What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

اِسے بھی آزمائیے

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر مارچ 7, 2006

مجھے اِس بات پر اِنتہائی تشویش ہے کہ بہت سے ساتھی بلاگ نہیں کھول پا رہے ۔ صورتِ حال یہ ہے کہ حکومت یا پی ٹی اے کوئی ویب سائٹ خود بلاک نہیں کرتے ۔ اگر کوئی ویب سائٹ بلاک کرنا ہو تو آئی ایس پیز [Internet Service Providers] کو لکھتے ہیں ۔ یہی اس سلسلہ میں بھی ہوا ہو گا کیونکہ سب آئی ایس پیز نے بلاگسپاٹ کو بلاک نہیں کیا ۔ کچھ دن بلاگسپاٹ کے اپنے سسٹم میں خرابی رہی جو 3 مارچ کو ٹھیک ہو گئی تھی ۔ویسے تو میں ایک کھوٹا سکّہ ہوں مگر بزرگ کہتے تھے کہ کھوٹا سکّہ اور بُرا بیٹا بھی وقت پر کام آتا ہے ۔ میری تجویز یہ ہے کہ سب بلاگرز اور قارئین اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ بلاگرز کی خاطر قربان کریں اور میرے بلاگ کے علاوہ جن بلاگرز کے یو آر ایل میں نے کل لکھے تھے اُنہیں کھولنے کی کوشش کریں اور نہ کھُلنے کی صورت میں اپنے اپنے آئی ایس پیز کو قائل کرنے کی کوشش کریں کہ وہ بلاگسپاٹ کو بحال کریں ۔ اگر وہ بحال نہیں کرتے تو اُن کو ای میل یا خط لکھ کر پوچھیں کہ فلاں بلاگز کو کیوں بلاک کیا ہے ؟۔ یہیں بس نہ کر دیجئے بلکہ بحث اور دباؤ جاری رکھیں کہ اِن بلاگز پر کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں لکھی جاتی ۔ ایسے بلاگ کا حوالہ نہ دیجئے گا جس نے کسی وقت توہین آمیز خاکے شائع کئے ہوں یا اُن کی حمائت کی ہو ۔

اگر وہ کہیں کہ حکومت کے حُکم پر بلاگسپاٹ کو بند کیا ہے تو اُن سے اُس چِٹھی کی فوٹو کاپی حاصل کريں ۔ ہو سکتا ہے کہ اُس چِٹھی میں بلاگسپاٹ کا نام نہ ہو ۔ اِس صورت میں آپ اپنے آئی ایس پی کو بلاگسپاٹ کھولنے پر بجا طور سے مجبور کر سکتے ہیں ۔ اگر فوٹو کاپی نہ مل سکے تو چٹھی کا نمبر اور تاریخ حاصل کریں ۔ پھر اُس سرکاری محکمہ کو اِس چِٹھی کا حوالہ دے کر خط لکھیئے اور مندرجہ بالا لائحہءِ عمل اِختیار کیجئے ۔ اِس طرح سے کامیابی حاصل ہو سکتی ہے ۔

مزید بلاگ کھولنے کا نتیجہ مجھے بذریعہ ای میل لکھ دیجئے اور ساتھ اپنے شہر اور آئی ایس پی کا نام بھی لکھیئے ۔ شائد اللہ سُبحانُہُ و تَعَالٰی میرے ہاتھوں کوئی کام کرا دے ۔
ajmal_bhopal@hotmail.com

Advertisements

2 Responses to “اِسے بھی آزمائیے”

  1. Asma said

    Thanks for commenting that i knew through yahoo that soemone commented 🙂

    But it’s opening now … I guess and hope that ban is lifted!

    wasalam

  2. اجمل said

    اسماء صاحبہ
    اطلاع کا شکریہ ۔ میں نے جواب کے طور پر آپ کو ای میل بھیج دی تھی ۔ کاش کہ خواتین و حضرات میرے مندرجہ بالا مشورہ پر عمل کریں ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: