What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

قانون کا غلط استعمال ۔ ایک اہم فیصلہ

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر فروری 3, 2006

میں نے حدود آرڈیننس پر اِظہارِ خیال کرتے ہوئے 23 مئی اور 26 جون 2005 کو لکھا تھا کہ اسلامی قوانین کا صحیح اِطلاق اُس وقت تک مشکل ہے جب تک ملک میں ایک رفاہی یا اِنصاف پسند حکومت قائم نہیں ہو جاتی ۔ میں نے مزید لکھا تھا کہ حدود آرڈیننس کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اِس کے صحیح اِطلاق میں نہ صِرف دُوسرے قوانین حائل ہیں بلکہ قانون کے نفاذ کا سارا نظام ہی چوپٹ ہے ۔ تفتیش کے دوران عورت کی جسمانی اور جذباتی کمزوری کا پورا فائدہ با رسُوخ ۔ جابَر یا ظالم کو دیا جاتا ہے اور زنا بالجبر [Rape] کے کیس میں بھی عام طور پر عورت کو مجرم قرار دے دیا جاتا ہے اور یہ پولیس اور قانون دانوں کے شیطانی تعاون سے ہوتا ہے ۔اللہ کی کرم نوازی دیکھئیے کہ وفاقی شریعت عدالت کے چیف جسٹس چوہدری اعجاز یوسف نے ایک عدالتی فیصلہ میں میرا نظریہ صحیح ثابت کر دیا ہے ۔ ملاحظہ ہو منگل۔ 31 مئی 2006 کو جاری ہونے والے اور یکم فروری 2006 کے اخباروں میں شائع ہونے والے فیصلہ کا خلاصہ ۔

فیصلہ
"وفاقی شرعی عدالت کی طرف سے منگل کو جاری ہونے والے ایک پریس ریلیز کے مطابق عدالت نے زنا سے متعلق مقدمہ میں ایڈیشنل سیشن جج کے فیصلہ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے ازسرنو سماعت اور فیصلہ کیلئے ٹرائل کورٹ کو واپس بھیج دیا۔ قبل ازیں ایڈیشنل سیشن کورٹ کی طرف سے عورت اور مرد دونوں کو زنا کا مرتکب قرار دیتے ہوئے قید اور جرمانہ کی سزائیں دی گئی تھیں۔ وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید قرار دیا کہ جب کسی مرد ملزم پر کسی عورت کی طرف سے زنا بالجبر کا الزام عائد کیا جائے تو تاخیر ۔ حمل قرار پانے یا کسی دیگر وجہ سے قطع نظر اولین مرحلے میں کسی عورت کو زنا بالرضا کے الزام میں زیر دفعہ 10 (2) چارج نہ کیا جائے جب تک زنا بالرضا کی ضروری شہادت نہ مل جائے اور مقدمہ کی الزام کے مطابق سماعت کی جائے ۔ مرد ملزم کو اس کے مطابق چارج کیا جائے اور مستغیثہ کو اپنے الزام ثابت کرنے کا موقع فراہم کیا جائے ۔ اس طریقہ کار کو اپنانے سے عورت کے خلاف غلط استغاثہ کا سدباب ہو جائے گا اور سائلہ بطور گواہ پیش ہو کر شہادت دینے کے قابل ہو گی جو مناسب طور پر استعمال ہو سکے گی ۔

واقعات کے مطابق تھانہ خان پور ضلع ہری پور میں 4 جون 1997ء کو ایک عورت نے رپورٹ درج کرائی کہ وہ گھر میں اکیلی تھی اس کے پڑوسی جمروز نے دیوار پھلانگ کر اور دروازہ بند کرکے پستول کی نوک پر اس کے ساتھ زنا بالجبر کیا اور جاتے وقت اس کو دھمکی دی کہ اگر اس نے یہ واقعہ کسی کو بتلایا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس نے خوف کے مارے یہ واقعہ کسی کو نہ بتلایا۔ چند ماہ بعد معلوم ہوا کہ وہ حمل سے ہے۔ چنانچہ ملزم کے خلاف جرم زنا …نفاذ حدود… آرڈیننس 1979ء کی دفعات 5 اور 10 کے تحت درج بالا تاریخ پر پرچہ درج کر لیا گیا تاہم جب چالان عدالت بھجوایا گیا تو اس میں پولیس نے اس عورت کا بھی ملزمہ کے طور پر اندراج کیا ۔”

یہ کِس طرح ہوتا ہے ؟
دراصل عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ پولیس چالان میں زنا بالجبر [Rape] کو زنا بالرضا [with mutual consent] لکھ دیتی ہے یا زنا بالجبر کی قانونی دفعہ کی بجائے زنا بالرضا کی قانونی دفعہ کا اندراج کر دیتی ہے جس سے کیس کی نوعیّت ہی بدل جاتی ہے ۔ اِس صورت میں چار گواہوں کی شرط بھی لاگوُ ہو جاتی ہے جو ایسے کیس میں مہیّا کرنا ناممکن ہوتا ہے ۔ اِس کے نتیجہ میں زنا بالجبر کرنے والا مرد بچ جاتا ہے اور مظلوم عورت کو بدکار قرار دے کر سزا دے دی جاتی ہے ۔ خیال رہے کہ اگر اِنصاف بانٹنے والے [جج] اِس شیطانی عمل میں شریک نہ ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ مظلوم عورت کو اِنصاف نہ ملے ۔ یہاں میں یہ بھی واضح کر دوں کہ میں نے پچھلے ایک سال میں بہت مطالع کیا مگر مجھے قرآن شریف ۔ حدیث حتٰی کہ کتابُ الفِقَہ میں بھی نہیں ملا کہ زنا بالجبر کے لئے چار گواہوں کی شرط ہے ۔ جو بات میری سمجھ میں آئی ہے اُس کے مطابق یہ شرط زنا بالرضا کے لئے ہے ۔ زیادہ علم رکھنے والے اِس سِلسلہ میں میری راہنمائی کر سکتے ہیں ۔

Advertisements

One Response to “قانون کا غلط استعمال ۔ ایک اہم فیصلہ”

  1. […] ہمارے طرزِ عمل ۔ قرآن و سنّت کی وعید اور جرائم کی سزاؤں …لکھنے سے پہلے میں وسیع مطالعہ اور اسلامی قانون کے ماہرین سے اِستفادہ حاصل کرتا رہا تھا پھر بھی میں نے اپنی تمام تحاریر کو یک جا کر کے پرنٹ کیا اور جس مسجد میں میں نماز پڑھتا ہوں اُس کے خطیب صاحب کو نظرِ ثانی کے لئے دیا ۔ وہ صاحبِ علمِ دین ہیں ۔ الحمد للہ اُنہوں نے تمام مضمون سے اتفاق کیا مگر کہا کہ مندرجہ ذیل فقرہ سے قاری کے ذہن ميں شک پیدا ہونے کا خدشہ ہے ۔ اسلئے اسے حذف کر دیا جائے یا وجہ جواز لکھی جائے ۔ “مگر مجھے قرآن شریف ۔ حدیث حتٰی کہ کتابُ الفِقَہ میں بھی نہیں ملا کہ زنا بالجبر کے لئے چار گواہوں کی شرط ہے ۔ جو بات میری سمجھ میں آئی ہے اُس کے مطابق یہ شرط زنا بالرضا کے لئے ہے ۔ زیادہ علم رکھنے والے اِس سِلسلہ میں میری راہنمائی کر سکتے ہیں”۔ چنانچہ جس بنیاد پر میں نے یہ فقرہ لکھا تھا اُس میں سے موٹی موٹی وجوہ نیچے درج کر رہا ہوں ۔ […]

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: