What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

قدر و قیمت

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جنوری 16, 2006

بھائی محمد عاصم کی وفات اور اِس کے بعد اُن کے بڑے بیٹے تیس سالہ خُرّم کے کردار سے مجھ پر دو حقیقتیں منکشف ہُوئیں ۔ایک یہ کہ ہمیں کسی چیز کی قدر اس وقت ہوتی ہے جب وہ کھو جاۓ ۔

دوسری یہ کہ ہمیں کسی چیز کی کمی کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب وہ مل جاتی ہے

برخوردار خُرّم نے سب کچھ مَاشَاء اللہ اِتنی خوش اُسلُوبی سے کیا کہ میں دِل ہی دِل میں سُب٘حَان٘ اللہ اور مَاشَاء اللہ کہتا رہا اور خُرّم کو دعائیں دیتا رہا ۔ خُرّم نے بڑے سلیقے سے میّت کو قبر میں اُتارا ۔ جب دفن کے بعد دعا ہو چکی تو اُس نے بلند آواز میں کہا "اگر میرے والد نے کِسی کے ساتھ زیادتی کی ہو یا اُن کی کسی بات سے کسی کو پریشانی ہوئی ہو تو میری درخواست ہے کہ اُنہیں معاف کر دے اور اگر اُن کے ذمّہ کسی کا کچھ واجب الادا ہو تو میں حاضر ہوں دینے کے لئے ۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: