What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

راستہ صرف ایک ۔ نہ کہ تين

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر مئی 29, 2006

تخیّل ایک عجیب چیز ہے انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتا ہے ۔ پچیس سال پہلے کا واقع ہے ہم اُن دنوں طرابلس [لیبیا] میں تھے ۔ میں ایک ساتھی کو ملنے گیا ۔ اُس نے مجھے بیٹھک میں بٹھایا جہاں ٹی وی پر کسی فلم کا گانا چل رہا تھا ۔ بول تھے ۔ ” تین بتّی چار راستہ ۔ تین دیِپ [دِیا] اور چار دوشائیں ۔ اِک رستے پہ مِل مِل جائیں” ۔ تین دیِپ والا منظر خوبصورت تھا ۔ میں اُسے دیکھتے دیکھتے کھَو گیا ۔ کچھ دیر بعد یوں جیسے میرے اندر روشنی کا دھماکہ ہوا اور یکدم میرے اندر ایک نئی زندگی آ گئی ۔ مجھے وہ مل گیا جس کے لئے میرا ذہن کافی عرصہ سے پریشان تھا ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے مجھے وہ فلسفہ سمجھا دیا جو مجھے پہلے سمجھ نہ آیا تھا کہ مسلمان تنزّل کا شکار کیوں ہیں جبکہ غیر مُسلم ترقی کر رہے ہیں ؟اللہ سُبحانُہُ و تَعالٰی نے ہمیں ایک راستہ دِکھایا [صِراطُ المُستَقِیم] اور ہدائت کی کہ ہمارا کھانا ۔ پینا ۔ اُٹھنا ۔ بیٹھنا ۔ سونا ۔ جاگنا ۔ مِلنا ۔ جُلنا ۔ اِخلاق ۔ لین ۔ دین ۔ کاروبار غرضیکہ ہر عمل دین اِسلام کے مطابق ہونا چاہیئے ۔ ویسے تو ہم ہر نماز کی ہر رکعت میں کہتے ہیں ِاھدِنَا صِرَاطَ المُستَقِیم یعنی دِکھا ہم کو راہ سیدھی جو کہ ایک ہی ہو سکتی ہے لیکن اپنی عملی زندگی میں ہم نے تین راستے بنا رکھے ہیں ۔

1 ۔ خانگی یا خاندانی معاملات کو ہم ایک طریقہ سے حل کرتے ہیں ۔

2 ۔ دفتر یا کاروبار کے معاملات کو ہم کسی اور نظریہ سے دیکھتے ہیں ۔

3 ۔ دین کو ہم نے بالکل الگ کر کے مسجد میں بند کر دیا ہے اور مسجد سے باہر صرف کسی کی موت یا نکاح پر استعمال کرتے ہیں ۔

ہماری حالت اُس شخص کی سی ہے جو ایک مقام سے ایک سِمت چلا ۔ بعد میں اُسے ایک اور کام یاد آیا ۔ چونکہ دوسرے کام کا راستہ مختلف تھا چنانچہ وہ واپس ہوا اور دوسرے کام میں لگ گیا ۔ پھر اُسے تیسرا کام یاد آیا اور اِس کا راستہ پہلے دو کاموں سے مختلف تھا چنانچہ وہ پھر مُڑا اور تیسرے کام کی طرف چل دیا ۔ اِس طرح وہ جس مقام سے چلا تھا اُسی کے گرد مُنڈلاتا رہا اور کسی سمت میں زیادہ پیشقدمی نہ کر سکا ۔

متذکّرہ بالا آدمی کے بر عکس ایک شخص نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے سارے کام ایک ہی طریقہ سے سرانجام دے گا چنانچہ وہ ایک ہی سِمت میں آگے بڑھتا گیا اور بہت آگے نکل گیا ۔ ملاحظہ ہوں دونوں صورتیں علمِ ہندسہ کی مدد سے ۔

غیرمُسلموں نے دین کو چھوڑ دیا اور اپنے خانگی اور کاروباری معاملات کو صرف نفع اور نقصان کی بُنیاد پر اُستوار کیا اور آگے بڑھتے چلے گئے گو دین کو چھوڑنے کے باعث اخلاقی اِنحطاط کا شکار ہوئے ۔ جب کہ بے عمل مسلمان نہ دین کے رہے نہ دُنیاوی کاموں میں ترقی کر سکے ۔ بقول شاعر ۔

نہ خُدا ہی ملا نہ وصالِ صنم ۔ ۔ ۔ نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے ۔

Advertisements

5 Responses to “راستہ صرف ایک ۔ نہ کہ تين”

  1. بلکل بجا فرمایا ہے آپ نے ۔۔۔ واقعی راستہ صرف ایک ہی ہے اب یہ انسان پر ہے کہ وہ کس طرح اس راستے پر چلتا ہے۔
    اللہ تعالٰی ہم سب کو سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق اور ہمت دے ۔۔۔۔ آمین

  2. indscribe said

    Aap bhopali, main bhi bhopali. I live in Bhopal (india).

  3. اجمل said

    منير احمد طاہر صاحب
    ميں بھی آمين ثم آمين کہتا ہوں

    اِنڈِ سکرائب صاحب
    ميں بھوپال ہوں بھوپالی نہيں ۔ بھوپال ايک قبيلہ ہے مگر ہو سکتا ہے اس کا بھوپال رياست سے کوئی تعلق ہو

  4. راجہ said

    بہت اعلی تجزیہ ۔
    کامیابی اسی سے ملے گی۔
    حقیقت میں دین اور دنیامیں کوئی تفریق نہیں۔
    زندگی کے ہر کام کو اسلام کے بتائے ہوئے طریقے سے سرانجام دینا ہی دین ہے۔

  5. اجمل said

    راجہ صاحب
    پسند کا شکريہ ۔ ميں سوچاکرتا تھا کہ پانچ وقت نماز پڑھتے ہيں اور ہيرا پھيری بھی کرتے ہيں ۔ پھر سمجھ آئی کہ اُن کی نماز خالص اللہ کيلئے نہيں ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: