اُنہيں جنّت ميں اعلٰی مقام دے] ميرے چھوٹے بھائی بہنوں کو لوری دے کر سُلاتی تھی ۔ کبھی لوری عربی ميں ہوتی کبھی اُردو اور کبھی پنجابی میں ۔ پنجابی ميں لوری يہ تھی

اللہ وی تُوں ۔ بيلی وی تُوں

حاذق وی تُوں ۔ رازق وی تُوں

دِتا ای تے پالیں ويں تُوں

اللہ ای اللہ ۔  اللہ ای  اللہ

اللہ ای اللہ ۔  اللہ ای  اللہ

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے انسان کو ايک ايسا ہر فن مولا کمپيوٹر بنايا ہے کہ جو چاہے محنت اور ہمت کے ذريعے بنا سکتا ہے يا حاصل کر سکتا ہے ۔جب ميں نويں جماعت ميں تھا ميں نے اس لوری کی طرز پر يہ شعر بنائے ۔  

ميں سو جاواں ۔ جگاويں تُوں

ميں ڈھے جاواں ۔ اُٹھاويں تُوں

ميں کھُب جاواں ۔اُبھاريں تُوں

ميں وگاڑ ديواں ۔ سنواريں تُوں

 اللہ ای اللہ ۔  اللہ ای اللہ

اللہ وی تُوں  ۔  مولا وی تُوں 

حاذق وی تُوں ۔ رازق وی تُوں

اللہ ای اللہ ۔  اللہ ای اللہ

اُپر  وی تُوں ۔ تھَلے وی توں

سجّے وی تُوں ۔ کھبّے وی تُوں

اَگے وی تُوں ۔ پِچھے وی تُوں

جِدھر ويکھاں ۔ تُوں ای تُوں

اللہ ای اللہ ۔  اللہ ای اللہ

* 

میرا انگريزی کا بلاگ مندرجہ ذیل یو آر ایل پر کلِک کر کے يا اِسے اپنے براؤزر ميں لکھ کر پڑھيئے ۔

  Hypocrisy Thy Name – –  http://iabhopal.wordpress.com/  – – یہ منافقت نہیں ہے کیا

Posted in آپ بيتی | Leave a Comment »

لائِينَکس کہاں ہو ؟

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جون 3, 2006

پونے تين سال ہوئے وہ دروازے سے باہر نکلا ۔ وہ عام طور پر سير کرنے جاتا اور اِردگِرد پھر کر واپس آ جاتا ۔ اُس روز وہ گيا کہ واپس نہ آيا ۔ دير ہوئی تو پريشانی بڑھی ۔ گھر کے اِردگِرد سب سے پوچھا مگر کچھ پتہ نہ چلا ۔ ناجانے کون ظالم اُسے اغواء کر کے لے کيا ۔کُل 3 سال کا تھا ليکن اللہ نے اُسے بہت ذہانت عطا کی تھی ۔ اُس کی حرکات ديکھ کر کوئی بھی سُبحان اللہ کہے بغير نہ رہتا ۔ Table Tennis کی بال سے فُٹبال وہ اتنی اچھی کھيلتا کہ عقل دنگ رہ جاتی ۔ خاص طور سے اُس کا Deep Freezer کے نيچے ايک طرف سے بال کو kick لگا کر تيزی سے دوسری طرف جا کر روکنا اور واپس لا کر پھر Deep Freezer کے نيچے kick لگانا ۔

جب اُسے شرارت سوجھتی تو کوئی ہمارے استعمال کی چيز چھُپا ديتا ۔ ايک دن ميں باہر سے آيا اور آ کر بوٹ جرابيں اُتاريں کچھ دير بعد مجھے پھر باہر جانا پڑ گيا ۔ ميں جرابيں پہننے لگا تو جراب کا ايک پاؤں غائب ۔ ميں نے کہا "ميری ايک جراب کہاں گئی”۔ ميری بيٹی بولی "يہ لائينکس کا کام ہو گا ” ميں نے لائينکس کو آواز دی مگر وہ نہ آيا ۔ ميں اپنے سونے کے کمرہ ميں گيا اور دوسرا جوڑا جرابوں کا لے کر واپس آيا تو کيا ديکھا کہ ميری دونوں جرابيں ميرے بوٹوں کے پاس پڑی ہيں ۔ ميری بيگم کہنے لگيں "ابھی لائينکس بہت تيز بھاگتا ہوا آيا تھا اور يہاں skid مار کر تيزی سے واپس بھاگ گيا ہے ۔ يعنی ميری جراب اُس نے چھُپائی ہوئی تھی اور واپس رکھ کر بھاگ گيا ۔

رات کو عام طور پر اپنے بستر پر سوتا ۔اگر سردی زيادہ ہو تو ميرے ساتھ سوتا ۔ شائد اُسے اپنے بستر پر سردی لگتی تھی ۔ سرديوں ميں ہم لاؤنج ميں گيس ہيٹر جلا کر بيٹتے تھے ۔ ايک دن شام ہو گئی اور ہم نے ہيٹر نہ جلايا ۔ میں لاؤنج ميں آيا تو مجھے اشاروں سے سمجھايا کہ ہيٹر جلاؤ ۔

ميرا کہا بہت مانتا تھا ۔ ميں بُلاؤں تو جہاں بھی ہو بھاگ کر آ جاتا ۔ کبھی کبھی ميں اپنے ساتھ کار ميں لے جاتا ۔ کبھی ميں نہ ليجاتا تو وہ ناراض ہو جاتا ۔ جب ميں واپس آتا تو ميرے سامنے آتا مگر منہ دوسری طرف کر کے بيٹھ جاتا يعنی کہ "ميں ناراض ہوں”۔ پھر اُسے منانا پڑتا ۔

اُسے گھر کے ہر فرد سے پيار تھا مگر ميرے ساتھ بہت پيار تھا ۔ ايک دن ميں بعد دوپہر کہيں گيا اور رات گئے واپس لوٹا ۔ گھر پہنچنے پر بيگم نے بتايا کہ ” لائينکس نے کھانا نہيں کھايا اور سہ پہر سے آپ کی انتظار ميں کھڑکی کے سامنے بيٹھا تھا ۔ میں نے ديکھا تو لائينکس کھانے کی ميز کے ساتھ ميری کُرسی پر بيٹھا ميری طرف ديکھ رہا ہے يعنی کہ ” آؤ کھانا کھاؤ”۔ ايک دفعہ ميں بيمار ہو گيا اور کمبل اوڑھے ليٹا تھا ۔ نمعلوم وہ کب آ کر ميرے پلنگ کے قريب قالين پر بيٹھ کر متواتر ميری طرف ديکھے جا رہا تھا ۔ ميں نے اُس کی طرف غور سے ديکھا تو اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔ ميں نے اُسے اُٹھا کر پيار کيا تو اُس کی آنکھيں متحرک ہوئيں اور چمکنے لگيں ۔ يہ خوشی کا اِظہار تھا ۔

جب لائينکس مياؤں مياؤں کر رہا ہوتا اور ميں اُسے کہتا "چُپ کر جاؤ ” يا ميں اپنے ہونٹوں پر اُنگلی رکھتا تو وہ فوراً خاموش ہو جاتا ۔ جب ميرا بيٹا دفتر سے آتا تو لائينکس سيڑھيوں کے نيچے چھُپ جاتا ۔ جب بيٹا اُوپر اپنے کمرہ ميں جانے کيلئے سيڑھياں چڑھتا تو لائينکس اس کی ٹانگ پکڑ ليتا ۔ يہ لائينکس کاروزانہ کا معمول تھا ۔

لائينکس عام بِلّيوں سے تو بہت مُختلف تھا ہی اپنی نسل ميں بھی مُنفرد تھا ۔ وہ سيامِيز نَسَل سے تھا اور اُس کے آباؤ اجداد صديوں سے تہذِيب يافتہ گھرانوں ميں پَلتے آ رہے تھے ۔ ميں نے اُس کی تربيّت پر بہت سمجھداری سے محنت کی مگر سب سے بڑھ کر حقيقت يہ ہے کہ اُسے اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے بہت سمجھ دے رکھی تھی اُس کے ڈاکٹر صاحب کہتے "ميں نے بہت سياميز بِلّياں ديکھی ہيں مگر ايسی سمجھدار اور سُلجھی ہوئی بِلّی آج تک نہيں ديکھی”۔ اُس کے اغواء ہونے پر ڈاکٹر صاحب بھی کئی دن تک اُس کی تلاش ميں سرگرداں رہے ۔

Free Image Hosting at ImageShack.us
لائِينَکس تم کہاں ہو ؟ ميں تمہيں بہت ياد کرتا ہوں ۔

Posted in آپ بيتی | Leave a Comment »