What Am I * * * * * * * میں کیا ہوں

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے * * * * * * * * * * * * * * رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي

زندگی

Posted by افتخار اجمل بھوپال پر جنوری 14, 2006

موت تجدیدِ مذاقِ زندگی کا نام ہے
خواب کے پردے میں بیداری کا اِک پیغام ہےمرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
در حقیقت وہ کبھی ہم سے جدا ہوتے نہیں

مرنے والوں کی جبِیں روشن ہیں اِس ظلمات میں
جس طرح تارے چمکتے ہیں اندھیری رات میں

جِینا کیا ہے خواب ہے اک دیوانے کا
زندگی نام ہے مَر مَر کے جِئے جانے کا

پھُول تو دو دن کے لئے بہارِ جانفِزا دِکھلا گئے
حَیف ایسے غُنچوں پہ جو بن کھِلے مرجھا گئے

اب تو گبھرا کے کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کِدھر جائیں گے

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: